ہمدردی بنی نوع انسان، صلح جوئی، اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ

خطبہ جمعہ 18؍ اگست 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی کتاب کشتیٔ نوح میں فرماتے ہیں کہ:

’’خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔‘‘ فرمایا’’تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔ وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلّل اختیار کرو تا تم بخشے جاؤ۔‘‘ فرماتے ہیں ’’نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔ تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 12-13)

یہ اقتباس مختلف تقریروں میں، درسوں میں، اکثر جماعت کے افراد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلّل اختیار کرنے کا فقرہ تو ایسا ہے جو اکثر احمدی مختلف اوقات میں بطور حوالہ پیش کرتے ہیں بلکہ آپس کے معاملات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے مجھے بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے تو ایسا رویہّ اختیار کیا لیکن دوسرا فریق تب بھی ہمارے ساتھ ظالمانہ رویہ ّاپنائے ہوئے ہے۔

گزشتہ خطبہ میں مَیں نے قضا اور جھگڑوں کے مقدموں کے حوالے سے بھی کچھ باتیں کی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یہ الفاظ جن کو آپ نے اپنی تعلیم میں شامل کیا ہے یہ آپ کی اپنے ماننے والوں سے توقعات اور ان کے لئے آپ کے دل کے درد کا اظہار ہے۔ انسان جب کشتی نوح میں تعلیم کے مکمل حصہ کو پڑھتا ہے تو ہل کر رہ جاتا ہے اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ چند الفاظ بھی بار بار ہمارے سامنے لائے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو معاف کرنے اور صلح کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تذلّل بھی اختیار کرتے ہیں، صلح کے لئے ہر شرط کو قبول کر لیتے ہیں لیکن پھر بھی دوسرا فریق ظلم کا رویہ ّ اپناتا ہے۔ اگر حقیقت میں دوسرا فریق ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو پھر وہ اپنا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہےکہ وہ کاٹا جائے گا اور پھر آگے یہ بھی فرمایا کہ ’’بدبخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 13)

پس وہ لوگ جو ضدّ کرتے ہیں ان کے لئے بہت بڑا انذار ہے۔ انہیں ہوش کرنی چاہئے۔ ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آ کر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم فسادنہیں کریں گے۔ نفسانی جوشوں سے بچیں گے۔ اور دوسری طرف صلح سے بھی گریز کرتے ہیں۔ تو پھر یہ عہد بیعت سے دُوری ہے۔ عہد بیعت کو نبھانا نہیں ہے۔

آپ علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا’’کہ ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہئے کہ نری لفّاظی پر نہ رہے‘‘ لفظوں سے ہی اپنے آپ کو احمدی نہ ثابت کرتے رہیں۔ فرمایا کہ’’بلکہ بیعت کے سچے منشاء کو پورا کرنے والی ہو۔‘‘ آپ نے فرمایا کہ ’’اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے۔ صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ’’اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 8صفحہ 188۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس آپ علیہ السلام نے بڑا واضح فرما دیا کہ بیعت کے منشاء کو پورا کئے بغیر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حق کی ادائیگی اور صلح اور صفائی بھی ضروری ہے۔

آپ اپنی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اور اس بات کا اظہار فرماتے ہوئے کہ آپ میں کتنی وسعت حوصلہ اور معاف کرنے کی طاقت ہے، اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ’’ََمَیں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص جس نے مجھے ہزاروں مرتبہ دجّال اور کذّاب کہا ہو اور میری مخالفت میں ہر طرح کی کوشش کی ہو اور وہ صلح کا طالب ہو تو میرے دل میں یہ خیال بھی نہیں آتا اور نہیں آ سکتا کہ اس نے مجھے کیا کہا تھا اور میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔‘‘ پھر آپ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ’’میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کو یاد رکھو۔ ایک خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسے اپنے نفس سے کرتے ہو۔‘‘ جو اپنے لئے چاہتے ہو یا خواہش ہے کہ تمہارے ساتھ دوسروں کی ہمدردی ہو، وہی سلوک اپنے بھائیوں سے بھی رکھو۔ فرمایا کہ’’اور اگر کسی سے کوئی قصور اور غلطی سرزد ہو جاوے تو اسے معاف کرنا چاہئے، نہ یہ کہ اس پر زیادہ زور دیا جاوے اور کینہ کشی کی عادت بنا لی جاوے۔‘‘ (ملفوظات جلد 9صفحہ 74۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہمیں ہر وقت یہ بات سامنے رکھنی چاہئے کہ آجکل کی دنیا میں جہاں ہر وقت اور ہر جگہ فتنہ و فساد کی حالت طاری ہے ہم جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آ کر ایک حصار میں آیا ہوا سمجھتے ہیں اور اس بات پر شکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی عمومی فساد کی حالت سے محفوظ رکھا ہوا ہے حقیقت میں ہم اس وقت محفوظ ہو سکتے ہیں جب ہر وقت ہم یہ احساس رکھیں کہ اپنے جائز معاملات میں بھی دوسروں سے معاملات پڑنے پر نرمی کا رویہّ رکھنا ہے اور صلح کی بنیاد ڈالنی ہے۔ ورنہ ہماری باتیں صرف باتوں کی حد تک رہیں گی اور ہمارا دعویٰ صرف دعوے کی حدتک ہی ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر کوئی فائدہ ہوا ہے۔ یہ ہمارا دعویٰ تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت نہیں۔ فائدہ اُسی وقت ہو گا جب اعلیٰ اخلاق کا ہر خُلق ہم میں اپنی چمک دکھا رہا ہو گا۔ ہمدردیٔ خَلق اور صُلح ایک ایسا خُلق ہے جس کو اپنانے کی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بار بار نصیحت فرمائی ہے۔ پس ہر احمدی کو اس پہ بہت توجہ دینی چاہئے۔ آپ کے بعض اور اقتباسات بھی ہیں۔ اپنی مختلف کتابوں میں، اپنی ملفوظات میں آپ نے بار بار اس کا تذکرہ کیا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور پہلوان وہ شخص نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے۔ اصل پہلوان وہ ہے جو غصّہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الأدب باب الحذر من الغضب حدیث 6114)

پس یہ ایک مومن کی شان ہے کہ اس طرح کے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے۔ غصّہ کی حالت میں اپنے اوپر کنٹرول ہونا چاہئے۔ کبھی کوئی کافر اس بات پر عمل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے تو یہ حیرانی کی بات ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ آتا ہے جب آپ نے دشمن کوپچھاڑ لیا۔ اس پر بیٹھ گئے اور قریب تھا کہ اس کو قتل کر دیتے۔ اس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ اور آپ علیحدہ ہو گئے۔ اس نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ نے مجھے چھوڑ کیوں دیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس لئے کہ پہلے میں تمہیں اسلام کے دشمن ہونے کی وجہ سے قتل کرنے لگا تھا۔ اب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا تو میری ذات اس میں شامل ہو گئی اور میں اپنے نفس کی خاطر کسی کو قتل کرنا نہیں چاہتا۔ تو یہ اعلیٰ معیار ہیں جو ہمیں تاریخ میں نظر آتے ہیں جو ہمارے بزرگوں نے پیش کئے۔ (ماخوذ از الفخری اصول ریاست اور تاریخ ملوک مؤلفہ محمد علی ابن علی مترجم مولانا محمد جعفر شاہ پھلواروی صفحہ 68 مطبوعہ ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور2007ء)

پس مومن کی تو یہ شان ہے کہ غصّہ دبائے اور صلح کی طرف آمادہ ہو لیکن کافر کبھی یہ نہیں سوچ سکتا۔ اور یہی وہ مومنانہ شان ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہمارے ہر عمل سے اسلام کی حقیقی تعلیم کا اظہار ہو۔ اس حقیقی تعلیم کا اظہار ہو جو عفو، درگزر اور صلح پھیلانے والی تعلیم ہے۔

چنانچہ ایک موقع پر اپنی ایک مجلس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں جو اسی حدیث کی تشریح بھی ہے کہ ’’ہماری جماعت میں شَہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں‘‘۔ ہمیں وہ نہیں چاہئیں جو بڑے زورآور ہوں اور پہلوان ہوں۔ فرمایا کہ ’’بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلِ اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔‘‘ اپنے اخلاق کو بدلنے اور اعلیٰ معیاروں تک لے جانے والے ہوں۔ فرمایا ’’یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔ نہیں نہیں۔‘‘ فرمایا کہ ’’اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاوے۔‘‘ جو اپنے آپ پر کنٹرول رکھتا ہو اور اخلاق کو اعلیٰ اپنانے کی طاقت رکھتا ہو۔ فرمایا کہ پس یاد رکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ 140۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔

پھر ایک موقع پر ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:  ’’مَیں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیّئہ کو چھوڑ کرعادات ذمیمہ کو ترک کر کے خصائل حسنہ کو لیتا ہے‘‘برے اخلاق کو چھوڑتا ہے، بری عادتوں کو چھوڑتا ہے اور اچھی اخلاق اور خصلتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فرمایا ’’اس کے لئے وہی کرامت ہے۔‘‘ یہ تبدیلی ہونا، اعلیٰ اخلاق حاصل کرنا اس کے لئے ایک معجزہ ہے اور ایک کرامت ہے۔ لوگ کہتے ہیں کیا کرامت ہوئی؟ بیعت میں آ کرکیا کرامت دکھائی۔ تو بیعت میں آ کر کرامت یہی ہے کہ اعلیٰ اخلاق اپنا لئے اور بری باتوں کو چھوڑ دیا۔ فرمایا کہ’’مثلاً اگر بہت ہی سخت تُند مزاج اور غصّہ وَر ان عادات بد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کو اختیار کرتا ہے یا امساک کو چھوڑ کر سخاوت اور حسد کے بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے تو بیشک یہ کرامت ہے۔‘‘ برائیاں چھوڑیں۔ اچھے اخلاق اختیار کئے۔ غصہ کو چھوڑا اور معافی اور حلم کی عادت ڈالی۔ کنجوسی کو چھوڑا اور سخاوت کی۔ حسد کے بجائے دوسروں سے ہمدردی کے جذبات رکھے تو فرماتے ہیں کہ یہ ایک کرامت ہے، ایک انقلاب ہے جو تمہارے اندر پیدا ہو گیا۔ فرمایا’’اور ایسا ہی خود ستائی اور خود پسندی کو چھوڑ کر جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے۔ پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کراماتی بن جاوے۔‘‘فرمایا کہ ’’میں جانتا ہوں ہر ایک یہی چاہتا ہے تو بس یہ ایک مُدامی اور زندہ کرامت ہے‘‘۔ اگر ہمیشہ قائم رہنے والی کوئی کرامت ہے تو یہی کرامت ہے۔ یہی معجزہ ہے اور یہی انقلاب ہے جو تمہیں اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے کہ بدیوں کو چھوڑ کر، بداخلاقیوں کو چھوڑ کر اعلیٰ اخلاق اختیار کرو۔ فرمایا’’انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیونکہ یہ ایسی کرامت ہے جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہوتا بلکہ نفع دُور تک پہنچتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ خَلق اور خالق کے نزدیک اہل کرامت ہو جاوے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اہل کرامت بن جاؤ۔ مخلوق کے نزدیک بھی اہل کرامت بن جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کے حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔ مخلوق کے حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔ فرماتے ہیں کہ ’’بہت سے رند اور عیاّش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوئے لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا۔‘‘مان گئے۔ بڑے بڑے مجرم، بڑے بڑے بدمعاش، بڑے بڑے عیاش تھے۔ نشانوں کو دیکھ کے تو ان کی حالت نہیں بدلی لیکن اخلاقی حالت دیکھ کر انہوں نے سر جھکا لیا، مان گئے۔ ’’اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامت ہی کو دیکھ کر دین حق کو قبول کر لیا۔‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ 141-142۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

جب آپ یہ بات بیان کر رہے تھے اس وقت آپ کی ذات سے اس کا ایک عملی اظہار بھی ہوگیا۔ پہلے بھی مَیں یہ واقعہ بیان کر چکا ہوں کہ اُس وقت دو سکھ آئے اور مجلس میں بیٹھ کر فضول گوئی شروع کر دی۔ گالیاں دینی شروع کر دیں۔ بکواس شروع کر دی اور آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے بولتے رہے۔ آپ نے کچھ نہیں کہا۔ خاموشی سے سنتے رہے۔ اس وقت سب لوگوں کے یہ جذبات تھے کہ اعلیٰ اخلاق کا کیسا عملی اظہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ حالانکہ آپ کی جگہ تھی، آپ کی مجلس تھی، احمدی لوگ تھے لیکن آپ نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ انہیں کچھ کہے اور جو اُن کے منہ میں آیا، جو گالیاں بَک سکتے تھے بکیں، بولے اور چلے گئے۔ یا پھر بعد میں پولیس نے ان کو پکڑ لیا۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1صفحہ142۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

تو یہ وہ اعلیٰ معیار تھا جس کا آپ نے اپنا نمونہ بھی اپنے ماننے والوں کے سامنے پیش فرمایا۔ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اگر انسان کے اندر سے نفسانیت کا کیڑا نہیں نکلتا تو اس کا توحید پر بھی ایمان نہیں ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ’’اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا یہ کیڑے اندر سے نہیں نکل سکتے۔‘‘ یعنی نفسانیت کے کیڑے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ فرماتے ہیں کہ ’’یہ بہت ہی باریک کیڑے ہیں اور سب سے زیادہ ضرر اور نقصان ان کا ہی ہے۔ جو لوگ جذبات نفسانی سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حدود سے باہر ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر حقوق العباد کو بھی تلف کرتے ہیں وہ ایسے نہیں کہ پڑھے لکھے نہیں بلکہ ان میں ہزاروں کو مولوی فاضل اور عالم پاؤ گے۔ اور بہت ہوں گے جو فقیہ اور صوفی کہلاتے ہوں گے۔ مگر باوجود ان باتوں کے وہ بھی ان امراض میں مبتلا نکلیں گے۔‘‘ یہ صرف جاہلوں کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کا حق اور بندوں کے حق ادا نہیں کرتے یا موقع آئے تو لوگوں کے حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ آپ نے فرمایا کہ بہت سارے پڑھے لکھے لوگ ایسے ہیں بلکہ علماء اور عالم لوگوں میں اور اس سے بھی بڑھ کر جو دین کا علم رکھنے والے ہیں اور عام دنیا میں وہ بڑے فقیہ اور بڑے صوفی کہلاتے ہیں، بزرگ کہلاتے ہیں وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں کہ جب اپنا موقع آتا ہے تو پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں اور نہ پھر ان کو خدا یاد رہتا ہے نہ بندوں کے حق ادا کرنے اور اعلیٰ اخلاق یاد رہتے ہیں۔ فرمایا’’ان بتوں سے پرہیز کرنا ہی تو بہادری ہے اور ان کو شناخت کرنا ہی کمال دانائی اور دانشمندی ہے۔ یہی بت ہیں جن کی وجہ سے آپس میں نفاق پڑتا ہے اور ہزاروں کشت و خون ہو جاتے ہیں۔ ایک بھائی دوسرے کا حق مارتا ہے اور اسی طرح ہزاروں ہزار بدیاں ان کے سبب سے ہوتی ہیں۔‘‘ فرماتے ہیں کہ’’ہر روز اور ہر آن ہوتی ہیں اور اسباب پر اس قدر بھروسہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو محض ایک عضو معطّل قرار دے رکھا ہے۔ بہت ہی کم لوگ ہیں جنہوں نے توحید کے اصل مفہوم کو سمجھا ہے اور اگر انہیں کہا جاوے تو جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم مسلمان نہیں اور کلمہ نہیں پڑھتے؟ مگر افسوس تو یہ ہے کہ انہوں نے اتنا ہی سمجھ لیا ہے کہ بس کلمہ منہ سے پڑھ دیا اور یہ کافی ہے۔‘‘جو اصل مقصد ہے، اصل مفہوم ہے توحید کا اس کو نہیں سمجھے۔ سمجھ لیا کہ لَااِلہٰ اِلَّا اللّٰہ پڑھ دیا اور کافی ہو گیا۔

آپ فرماتے ہیں کہ’’مَیں یقیناً کہتا ہوں کہ اگر انسان کلمہ طیبہ کی حقیقت سے واقف ہو جاوے اور عملی طور پر اس پر کاربند ہو جاوے تو وہ بہت بڑی ترقی کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں کامشاہدہ کر سکتا ہے۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’یہ امر خوب سمجھ لو کہ مَیں جو اس مقام پر کھڑا ہوں مَیں معمولی واعظ کی حیثیت سے نہیں کھڑا اور کوئی کہانی سنانے کے لئے نہیں کھڑا ہوں بلکہ مَیں تو ادائے شہادت کے لئے کھڑا ہوں۔ میں نے وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے پہنچا دینا ہے‘‘۔ فرمایا کہ’’اس امر کی مجھے پرواہ نہیں کہ کوئی اسے سنتا ہے یا نہیں سنتا اور مانتا ہے یا نہیں مانتا اس کا جواب تم خود دوگے۔ میں نے فرض ادا کرنا ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ میری جماعت میں داخل تو ہیں اور وہ توحید کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ وہ مانتے نہیں۔ جو شخص اپنے بھائی کا حق مارتا ہے یا خیانت کرتا ہے یا دوسری قسم کی بدیوں سے باز نہیں آتا میں یقین نہیں کرتا کہ وہ توحید کو ماننے والا ہے۔‘‘ فرماتے ہیں کہ’’خدا کے واحد ماننے کے لئے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے۔ جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لَااِلہٰ اِلَّا اللّٰہ کا قائل نہیں‘‘۔ لَااِلہٰ اِلَّا اللّٰہ کا قائل ہونا یا توحید کا قائل ہونے والا پھر بندوں کے حقوق بھی نہیں غصب کرتا۔ فرمایا’’کیونکہ یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کو پاتے ہی انسان میں ایک خارق عادت تبدیلی ہو جاتی ہے۔‘‘ اگر لَااِلہٰ اِلَّا اللّٰہ کا مفہوم سمجھ لو تو ایک غیر معمولی تبدیلی تمہارے اندر پیدا ہو جائے۔ فرمایا کہ’’اس میں بغض، کینہ، حسد، ریاء وغیرہ کے بُت نہیں رہتے اور خدا تعالیٰ سے اس کا قرب ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی اسی وقت ہوتی ہے اور اسی وقت وہ سچا موحد بنتا ہے جب یہ اندرونی بت تکبر، خود پسندی، ریاء کاری، کینہ و عداوت، حسد و بخل، نفاق و بدعہدی وغیرہ کے دور ہو جاویں۔‘‘ حقیقی موحد بننا ہے تو پھر تکبر بھی چھوڑنا ہوگا۔ خودپسندی بھی چھوڑنی ہوگی۔ بناوٹ اور ریا کاری کو بھی چھوڑنا ہو گا۔ کینہ اور عداوت رکھنا بھی چھوڑنا ہو گا۔ کوئی صلح کرنے کے لئے آتا ہے، معافی مانگتا ہے تو اس کو معاف بھی کرنا ہو گا۔ دلوں میں کینے پالنے نہیں چاہئیں۔ دشمنیاں نہیں رکھنی چاہئیں۔ حسد اور بخل کو بھی چھوڑنا ہو گا۔ نفاق اور بدعہدی کو بھی چھوڑنا ہو گا۔ یہ ساری چیزیں چھوڑیں گے تو آپ نے فرمایا کہ پھر ہی سچے موحد بن سکتے ہو۔ تبھی لَااِلہٰ اِلَّا اللّٰہ کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہو۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’جب تک یہ بت اندر ہی ہیں اس وقت لَااِلہٰ اِلَّا اللّٰہ کہنے میں کیونکر سچا ٹھہر سکتا ہے؟کیونکہ اس میں توکّل کی نفی مقصود ہے۔‘‘ پس یہ پکی بات ہے کہ صرف منہ سے کہہ دینا کہ خدا کو وحدہ لا شریک مانتا ہوں کوئی نفع نہیں دے سکتا۔ ابھی منہ سے کلمہ پڑھتا ہے اور ابھی کوئی امر ذرا مخالف مزاج ہوا اور غصہ اور غضب کو خدا بنالیا۔ (ملفوظات جلد 9صفحہ 105 تا 107۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس خلاصہ یہ کہ انسان کے اندر سے نفسانیت کا کیڑا اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں نکل سکتا اور اللہ تعالیٰ کا فضل بغیر حقیقی توحید پر قائم ہوئے نہیں مل سکتا۔ نرا لَااِلہٰ اِلَّا اللّٰہ منہ سے کہہ دینے سے انسان موحّدنہیں بن سکتا۔ موحّد بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کو سب طاقتوں کا مالک سمجھنا ضروری ہے اور اس کو معبود حقیقی سمجھنا ضروری ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کو سب طاقتوں کا مالک سمجھا جائے اور معبود حقیقی سمجھا جائے تو پھر دنیاوی حیلوں سے، دنیاوی بہانوں سے، مختلف طریقوں سے، انسان دوسرے انسانوں کا حق نہیں مار سکتا۔ پس جو اپنے بھائیوں کے حق ادا نہیں کرتا، جو صلح کی طرف قدم نہیں بڑھاتا، جو دشمنیوں کو ختم نہیں کرتا وہ توحید کا بھی قائل نہیں۔ یہ خلاصہ ہے آپ کے اس بیان کا۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے کہ اگر اسے سمجھ لیا جائے تو ہم سب ہمیشہ صلح کی بنیاد ڈالنے والے بن جائیں اور دوسروں کے حق ادا کر نےو الے بن جائیں۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو اس مضمون کو سمجھتے ہوئے اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ منہ سے تو توحید کا اقرار ہے لیکن عمل سے اس کی نفی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب ’اسلامی اصول کی فلاسفی‘، میں ترک شر کی قسموں کا ذکر فرمایا اور یہ ذکر فرماتے ہوئے ایک قسم آپ نے یہ بیان فرمائی یعنی کہ شر کو کس طرح ترک کیا جا سکتا ہے۔ کس طرح کیا جانا چاہئے اور کس طرح ترک ہوتا ہے اور مختلف طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ ’’دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر ہونا اور صلح کاری کی زندگی بسر کرنا۔‘‘ ایک قسم ترک شرک کی یہ ہے۔ بالکل ایسی زندگی گزارنا کہ کسی بھی قسم کا ظلم کسی پر نہ کرنا۔ کسی کو نقصان نہ پہنچانا بلکہ خالص بالکل مکمل طور پر بے شر ہو جانا اور صلح کی بنیاد ڈالنا، صلح سے زندگی گزارنا۔ آپس میں محبت اور پیار کو بڑھانا یہ ضروری ہے۔ اس بارے میں آپ مزید فرماتے ہیں۔ ’’پس بلا شبہ صلح کاری اعلیٰ درجہ کا ایک خُلق ہے اور انسانیت کے لئے ازبس ضروری۔ اور اس خلق کے مناسب حال طبعی قوت جو بچے میں ہوتی ہے جس کی تعدیل سے یہ خُلق بنتا ہے اُلفت یعنی خُوگرفتگی ہے‘‘۔ فرماتے ہیں۔ ’’یہ تو ظاہر ہے کہ انسان صرف طبعی حالت میں یعنی اس حالت میں کہ جب انسان عقل سے بے بہرہ ہو صلح کے مضمون کو نہیں سمجھ سکتا اور نہ جنگجوئی کے مضمون کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ خُلق جو ہے یہ بچوں میں پیدا ہوتا ہے۔ صلح کرنا، صلح کی طرف قدم بڑھانا فطرت کا حصہ ہے۔ بچے جو ہیں وہ فوری طور پر بھول جاتے ہیں اور صلح کی طرف بڑھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ انسان اس طبعی حالت کو اسی وقت سمجھ سکتا ہے جب عقل بھی ہو۔ اگر عقل نہیں ہے توانسان صلح کے مضمون کو سمجھ نہیں سکتا اور اسی طرح نہ جنگجوئی کے مضمون کو سمجھ سکتا ہے۔ کس وقت صلح کرنی اور کس وقت کن حالات میں جنگ ہونی ہے۔ فرمایا کہ’’پس اس وقت جو ایک عادت موافقت کی اس میں پائی جاتی ہے وہ صلح کاری کی عادت کی ایک جڑھ ہے۔ لیکن چونکہ وہ عقل اور تدبر اور خاص ارادے سے اختیار نہیں کی جاتی اس لئے خُلق میں داخل نہیں ہوتی بلکہ خُلق میں تب داخل ہو گی کہ جب انسان بالارادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خُلق کو اپنے محل پر استعمال کرے۔‘‘ اگر عقل نہیں ہے انسان میں یا طاقت نہیں ہے اُس وقت یا بچے کی حالت ہے تو وہ ایک اعلیٰ خُلق نہیں ہے۔ اعلیٰ خُلق تبھی بنے گا جب سارے حالات کا جائزہ لے اور پھر انسان ارادہ کر کے اور کوشش کر کے پھر صلح کی بنیاد کو ڈالے اور اس کو اپنے محل پہ استعمال کرے۔ یا اگر بعض دفعہ ملکوں میں یا قوموں میں جنگ کی صورت پیش آ جاتی ہے اس وقت وہ فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن انصاف سے دور ہو کر نہیں، عقل سے ہٹ کر نہیں بلکہ موقع اور محل کے حساب سے اور سوچ سمجھ کر یہ فیصلے ہوتے ہیں۔ صلح کاری کی بنیاد بھی صحیح محل پہ ہو، صحیح موقع پر ہو تو یہ ایک اعلیٰ خُلق تبھی بنتا ہے۔ فرمایا کہ ’’جب انسان بالارادہ اپنے تئیں بے شر بنا کر صلح کاری کے خُلق کو اپنے محل پر استعمال کرے اور بے محل استعمال کرنے سے مجتنب رہے۔ اس میں اللہ جلّ شانہٗ یہ تعلیم فرماتا ہے وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ۔ (الانفال:2) کہ اپنے درمیان اصلاح کرو۔ وَالصُّلْحُ خَیْرٌ۔ (النساء:129) صلح بہرحال بہتر ہے۔ وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسّلْمِ فَاجْنَحْ لَھا (الانفال:62) کہ اگر وہ صلح کے لئے جھک جائیں تو تُو بھی ان کے لئے صلح کے لئے جھک جا۔ اگر دشمن صلح کے لئے جھک جائے یا دوسرا فریق صلح کی طرف مائل ہو تو پھر صلح کرو۔ وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسّلْمِ فَاجْنَحْ لَھا۔ (الانفال:62)۔ پھراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا۔ (الفرقان:64) کہ اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ، عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا۔ (الفرقان:73) اور جب وہ لغویات کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزرتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت QUOTE کی کہ اِدْفَعْ بِالَّتیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَ بَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَانَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔ (حم السجدہ: 35) کہ ایسی چیز سے دفاع کرو جو بہترین ہو۔ اگر اس طرح احسن رنگ میں کرو گے تو تب ایسا شخص جس کے اور تیرے درمیان دشمنی ہے گویا کہ وہ گہرے دوست بن جائیں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’یعنی آپس میں صلح کاری اختیار کرو۔ صلح میں خیر ہے جب وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔ خدا کے نیک بندے صلح کاری کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور اگر کوئی لغویات کسی سے سنیں جو جنگ کا مقدمہ اور لڑائی کی ایک تمہید ہو تو بزرگانہ طور پر طرح دے کر چلے جاتے ہیں۔‘‘ اگر لغو بات سنتے ہیں جس کی وجہ سے لڑائی پیدا ہونے کا خطرہ ہو، لڑائی ہونے کا خطرہ ہو تو پھر وہ بزرگانہ طور پر اس سے بچتے ہوئے ایک طرف ہو جاتے ہیں اور فرمایا کہ’’اور ادنیٰ ادنیٰ بات پر لڑنا شروع نہیں کر دیتے۔ یعنی جب تک کوئی زیادہ تکلیف نہ پہنچے اس وقت تک ہنگامہ پردازی کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اور صلح کاری کے محل شناسی کا یہی اصول ہے کہ ادنی ادنیٰ باتوں کو خیال میں نہ لاویں اور معاف فرماویں۔ اور لغو کا لفظ جو اس آیت میں آیا ہے سو واضح ہو کہ عربی زبان میں لغو اس حرکت کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک شخص شرارت سے ایسی بکواس کرے یا بہ نیت ایذاء ایسا فعل اس سے صادر ہو کہ دراصل اس سے کچھ ایسا حرج اور نقصان نہیں پہنچتا۔‘‘ منہ سے فضول باتیں کر رہا ہے، بکواس کر رہا ہے یا نقصان پہنچانے کی نیت ہو جس سے زیادہ کوئی حرج بھی نہ ہوتا ہو ’’سوصلح کاری کی یہ علامت ہے کہ ایسی بیہودہ ایذا سے چشم پوشی فرماویں۔‘‘اگر کوئی ہلکا سا چھوٹا موٹا نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو صرف نظر کرو۔ چھوڑ دو اسے ’’اور بزرگانہ سیرت عمل میں لاویں۔‘‘ آپ فرماتے ہیں ’’اور پھر فرمایا کہ جو شخص شرارت سے کچھ یاوہ گوئی کرے تو تم نیک طریق سے صلح کاری کا اس کو جواب دو تب اس خصلت سے دشمن بھی دوست ہو جائے گا۔‘‘ (ماخوذ از اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ 348-349)

پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ: ’’اس جماعت کو تیار کرنے میں غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔ تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔ اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔ اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہوں۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ’’مَیں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے اور دوسرا چُپ رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اوّل اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔ چاہئے کہ ابتداء میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے‘‘۔ فرمایا کہ’’سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینے کو ہرگز نہ بڑھاوے۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔ جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو خدا تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔ پس جب تک تبدیلی نہ ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔‘‘ فرمایا ’’خدا تعالیٰ ہرگز پسندنہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں کوئی ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔‘‘ (ملفوظات جلد 7صفحہ 127-128۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہمارا مقصد آپ کی جماعت میں شامل ہونا اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کو راضی کریں اور حقیقی توحید کو اپنے دلوں پر قائم کریں۔ پھر جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے ان اخلاق کو بھی اختیار کرنا ہوگا جو حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں، جو دوسروں کے حقوق ادا کرنے سے ملتے ہیں۔ آپ نے ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ’’اگر مجھ سے تعلق جوڑا ہے اور میری فوج میں داخل ہونے کا دعویٰ ہے تو اعلیٰ اخلاق اختیار کرنے ہوں گے اور فتنہ و فساد کی حالت کو چھوڑنا ہو گا‘‘۔ آپ نے اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو فرمایا کہ ’’وہ دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی رحم کو ترقی دیں اور دردمندوں کے ہمدرد بنیں، زمین پر صلح پھیلا دیں کہ اس سے ان کا دین پھیلے گا۔‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 15)۔ اسلام پھیلے گا۔ تبلیغ کے رستے کھلیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’پس اٹھو اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو۔‘‘ (لیکچرلاہور، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 174)

پھر ایک جگہ اپنی جماعت کو اپنے دلوں سے بغضوں اور کینوں کو نکالنے اور بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنے اور صلح کی بنیاد ڈالنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’مَیں اس وقت اپنی جماعت کو جو مجھے مسیح موعود مانتی ہے خاص طور پر سمجھاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان ناپاک عادتوں سے پرہیز کریں۔ مجھے خدا نے جو مسیح موعود کرکے بھیجا ہے اور حضرت مسیح ابن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ شر سے پرہیز کرو اور نوع انسان کے ساتھ حق ہمدردی بجا لاؤ۔ اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے۔ کیا ہی گندہ اور ناپاک وہ مذہب ہے جس میں انسان کی ہمدردی نہیں اور کیا ہی ناپاک وہ راہ ہے جو نفسانی بغض کے کانٹوں سے بھرا ہے۔ سو تم جو میرے ساتھ ہو ایسے مت ہو۔ تم سوچو کہ مذہب سے حاصل کیا ہے۔ کیا یہی کہ ہر وقت مردم آزاری تمہارہ شیوہ ہو۔‘‘ لوگوں کو دکھ پہنچانا تمہارا شیوہ بن جائے۔ فرمایا ’’نہیں۔ بلکہ مذہب اس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے ہے جو خدا میں ہے۔ اور وہ زندگی نہ کسی کو حاصل ہوئی اور نہ آئندہ ہو گی بجز اس کے کہ خدائی صفات انسان کے اندر داخل ہو جائیں۔ خدا کے لئے سب پر رحم کرو۔‘‘ وہ زندگی حاصل کرنی ہے تو بغیر کسی کوشش کے نہیں ہو گی یا بغیر اعلیٰ اخلاق کو اپنائے نہیں ہو گی۔ فرمایا کہ خدا کے لئے سب پر رحم کرو ’’تا آسمان سے تم پر رحم ہو۔ آؤ مَیں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نور تمام نوروں پر غالب رہے اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سِفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو اور ہمدردنوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل کرو یہی وہ طریق ہے جس سے کرامتیں صادر ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرشتے مدد کے لئے اترتے ہیں مگر یہ ایک دن کا کام نہیں۔ ترقی کرو۔ ترقی کرو۔ اس دھوبی سے سبق سیکھو جو کپڑوں کو اوّل بھٹی میں جوش دیتا ہے اور دئیے جاتا ہے یہاں تک کہ آخر آگ کی تاثیریں تمام میل اور چرک کو کپڑوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔ تب صبح اٹھتا ہے اور پانی پرپہنچتا ہے اور پانی میں کپڑوں کو تر کرتا ہے اور بار بار پتھروں پر مارتا ہے تب وہ میل جو کپڑوں کے اندر تھی اور ان کا جزو بن گئی تھی کچھ آگ سے صدمات اٹھا کر اور کچھ پانی میں دھوبی کے بازو سے مار کھا کر یکدفعہ جدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔‘‘ کپڑے دھوتے ہوئے ان کو بار بار ملنا پڑتا ہے یا دھوبی ان کو پتھروں پے مارتا ہے یا آجکل واشنگ مشینیں ہیں تو ان کو اس تیزی سے گھماتی ہیں کہ وہ میل اتر جاتی ہے یہی مثال آپ نے دی ہے۔ فرمایا کہ ’’یہاں تک کہ کپڑے سفید ہو جاتے ہیں جیسے ابتدا میں تھے۔ یہی انسانی نفس کے سفید ہونے کی تدبیر ہے۔‘‘ جس طرح کپڑے دھلتے ہیں وہی تدبیر جو ہے انسانی نفس کے پاک ہونے کی ہے ’’اور تمہاری ساری نجات اس سفیدی پرموقوف ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قَدْاَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھا (الشّمس: 10) یعنی وہ نفس نجات پا گیا جو طرح طرح کے میلوں اور چرکوں سے پاک کیا گیا۔‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 14-15)

پس اس طرح اپنے نفس کو دھونے کی کوشش کرنی چاہئے جس طرح کپڑے دھلنے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم آپ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کرنے والے ہوں۔ صلح کی بنیاد ڈالنے والے ہوں۔ توحید کا صحیح اِدراک حاصل کرنے والے ہوں۔ اور معاشرے میں محبت اور پیار بکھیرنے والے ہوں۔ دنیاوی خواہشات کوکبھی اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں ہم ہمیشہ رہیں اور یہی ہماری اوّلین ترجیح ہو۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 18؍ اگست 2017ء شہ سرخیاں

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تذلّل بھی اختیار کرتے ہیں، صلح کے لئے ہر شرط کو قبول کرلیتے ہیں لیکن پھر بھی دوسرا فریق ظلم کا رویہ ّ اپناتا ہے۔ اگر حقیقت میں دوسرا فریق ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو پھر وہ اپنا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہےکہ وہ کاٹا جائے گا اور پھر آگے یہ بھی فرمایا کہ بدبخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا۔

    پس وہ لوگ جو ضدّ کرتے ہیں ان کے لئے بہت بڑا انذار ہے۔

    بیعت کے منشاء کو پورے کئے بغیر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو سکتا اور اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حق کی ادائیگی اور صلح اور صفائی بھی ضروری ہے۔

    ہمدردیٔ خَلق اور صُلح ایک ایسا خُلق ہے جس کو اپنانے کی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بار بار نصیحت فرمائی ہے۔ پس ہر احمدی کو اس پہ بہت توجہ دینی چاہئے۔

    حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے ہمدردی بنی نوع انسان، صلح جوئی، اعلیٰ اخلاق کے مظاہرہ اور خداتعالیٰ کی رضا کو فوقیت دینے وغیرہ امور سے متعلق نہایت اہم نصائح

    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم آپ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کرنے والے ہوں۔ صلح کی بنیاد ڈالنے والے ہوں۔ توحید کا صحیح اِدراک حاصل کرنے والے ہوں۔ اور معاشرے میں محبت اور پیار بکھیرنے والے ہوں۔ دنیاوی خواہشات کوکبھی اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں ہم ہمیشہ رہیں اور یہی ہماری اوّلین ترجیح ہو۔

    فرمودہ مورخہ 18 اگست2017ء بمطابق18؍ظہور 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور