صداقت کے نشان

خطبہ جمعہ 15؍ ستمبر 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آجکل مغربی پریس اور میڈیا یہ سوال کرتا ہے کہ تم اسلام کی امن پسند تعلیم کی باتیں کرتے ہو لیکن مسلمانوں کی اکثریت یہ باتیں نہیں کرتی اور نہ ہی وہ تمہیں مسلمان سمجھتی ہے۔ اکثریت مسلمان نہیں سمجھتی اور احمدیوں کی تعداد بھی دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی ہے۔ جب یہ صورتحال ہے تو پھر احمدی کس طرح اسلام کی حقیقی تعلیم پر چلنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ جرمنی میں بھی گزشتہ دورہ میں یہی سوال مجھ سے کیا گیا۔ اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تم کہتے ہو کہ یہی اسلام ہے تو باقی مسلمانوں کو تم کس طرح اس تعلیم پر چلنے کے لئے قائل کرو گے۔

ہمارا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہم اسلام کی جس تعلیم کی بات کرتے ہیں اسے قرآن کریم سے، حدیث سے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت سے ثابت کرتے ہیں۔ ہماری کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں کہ غیروں کو متاثر کرنے کے لئے، ان کے اعتراضات دور کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہرگز شدت پسندی کی تعلیم نہیں ہے یا کوئی آجکل کے حالات دیکھ کر ہم نے اپنا یہ مؤقف اختیار نہیں کیا ہوا۔ ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہمیشہ سے ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تعلیم ہے۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو اس تعلیم کے مطابق ہم کس طرح قائل کریں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کی ایسی بگڑی ہوئی حالت کے زمانے میں مسیح موعود اور مہدی معہودنے آنا تھا اور مسلمانوں کی بھی اصلاح کرنی تھی اور دوسری دنیا کو بھی اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانا تھا۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی اور جب یہ حالات تھے تو ایسے وقت میں مسیح موعود اور مہدی معہود کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور اس نے آ کر ہمیں اسلام اور قرآن کی حقیقی تعلیم کا اِدراک دیا اور اسلام کے ہر حکم کی حکمت بیان کی اور ہم احمدی مسلمان جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے اس کے مطابق اسلام کی تعلیم کو مسلمانوں کو بھی اور غیر مسلموں کو بھی بتا رہے ہیں۔ ہمارا کام تبلیغ کا کام ہے۔ مشنری کام ہے سو یہ ہم کر رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔ الٰہی جماعتیں اور انبیاء کی جماعتیں دنوں میں ترقی نہیں کر جایا کرتیں یا پھیل جایا کرتیں بلکہ آہستہ آہستہ پھیلتی اور بڑھتی ہیں۔ ہم انہیں یہی کہتے ہیں کہ تم یہ کہتے ہو کہ دوسرے مسلمانوں کو کس طرح اس تعلیم پر چلاؤ گے تو جماعت احمدیہ جو اَب کروڑوں میں پھیل چکی ہے اس میں اکثریت مسلمانوں کے دوسرے فرقوں سے ہی آکر شامل ہوئی ہے جو پیغام سمجھتے ہیں اور جوں جوں لوگوں پر حقیقی تعلیم واضح ہوتی چلی جاتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کا پتا چلتا چلا جاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کی پیشگوئیوں کو سمجھنے لگتے ہیں مسلمانوں میں سے بھی یہ لوگ اکثریت میں ہم میں شامل ہو رہے ہیں اور دوسرے مذاہب میں سے بھی لوگ ہم میں شامل ہوتے چلے جا رہے ہیں اور انشاء اللہ یہی اقلیت ایک دن اکثریت میں بدل جائے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اس کے نمونے ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جو لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت مسلمانوں میں سے ہی ہے۔ اس بات کے باوجود کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، مبلغین کی تعداد بہت تھوڑی ہے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ غیر معمولی نتائج پیدا فرما رہا ہے۔ بلکہ بہت سے تو ایسے ہیں جو جماعت میں شامل ہوتے ہیں کہ جن کی خود اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے۔ چنانچہ خوابوں کے ذریعہ سے بہت سوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور جماعت کا تعارف ہوا اور آپ کی صداقت ان پر واضح ہوئی اور پھر ایک عرصے کے بعد کسی وجہ سے ان کو اپنی خوابیں یاد آتی ہیں۔ بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ بچپن میں خوابیں دیکھیں یا بہت جوانی میں دیکھیں یا بہت عرصہ پہلے دیکھیں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد انہیں کسی نہ کسی وجہ سے وہ خواب یاد آ جاتی ہے تو پھر وہ بیعت بھی کرلیتے ہیں۔ بعض کو پہلے تعارف ہوتا ہے اور پھر وہ استخارے کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے جماعت میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض تبلیغ سنتے ہیں جس میں اب مبلغین، معلمین یا داعیان کے علاوہ ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے چینل بھی شامل ہو گئے ہیں، تو یہ پیغام سن کر ان کے دل اللہ تعالیٰ کھولتا ہے۔ بعض ایسے ہیں جو جماعت کے مخالفین کی مخالفت اور ان کے انجام کو دیکھ کر احمدیت قبول کر لیتے ہیں۔ بعض کو اللہ تعالیٰ نشان دکھاتا ہے۔

پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی فرمایا کہ میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا۔ پھر 1883ء میں جب آپ کی جماعت کا کوئی باقاعدہ قیام بھی نہیں تھا بلکہ آپ نے دعویٰ بھی نہیں کیا تھا بہت کم لوگ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بہت کم لوگ آپ سے واقف تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ۔ کہ خدا نے لکھ دیا ہے کہ غلبہ میرا اور میرے رسول کا ہے۔ اس وقت تو آپ کا مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ بھی کوئی نہیں تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہٖ کہ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ آپ کی جماعت کے بڑھنے اور جماعتی ترقی کے اور بھی بہت سارے الہامات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں ترقی دوں گا۔ تیرے محبوں کا گروہ بڑھاؤں گا۔ پس آج اس اکیلے شخص کی جماعت جس سے اللہ تعالیٰ نے ترقی کا وعدہ کیا تھا، تمام دنیا میں پھیل چکی ہے اور ہر روز بڑھ رہی ہے۔ ہر روز نئے نئے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح راستے کھولتا ہے۔ کس طرح یہ شامل ہونے والوں کی رہنمائی کرتا ہے ان کے چند واقعات اس وقت میں پیش کروں گا۔

خوابوں کے ذریعہ سے احمدی ہونے والوں کے بعض واقعات ہیں۔ قازان سے ہمارے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ایک دوست سنت سفیلوئیف کے ساتھ تبلیغی رابطہ قائم ہوا۔ ان کے ساتھ سوال و جواب ہوتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے بیعت کر لی۔ اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خواب میں دکھایا کہ شام کے علاقے میں ہوں اور دو گروہ آپس میں لڑرہے ہیں۔ ان کی لڑائی کے وقت ایک تیسرا گروہ آتا ہے اور ان دونوں کو سمجھاتا ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرکے ظلم کر رہے ہو یہ لڑائی ختم کرو اور آپس میں صلح کرو۔ تو وہ اس تیسرے گروہ کے کہنے پر اپنے ہتھیار پھینک دیتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو گلے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر یہ روسی دوست کہتے ہیں کہ میں کسی سے پوچھتا ہوں کہ یہ تیسری جماعت کون ہے جس نے ان دونوں گروپوں کی صلح کروائی ہے تو مجھے بتایا جاتا ہے کہ یہ جماعت احمدیہ کے افراد ہیں۔ اسی طرح ایک دوسری خواب میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھایا کہ بارش کا موسم بنا ہوا ہے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور مجھے آواز آئی کہ احمدیت ہی صحیح عقیدہ ہے۔ کہتے ہیں ان خوابوں کے بعد مَیں نے بیعت کر لی۔

فرانس سے ایک خاتون مالکہ صاحبہ ہیں۔ وہ اپنی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ میرے سارے خاندان میں احمدیت کا پیغام پہنچ چکا تھا اور اس حوالے سے اکثر ہمارے گھر میں بات بھی ہوتی رہتی تھی کہ فلاں شخص کی اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ رہنمائی کی اور وہ جماعت میں شامل ہو گیا۔ میں یہ باتیں سنتی رہتی تھی لیکن خود میں نے کبھی کوئی بات نہیں کی۔ کہتی ہیں کہ ایک دن میں نے خدا کے حضور دعا کی کہ تُو مجھے بھی بتا کہ احمدیت سیدھا راستہ ہے یا غلط۔ کہتی ہیں کہ اگلی تین راتوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے یکے بعد دیگرے تین خوابیں دکھائیں۔ پہلی خواب میں مَیں نے دیکھا کہ جیسے قیامت آ گئی ہے اور ہر طرف افراتفری ہے۔ لیکن میرے بہن بھائی جو احمدی ہو چکے ہیں وہ بالکل افراتفری میں نہیں بلکہ نہایت خوش ہیں جبکہ میں چیخ و پکار کر رہی ہوں کہ حالات بہت خطرناک ہیں لیکن وہ بالکل پریشان نہیں بلکہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے جماعت احمدیہ کے اجلاس میں جانا ہے۔ میں خواب میں خوف کی حالت میں ہی ان کے ساتھ چمٹ جاتی ہوں۔ پھر ایک خواب میں دیکھا کہ میری بہن جو احمدی ہو چکی ہے وہ مجھ سے کہہ رہی ہے کہ نماز پڑھو۔ یہی ایک راہ ہے۔ اسی طرح تیسری رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہوں اور میں نے محسوس کیا جیسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر کچھ لکھا ہے۔ چنانچہ ان خوابوں کے بعد کہتی ہیں میرے دل میں شرح صدر پیدا ہوا کہ یہ جماعت کی سچائی کے بارے میں ہی خوابیں ہیں اور میں نے بیعت کر لی اور اب پورا خاندان احمدیت میں داخل ہو چکا ہے۔

عبدالعزیز تراوڑے صاحب جو آئیوری کوسٹ کے ایک گاؤں شیپو Chiepo)) میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک معمّر شخص وامارا تراوڑے (Wamara Traore) صاحب نے ایک دن خواب میں دیکھا کہ ان کے گاؤں میں عرب لوگ آئے ہیں۔ خواب میں ہی ان کے آنے پر بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ لوگ اصلی عرب نہیں ہیں۔ ان سے دور رہیں۔ یہ کہتے ہیں اسی دوران مجھے خواب میں آواز آئی کہ اگر تم خدا تعالیٰ کو پانا چاہتے ہو تو انہی لوگوں کے ذریعہ خدا کو پاؤ گے۔ کہتے ہیں کہ اس کے چند دن بعد احمدیوں کے مبلغ ہمارے گاؤں آئے تو بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ مسلمان نہیں ہیں۔ ان کو پتا تھا کہ احمدی مبلغ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو مسلمان ہی نہیں ہیں اور ان لوگوں سے دُور رہا جائے۔ یہی ہمارے مولویوں کا فتویٰ ہے۔ موصوف نے جب یہ دیکھا تو انہیں اپنی خواب یاد آ گئی۔ اس کے چند روز بعد ہی انہوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ جلسہ سالانہ آئیوری کوسٹ میں بھی یہ شامل ہوئے اور بڑے جوش اور ولولے سے شامل ہوئے۔

کانگو برازاویل سے بشیر ساکلہ (Basheer Ntsakala) صاحب ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ مجھے پہلی دفعہ 2014ء کے وہاں کے مقامی جلسہ سالانہ میں شرکت کا موقع ملا۔ جہاں معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں اور اب وہ آسمان سے زندہ نہیں اتریں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ مسلمان فرقوں میں بٹ جائیں گے اور اسلام صرف نام کا باقی رہ جائے گا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئیں گے اور صرف ان کی جماعت ہدایت پر ہو گی۔ کہتے ہیں کہ پھر میں نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر اور کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا جس سے مجھے احمدیت کی سچائی کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اسی دوران ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے مجھے سفید اور گلابی رنگ کا خوشنما لباس دیا ہے۔ اور پھر ماہ رمضان میں ایک روز خواب دیکھا کہ میں بہت اعلیٰ بس میں سفر کر رہا ہوں۔ اس خواب کے بعد میری تسلی ہو گئی کہ بس چونکہ سفر کا ذریعہ ہے اس لئے میں جس راستے پر جا رہا ہوں وہ بہت اعلیٰ ہے۔ پس اس خواب کے بعد میں نے احمدیت قبول کر لی۔

قرغزستان جماعت کے نومبائع اِشلن رامیل (Ishalin Rameel) صاحب اپنا قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں مَیں ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوا۔ اس لئے اسلام میرے لئے اجنبی مذہب نہیں تھا۔ لیکن میں نے مذہب کی غرض و غایت کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔ جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں قرغزستان جماعت کے صدر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ مذہب کے حوالے سے جب گفتگو کی تو ان کی باتوں سے آہستہ آہستہ اسلام کی حقیقت مجھ پر کھلنی شروع ہو گئی اور مجھے اس بات کا علم ہوا کہ موجودہ دور کے مسلمان حقیقی اسلام پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ ان سے بات کر کے مجھے میرے سوالات کے جوابات ملنے شروع ہو گئے جو کہ قرآن کریم کے حوالہ جات، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، احادیث کی مستند کتابیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور میرے جو مختلف خطبات تھے ان کی روشنی میں تھے۔ کہتے ہیں میں نے دیکھنا شروع کیا۔ اس طرح میں نے پہلی دفعہ قرآن کریم پڑھنا شروع کیا۔ پھر کہتے ہیں ایک دن مَیں نے بیعت کر نے کا فیصلہ کیا۔ اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے والد صاحب کے دوست نے مجھے ایک طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس جگہ پر ایک نشان ہے لیکن اس نشان کے بارے میں کسی کو مت بتانا کیونکہ دہشتگرد آ کر اس نشان کو تباہ کر دیں گے۔ چنانچہ میں نے جا کر اس نشان کو دیکھا۔ وہ ایک بہت بڑا باغ ہے۔ اس باغ میں تتلیوں کی طرح کی مخلوق اڑ رہی تھی۔ چنانچہ میں سوچنے لگا کہ اللہ تعالیٰ کے اس نشان کو ہم کیسے چھپا سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اسی دوران مَیں خواب میں پرندے کی طرح اڑنے لگ جاتا ہوں۔ اور میں اڑ کر اپنے والد صاحب کے دوستوں کے گھر گیا وہ چائے پی رہے ہوتے ہیں لیکن مجھے دیکھ کر محض ایک پرندہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن مَیں انہیں تین دفعہ اللہ اکبر کہتا ہوں تو وہ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ پرندہ کیسے بول سکتا ہے۔ کہتے ہیں چنانچہ میں آسمان کی طرف اڑ جاتا ہوں۔ پھر آسمان کی طرف اڑتے وقت میں پرندے سے ایک فرشتے میں تبدیل ہو جاتا ہوں۔ پھر میں زمین کی طرف دیکھتا ہوں کہ سب لوگ مر چکے ہیں اور کوئی بھی زندہ نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد خواب میں ہی مَیں اپنے گھر کی طرف اڑ کر آتا ہوں اور گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے میں بیدار ہو جاتا ہوں۔ اس خواب کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے فیصلہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ روحانی طاقت دی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد پھر میں نے بیعت کر لی اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔

حمدی محمد عبدالہادی صاحب مصر کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ احمدیت کے بارے میں جاننے سے کافی عرصہ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ویران اور سنسان راستے پر ایک گمنام منزل کی طرف چل رہا ہوں۔ ایسے میں ایک صالح شخص آتا ہے اور مجھے اس راستے سے ہٹا کر ایک نئے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ میں کوئی مزاحمت کئے بغیر بخوشی اس راستے پر چلنا شروع کر دیتا ہوں جس پر وہ صالح شخص مجھے لاکر کھڑا کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ہمدردانہ رویّے سے مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے اس نے مجھے بدانجام سے بچا کر حسن عاقبت اور خیر ِکثیر کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ اس راستے پر چلتے چلتے کچھ دیر کے بعد ایک بلند جگہ پر پہنچ کر اپنے پرانے راستے کی طرف دیکھتا ہوں تو وہاں پر ایک جابر شخص کو بعض لوگوں سے جبری مشقت کرواتے ہوئے پاتا ہوں تو میں سوچتا ہوں کہ اگر صالح شخص مجھے اس راستے سے نہ ہٹاتا تو آج میں بھی دیگر کئی لوگوں کی طرح اسی ظلم کا شکار ہو جاتا۔ خواب میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ شاید یہ صالح انسان خدا کا نبی موسیٰ علیہ السلام ہے۔ کہتے ہیں کافی عرصہ کے بعد جب میرا جماعت سے تعارف ہوا تو سمجھ میں آیا کہ جس راستے پر میں گامزن تھا وہ تباہی اور بربادی کی طرف جاتا تھا اور جس صالح انسان نے مجھے اس راستے سے اٹھا کر نئے راستے پر ڈال دیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے جبکہ نیا راستہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تھا۔

یہ چندنمونے مَیں نے پیش کئے۔ کوئی روس کی سابقہ ریاستوں قازان، قرغزستان سے ہے تو کوئی یورپ کے ملک کا ہے۔ کوئی مغربی افریقہ میں سے ہے تو کوئی سینٹرل افریقہ میں سے ہے اور کوئی عرب ملک کاہے۔ مختلف قوموں کے مختلف زبانیں بولنے والے لوگ لیکن ایک ہی طرح کی رہنمائی ان سب کی ہو رہی ہے۔ یہ رہنمائی کون کر رہا ہے؟ یقیناً خدا تعالیٰ ان کی (راہنمائی) فرما رہا ہے جس نے آپ کو فرمایا تھا کہ مَیں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بڑھاؤں گا۔

پھر مراکش سے ایک احمدی علی اشکور صاحب اپنی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ احمدیت کے تعارف کے ابتدائی ایام میں جب میں ’’لقاء مع العرب‘‘ باقاعدگی سے دیکھا کرتا تھا تو میں نے رؤیا میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ایک پہاڑی کی چوٹی کی جانب جانے والے ایک راستے پر چل رہے ہیں۔ آپ نے سفید رنگ کا پاکستانی لباس زیب تن کیا ہے۔ کہتے ہیں مَیں حضور کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے پہاڑی کی چوٹی کے قریب پہنچ جاتا ہوں۔ اس جگہ سے ہمیں پہاڑی کی چوٹی کے پیچھے سے ایک تیز روشنی نظر آتی ہے جو اُفق پر پھیل جاتی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طلوعِ فجر کی سفیدی ہے۔ کہتے ہیں مجھے کسی قدر خوف محسوس ہوتا ہے اور میرے قدم سست ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع اس بات کو، (میرے خوف کو) محسوس کرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو آپ کا پُرنور چہرہ دیکھ کر عجیب کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہوں اور کہتا ہوں نامعلوم اس پہاڑ کے دوسری جانب کیا ہے جس سے اس قسم کی روشنی نکل رہی ہے۔ تو آپ مسکرا کر فرماتے ہیں میرے پیچھے پیچھے چلتے رہو اور ڈرو نہیں۔ کہتے ہیں الحمد للہ کہ باوجود خوف اور خطرات کے مَیں اس رؤیا کے مطابق لقاء مع العرب دیکھتے ہوئے حضور کے پیچھے پیچھے ہی چلتا رہا یہاں تک کہ قبول احمدیت کی منزل آ گئی۔ کہتے ہیں کہ یوں تو مَیں نے احمدیت کے بارے میں جاننے کے بعد ہی بیعت کا فیصلہ کر لیا تھا اور ایم ٹی اے کے ذریعہ ایک عالمی بیعت میں شامل ہو کر بیعت کے الفاظ بھی دہرا لئے تھے لیکن دل مطمئن نہیں تھا کیونکہ بیعت کے الفاظ انگریزی میں تھے جن کی مجھے کوئی سمجھ نہ آئی تھی۔ مجھے اس طرح بیعت کرنے سے تسلی نہ تھی۔ تاہم میرے نزدیک اصل بیعت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر ایمان اور شرائط بیعت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش ہے اور میں اسی پر کاربند تھا۔ پھر جب جماعت سے رابطے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے میری بیوی کو بھی قبول حق کی توفیق عطا فرمائی اور پھر ہم دونوں نے 2010ء کے شروع میں باقاعدہ طور پر بیعت فارم ارسال کر کے بیعت کرلی۔

پھر الجزائر کے ایک دوست ڈاکٹر حجاز کریم صاحب ہیں وہ اپنی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں۔ یہ وہاں جماعت کے عاملہ کے ممبر بھی ہیں۔ جنرل سیکرٹری بھی ہیں اور گذشتہ دنوں حالات کی وجہ سے اسیر راہ مولیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ اب بھی ان کے سخت حالات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو بھی دُور فرمائے۔ یہ کہتے ہیں کہ میں مسخ شدہ اسلامی تعلیم اور قرآن کریم کی غلط تفاسیر سے بالکل مایوس ہو چکا تھا۔ علماء کی تشریحات سن کر سوچتا تھا کہ کیا یہ خدا کا کلام ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اردن کے ایک احمدی دوست کے ذریعہ احمدیت اور بانیٔ سلسلہ کی تحریرات سے آگاہی ہوئی۔ حضرت مسیح موعود کی تفسیر پڑھنے سے قبل نوافل پڑھ کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ راہ راست کی طرف رہنمائی فرما دے۔ جیسے جیسے پڑھتا گیا سینہ کھلتا گیا اور اس کلام کی ہیبت سے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی اور یقین ہو گیا یہ کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ یہ الٰہی وحی ہے۔ لیکن بیعت کا فیصلہ کرنے سے قبل استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ رات کو شہر سے گزر رہا ہوں اور ایک نور ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔ اسی دوران فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا فون نمبر آ رہا ہے۔ دل میں فیصلہ کیا کہ مَیں ان کو واپس کال کرتا ہوں اگر تو انہوں نے فون کا جواب نہ دیا تو وہ سچے نبی ہوں گے ورنہ نہیں۔ نہ جانے کیوں خواب میں ہی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ نبی فون کا جواب نہیں دیا کرتے۔ چنانچہ میں نے فون کیا۔ دیر تک گھنٹی بجتی رہی لیکن انہوں نے فون نہ اٹھایا۔ اس کے بعد آپ نے میرے سامنے پُرہیبت تجلی فرمائی۔ میں نے قرآن کریم کی آیات اور اَعُوذ بِاللہ پڑھنا شروع کر دیا تا کہ کہیں شیطان مجھ پر مہدی کا معاملہ مشتبہ نہ کر دے۔ اس کے بعد شدت خوف سے جاگ اٹھا۔ یہ نماز فجر کا وقت تھا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ خواب سچی ہے اور پھر میں نے بیعت کر لی۔

لوگوں کے لئے کس طرح نشان ظاہر ہوتے ہیں اور بیعت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اس کے بارے میں مبلغ انچارج صاحب سینیگال ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سینیگال کے ریجن کازاماس (Cazamass) میں تین گاؤں میں احمدیت کا نفوذ ہوا۔ ان دیہاتوں میں جماعتی ترقی کو دیکھ کر وہاں جماعت مخالف مولویوں اور چیف نے مل کر جماعت کے خلاف بددعا کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ سارے مسلمان تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت کر کے زمین پر ہاتھ مار مار کر کہتے کہ اللہ تعالیٰ جماعت اور اس کے مبلغ کو ہلاک کر دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس بددعا کے کچھ دن بعد ہی ان کے سب سے بڑے امام کو سانپ نے کاٹ لیا۔ سارے امام پھر اکٹھے ہوئے اور دوبارہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امام کو بچا دے۔ مگر ان کا یہ جو بڑا امام تھا خون کی الٹیوں کے بعد فوت ہو گیا۔ پھر چند دن بعد اس چیف کو بھی سانپ نے کاٹ لیا جو جماعت کے خلاف بددعا میں شامل ہوا تھا۔ اس کو بھی بچانے کے لئے مولویوں نے مل کر دعائیں کیں مگر ہلاکت سے نہ بچا سکے۔ یہ دیکھ کر لوگوں پر خوف طاری ہوا اور خود ہی کہنے لگ گئے کہ احمدیت اور احمدی مبلغ کے خلاف بددعا کرنے کے نتیجہ میں ایسا ہو رہا ہے۔ لیکن مولویوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب اللہ نہیں کر رہا بلکہ جنّوں نے سانپ چھوڑا ہوا ہے جو لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ ابھی کچھ دن گزرے تھے کہ نائب چیف کو بھی سانپ نے کاٹ لیا اور وہ بھی اسی حالت سے گزر کر ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد لوگ ہمارے مبلغ کے پاس آئے اور ہمارے مبلغ کو پتا نہیں تھا کہ اس طرح ان لوگوں نے جماعت کے خلاف بددعا کی ہے۔ لیکن گاؤں والوں نے خود یہ سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ہمیں بچاؤ۔ ہماری بددعا نے ہمیں پکڑ لیا ہے۔ ہمارے لئے کچھ کرو۔ چنانچہ مبلغ ان کے گاؤں گئے اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحدّی کے بارے میں بتایا کہ خدا دشمنوں کی بددعاؤں کو ان کی طرف ہی الٹا دے گا اور جماعت کو ترقی دے گا۔ اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے تینوں دیہات کے سات سو سے زائد افراد بیعت کر کے احمدیت کی آغوش میں آ گئے ہیں۔ مخالفین خود بھی بعض دفعہ سعید فطرت لوگوں کے لئے تحقیقِ حق کے راستے کھول دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے برکینا فاسو کے ریجن بورومَو سے معلم سلسلہ لکھتے ہیں کہ ہماری ایک جماعت پورا (Poura) کے وہابی امام کے بیٹے نے ایک تبلیغی نشست میں شرکت کی جس میں اس نے دیکھا کہ غیراحمدی مولوی جنہوں نے پی ایچ ڈی بھی کر رکھی تھی دلائل دینے کی بجائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔ اس بات کا اس لڑکے پر بڑا گہرا اثر ہوا اور اس نے جماعت کے بارے میں تحقیقات شروع کر دیں۔ ریڈیو پر جماعت کی تبلیغ باقاعدہ سنتا رہا۔ ایک دن اپنے والد (جو کہ وہابی امام ہیں ) سے جماعت کے بارے میں پوچھا تو والدنے جواب دیا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ تم ان کے قریب بھی نہ جانا۔ لیکن موصوف باقاعدگی سے ریڈیو سنتے رہے۔ پھر اس نے ہمارے معلم کے ساتھ رابطہ کیا اور بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔ جب والد کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اپنے بیٹے کو گالیاں دیتے ہوئے گھر سے نکال دیا۔ چند دن بعد اس لڑکے کو اپنی والدہ کا فون آیا کہ تمہارے جانے کے بعد گھر کا امن و سکون برباد ہو گیا ہے تم واپس آ جاؤ اور اپنے والد سے صلح کر لو۔ ماں کے کہنے پر جب وہ گھر واپس آیا تو دیکھا کہ والدنے سارے گاؤں والوں کو جمع کیا اور کہا کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے۔ یہ کافر ہو گیا۔ افریقن رواج کے مطابق والد کا ناراض ہونا بہت برا جانا جاتا ہے۔ اس پر اس نو احمدی بیٹے کو کافی پریشانی ہوئی۔ وہ دعا میں لگ گیا۔ پھر ایک دن خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ اگر نجات چاہتے ہو تو احمدیت پر قائم رہو۔ اس خواب سے موصوف کو مزید ثبات قدم عطا ہوا اور اپنے والد سے کہا کہ آپ جو مرضی کر لیں اب مَیں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔ پس ہزاروں میل دور رہنے والوں کے دلوں میں بھی جب اللہ تعالیٰ احمدیت راسخ کر دیتا ہے تو پھر ان کو ثبات قدم بھی عطا فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حقیقی تعلیم کے ذریعہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بڑے محبّوں کا گروہ پیدا کیا ہے وہاں آپس کی محبت بھی دلوں میں پیدا کر دی ہے۔ چنانچہ اس محبت کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے امیر صاحب بینن لکھتے ہیں کہ پاراکو ریجن کا ایک قصبہ ہے کالے (Kale)۔ پاراکو شہر سے 114 کلو میٹر دور ہے۔ کچے راستے ہیں ان سے گزرتے ہوئے اور جنگلوں میں سے گزرتے ہوئے بالکل جنگل میں یہ واقع ہے۔ گزشتہ سال ہم وہاں اس گاؤں میں گئے تھے۔ کہتے ہیں گزشتہ سال اس گاؤں میں بیعتیں بھی ہوئیں تھیں۔ اس سال اس گاؤں میں درختوں کی چھاؤں تلے جلسہ منعقد کیا گیا جہاں ارد گرد کی جماعتوں سے بھی نومبائعین کو بلایا گیا۔ جب مرکزی وفد ایک طویل اور دشوار سفر کر کے اس گاؤں پہنچا تو گاؤں کے لوگوں نے نعرے لگاتے ہوئے اس قدر والہانہ استقبال کیاکہ گاؤں والوں کا اخلاص دیکھ کر سارے سفر کی تھکان دور ہوگئی۔

کہتے ہیں کہ ایک جماعت مکارا (Makara) کے نومبائع صدر نے وہاں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگو !یہ حق کا راستہ ہے جس نے ہمیں زندگی دی۔ یہی اصل مذہب اسلام ہے جس نے ہمیں محبت سکھائی۔ غیر احمدی امام نے ہمارے درمیان فساد ڈال کر محبت ختم کرنے کی کوشش کی تھی مگر احمدیت نے ہم سب کو یکجا کر دیاہے۔

اسی طرح ایک اور نومبائع جماعت ڈورو (Dorou) کے صدر نے کہا کہ احمدیت نے ہی ہمیں صحیح اسلام سکھایا۔ جب ہم جلسہ سالانہ پر گئے تو کسی نے کوئی فرق نہ کیا۔ سب گاؤں اور شہر والے ایک ہی جگہ جمع تھے۔ نہ کوئی لڑائی تھی نہ جھگڑا۔ احمدیت نے ہمیں دین کی سمجھ بوجھ دی اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ ہم لوگ نمازیں پڑھنے لگ گئے۔ پھر ایک نومبائع نے کہا کہ ہم احمدیت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہم جنگل والوں کو انسان بنا دیا۔ یہاں بیٹا باپ کو سلام نہیں کرتا تھا لیکن احمدی معلمین اور مبلغین نے ہماری ایسی تربیت کی ہے کہ ہر طرف سے سلام کی آوازیں آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں سے بھی اور غیر مسلموں میں سے بھی کس طرح سعید فطرتوں کو احمدیت قبول کرنے کے بعد پھر ایمان پر مضبوطی عطا فرماتا ہے۔

سیرالیون کے امیر لکھتے ہیں کہ بو (Bo) ریجن سیرالیون کی ایک جماعت سیلو (Sellu) میں گزشتہ سال ایک نومبائع جماعت قائم ہوئی تھی لیکن وہاں کے امام نے اس وقت بیعت نہیں کی تھی۔ کچھ عرصہ قبل جب اس امام نے بھی جماعت احمدیہ میں شمولیت کا اعلان کیا تو کچھ شر پسند عناصر فتنہ پھیلانے کی غرض سے وہاں پہنچ گئے۔ ان افرادنے وہاں جا کر امام سے کہا کہ چونکہ یہ مسجد جس کی تم امامت کرتے ہو مالکیہ فرقے کی ہے اس لئے یا تو احمدیت چھوڑ دو یا پھر اس مسجد کی امامت ترک کر دو۔ اس پر امام صاحب نے جواب دیا کہ میں نے ایک لمبے عرصے کی ذاتی تحقیق اور مطالعہ کے بعد احمدیت قبول کی ہے اور چونکہ میں امام ہوں اور ان باتوں کو آپ لوگوں سے زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہوں اس لئے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے اور میں آپ کی مسجد اور امامت آپ کے سپرد کرتا ہوں۔ لیکن احمدیت کو چھوڑنا میرے لئے ممکن نہیں۔ ایسے امام بھی ہیں، علماء بھی ہیں جنہیں سچائی کو سمجھنے اور پرکھنے کی اللہ تعالیٰ نے فراست بھی دی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک پاکستانی علماء ہیں جن کو صرف اپنی غرض ہے اور اپنا پیٹ بھرنے کی طرف توجہ ہے۔

بینن سے ایک لوکل معلّم توفیق صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست بامیسورو (Bamesoro)کریم صاحب کو عیسائیت سے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ موصوف نے ہمیں اپنے گاؤں ہیٹی (Heti) میں تبلیغ کے لئے آنے کی دعوت دی اور کہا کہ چاہے پورے گاؤں میں سے کوئی بھی قبول نہ کرے اور چاہے لوگ میری کتنی ہی مخالفت کیوں نہ کریں میں احمدی ہوں اور احمدی ہی رہوں گا اور اکیلا ہی تبلیغ کرتا رہوں گا۔ یہ ان لوگوں کا، نئے آنے والوں کا تبلیغ کے بارے میں جوش ہے جو ہم پرانوں کے لئے بھی سبق ہے۔ جب ان کے گاؤں میں تبلیغ کی گئی تو بیس افراد کو بیعت کرنے کی توفیق ملی۔ کچھ عرصہ بعد جامعہ احمدیہ نائیجیریا کے ایک طالبعلم بشیر صاحب کو وہاں تربیت کے لئے بھیجا گیا تو مزید ایک سو افرادنے احمدیت قبول کر لی۔ احمدیت کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر امام مسجدنے جماعت کی مخالفت شروع کر دی اور روزانہ علی الصبح جماعت کے خلاف وعظ کرنا شروع کر دیا لیکن احمدی ثابت قدم رہے اور گاؤں کے پہلے احمدی بامیسورا (Bamesoro) کریم نے کہا کہ جب تک اس گاؤں میں جماعت کو مسجد کے لئے جگہ نہیں مل جاتی اس وقت تک میرا گھر جماعت کے لئے حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں نے وہاں پر جمعہ کی نماز بھی ادا کی۔ عید کی نماز بھی ادا کی۔ امام مسجدنے دیکھا کہ احمدیت روز بروز ترقی کر رہی ہے تو وہ بامیسورو کریم صاحب کے گھر چلا گیا اور اسے کافر کہنا شروع کر دیا۔ اس پر کریم صاحب نے کہا کہ جب میں عیسائی تھا تو تم لوگوں میں سے کسی نے مجھے اسلام کا پیغام نہیں دیا۔ اب جبکہ میں جماعت احمدیہ کی وجہ سے احمدی مسلمان ہوں تو تم نے مجھے کافر کہنا شروع کر دیا۔ میں احمدی ہوں اور احمدی ہی مروں گا۔ چنانچہ مولوی کو وہاں سے رسوا ہو کر نکلنا پڑا اور کریم صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک فعّال داعی الی اللہ بن چکے ہیں۔ انہیں تبلیغ کا بھی بڑا شوق ہے۔ باوجود امام مسجد کی مخالفت کے بڑے جوش اور جذبے سے تبلیغ کر رہے ہیں اور نئی بیعتوں کے حصول کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ برکینا فاسو سے لوکل معلم کوناتے عبدالحئی صاحب کہتے ہیں کہ ایک نومبائع جیالو (Dialo) ابراہیم نے بتایا کہ وہ مسلمان ہونے کے باوجود کثرت سے شراب پیا کرتا تھا اور اتنی زیادہ پیتا تھا کہ لوگ ان کو پاگل سمجھتے تھے اور کوئی بھی ان کے قریب نہ جاتا تھا۔ ایک دن وہ بیمار ہو گیا اور کوئی بھی ان سے ملنے نہیں آیا۔ اس کے بعد انہوں نے احمدیہ ریڈیو سننا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے نوازا۔ جماعت میں داخل ہو گئے اور شراب پینی چھوڑ دی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد دوبارہ بیمار ہو گئے اور اس دفعہ اس قدر بیمار ہوئے کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ میرا آخری وقت آ گیا ہے۔ چنانچہ موصوف نے دعا کی کہ اے اللہ اگر امام مہدی جن کو میں نے مانا ہے سچے ہیں تو اپنی جناب سے مجھے لمبی عمر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سنی۔ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو نہ صرف بیماری سے نجات دی بلکہ ان کو اتنی صحت دی کہ اس کے بعد وہ جلسہ میں بھی شامل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا یہ سب امام مہدی علیہ السلام کو ماننے کی برکت ہے۔ اگر آج وہ زندہ ہیں تو صرف اس لئے کہ انہوں نے سچائی کو مانا۔

آئیوری کوسٹ سے ایک دوست دامیلے (Dembele) صاحب اپنی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مَیں بتوں کی پوجا کیا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت مجھے ایک لوٹا اور جائے نماز دیتی ہے اور کہتی ہے کہ نماز پڑھا کرو۔ مجھے اس خواب کی سمجھ نہیں آئی۔ خواب کی تعبیر کے لئے میں ایک مسلمان عالم کے پاس گیا۔ اس نے کہا کہ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ تم نماز پڑھا کرو۔ چنانچہ میں نے غیر احمدیوں کی مسجد میں نماز پڑھنی شروع کر دی لیکن ابھی بھی میری توجہ بت پرستی کی طرف تھی۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے پھر وہی خواب دیکھا۔ اس عورت نے پھر مجھے یہی کہا کہ نماز پڑھا کرو۔ کہتے ہیں میں پریشان ہوا کہ میں نے تو نماز پڑھنی شروع کر دی ہے پھر اس خواب کا کیا مطلب ہے؟ اس پر کہتے ہیں میں اپنے بڑے بھائی کے پاس گیا جو احمدی ہے اور اس سے خواب بیان کی۔ بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں احمدیت قبول کرنی چاہئے۔ چنانچہ ان کے مشورے پہ میں نے جماعت کے مبلغ سے رابطہ قائم کر کے جماعت کے بارے میں معلومات لے کر بیعت کر لی۔ بیعت سے پہلے بھی میں نماز پڑھتا تھا لیکن اس کے باوجود میرا دل بت پرستی کی طرف مائل رہتا تھا لیکن احمدیت قبول کرنے کی برکت تھی کہ میرے دل سے بُت پرستی کا خیال بالکل ہی نکل گیا۔ احمدیت قبول کرنے کے بعد ہی مجھے حقیقی نماز میسر آئی اور حقیقی خدا کا پتا چلا۔ احمدیت کی برکت ہی سے مجھے حقیقی خدا ملا۔ پس نئے احمدیوں کے یہ واقعات پرانوں کے لئے بھی سبق ہیں۔ قازان سے مبلغ لکھتے ہیں کہ جون 2014ء سے قازان جماعت نے فرید ابراہیم صاحب کی دکان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر لگائی۔ تصویر کے نیچے یہ تحریر رشین میں لکھی کہ وہ امام مہدی جس کا بہت دیر سے انتظار تھا وہ آ چکا ہے اور ساتھ میں جماعت کی ویب سائٹ کا ایڈریس بھی لکھا ہوا تھا۔ ان کی دکان شہر کے مین بازار میں ہے اور ایک اندازے کے مطابق روزانہ دس ہزار کے قریب لوگ ان کی دوکان کے پاس سے گزرتے ہیں۔ اس تصویر کو دیکھ کر لوگ رابطہ کرتے ہیں اور تبلیغ کے لئے راہ نکلتی ہے۔ اس طرح بھی لوگوں نے تبلیغ کے راستے کھولنے شروع کئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہمارے ایک پاکستانی احمدی اپنے بزنس کے سلسلہ میں یہاں گئے ہوئے تھے۔ میرا خیال ہے یہی جگہ ہو گی۔ انہوں نے مجھے ایک تصویر بھیجی ہے جو ایک دوکان پہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی ساری لگی ہوئی تھی اور کہتے ہیں مَیں وہاں کھڑا تھا۔ تصویر دیکھ رہا تھا تو اتنے میں دو پاکستانی غیر احمدی وہاں سے گزرے اور وہاں کھڑے ہو کے تصویر دیکھنے لگے تو ایک دوسرے کو کہنے لگا کہ لگتا ہے کہ یہ قادیان والے مرزا صاحب ہیں ان کی تصویر ہے۔ ایک عورت جو اس دکان پہ تھی اس نے صرف اتنا سنا۔ تو تصویر کی طرف اشارہ کر کے وہ کہتی ہے کہ یہ امام مہدی علیہ السلام ہیں جو آ گئے ہیں۔ کہتے ہیں میں نے اتنا ہی سنا تھا۔ پھر وہاں سے چلا گیا۔ تو تبلیغ کے یہ رستے اس طرح بھی لوگ کھولتے ہیں۔ امیر صاحب برکینا فاسو لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک نو مبائع دوست پارے (Pare) ادریس نے بیان کیا کہ میں نے بیعت کرنے کے بعد ایک دن خواب میں دیکھا کہ جس جگہ میں پہلے ہوتا تھا وہاں اندھیرا ہو گیا ہے اور جس جگہ اب ہوں وہاں نور ہی نور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ موصوف قبول احمدیت سے پہلے وہابی تھے۔ چنانچہ اس خواب کے بعد انہوں نے اپنے دوستوں کو کہنا شروع کر دیا کہ اگر آج تم نور کی تلاش چاہتے ہو تو حقیقی نور صرف احمدیت میں ہی ہے کیونکہ اس میں خلافت کا نظام جاری ہے اور خلافت کے ساتھ ہی ہماری فتح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب پارے (Pare) صاحب مستقل داعی الی اللہ بن چکے ہیں، بڑی تبلیغ کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیم کی طرف لا رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ ہی حقیقی اسلام دنیا پر غالب آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق بھی دے کہ وہ اس برکت سے حصہ لینے کے لئے مستقل دعوت الی اللہ کرنے والا ہو اور اس طرف توجہ دے۔

نماز کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ ایک جنازہ ہے مکرمہ خورشید رقیہ صاحبہ کا جو مکرم مولوی منظور احمد صاحب گھنو کے مرحوم درویش قادیان کی اہلیہ تھیں۔ یکم ستمبر 2017ء کو جمعہ اور حج اکبر کے دن بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مرزا کبیر الدین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پڑنواسی تھیں۔ ان کے میاں دیہاتی مبلغ تھے جن کے ساتھ آپ کی شادی 1956ء میں ہوئی۔ میدان عمل میں ہر قسم کی تنگی ترشی اور نامساعد حالات میں اپنے شوہر کا پورا ساتھ دیا۔ نہایت صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزاری۔ مرحومہ نمازوں کی پابند، تہجد گزار، دعا گو، مہمان نواز، خلافت کی فدائی، غریب پرور اور نیک خاتون تھیں۔ ایم ٹی اے پر باقاعدہ میرے خطبات سنتی تھیں اور اپنی اولاد کو بھی تلقین کرتی تھیں کہ ان کے خطبے ضرور سنا کرو۔ طویل عرصہ تک یہ بیمار بھی رہیں۔ اور جماعت کی طرف سے علاج کی سہولت مہیا ہونے کے باوجود مددنہیں لیتی تھیں۔ آخری وقت تک بچوں کو یہی کہا کہ اپنے وسائل سے ہی زیادہ سے زیادہ علاج کروانے کی کوشش کرو۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔ ان کے ایک داماد جو ہیں وہ فرانس میں رہتے ہیں اور مراکو کے رہنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نیو جرسی امریکہ کا ہے جو مکرم مولوی امام الدین صاحب مبلغ سلسلہ انڈونیشیا کے بیٹے تھے۔ 10؍ستمبر 2017ء کو ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے کسی سائنس کے مضمون میں وہاں پی۔ ایچ۔ ڈی کیا تھا۔ چھٹیوں میں لندن بھی آجاتے رہے۔ خلافت رابعہ میں زیادہ آیا کرتے تھے اور دفتر پی ایس کے علاوہ عملہ حفاظت میں ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ دفتر کا کام ہو یا حفاظت کی ڈیوٹی ہمیشہ بڑی ذمہ داری سے اپنی ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔ ان کی شخصیت ایسی پُروقار، نمایاں اور مقبول تھی کہ جلد جلد لوگوں میں اپنی جگہ بھی بنا لیتے تھے۔ ہر دلعزیز بھی ہو جاتے تھے۔ قد کاٹھ بھی ان کا لمبا تھا۔ پھر علم و دانش بھی کافی تھی۔ پی ایچ ڈی کیا ہوا تھا اور اپنے علم سے خوب واقفیت تھی۔ اس کے علاوہ بھی علم رکھتے تھے۔ ان خوبیوں کے باوجودنہایت عاجز اور طبیعت میں مسکینی تھی۔ ہر طرح کے آدمی سے گفتگو کرنے کا ملکہ تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت رابعہ میں تو خاص طور پر کافی لمبا عرصہ پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں خدمت کی توفیق پائی۔ پھر عملہ حفاظت کی ڈیوٹیوں میں بھی کافی چستی سے ڈیوٹی دیتے رہے۔ امیر صاحب امریکہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نیو جرسی جماعت کے ممبر تھے۔ کئی دہائیوں سے جلسہ سالانہ کے موقع پر لنگر خانے میں رضا کاروں کی ٹیم کی نگرانی کر رہے تھے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر ان کی بے لوث اور اَنتھک خدمت ہم سب کے لئے ایک نمونہ تھی۔ نمایاں ہو کر کام کرنے کی بجائے بے نفس ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی پُرجوش خدمت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ مجھے عہدہ نہیں چاہئے۔ صرف خدمت میرے سے جو لینی ہے لے لیں۔ خلافت سے بھی انتہائی وفا کا تعلق تھا۔ میں ان کو بچپن سے ربوہ سے جانتا ہوں۔ اور خلافت کے بعد بھی مَیں نے ان میں خلافت کے لئے پیار اور محبت اور ان کا ایک خاص وفا کا تعلق دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ ان کی جو بہنیں ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر اور حوصلہ دے اور مولوی امام دین صاحب کی جو اولاد ہے ان میں ان کی نیکیوں کو بھی جاری فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 15؍ ستمبر 2017ء شہ سرخیاں

    آجکل مغربی پریس اور میڈیا یہ سوال کرتا ہے کہ تم اسلام کی امن پسند تعلیم کی باتیں کرتے ہو لیکن مسلمانوں کی اکثریت یہ باتیں نہیں کرتی اور نہ ہی وہ تمہیں مسلمان سمجھتی ہے۔ احمدیوں کی تعداد بھی دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی ہے۔ جب یہ صورتحال ہے تو پھر احمدی کس طرح اسلام کی حقیقی تعلیم پر چلنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تم کہتے ہو کہ یہی اسلام ہے تو باقی مسلمانوں کو تم کس طرح اس تعلیم پر چلنے کے لئے قائل کرو گے۔

    ہمارا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہم اسلام کی جس تعلیم کی بات کرتے ہیں اسے قرآن کریم سے، حدیث سے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت سے ثابت کرتے ہیں۔ ہماری کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں کہ غیروں کو متاثر کرنے کے لئے، ان کے اعتراضات دور کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہرگز شدت پسندی کی تعلیم نہیں ہے یا کوئی آجکل کے حالات دیکھ کر ہم نے اپنا یہ مؤقف اختیار نہیں کیا ہوا۔ ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہمیشہ سے ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تعلیم ہے۔

    جہاں تک یہ سوال ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو اس تعلیم کے مطابق ہم کس طرح قائل کریں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کی ایسی بگڑی ہوئی حالت کے زمانے میں مسیح موعود اور مہدی معہودنے آنا تھا اور مسلمانوں کی بھی اصلاح کرنی تھی اور دوسری دنیا کو بھی اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانا تھا۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی اور جب یہ حالات تھے تو ایسے وقت میں مسیح موعود اور مہدی معہود کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور اس نے آکر ہمیں اسلام اور قرآن کی حقیقی تعلیم کا اِدراک دیا اور اسلام کے ہر حکم کی حکمت بیان کی اور ہم احمدی مسلمان جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانا ہے اس کے مطابق اسلام کی تعلیم کو مسلمانوں کو بھی اور غیر مسلموں کو بھی بتارہے ہیں۔ ہمارا کام تبلیغ کا کام ہے۔ مشنری کام ہے سو یہ ہم کر رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے۔

    تم یہ کہتے ہو کہ دوسرے مسلمانوں کو کس طرح اس تعلیم پر چلاؤ گے تو جماعت احمدیہ جو اَب کروڑوں میں پھیل چکی ہے اس میں اکثریت مسلمانوں کے دوسرے فرقوں سے ہی آکر شامل ہوئی ہے جو پیغام سمجھتے ہیں اور جوں جوں لوگوں پر حقیقی تعلیم واضح ہوتی چلی جاتی ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کا پتا چلتا چلا جاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کی پیشگوئیوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔ مسلمانوں میں سے بھی یہ لوگ اکثریت میں ہم میں شامل ہو رہے ہیں اور دوسرے مذاہب میں سے بھی لوگ ہم میں شامل ہوتے چلے جا رہے ہیں اور انشاء اللہ یہی اقلیت ایک دن اکثریت میں بدل جائے گی۔

    یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اس کے نمونے ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جو لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں ان میں سے اکثریت مسلمانوں میں سے ہی ہے۔ اس بات کے باوجود کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، مبلغین کی تعداد بہت تھوڑی ہے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ غیر معمولی نتائج پیدا فرما رہا ہے۔ بلکہ بہت سے تو ایسے ہیں جو جماعت میں شامل ہوتے ہیں کہ جن کی خود اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے۔ چنانچہ خوابوں کے ذریعہ سے بہت سوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور جماعت کا تعارف ہوا اور آپ کی صداقت ان پر واضح ہوئی۔

    بعض کو پہلے تعارف ہوتا ہے اور پھر وہ استخارے کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے جماعت میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض تبلیغ سنتے ہیں جس میں اب مبلغین، معلمین یا داعیان کے علاوہ ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے چینل بھی شامل ہو گئے ہیں، تو یہ پیغام سن کر ان کے دل اللہ تعالیٰ کھولتا ہے۔ بعض ایسے ہیں جو جماعت کے مخالفین کی مخالفت اور ان کے انجام کو دیکھ کر احمدیت قبول کر لیتے ہیں۔ بعض کو اللہ تعالیٰ نشان دکھاتا ہے۔

    خوابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احمدیت کی صداقت کی طرف رہنمائی کے مختلف واقعات کا ایمان افروز تذکرہ۔

    بعض دفعہ بعض نشان لوگوں کے لئے ہدایت کا اور بیعت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ بعض دفعہ خود مخالفین بھی سعید فطرت لوگوں کے لئے تحقیقی حق کے راستے کھول دیتے ہیں۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے روح پرور واقعات کا تذکرہ۔

    اللہ تعالیٰ لوگوں کو اسلام کی حقیقی تعلیم کی طرف لا رہا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ ہی حقیقی اسلام دنیا پر غالب آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق بھی دے کہ وہ اس برکت سے حصہ لینے کے لئے مستقل دعوت الی اللہ کرنے والا ہو اور اس طرف توجہ دے۔

    مکرمہ خورشید رقیہ صاحبہ (اہلیہ مکرم منظور احمد صاحب گھنوکے مرحوم درویش قادیان) اور مکرم ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نیو جرسی امریکہ کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 15ستمبر2017ء بمطابق 15تبوک 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور