مجالس کی اقسام اور ان کے بارہ میں نصائح

خطبہ جمعہ 22؍ ستمبر 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

دنیا میں مجلسوں کی بہت سی قسمیں ہیں یا مختلف مجالس کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔ بعض مجالس مشوروں کے لئے ہوتی ہیں جن میں دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے مشورے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ حکومت چلانے کے لئے مشورے ہوں یا سیاستدانوں کی مجلسوں کے مشورے ہوں یا کاروبار کرنے والوں کی مجلسیں ہوں۔ یا پھر کھیل کود اور تفریح کی باتیں ہوں اس کے لئے تفریحی مجلسیں ہوتی ہیں۔ ان کے لئے کمیٹیاں بنتی ہیں۔ تفریح کے پروگراموں کو بنانے کے لئے بھی لوگ مل کر بیٹھتے ہیں، سوچتے ہیں۔ یا پھر نام نہاد علمی مجالس کے لئے بعض مجلسیں ہوتی ہیں۔ غرض کہ یہ سب قسم کی مجالس اور کمیٹیاں اور مل کر بیٹھنا دنیاوی کاموں کے لئے ہوتا ہے اور خدا کے لئے یا خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے یا خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے مجالس نہیں ہوتیں۔ اگر لوگوں کی بہتری کے لئے بھی کوئی مجلس لگتی ہے، کوئی باتیں سوچی جاتی ہیں تو وہ بھی دنیاوی اغراض کے لئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اس میں بھی مقصودنہیں ہوتی۔ لیکن بعض ایسی مجالس بھی ہوتی ہیں جو دینی اغراض کے لئے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے ہوں، انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کے منصوبے سوچنے سے متعلق ہوں یا روحانیت میں ترقی کرنے کے ذرائع تلاش کرنے کے لئے ہوں۔ یا ان مجالس میں شامل ہونے والے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس میں شامل ہوں۔ غرض کہ ان مجالس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ہمارا جو کام بھی ہو، ہم جو بھی منصوبہ بندی کریں، مجلس کے جو بھی پروگرام ہوں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو۔ ان میں لغویات سے پرہیز ہو۔ یہ ایسی مجالس ہیں جو خدا تعالیٰ کو پسند ہیں اور ایسی مجالس کے نتائج اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں اور ایسی مجالس میں شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد بھی نوازتا ہے۔

پس ایک مومن کا کام ہے چاہے اس کے گھر کی مجلس ہے، بیوی بچوں کے ساتھ ہے یا گھر سے باہر کی مجالس ہیں، ان میں اس کی یہ کوشش رہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو کس طرح حاصل کرنا ہے اور اپنی روحانیت کو کس طرح سنبھالنا اور بہتر کرنا ہے۔ اپنی اور مومنوں کی حالت کو کس طرح بہتر کرنا ہے۔ ایک مومن کی بظاہر دنیاوی مجلس بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی نہیں ہوتی۔ دنیاوی کاموں کو کرتے ہوئے بھی لغویات سے وہ پرہیز کرنے والا ہوتا ہے۔ دل اگر دنیاوی کاموں میں مصروف ہے تو اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر اسے نہیں بھولتا۔ مومن کی دنیاوی کاموں کی مجالس میں بھی دھوکہ اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے کے لئے باتیں نہیں ہوتیں چاہے وہ دنیاوی کام کر رہا ہے۔ جیسا کہ آجکل کی سیاسی اور دنیاداروں کی مجالس میں باتیں ہوتی ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کو ہر وقت مدّنظر رکھا جاتا ہے اور یہی ایک مومن سے توقع رکھی جاتی ہے کہ ان باتوں کو وہ ہر وقت مدّنظر رکھے۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جو مجالس کے بارے میں ہدایت فرمائی ہے وہ یہی ہے کہ مومنوں کی مجالس سرکشی اور بغاوت سے پاک، گناہوں سے پاک، رسول کی نافرمانی سے بچنے والی اور تقویٰ پر چلنے والی ہونی چاہئیں۔ لیکن افسوس کہ آجکل مسلمانوں کی اکثر مجالس اس کے بالکل خلاف ہیں اور مسلمان مسلمان کو تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ۔ (المجادلۃ: 10) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم باہم خفیہ مشورے کرو تو گناہ سرکشی اور رسول کی نافرمانی پر مبنی مشورے نہ کیا کرو۔ ہاں نیکی اور تقویٰ کے بارے میں مشورے کیا کرو۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔

لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا مسلمان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھول گئے ہیں۔ آپس کی پھوٹ نے انتہا کی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو مومن کی یہ نشانی بتائی کہ رُحَمَٓاءُ بَیْنَھُمْ(الفتح:30) کہ آپس میں محبت اور الفت کرنے والے ہیں۔ لیکن یہاں تو ہمیں وہ حال نظر آتا ہے جو کافروں والا نظارہ اللہ تعالیٰ نے کھینچا ہے جن کے بارے میں فرمایا کہ قُلُوْبُھُمْ شَتّٰی(الحشر:15) کہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ مشورے ہیں آپس میں بھی اور غیروں کے ساتھ خفیہ معاہدوں کی صورت میں بھی تو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہوئے اور تقویٰ سے دُور۔ اللہ تعالیٰ کا خوف بالکل نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ سے ڈرو جس کے حضور تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔ وہاں حکومتیں اور بادشاہتیں اور دولتیں اور مغربی طاقتوں کی آشیر باد کام نہیں آئے گی۔ کوئی بڑی طاقت وہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں کی نافرمانیوں اور تقویٰ سے دُور ہٹنے کی سزا سے نہیں بچا سکے گی۔

اصل میں تو مسلمان کہلا کر پھر دنیا کو اپنا مقصود بنانے والوں اور اس کے پیچھے دوڑنے والوں کی جو حالت ہے یہ اس بات کا عملی اظہار ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین ختم ہو گیا ہے ورنہ اگر ذرا سا بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین ہوتا تو نہ مسلمان سیاستدانوں اور لیڈروں کی یہ حالت ہوتی جو آج ہے اور نہ ہی نام نہاد علماء کی یہ حالت ہوتی جو آج ہمیں نظر آتی ہے۔ بہرحال اس زمانے میں ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ایسی تمام تر سوچوں سے جہاں اپنے آپ کو پاک کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کو اپنے اندر بڑھائیں وہاں جن کی ان غیر احمدی مسلمانوں تک پہنچ ہے اور تعلقات ہیں وہ جس حد تک اپنے دائرے میں، اپنے حلقے میں مسلمانوں کو سمجھا سکیں سمجھائیں کہ تمہاری یہ حالت نہ صرف تمہیں غیروں کی مکمل غلامی میں لے آئے گی بلکہ تم خدا تعالیٰ کی سزا کے بھی مورد بنو گے۔ جس دنیا کے پیچھے تم پڑے ہوئے ہو وہ بھی تمہارے ہاتھ سے جائے گی اور دین کو تم پہلے ہی چھوڑ بیٹھے ہو۔ پس اب وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ دلوں میں پیدا کرو ورنہ سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہے گا۔

دنیاوی مشوروں کی مجالس میں ایک مجلس یواین او (UNO) کی بھی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی اس کا ایک اجلاس ہوا۔ امریکہ کے صدر کی تقریر تھی۔ اس پر یہاں کے جو مغربی مضمون نگار ہیں، تجزیہ نگار ہیں انہوں نے بھی لکھا ہے کہ اس تقریر سے بجائے امن کے فساد اور فتنہ پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ بلکہ یہ بھی انہوں نے کھل کے لکھ دیا کہ شاید اس تقریر سے سعودی عرب اور چند مسلمان ملک خوش ہوئے ہوں گے ورنہ یہ انتہائی مایوس کن اور جنگ اور فتنہ کی آگ بھڑکانے والی تقریر ہے۔

پس مسلمان حکومتوں کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو دیکھنا چاہئے اور ہر قسم کے فتنہ و فساد سے بچنا چاہئے۔ بہرحال یہ تو عام مسلمان دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے بات کی ہے۔ لیکن ہمیں اپنی حالتوں کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان کو کبھی برداشت نہیں ہو گا کہ وہ جماعت کو ترقی کرتا ہوا دیکھ سکے۔ شیطان نے اپنی فطرت کے مطابق ہمارے اندر بھی بے چینی پیدا کرنے اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہنا ہے۔ پس وہ لوگ جو بعض دفعہ اکٹھے ہو کر بیٹھتے ہیں اور اپنے مقامی حلقے یا شہر کے نظام جماعت یا ملک کے نظام جماعت کے متعلق باتیں کرتے ہیں وہ لوگ اصل میں بعض دفعہ بلکہ حقیقت میں شیطان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ شیطان کا کام کیونکہ ہمدرد بن کر وار کرنا ہے اس لئے ایسی مجلسوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو حقیقت میں جماعتی نظام کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ جماعت کے درد کو محسوس کرنے کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فتنہ پیدا کرنے والا صحیح کہہ رہا ہے۔ وہ اُسے فتنہ پیدا کرنے والا تو نہیں سمجھتے لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ اظہار خیال کرنے والا اور ہمدردی کے رنگ میں بات کرنے والا صحیح کہہ رہا ہے اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ حالانکہ اگر اصلاح کی ضرورت ہے تو ملکی بالا نظام تک اور خلیفہ وقت تک بات پہنچائی جانی چاہئے اور اس کے بعد پھر اِدھر اُدھر مجلسیں لگا کر باتیں کرنا اور ایسے انداز میں باتیں کرنا جیسے بڑے راز کی باتیں کی جا رہی ہیں، بڑی اہم باتیں کی جا رہی ہیں اور جماعت کا بڑا درد رکھتے ہوئے باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ بالکل غلط طریقہ کار ہے اور یہ گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی اور تقویٰ سے دُوری کی علامتیں ہیں۔ پس ایسی مجلسوں سے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی ہوشیار کیا ہے کہ تم ان سے بچو۔

کسی عہدیدار کے خلاف شکایت ہے یا امیر کے خلاف شکایت ہے تو مرکز کو شکایت کریں۔ خلیفہ وقت تک پہنچا دیں۔ اس کے بعد پھر افراد جماعت کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اب یہ خلیفۂ وقت کا کام ہے کہ کس معاملے کو کس طرح دیکھنا ہے اور کس طرح حل کرنا ہے۔ ہاں دعاہر ایک کو ضرور کرتے رہنا چاہئے۔ ہر احمدی کو درد کے ساتھ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی برائی کو جماعت میں سے نکالے اور جماعت کو تقویٰ پر چلنے والے اور کام کرنے والے ہمیشہ ملتے رہیں۔ پس اس اہم بات کو ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے۔ جوں جوں جماعت کو اللہ تعالیٰ ترقی دیتا جائے گا اور دے رہا ہے شیطان نے بھی اپنا کام کرنا ہے۔ شیطان نے تو پہلے دن سے ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کا اظہار کر دیا تھا اور اجازت لے لی تھی کہ وہ انسانوں کو، مومنوں کو بہکانے کا کام کرے گا۔ مخالفین احمدیت جہاں کھل کر جماعت کی مخالفت کے منصوبے بناتے ہیں اور بنائیں گے وہاں ہمدردی کے نام پر وہ سادہ لوگوں کو اور کمزور ایمان والوں کو بھی فتنہ پیدا کرنے کے لئے اپنا آلۂ کار بناتے ہیں اور بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس ہر احمدی کو اس سلسلہ میں ہوشیار رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ ہر اندرونی اور بیرونی فتنہ سے بچائےاور ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کی مجلس میں بیٹھنے اور اس کا حصہ بننے کی توفیق دے۔ نہ کہ گناہ، سرکشی، رسول کی نافرمانی اور تقویٰ سے دور کرنے والی مجالس کی۔

مجلس کی مختلف قسموں اور حالتوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات بھی ہیں اور آپ کے غلامِ صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بھی بعض ارشادات ہیں وہ بھی اِس وقت پیش کرتا ہوں۔ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ ایک مومن کی مجلس کیسی ہونی چاہئے اور اگر اس معیار کی مجلس نہ ہو جو ایک مومن کی شایانِ شان ہے تو پھر اس پر کیا ردّعمل دکھانا چاہئے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’ہمارا مذہب تو یہ ہے اور یہی مومن کا طریق ہونا چاہئے کہ بات کرے تو پوری کرے ورنہ چُپ رہے۔ جب دیکھو کہ کسی مجلس میں اللہ اور اُس کے رسول پر ہنسی ٹھٹھا ہو رہا ہے تو یا تو وہاں سے چلے جاؤ تا کہ ان میں سے نہ گنے جاؤ اور یا پھر پورا پورا کھول کر جواب دو۔ دو باتیں ہیں‘‘ (اس کے علاوہ کوئی نہیں۔ اگر ایک حقیقی مومن ہے تو) ’’یا جواب یا چپ رہنا‘‘ (اور اٹھ کر چلے جانا۔) فرمایا کہ’’یہ تیسرا طریق نفاق ہے کہ مجلس میں بیٹھے رہنا اور ہاں میں ہاں ملائے جانا۔ دبی زبان سے اخفاء کے ساتھ اپنے عقیدہ کا اظہار کرنا‘‘۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 130۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

مجلس میں بیٹھے بھی رہنا اور مداہنت دکھاتے ہوئے یا خوف سے ان لوگوں کی ہاں میں ہاں کہتے رہنا پھر دبی زبان میں کہہ بھی دینا کہ نہیں۔ تم یہ غلط کہہ رہے ہو۔ یہ بات اس طرح نہیں۔ اس طرح ہونی چاہئے۔ لیکن کھل کے بات کا اظہار نہ کرنا۔ فرمایا کہ یہ جو ہے یہ نفاق ہے۔ یہ مومن کا طریقہ کار نہیں ہے۔ پس یہ ہے ایک مومن کا ردّعمل ایسی مجلس میں جہاں دین پر ٹھٹھا ہو رہا ہو یا دین کے خلاف منصوبہ بندی ہو رہی ہو یا بڑے طریقے سے ایسی باتیں ہو رہی ہوں جو دل میں وسوسے پیدا کرنے والی ہوں۔ مومن کا ردّ عمل یہ ہے کہ کوئی بھی اللہ اور رسول یا اس کی قائم کردہ جماعت کے نظام کے خلاف بات سنو تو سختی سے ردّ کرو اور ان باتیں کرنے والے کو بتاؤ کہ اگر تمہارے خیال میں یہ سب باتیں صحیح ہیں تو خلیفۂ وقت اور نظام کو بتاؤ لیکن اس طرح باتیں کرنا جائز نہیں ہے۔ ایسی مجالس میں اگر انسان بیٹھا رہے اور دبی زبان میں ردّ کرے اور کھل کر نہ بولے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ نفاق بن جاتا ہے اور اس سے ایک مومن کو بچنا چاہئے اور دین کے معاملے میں اور نظام کے معاملے میں کبھی بھی بے غیرتی نہیں دکھانی چاہئے۔ اور غیرت کا اظہار دو طرح سے ہے کہ یا تو کھل کر جواب دو یا اٹھ کر اس مجلس سے چلے جاؤ۔

یہی طریق اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا اور اس کی وضاحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی نصیحت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جب تم کسی قوم کی مجلس میں جاؤ اور انہیں اپنے مزاج کی باتیں کرتے ہوئے پاؤ تو وہاں ٹھہرو۔ (یعنی کہ نیکی کی باتیں اگر کر رہے ہیں اور غلط قسم کی باتیں نہیں کر رہے، فتنہ و فساد کی باتیں نہیں کر رہے تو وہاں ٹھہرو۔) اور اگر وہ ایسی باتوں میں مشغول ہوں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو تو اس مجلس کو چھوڑ دیا کرو۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 6صفحہ 368حدیث 18927مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

اس بات کی بھی آپ نے وضاحت فرمائی کہ کیسی مجلس ایک مومن کو ناپسند ہونی چاہئے۔ یہ تو نہیں کہ وہ اپنی ذاتی ناپسند کی باتیں نہیں کر رہےبلکہ ایسی ناپسند جو نظام اور جماعت کے متعلق باتیں ہیں۔ فرمایا کہ ایسی مجلس کو چھوڑ دو۔ اور اس بارے میں جیسا کہ میں نے کہا کہ ناپسند کیسی ہونی چاہئے؟ ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہؓ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم کن لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھو جن کو دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے اور جن کی گفتگو سے تمہارا دینی علم بڑھے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ (کنز العمال جلد 9 صفحہ 77 حدیث 25582 کتاب الصحبۃ قسم الافعال مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)

پس یہ ہے وہ رہنما اصول جو ایک مومن کو اپنی مجلس کے انتخاب کے وقت سامنے رکھنا چاہئے کہ ان مجالس کو پسند کرو جہاں خدا تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی عظمت کی باتیں ہو رہی ہوں۔ جہاں دینی علم میں بھی اضافہ ہو رہا ہو۔ اور آجکل دینی علم میں اضافہ ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔ تبلیغ کے لئے، دعوت الی اللہ کے لئے، تربیت کے لئے یہ باتیں ضروری ہیں اور یہی باتیں آخرت کی بھی یاد دلاتی ہیں۔ انسان کو اس طرف متوجہ رکھتی ہیں کہ صرف دنیا کی چمک دمک ہی سب کچھ نہیں ہے۔ اس دنیا کی دولتیں اور آسائشیں ہی سب کچھ نہیں ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا ایک مومن کا اصل مقصود ہونا چاہئے۔

پہلی حدیث کی وضاحت ہو گئی کہ اگر صرف دنیاداروں کی مجالس ہیں تو یہ مجلسیں ایک مومن کو پسندنہیں ہونی چاہئیں۔ ایسی مجلس سے فوراً اٹھ کر آ جانا چاہئے۔ اگر اس طرف ہماری توجہ ہو تو ہمارے بڑے بھی اور ہمارے نوجوان بھی بہت سی برائیوں سے بچ جائیں۔ بہت سے فتنوں سے بچ جائیں۔ نوجوانوں کی بہت سی مجالس کی ایک دوسری طرز بھی ہے، قسم بھی ہے۔ نوجوان خاص طور پر اس میں involve ہوتے ہیں جو fun کے نام پر ہوتی ہیں۔ غل غپاڑے کے لئے ہوتی ہیں۔ اور مغربی ماحول کے اثر کی وجہ سے ہمارے بعض نوجوانوں میں بھی یہ باتیں پیدا ہو گئی ہیں کہ ایسی مجلسوں میں شامل ہو جانا چاہئے۔ ایک مومن نوجوان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اپنی زندگیوں کو اس قسم کی مجلسوں سے بچا کے رکھیں اور کچھ حدود ہیں ان کے اندر رہیں۔ جماعت میں بھی بعض دفعہ ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ بری صحبتوں اور خراب مجلس کے زیر اثر ہمارے نوجوان نوجوانی میں قدم رکھتے ہی بعض ایسی حرکتیں کر جاتے ہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے والی ہوتی ہیں۔ ہمسایوں کو نقصان پہنچا دیا۔ یا راہ چلتے راہگیر کو نقصان پہنچا دیا۔ یا کسی جگہ گئے تو ویسے ہی شرارۃًکسی کو نقصان پہنچا دیا۔ اور پھر اگر یہ پتا لگ جائے کہ یہ جماعت کا فرد ہے تو پھر ایسے لوگ جماعت کی بھی بدنامی کا باعث بن جاتے ہیں۔ پس ماں باپ کو بھی اپنے بچوں کی مجالس اور صحبتوں پر نظر رکھنی چاہئے تا کہ ہمارے نوجوان، نوجوانی میں قدم رکھنے والے بچے بھی بری صحبتوں اور مجلسوں سے محفوظ رہیں۔ اور خود بھی گھروں میں ایسی پاک مجلسیں لگانی چاہئیں جو ہمیشہ تربیتی نقطۂ نظر سے بہترین ہوں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جب کوئی قوم مسجد میں کتاب اللہ کی تلاوت اور آپس میں درس و تدریس کے لئے بیٹھی ہو تو اللہ تعالیٰ ان پر سکینت نازل فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھانک لیتی ہے اور فرشتے انہیں اپنے جلو میں لے لیتے ہیں۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء … الخ باب فضل الاجتماع علی التلاوۃ القرآن و علیٰ الذکر حدیث 6853)

اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ جماعت کو ایسے مواقع میسّر آ جاتے ہیں اور آتے رہتے ہیں۔ دنیا میں ہر جگہ ہی کئی جماعتیں جلسے بھی منعقد کرتی ہیں، اجتماع بھی منعقد ہوتے ہیں، ان میں ایسے پروگرام ہوتے ہیں جو تربیت کے لئے بھی ہوتے ہیں۔ علم بڑھانے کے لئے بھی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر کے لئے بھی ہوتے ہیں۔ آج یہاں مثلاً لجنہ اماء اللہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ لجنہ کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے پروگراموں کا زیادہ حصہ دینی اور علمی مجالس ہونا چاہئے۔ اور شامل ہونے والی عورتیں بھی یاد رکھیں کہ وہ کسی میلے میں شامل ہونے کے لئے نہیں آئیں۔ اپنے اجتماع پر آنے کا مقصد ان کو پورا کرنا چاہئے اور مستقل دینی اور علمی مجلسیں لگائیں۔ باقاعدہ پروگرام نہیں بھی ہو رہا تب بھی اپنی مجالس میں بجائے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے اور فضول گفتگو کرنے کے تعمیری گفتگو کریں اور لغو باتوں سے ہمیشہ پرہیز کریں اور اپنا وقت اس سے ضائع ہونے سے بچائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں اور وہاں ذکر الٰہی نہیں کرتے وہ اپنی مجلس کو قیامت کے دن حسرت سے دیکھیں گے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 724 حدیث 7093 مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

پس اجتماع پر آنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے آنے کے مقصد کو پورا کریں اور اپنا وقت ہنسی ٹھٹھے اور فضول گفتگو میں گزارنے کے بجائے زیادہ وقت ذکر الٰہی اور نیکی کی باتیں کرنے اور سننے میں گزاریں تا کہ ہماری مجلسیں قیامت کے دن کبھی حسرت سے دیکھی جانے والی مجلسیں نہ ہوں۔ تقویٰ پر چلنے اور تقویٰ پر چلنے والوں کی صحبت میں وقت گزارنے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا نصیحت فرمائی؟ ایک روایت میں آتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مومن کے سوا کسی اور کے ساتھ نہ بیٹھو اور متقی کے سوا کوئی اور تمہارا کھانا نہ کھائے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الأدب باب من یؤمر ان یجالس حدیث 4832)

انسان کا دنیا میں مختلف لوگوں سے رابطہ واسطہ رہتا ہے۔ انسان انہیں ملتا بھی ہے۔ غیرمسلموں کے ساتھ بھی اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ انسان غیر مومن کے ساتھ اٹھے بیٹھے ہی نہ۔ آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری گہری دوستی، تمہارا زیادہ اٹھنا بیٹھنا، تمہارا اکثر وقت گزارنا، تمہاری مجالس زیادہ تر ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں جو ایمان میں مضبوط ہوں اور تقویٰ پر چلنے والے ہوں تا کہ تم بھی نیکی اور تقویٰ میں آگے بڑھو۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’اصلاحِ نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(التوبۃ:119)۔ یعنی جو لوگ قولی، فعلی، عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو۔‘‘ (یعنی ان کی باتیں بھی سچائی پر مبنی ہوں۔ ان کے عمل بھی سچائی پر مبنی ہوں اور ان کی ہر حالت سے سچائی ظاہر ہوتی ہو۔ یعنی نیک لوگ ہوں۔) فرمایا کہ ’’اس سے پہلے فرمایا۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ۔ یعنی ایمان والو! تقوی اللہ اختیار کرو۔ اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنّت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے۔ صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ’’اگر کوئی شخص ہر روز کنجریوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا مَیں زنا کرتا ہوں؟‘‘ (مَیں زنا کرنے تو نہیں جاتا تو) ’’اس سے کہنا چاہئے کہ ہاں تُو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا‘‘ (کیونکہ بدصحبت کا بد اثر ہوتا ہے) ’’کیونکہ صحبت میں تاثیر ہوتی ہے۔ اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پرہیز کرے اور کہے کہ مَیں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ ضرور پئے گا‘‘۔ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 247۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہمیشہ بری صحبت سے بچنے کی ضرورت ہے۔ عام دنیاوی کاروباروں میں تعلق واسطہ تو ہوتا ہے جیسا کہ مَیں نے کہا غیروں کے ساتھ تعلق ہے۔ لیکن ان تعلقات میں حدود قائم ہونی چاہئیں۔ یہ نہیں کہ ان کی فضول مجلسوں میں بھی انسان جانا شروع کر دے۔ بہت سی برائیاں ان فضول مجلسوں میں شامل ہونے سے ہوتی ہیں۔ بلکہ یہاں کے لوگ خود اس بات کا اظہار کرتے ہیں۔ ہماری بعض عورتوں سے اس بات کا انگریز عورتوں نے اظہار کیا کہ ہمارے خاوند اچھے بھلے شریف تھے لیکن بعض دوستوں کی وجہ سے ان میں برائیاں پیدا ہو گئیں اور فضول اور گندی مجلسوں میں جانا شروع ہو گئے۔ تو ان لوگوں کو بھی جو غیر مسلم ہیں ان کو بھی یہ احساس پیدا ہو رہا ہے۔ اس لئے ہمیں تو بہت زیادہ اس بات کی فکر کرنی چاہئے۔ اس چیز کو روکنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا بے دین لوگوں کے ساتھ زیادہ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا تمہیں دین اور تقویٰ سے دُور کر دے گا۔ ہاں تبلیغ کے لئے، نیک باتوں کو پہنچانے کے لئے تعلق ضرور قائم کرنا چاہئے۔ اس کے بغیر تبلیغ نہیں ہوسکتی۔ لیکن اس کے لئے انہیں اپنی مجالس میں لانا چاہئے کیونکہ یہ نیکی کی مجالس پھر اپنا اثر چھوڑتی ہیں۔ اور ہمارے جلسوں میں، فنکشنز میں شامل ہونے والے بے شمار غیر لوگ ہیں جو اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں آ کر ہماری حالت اور کیفیت بالکل بدل جاتی ہے۔

صحبت کے اثر کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا کہ’’جب انسان ایک راستباز اور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے۔ لیکن جو راستبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے‘‘۔ فرمایا کہ’’اسی لئے احادیث اور قرآن شریف میں صحبتِ بد سے پرہیز کرنے کی تاکید اور تہدید پائی جاتی ہے اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت ہوتی ہو اس مجلس سے فی الفور اٹھ جاؤ ورنہ جو اہانت سن کر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہو گا۔‘‘

پھر آپ فرماتے ہیں کہ ’’صادقوں اور راستبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے۔ اس لئے کس قدر ضرورت ہے اِس امر کی کہ انسان کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ کے پاک ارشاد پر عمل کرے‘‘۔ فرمایا کہ ’’حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے۔ وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں۔ اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذکر کر رہے تھے۔ مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا‘‘ (ان ذکر کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔ لیکن وہاں بیٹھا ہوا تھا۔) ’’تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی ان میں ہی سے ہے کیونکہ اِنَّھُمْ قَوْمٌ لَا یَشْقیٰ جَلِیْسُھُمْ‘‘۔ فرمایا کہ’’اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کی صحبت سے کس قدر فائدے ہیں۔ سخت بدنصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دُور ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 249۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس مومنوں کی صحبت اور مجلس میں بیٹھنے والے اللہ تعالیٰ کے فضل کے حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں اور یہ وہی مجلسیں ہیں جو ذکر الٰہی سے بھری ہوئی مجالس ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’بہت ہیں کہ زبان سے تو خدا تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں لیکن اگر ٹٹول کر دیکھو تو معلوم ہو گا کہ ان کے اندر دہریت ہے۔ کیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے قہر اور اس کی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ اس لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ تم لوگ دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو۔ بغیر اس کے یقینِ کامل ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔ وہ اس وقت حاصل ہو گا جبکہ یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے‘‘۔ فرمایا کہ’’گناہ سے بچنے کے لئے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو۔ اور ساتھ ہی ساتھ دعا بھی کرتے رہو اور خوب جان لو کہ ان آفات سے جو قضا و قدر کی طرف سے انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو ہرگز رہائی نہیں ہوتی‘‘۔ فرمایا’’نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اسے محفوظ نہ رکھے گا تب تک وہ سچی نماز ہرگز نہ ہوگی۔ نماز کے معنی ٹکّریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہرگز نہیں۔ نماز وہ شئے ہے جسے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوفناک حالت میں آستانۂ الوہیت پر گر پڑے‘‘۔ فرمایا ’’جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رِقّت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور تضرّع سے دعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دُور ہوں۔ اسی قسم کی نماز بابرکت ہوتی ہے۔ اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس امّارہ کی شوخی کم ہو گئی ہے۔ جیسے اژدہا میں ایک سَمّ قاتل ہے اسی طرح نفس امّارہ میں بھی سمّ قاتل ہوتا ہے۔ اور جس نے اسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 123۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

یعنی خدا تعالیٰ کے پاس ہی برائی کے دور کرنے کا علاج ہے اس لئے اس کے آگے جھکو۔ اس سے مدد مانگو کہ دنیا اور اس کے بداثرات اور بری مجالس سے اور ان کے اثرات سے وہ ہمیشہ بچا کے رکھے۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ مجلس برخاست کرتے وقت اٹھتے ہوئے آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ تُو پاک ہے اور تیری حمد کی قَسم! مَیں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودنہیں۔ مَیں تجھ سے مغفرت کا طلبگار ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد کتاب الأدب باب فی کفارۃ المجلس حدیث 4859)

پھر ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ کچھ کلمات ایسے ہیں جس نے بھی ان کو اپنی مجلس سے اٹھتے ہوئے تین مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ ان کے طفیل اس کے وہ گناہ جو اس نے وہاں کئے ہوں گے ان کو ڈھانک دے گا اور جس نے یہ کلمات کسی خیر کی مجلس میں اور ذکر الٰہی کی مجلس میں پڑھے تو ان کے ساتھ اس پر مہر کر دی جائے گی اور وہ کلمات یہ ہیں کہ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔ کہ اے اللہ تُو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔ تیرے سوا کوئی معبودنہیں۔ میں تُجھ سے بخشش کا طلبگار ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد کتاب الأدب باب فی کفارۃ المجلس حدیث 4857)

پس مجھ سے جو بعض ناپسندیدہ باتیں ہو جاتی ہیں ان کے بداثرات سے بھی محفوظ رکھ اور پھر یہ دعا جو ناپسندیدہ باتیں ہیں ان کے بد اثرات سے محفوظ رکھتی ہے اور نیک مجالس کے فیض سے انسان کو زیادہ سے زیادہ فیض اٹھانے کا باعث بناتی ہے۔

جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جب تک خدا تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو ہرگز رہائی نہیں ہوتی۔ اس لئے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ بری مجالس سے بچنے والے ہوں۔ اور اگر کبھی اَنجانے میں شامل ہو جائیں تو ان کے بد اثرات سے محفوظ رہیں۔ ہمیشہ پاک مجلسوں کی تلاش میں رہیں اور ان میں بیٹھنے والے ہوں اور ان پاک مجالس کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے فیض پانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ شیطان کے حملے سے بچائے۔ ہم سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ ہمیں ہمیشہ نظام جماعت اور خلافت سے جوڑے رکھے اور ہر فتنہ پرداز کے فتنہ کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے۔

نماز کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو ہمارے افریقن امریکن احمدی مکرم بلال عبدالسلام صاحب کا ہے۔ یہ فلاڈلفیا (Philadelphia) یوایس اے (USA) میں رہتے تھے۔ 13؍ستمبر کو ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ اس سال جلسہ یوکے(UK) پر بھی آئے تھے اور پہلے روز شام کو جب پَین افریقن ایسوسی ایشن کا پروگرام جاری تھا اچانک ان پر فالج کا حملہ ہوا اور فالج کے حملہ کی وجہ سے طبیعت ناساز ہو گئی۔ فوری طور پر ان کو یہاں ہسپتال لے جایا گیا جہاں کچھ دن یہ زیر علاج بھی رہے۔ پھر طبیعت بظاہر بہتر بھی ہو گئی تھی اور مجھے ملنے آئے ہیں۔ اس کے بعد دو دفعہ ملاہوں۔ بظاہر صحت میں لگ رہے تھے۔ اس کے بعد واپس امریکہ چلے گئے۔ آپ 1934ء میں فلوریڈا میں پیدا ہوئے۔ چھ سال کی عمر میں ان کے والدین کی وفات ہو گئی۔ آٹھ سال کی عمر میں یہ بورڈنگ میں چلے گئے جہاں بائبل کی تعلیم حاصل کی۔ پھر دیگر ملازمتیں اختیار کیں۔ کچھ عرصہ آرمی میں بھی شامل رہے۔ 1957ء میں منسٹر آف گاسپل (Minister of Gospel) بن گئے تاہم ان کو عیسائیت کے بعض عقائد سے اختلاف تھا۔ 1960ء میں ان کی ایک سنّی مسلمان سے ملاقات ہوئی جس نے انہیں جماعت کا شائع شدہ قرآن کریم دیا۔ آپ نے اس شخص سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جن کا یہ قرآن کریم ہے۔ اس نے بتایا کہ یہ مسلمان تو نہیں ہیں لیکن ان کی کتابیں اچھی ہیں۔ تو آپ نے اس شخص سے ایک احمدی کا پتا کیا اور پتا معلوم کر کے ان کی دکان پر پہنچے۔ وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی اور پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور امام مہدی ہیں۔ بہرحال اس کے بعد آپ نے احمدیت قبول کر لی اور پھر فلاڈلفیا (Philadelphia) میں احمدیوں کے ساتھ مل کے تبلیغ کے کام کرتے رہے۔

بلال عبدالسلام صاحب کو قرآن کریم سیکھنے کا بھی بڑا شوق تھا۔ وہ چار گھنٹے کی مسافت طے کر کے ہر دوسرے اتوار کو پِٹسبرگ آیا کرتے تھے تاکہ کچھ سیکھ سکیں۔ اور اسی طرح آپ صدر جماعت فلاڈلفیا اور نیشنل عاملہ میں وقف جدید اور تربیت نومبائعین کے سیکرٹری بھی رہے۔ آپ زندگی وقف کر کے کچھ عرصہ بالٹی مور میں جماعت کے آنریری مبلغ کے طور پر بھی کام کرتے رہے اور اس کے بعد بھی پھر انہوں نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے۔ نظام جماعت کے پابند اور اعلیٰ معیار کی اطاعت کرنے والے تھے۔ ہمیشہ خلفاء کے ذکر پر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ 1975ء میں ان کو جلسہ سالانہ قادیان میں بھی شمولیت کی توفیق ملی۔ فلاڈلفیا مسجد تعمیر ہو رہی ہے۔ اس کے لئے آپ کی بڑی خواہش بھی تھی اور کوشش بھی کرتے رہے اور اس تعمیر کے دوران آپ روزانہ پورا دن وہاں کیبن میں گزارتے اور دعائیں کرتے تھے اور ہمیشہ اس کوشش میں ہوتے تھے کہ مسجد جلدی سے جلدی تعمیر ہو جائے۔ امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جلدی بن جائے گی۔ ان کی اہلیہ مسز اسنسٹن (Easnestine) پاسٹر(Poster) ہیں۔ یہ احمدی نہیں تھیں لیکن ہمیشہ اُن سے اِن کا نیک سلوک رہا۔ پسماندگان میں دو بیٹے ہیں اور دو بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹے عمر عبدالسلام صاحب نے 1993ء میں بیعت کی تھی اور جماعت میں داخل ہوئے۔ یہ احمدی ہیں باقی نہیں۔ عبداللہ دیبا صاحب وہاں امریکہ میں آجکل مبلغ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جماعت امریکہ کے نہایت ہی فعّال ممبر تھے۔ نہایت خوش اخلاق، ہر دلعزیز اور پیار کرنے والے مخلص انسان تھے۔ اکثر لوگوں کے کام آیا کرتے تھے۔ جماعتی امور کی بجاآوری میں پیش پیش رہتے تھے۔ نوجوانوں کے ساتھ ایک خاص تعلق تھا۔ ان کی تربیت کرنے اور معاشرتی برائیوں سے بچانے میں ہمیشہ کوشش کرتے رہتے۔ کئی نوجوانوں کی زندگیاں مؤثر طور پر تبدیل کیں اور انہیں راہِ راست پر چلنے کی تلقین کرتے تھے۔ کہتے ہیں ان کی تربیت کی وجہ سے ان نوجوانوں میں سے ایک کثیر تعداد جماعت اور معاشرے کا فعّال حصہ بن چکی ہے۔ جب آپ ہسپتال میں بیمار تھے تو آپ نے یہ ہدایت کی تھی کہ آپ کے سرہانے ہمیشہ قرآن کریم کا ایک نسخہ موجود رہے۔ اور یہاں جب بیمار تھے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نئی زندگی اس لئے دی ہے کہ میرے کچھ کام ادھورے ہیں وہ مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ خلافت سے ان کا انتہا کا تعلق تھا۔ جب بھی ملتے تھے تو ہمیشہ چہرے پر ایک عجیب قسم کی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ایک اخلاص اور وفا بھی آنکھوں سے ٹپک رہا ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے ساتھ مغفرت کا سلوک فرمائے۔ اور ان کی باقی اولاد کو بھی احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 22؍ ستمبر 2017ء شہ سرخیاں

    دنیا میں مجلسوں کی بہت سی قسمیں ہیں یا مختلف مجالس کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں۔ بعض مجالس مشوروں کے لئے ہوتی ہیں جن میں دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے مشورے ہوتے ہیں۔ اگر لوگوں کی بہتری کے لئے بھی کوئی مجلس لگتی ہے، کوئی باتیں سوچی جاتی ہیں تو وہ بھی دنیاوی اغراض کے لئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اس میں بھی مقصودنہیں ہوتی۔ لیکن بعض ایسی مجالس بھی ہوتی ہیں جو دینی اغراض کے لئے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے ہوں، انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لانے کے منصوبے سوچنے سے متعلق ہوں یا روحانیت میں ترقی کرنے کے ذرائع تلاش کرنے کے لئے ہوں۔ یا ان مجالس میں شامل ہونے والے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس میں شامل ہوں۔ غرض کہ ان مجالس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ہمارا جو کام بھی ہو، ہم جو بھی منصوبہ بندی کریں، مجلس کے جو بھی پروگرام ہوں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو۔ ان میں لغویات سے پرہیز ہو۔ یہ ایسی مجالس ہیں جو خدا تعالیٰ کو پسند ہیں اور ایسی مجالس کے نتائج اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں اور ایسی مجالس میں شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد بھی نوازتا ہے۔

    قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جو مجالس کے بارے میں ہدایت فرمائی ہے وہ یہی ہے کہ سرکشی اور بغاوت سے پاک، گناہوں سے پاک، رسول کی نافرمانی سے بچنے والی اور تقویٰ پر چلنے والی مجالس مومنوں کی ہونی چاہئیں۔ لیکن افسوس کہ آجکل مسلمانوں کی اکثر مجالس اس کے بالکل خلاف ہیں۔

    مسلمان کہلا کر پھر دنیا کو اپنا مقصود بنانے والوں اور اس کے پیچھے دوڑنے والوں کی جو حالت ہے یہ اس بات کا عملی اظہار ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین ختم ہو گیا ہے ورنہ اگر ذرا سا بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین ہوتا تو نہ مسلمان سیاستدانوں اور لیڈروں کی یہ حالت ہوتی جو آج ہے اور نہ ہی نام نہاد علماء کی یہ حالت ہوتی جو آج ہمیں نظر آتی ہے۔

    دنیاوی مشوروں کی مجالس میں ایک مجلس یواین او (UNO) کی بھی ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی اس کا ایک اجلاس ہوا۔ امریکہ کے صدر کی تقریر تھی۔ اس پر یہاں کے جو مغربی مضمون نگار ہیں، تجزیہ نگار ہیں انہوں نے بھی لکھا ہے کہ اس تقریر سے بجائے امن کے فساد اور فتنہ پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

    ہمیں اپنی حالتوں کا بھی جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان کو کبھی برداشت نہیں ہو گا کہ وہ جماعت کو ترقی کرتا ہوا دیکھ سکے۔ شیطان نے اپنی فطرت کے مطابق ہمارے اندر بھی بے چینی پیدا کرنے اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہنا ہے۔ پس وہ لوگ جو بعض دفعہ اکٹھے ہو کر بیٹھتے ہیں اور اپنے مقامی حلقے یا شہر کے نظام جماعت یا ملک کے نظام جماعت کے متعلق باتیں کرتے ہیں وہ لوگ اصل میں بعض دفعہ بلکہ حقیقت میں شیطان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ شیطان کا کام کیونکہ ہمدرد بن کر وار کرنا ہے اس لئے ایسی مجلسوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں جو حقیقت میں جماعتی نظام کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ جماعت کے درد کو محسوس کرنے کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فتنہ پیدا کرنے والا صحیح کہہ رہا ہے۔ وہ اُسے فتنہ پیدا کرنے والا تو نہیں سمجھتے لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ اظہار خیال کرنے والا اور ہمدردی کے رنگ میں بات کرنے والا صحیح کہہ رہا ہے اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ حالانکہ اگر اصلاح کی ضرورت ہے تو ملکی بالا نظام تک اور خلیفہ وقت تک بات پہنچائی جانی چاہئے اور اس کے بعد پھر اِدھر اُدھر مجلسیں لگا کر باتیں کرنا اور ایسے انداز میں باتیں کرنا جیسے بڑے راز کی باتیں کی جا رہی ہیں، بڑی اہم باتیں کی جا رہی ہیں اور جماعت کا بڑا درد رکھتے ہوئے باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ بالکل غلط طریقہ کار ہے اور یہ گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی اور تقویٰ سے دوری کی علامتیں ہیں۔ مخالفین احمدیت جہاں کھل کر جماعت کی مخالفت کے منصوبے بناتے ہیں اور بنائیں گے وہاں ہمدردی کے نام پر وہ سادہ لوگوں کو اور کمزور ایمان والوں کو بھی فتنہ پیدا کرنے کے لئے اپنا آلۂ کار بناتے ہیں اور بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس ہر احمدی کو اس سلسلہ میں ہوشیار رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ ہر اندرونی اور بیرونی فتنہ سے بچائےاور ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کی مجلس میں بیٹھنے اور اس کا حصہ بننے کی توفیق دے۔

    مجلس کی مختلف قِسموں اور حالتوں کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت اہم اور زرّیں ارشادات کے حوالہ سے افراد جماعت کو نصائح۔

    ماں باپ کو بھی اپنے بچوں کی مجالس اور صحبتوں پر نظر رکھنی چاہئے تا کہ ہمارے نوجوان، نوجوانی میں قدم رکھنے والے بچے بھی بُری صحبتوں اور مجلسوں سے محفوظ رہیں۔ اور خود بھی گھروں میں ایسی پاک مجلسیں لگانی چاہئیں جو ہمیشہ تربیتی نقطۂ نظر سے بہترین ہوں۔ آج یہاں لجنہ اماء اللہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ لجنہ کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے پروگراموں کا زیادہ حصہ دینی اور علمی مجالس ہونا چاہئے۔ اور شامل ہونے والی عورتیں بھی یاد رکھیں کہ وہ کسی میلے میں شامل ہونے کے لئے نہیں آئیں۔ مستقل دینی اور علمی مجلسیں لگائیں۔ باقاعدہ پروگرام نہیں بھی ہو رہا تب بھی اپنی مجالس میں بجائے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے اور فضول گفتگو کرنے کے تعمیری گفتگو کریں اور لغو باتوں سے ہمیشہ پرہیز کریں اور اپنا وقت اس سے ضائع ہونے سے بچائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا بے دین لوگوں کے ساتھ زیادہ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا تمہیں دین اور تقویٰ سے دُور کر دے گا۔ ہاں تبلیغ کے لئے، نیک باتوں کو پہنچانے کے لئے تعلق ضرور قائم کرنا چاہئے۔ اس کے بغیر تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس کے لئے انہیں اپنی مجالس میں لانا چاہئے کیونکہ یہ نیکی کی مجالس پھر اپنا اثر چھوڑتی ہیں۔ اور ہمارے جلسوں میں، فنکشنز میں شامل ہونے والے بے شمار غیر لوگ ہیں جو اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یہاں آ کر ہماری حالت اور کیفیت بالکل بدل جاتی ہے۔

    مکرم بلال عبدالسلام صاحب آف فلاڈلفیا(امریکہ)کی وفات۔ مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 22ستمبر2017ء بمطابق 22تبوک 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور