ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ 6؍ اکتوبر 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

مَیں وقتاً فوقتاً ایسے ایمان افروز واقعات بیان کرتا رہتا ہوں جو لوگوں کے اپنے احمدیت قبول کرنے یا ان کے احمدیت قبول کرنے کے بعد کے روحانی اور غیر معمولی تجربات یا جماعت پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے نتیجہ میں افراد جماعت کے ایمان میں ترقی اور مضبوطی وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں یا اظہار خیال کرتے ہیں کہ ایسے واقعات سناتے رہا کریں کیونکہ یہ واقعات دلچسپ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچوں کی بھی توجہ کھینچتے ہیں۔ نوجوانوں کی دینی اور روحانی حالت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں اور خود ہماری حالتوں میں ترقی کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں ہماری اپنی حالتوں کی بہتری کی طرف توجہ دلانے کا باعث بنتے ہیں۔ بعض پیدائشی احمدی لکھتے ہیں کہ نئے آنے والوں کی یہ ایمانی حالت اور اللہ تعالیٰ سے جو اُن کا تعلق ہے، ہمیں شرمندہ کر رہا ہوتا ہے اور توجہ دلا رہا ہوتا ہے کہ ہم بھی ایمان میں بڑھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح بعض نومبایعین بھی اس بات کاا ظہار کرتے ہیں کہ ان واقعات سے ہمارے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ان مغربی ممالک میں رہنے والے بعض ایسے لوگ بھی ہیں یا ایسے لوگ جو اپنے آپ کو بڑا پڑھا لکھا سمجھتے ہیں، ترقی یافتہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ آئے تو پاکستان سے ہیں لیکن دنیا نے ان کو اس قدر اپنے اندر جذب کر لیا ہے یا وہ دنیا میں اس قدر پڑ گئے ہیں اور اس میں جذب ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں رہتی یا ویسی توجہ نہیں جیسی توجہ رکھنا ایک احمدی کا فرض بنتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے اور آپ کی بیعت میں آنے والے پر فرض ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی قائم کردہ جماعت کے حق ادا کرنے کی طرف اوّل تو توجہ نہیں دیتے اور اگر کچھ توجہ ہے بھی تو وہ اتنی تھوڑی کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ دینی فرائض ادا کرنے سے غافل ہیں۔ یہ لوگ دینی حالت کی بہتری کے بارے میں سوچتے نہیں یا بہت کم سوچتے ہیں۔ یہ باتیں جو نئے آنے والے بیان کرتے ہیں یا ایسے واقعات جو کسی رنگ میں روحانی ترقی کا باعث ہوتے ہیں یہ سن کر ایسے لوگ اعتراض کے رنگ میں یہ باتیں کر جاتے ہیں کہ یہ واقعات جو بیعتوں اور ایمان میں ترقی وغیرہ کے ہیں یہ صرف افریقہ یا عرب یا ایشیا کے ممالک کے رہنے والوں کے ساتھ کیوں ہیں؟ یورپ میں رہنے والوں کے ایسے واقعات کیوں نہیں ہیں؟ ان کو کیوں خوابوں کے ذریعہ سے رہنمائی نہیں ملتی؟ ان کو کیوں دینی کتب پڑھ کے رہنمائی نہیں ملتی یا توجہ نہیں پیدا ہوتی؟ ان کے روحانی تجربات کیوں نہیں ہیں؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ یورپ میں رہنے والے جو دین کی طرف توجہ کرنے والے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نشان دکھاتا ہے۔ ان کے ایمان میں ترقی کے اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے سامان پیدا فرماتا ہے۔ یہاں برطانیہ میں بھی بہت سے نومبایع ہیں یا یہاں کے مقامی باشندے ہیں جن کو بیعت کئے عرصہ ہو گیا ہے اور ہر روز ان کے ایمان ترقی کر رہے ہیں۔ جو نومبایعین ہیں یا کچھ عرصہ سے احمدیت میں شامل ہیں وہ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں جو حیرت انگیز ہیں اور جو انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی یقین اور ایمان میں بڑھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جماعت کی سچائی بھی ان پر کھلتی چلی جاتی ہے اور خلافت سے اخلاص و وفا کے تعلق میں بھی وہ لوگ بڑھ رہے ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں عورتیں بھی ہیں۔ لجنہ، خدام، انصار کے اجتماعات میں یہ لوگ اپنے واقعات خود بیان کرتے ہیں۔ ایم ٹی اے پر بھی بعض لوگوں نے بیان کئے جو بڑے ایمان افروز ہوتے ہیں۔ بہرحال مغربی ممالک میں رہنے والے ان لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نشان دکھاتا ہے جو دین کی طرف توجہ کرنے والے ہیں۔ احمدیت کی سچائی ان پر ظاہر کرتا ہے۔ پھر ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو گو احمدیت کو قبول تو نہیں کرتا لیکن اسلام کی بڑائی اور برتری احمدیت کے ذریعہ ان پر ظاہر ہوتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جو مَیں اپنے دوروں کے بعد یا جلسوں کے بعد بیان کرتا رہتا ہوں۔ لیکن اہم بات جو یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے۔ اگر ایک انسان دنیاداری میں پڑا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کا خانہ ہی خالی ہے، اس کو دین سے اور خدا سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، جو خود اپنی عاقبت برباد کرنے پر تُلا ہوا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا اور وہ رہنمائی اور ہدایت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ انبیاء کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ دین کی طرف توجہ دینے والے اور انہیں قبول کرنے والے عموماً غریب اور کمزور لوگ ہی ہوتے ہیں۔ عاجزوں اور مسکینوں میں ہی عموماً اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کی تڑپ اور اللہ تعالیٰ کا خوف زیادہ ہوتا ہے۔ دنیادار اور طاقت والے یہی کہتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان بھی فرمایا ہےکہ تمہاری حیثیت ہی کیا ہے؟ تمہارے ماننے والے  اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ (ہود:28) ہیں۔ یعنی ہمیں دیکھنے میں وہ ذلیل ترین لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ پس دنیادار تو تکبر کے مارے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کو ایک تو اپنے تکبر کی وجہ سے، دوسرے دنیاوی کاموں میں ڈوبے ہوئے ہونے کی وجہ سے فرصت ہی نہیں ہوتی کہ وہ دین کی طرف توجہ دیں۔ اور پھر یورپ کی جو اکثریت ہے وہ تو دہریہ ہو چکی ہے یا مغربی ممالک کی، ترقی یافتہ ممالک کی (جو اکثریت ہے) یہ سب دہریہ ہو چکے ہیں۔ جب ان کو اللہ تعالیٰ کی پرواہ نہیں تو پھر خدا تعالیٰ کو بھی ان کی کیا پرواہ ہے کہ ان کی رہنمائی کرے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان دنیاداروں کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’سورۃ عصر میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور مومنوں کی زندگی کے نمونے بتائے ہیں۔ کفّار کی زندگی بالکل چوپاؤں کی سی زندگی ہوتی ہے‘‘۔ (جانوروں کی زندگی ہے) ’’جن کو کھانے اور پینے اور شہوانی جذبات کے سوا اَور کوئی کام نہیں ہوتا۔ یَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (محمد:13)‘‘ (جانوروں کی طرح بس کھانا پینا ان کا کام ہے۔) آپ فرماتے ہیں ’’مگر دیکھو ایک بَیل چارہ تو کھا لے لیکن ہل چلانے کے وقت بیٹھ جائے‘‘۔ (زمینداروں میں پرانے زمانے میں رواج تھا کہ ہل چلانے کے لئے، زمین کاشت کرنے کے لئے، بَیلوں کو استعمال کرتے تھے۔ یہاں بھی پرانے زمانے میں گھوڑے استعمال ہوتے تھے۔ کہ ہل چلانے کے وقت وہ بیٹھ جائے۔ کام نہ کرے۔ اس کا صرف کھانے کا کام ہو۔) آپ فرماتے ہیں ’’اِس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ یہی ہو گا کہ زمیندار اُسے بوچڑ خانے میں جا کر بیچ دے گا‘‘۔ (ذبح کرنے والے کو، قصائی کو دے دے گا۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’اِسی طرح ان لوگوں کی نسبت (جو خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی یا پرواہ نہیں کرتے اور اپنی زندگی فسق و فجور میں گزارتے ہیں ) فرماتا ہے قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُکُمْ (الفرقان:78) یعنی میرا ربّ تمہاری کیا پرواہ کرتا ہے اگر تم اس کی عبادت نہ کرو۔‘‘ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 181۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اللہ تعالیٰ انہی کی پرواہ کرتا ہے جو اس کی طرف جھکتے ہیں اور ہدایت طلب کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس سلسلہ میں مزید فرماتے ہیں کہ: ’’صدق بڑی چیز ہے۔ اس کے بغیر عمل صالحہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ خدا تعالیٰ اپنی سنّت نہیں چھوڑتا اور انسان اپنا طریق نہیں چھوڑنا چاہتا۔‘‘ (ایسا بگڑا ہوا جو ہے) ’’اس لئے فرمایا ہے وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:70) خداتعالیٰ میں ہوکر جو مجاہدہ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ اپنی راہیں کھول دیتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 3 صفحہ305-306۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس جو کوشش کرتے ہیں۔ اس فکر میں رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے صحیح دین کی تلاش کریں، اسے پانے کی کوشش کریں۔ وہ پھر ہدایت بھی پاتے ہیں۔ ایمان میں بھی بڑھتے ہیں۔ مزید ترقی بھی کرتے چلے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں پر اللہ تعالیٰ ان کی بعض نیکیوں کی وجہ سے فضل فرماتا ہے اور ان کو راستہ دکھاتا ہے۔

پس جو واقعات ہم بیان کرتے ہیں وہ ایسے لوگوں کے ہی ایمان افروز واقعات ہیں جو اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کس طرح ہمیں صحیح راستہ ملے۔ یاجیساکہ میں نے کہا بعض ایسے بھی ہیں جن پہ اللہ تعالیٰ کا ان کی کسی نیکی کی وجہ سے خاص فضل ہوتا ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو راستہ دکھاتا ہے۔

اخلاص میں ترقی کی مثال کے بعض ایسے روحانی واقعات مَیں نے آج بھی جمع کئے ہیں۔ برکینا فاسو سے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں لیکوئین (Likoun) میں ہمارے لوکل مشنری تبلیغ کی غرض سے گئے۔ تبلیغ کے بعد جب انہوں نے بیعت لینا چاہی تو صرف ایک معمّر خاتون نے بیعت کی اور معلّم صاحب نے گاؤں والوں کو بتایا کہ یہاں سے پندرہ کلو میٹر دُور ہماری مسجد ہے اگر آپ میں سے کسی کو جماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات چاہئیں تو آپ وہاں آ سکتے ہیں اور وہاں نماز جمعہ کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ بہرحال بیعت تو اس خاتون نے کی تھی۔ معلّم صاحب بیان کرتے ہیں کہ گاؤں اور اس مسجد کے درمیان جو راستہ ہے وہاں ایک برساتی نالہ آتا ہے اور برسات کی وجہ سے وہ پانی سے بھرا ہوتا ہے۔ جب اس بوڑھی خاتون نے بیعت کی تو ہر جمعہ کو اپنی جائے نماز لے کر جمعہ کی غرض سے وہاں مسجد جانے کی کوشش کرتی اور برساتی نالہ بھرا ہوا دیکھ کر جائے نماز وہیں بچھا لیتی اور کہتی کہ میں نے احمدیوں کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ لی کیونکہ میری نیت احمدیوں کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے لئے تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک مہینے کے بعد برساتی نالے میں پانی کم ہوا تو وہ خاتون مشن آئی اور تمام واقعہ بیان کیا اور ان کا یہ اخلاص احمدی ہونے کے بعد تھا۔ انہوں نے جب یہ واقعہ بیان کیا تو اسے سن کے معلّم پھر تبلیغ کے لئے اس گاؤں میں دوبارہ گئے اور گاؤں والوں کو یہ بتایا کہ یہ دیکھو یہ بوڑھی عورت جس کو حق کی تلاش تھی اس نے حق قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فضل فرمایا۔ پھر اس کے لئے اس نے اتنی قربانی دی۔ ہر جمعہ جاتی تھی اور باہر بیٹھ کر آ جاتی تھی۔ پانی کی وجہ سے پہنچ نہیں سکتی تھی۔ لیکن یہ اس کا اخلاص ہے۔ جب یہ واقعہ معلّم نے سنایا تو جو وہاں کے باقی لوگ تھے، بعض اس کے بہت قریبی رشتہ دار تھے۔ انہوں نے وہاں اس خاتون کے اخلاص کو دیکھ کر مزید تیس افرادنے بیعت کر لی۔ تو یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہدایت کے سامان مہیا فرمائے۔

پھر ایسے لوگ ہیں جو خوابوں کے ذریعہ بعض دفعہ احمدی ہوتے ہیں۔ فرانس کی ایک خاتون آسیہ صاحبہ ہیں۔ انہوں نے بیعت کی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اپنی بیعت کی تفصیل اس غرض سے عرض کرنا چاہتی ہوں کہ شاید آپ مجھ سے خوش ہوں اور مجھے اپنی مبارک جماعت میں قبول فرما لیں۔ کہتی ہیں ایک دن انٹرنیٹ پر حسب معمول کچھ نئے چینلز کی تلاش میں تھی کہ مجھے الحوار المباشر کا لِنک مل گیا جہاں وفات مسیح کا مضمون چل رہا تھا اور میں ہر قسم کے شک و شبہ سے خالی اور یقین سے بھرے مہذّب انداز اور قوی اور ناقابل تردید دلائل سن کر حیران رہ گئی۔ کہتی ہیں اس سے چند روز قبل مَیں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک تاریک کنوئیں میں گرنے والی ہوں اور میں نے کنوئیں کی منڈیر کو دونوں ہاتھوں سے زور سے تھاما ہوا ہے اور ٹانگیں نیچے لٹک رہی ہیں۔ اچانک مَیں نے اوپر دیکھا تو مجھے تین چار سفید پرندے نظر آئے جن کا رنگ بہت زیادہ سفید تھا لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں۔ وہ پرندے مجھے بچانے کی کوشش میں تھے۔ کہتی ہیں شروع میں تو مجھے اس خواب کی سمجھ نہیں آئی لیکن بعد میں علم ہوا کہ یہ تو حِوار کے پینل کے ممبر ہیں جو پرندوں کی شکل میں دکھائے گئے ہیں۔ شروع میں مجھ پر یہ واضح نہیں تھا کہ اس جماعت کے بانی نے مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن مجھے شک سا پیدا ہوا۔ پھر میں نے جماعتی کتب خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کا فیصلہ کیا جن میں مجھے کوئی خلاف اسلام بات نظر نہیں آئی بلکہ اس کے برعکس مجھے آپ کی ذات اقدس میں اسلام، مسلمانوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری قوت کے ساتھ دفاع کرنے والا بطل جلیل نظر آیا جو اِن کتب سے دشمنان اسلام پر اسلام کا رعب قائم فرماتا ہے۔ کہتی ہیں پھر میں نے استخارہ کیا اور اس کے دو دن بعد مجھے میری ایک سہیلی نے بتایا کہ اس نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں اور وہ سہیلی جو ہے میری ساس کے گھر میں ہیں اور میں مختلف کمروں میں سے ایک خاص کمرے کی تلاش میں ہوں۔ اس پر مجھے ایک روشن اور نورانی اور آرام دہ کمرہ نظر آیا جس پر میں نے اس سے کہا کہ مجھے یہ کمرہ اچھا لگا ہے اور میں یہیں رہوں گی۔ کہتی ہیں میں نے خواب سے یہ نیک فال نکالی کہ جماعت میں شامل ہونا چاہئے۔ چنانچہ بیعت کر لی۔

ایک اور خاتون ترکی میں میرا صاحبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اپنی بیعت کی تفصیل عرض کرنا چاہتی ہوں۔ 2010ء میں جماعت سے تعارف ہوا۔ شمولیت کی توفیق ملی۔ میں نے دیکھا کہ میرے میاں ایم ٹی اے العربیہ بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔ چنانچہ میں بھی دیکھنے لگی اور بسا اوقات ان کی غیر موجودگی میں بھی ایم ٹی اے دیکھتی رہتی تھی۔ میرے میاں مجھے کہتے کہ تسلی سے بیعت کر لو۔ تو میں کہتی کہ میں یہ ذمہ داری نہیں لے سکتی۔ میری فیملی بڑی ہے۔ گھر کی بہت ذمہ داریاں ہیں۔ پھر میں نے دجّال کے بارے میں جماعت کی تیار کردہ فلم دیکھی اور تفسیر بڑی منطقی اور معقول معلوم ہوئی جو پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ پھر مزید ایم ٹی اے دیکھنے لگی اور حوار کے پروگرام دیکھے اور تہجد باقاعدگی سے پڑھنے لگی۔ اس کے بعد ایک دفعہ عبدالقادر عودہ صاحب نے دورہ کیا تو میں نے بیعت کر لی۔ پھر میری بہو اور بیٹیوں نے بھی بیعت کر لی۔ ہم جماعتی موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے اور کہتے کہ یہ حقیقی اسلام ہے۔ کہتی ہیں کہ جس دن میں نے بیعت کی میں نے خواب میں دیکھا کہ سورۃ کہف کی آیات پڑھ رہی ہوں۔ اس پر مجھے یقین ہو گیا کہ خدا تعالیٰ ہمیں دجّال کے شر سے بچائے گا اور میں امام مہدی کے اعوان و انصار میں سے بنوں گی۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ایمان بخشا۔ اللہ کرے کہ مَیں اس ذمہ داری کو ادا کرنے والی ہوں۔ تو اس طرح یہ خود واقعات لکھتی ہیں اور دعاؤں کی تحریک کی خواہش بھی کرتی ہیں۔ پھر نئی جماعتوں کے قیام کے بعض واقعات ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح جماعتیں قائم کرتا ہے۔ عبدالقدوس صاحب بینن کے مبلغ ہیں وہ لکھتے ہیں کہ معلّم زکریا ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے۔ وہاں ایک دوست نے کہا کہ اس وقت لوگ کام کاج کے لئے گاؤں سے باہر ہیں۔ آپ جمعہ کے دن آئیں تو لوگ یہاں موجود ہوں گے۔ چنانچہ جب معلّم صاحب جمعہ کے دن دوبارہ گئے تو معلّم صاحب نے مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو نوافل ادا کئے اور امام صاحب اور اس گاؤں کی کمیٹی کی اجازت سے تبلیغ شروع کی۔ معلّم نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر اور امام مہدی کی آمد کے متعلق تقریر کی اور لوگ تقریر کے دوران اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے رہے۔ جب تبلیغ ختم ہوئی تو ان کی مسجد کمیٹی کے صدر صاحب کہنے لگے کہ میں مسلمان پیدا ہوا ہوں مگر آج تک میں نے سورۃ فاتحہ کی اس طرح کی تفسیر نہیں سنی۔ اگر جماعت احمدیہ کی یہی تعلیم ہے تو پھر میں سب کو مبارکباد دیتا ہوں ہم اس جماعت کو قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ امام سمیت اس گاؤں کی مُسلم تنظیم کے تمام افرادنے جماعت احمدیہ کو قبول کر لیا اور اس طرح ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ کہتے ہیں کہ وہاں کے گاؤں کے مولوی نے شدید ردّعمل دکھایا۔ جب ہمارے معلّم گھر واپس آئے تو مولوی نے ان کو فون کر کے کہا کہ آئندہ سے اس گاؤں اور مسجد میں نہ آنا۔ کچھ عرصہ بعد جب خدام الاحمدیہ بینن کے نیشنل اجتماع کے سلسلہ میں ہمارے معلّم دوبارہ وہاں گئے اور خدام سے شمولیت کی درخواست کی تو اس مولوی نے پھر سے ان کو روکا اور اپنے ساتھ خدّام کو لے جانے سے منع کیا مگر نواحمدی خدّام نے مولوی کو ردّ کر دیا اور سب نے اجتماع میں شمولیت کی۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ مخالف مولویوں کو رُسوا کرتا ہے اور نئی جماعتیں بھی قائم کر رہا ہے۔

نئی جماعتوں کے قیام کے سلسلہ میں ہی ایک اور واقعہ ہے جو اروشا ریجن کا ہے۔ مربی صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئے علاقے میں احمدیت کا نفوذ ہوا ہے۔ سامے (Same) ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں کسوانی (Kisiwani) میں پہلے کوئی احمدی نہ تھا۔ یہاں بار بار دورے کرنے کی توفیق ملی۔ کثرت سے پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ اسی طرح جماعتی اخبارات اور کتب بھی اس گاؤں میں تقسیم کی گئیں جس کے نتیجہ میں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف بیعتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں بلکہ باقاعدہ جماعت کا قیام ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں مسجد کے لئے پلاٹ خریدا جا رہا ہے اور مقامی افراد جماعت مسجد کی تعمیر کے لئے خود اینٹیں تیار کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلمانوں کی طرف سے مخالفت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ مخالفین جماعت کے خلاف انتشار پھیلانے اور بیہودگی کرنے لگ گئے ہیں۔ کہتے ہیں ہم نے انتظامیہ سے اجازت لے کر گاؤں میں مناظرہ کا انتظام کیا۔ تمام گاؤں میں اعلان کروایا اور سُنّی مولوی صاحبان کو دعوت دی کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سچے ہیں تو آئیں اور سب کے سامنے بات کر لیتے ہیں۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق مناظرہ منعقد ہوا اور بہت سے غیر احمدی لوگ اس میں شامل ہوئے۔ لیکن سنی مولویوں میں سے کوئی بھی حاضر نہ ہوا۔ چنانچہ گاؤں کے لوگوں کو علم ہو گیا کہ مولویوں کے پاس انتشار پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ مختلف ذریعوں سے ان لوگوں کی ہدایت کے سامان پیدا فرماتا ہے جو واقعی دین کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ برکینا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں نابیر (Nabiyir) میں تبلیغ کی گئی۔ وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی تعداد میں بیعتیں حاصل ہوئیں۔ وہاں ایک کچی مسجد میں ایک معلم صاحب کو تعینات کیا گیا۔ باقاعدہ نماز جمعہ کا آغاز کیا گیا لیکن غیر احمدی مولوی نے فتنہ پردازی شروع کر دی اور عین نماز جمعہ کے وقت مسجد میں آ کر لوگوں کو بھڑکایا تا احمدیت سے دُور کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن جماعت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ آخر مولوی سے کچھ نہ بن پایا تو اس نے جماعت احمدیہ کی مسجد کے سامنے اپنی ایک مسجد بنائی اور اعلان کیا کہ احمدیہ مسجد اب صرف صفیں رکھنے والا سٹور بن جائے گا اور وہاں کوئی نمازی نہیں آئے گا۔ لیکن ہوا اس کے الٹ۔ وہاں اس کی مسجد میں تو صرف گھر کے رشتہ دار ہی نماز پڑھتے ہیں اور ہماری مسجد میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمازیوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور یہ لکھتے ہیں کہ چھوٹی سی جگہ پہ نماز جمعہ پر حاضری دو سو سے اڑھائی سو تک ہوتی ہے۔

دعائیں قبول کرنے کے نظارے اللہ تعالیٰ کس طرح دکھاتا ہے۔

مبلغ سلسلہ بینن اَنصر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں آسیوں (Assion) میں دو سو بیعتیں ہوئی تھیں۔ اب اس گاؤں میں ہر جمعہ اور منگل کو تربیتی کلاس ہوتی ہے۔ وہاں کے صدر صاحب کی بیٹی جو کسی دوسرے گاؤں میں رہتی تھی سخت بیمار ہو گئی اور بیماری کی وجہ سے جسم بالکل بے جان ہو گیا۔ کہتے ہیں مَیں جب ان کے گاؤں گیا تو صدر صاحب نے کہا کہ دعا کریں اور خلیفۂ وقت کو بھی دعا کے لئے لکھیں۔ تو کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بھی یہاں خط لکھا۔ کہتے ہیں جب اگلے دن دوبارہ وہاں گیا تو لوگوں نے بتایا کہ اس لڑکی نے بولنا اور حرکت کرنا بند کر دیا تھا۔ اس لڑکی کو ہسپتال بھی لے کر گئے تھے لیکن کسی علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ پھر مایوس ہو کر اس کو گھر واپس لے آئے۔ ایک مولوی کو بلایا جس نے لڑکی پر دم کیا۔ اس کے بدلے اس نے چالیس ہزار فرانک اور ایک بکرا لیا لیکن لڑکی کو آرام نہ آیا۔ پھر ایک اور مولوی کو بلایا اس نے بھی اتنی بڑی رقم لی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ کہتے ہیں مولویوں سے ہم مایوس ہو گئے تھے۔ ہم نے سوچا کہ اس نے مر تو جانا ہی ہے۔ پھر لڑکی کو اس کے باپ کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔ چنانچہ جب لڑکی کو یہاں لے کر آئے تو لڑکی کے والدنے وہاں بھی جماعت کو تحریک کی۔ مجھے بھی دعا کے لئے خط لکھا اور کہتے ہیں کہ ایک دن کے بعد ہی اس لڑکی نے حرکت شروع کر دی اور اگلے روز شام تک بیماری مکمل طور پر اس کے جسم سے نکل گئی اور کوئی شخص گمان نہیں کرتا تھا کہ یہ زندہ بچے گی۔ مگر اب اسے دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ لڑکی کبھی بیمار بھی ہوئی تھی۔ تو یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے۔

برکینا فاسو کے ایک معلم سیندے کریم صاحب لکھتے ہیں۔ تبلیغ کے لئے ہم ایک گاؤں گئے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے وہاں تبلیغ کی اجازت چاہی۔ گاؤں کے امام نے کہا کہ ہمارے پاس آپ کے مبلغ پہلے بھی آئے تھے اور ہم میں سے کافی لوگوں نے بیعت بھی کی تھی لیکن تمام گاؤں والوں نے بیعت نہیں کی تھی اس لئے آپ تبلیغ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی تبلیغ سے پہلے جو رہ گئے تھے وہ بھی شامل ہو جائیں۔ چنانچہ کافی دیر سوال و جواب ہوتے رہے۔ آخر پر ان کے بڑے کہنے لگے کہ ہم احمدی تو ہو گئے تھے لیکن پھر بھی کچھ باتیں ابھی واضح نہیں تھیں۔ لیکن آج میں نے خود دیکھ لیا ہے کہ اگر آج اسلام کی کوئی صحیح معنی میں خدمت کر رہا ہے تو وہ آپ لوگ ہیں کیونکہ آپ مستقل اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور تھکتے نہیں۔ پس ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ امام نے گاؤں کے لوگوں سے کہا کہ جن لوگوں نے پہلے بیعت نہیں کی تھی وہ اب کر لیں اور اس طرح گاؤں کے مزید تہتّر افرادنے بیعت کر لی۔

اب اللہ تعالیٰ اگر ان لوگوں کے دل کھول رہا ہے اور ان کو صحیح اسلام کے قبول کرنے کی توفیق دے رہا ہے تو یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر یہ کہنا کہ کیوں صرف وہیں کیوں ہو رہے ہیں؟ اس لئے کہ ان کو دین کی فکر ہے۔ اپنی فکر ہےوہ ساری ساری رات بیٹھ کر دینی مجالس سنتے ہیں۔ یہاں کسی کو وقت نہیں کہ اتنا لمبا عرصہ بیٹھ کر دین کے لئے وقت دے اور دینی مجالس میں بیٹھے اور سوال جواب کرے۔

ہندوستان کے نائب ناظر دعوت الی اللہ لکھتے ہیں کہ لکھیم پور شہر میں ایک دوست عبدالستار صاحب کے ساتھ رابطہ بحال ہوا۔ جب ان کے ساتھ ملاقات ہوئی تو وہ مل کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ کرن پُور گاؤں کے رہنے والے تھے۔ ہماری پچاس بیگھے زمین تھی۔ اچھا کاروبار تھا۔ ہم لوگ بارہ سال قبل بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے تھے لیکن بیعت کے بعد ہماری اس قدر مخالفت ہوئی کہ مخالفین نے ہمارے گھر پر پتھراؤ کیا اور ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیا۔ میرے بیٹے کو مار مار کر زخمی کر دیا۔ میری اہلیہ کا ہاتھ توڑ دیا۔ اس قدر مخالفت ہوئی کہ ہمیں مکان اور زمین اونے پونے فروخت کر کے وہاں سے نکلنا پڑا۔ سارا کاروبار تباہ ہو گیا۔ ہم وہاں سے لکھیم پور شہر میں آئے۔ ایک چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو گئے لیکن مخالفین نے ہمارا پیچھا نہ چھوڑا۔ وہ یہاں بھی پہنچ گئے اور شہر کے مسلمانوں کو متنفّر کر دیا۔ پورے شہر میں کوئی ایک مسلمان بھی ہم سے بات نہ کرتا تھا۔ آتے جاتے ہمیں تنگ کیا جاتا۔ اس دوران ہمارا جماعت سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں جماعت احمدیہ کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان دکھایا کہ ہماری مخالفت میں پیش پیش رہنے والے بڑے مخالفین جو ایک بس میں سوار ہو کر کسی شادی پر جا رہے تھے کہ ان کی بس ریلوے پھاٹک پر پھنس گئی اور ٹرین سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں اٹھائیس لوگ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور بچنے والے بھی بُری طرح زخمی ہو گئے۔ لاشوں کا اس قدر برا حال تھا کہ پہچانی ہی نہیں جاتی تھیں۔ دُور دُور تک جسم کے ٹکڑے پھیلے ہوئے تھے۔ مخالفین میں سے ایک ایک گھر سے نو نو لاشیں نکلیں۔ جب ہمیں اس واقعہ کا پتا چلا تو ہم زخمیوں سے ملنے ہسپتال گئے۔ اس وقت مخالفین کے رشتہ دار شرم کے مارے ہم سے منہ چھپانے لگے۔ اس حادثے کے بعد لکھیم پور شہر کی بڑی مسجد کے ایک مولوی نے ان مخالفین کو جو بچ گئے تھے اور عبدالستار صاحب کی فیملی کو مسجد میں بلایا۔ مولوی صاحب نے مخالفین سے کہا کہ آپ لوگ ان احمدیوں سے معافی مانگیں اور ان کی مخالفت چھوڑ دیں۔ آپ لوگوں نے جو اِن سے قطع تعلق کیا ہوا ہے وہ بھی ختم کریں۔ چنانچہ اس حادثے کے بعد مخالفت بالکل ٹھنڈی پڑ گئی۔ کہتے ہیں کہ ہمارا جماعت سے رابطہ ٹوٹا ہوا تھا مگر دل سے احمدی ہی تھے چنانچہ اس رابطے کی بحالی پر بڑے خوش ہوئے اور ان سب نے تجدید بیعت کی۔ جو لوگ ایک دفعہ احمدی ہوتے ہیں اور حقیقت میں سمجھ کے احمدی ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پھر ان کے ایمانوں میں مضبوطی بھی عطا فرماتا ہے۔

کوسووو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک مشہور عالم شیفچیت کڑاسنچی (Shefqet Kransiqui) صاحب جو لمبے عرصے سے ملک کے دارالحکومت کی سب سے بڑی مسجد کا ایک امام تھا۔ وہاں کی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں بطور پروفیسر پڑھاتا بھی تھا اور ملک میں کافی مقبول تھا۔ اس نے کئی سال قبل ریڈیو وغیرہ پر پروگراموں کے دوران احمدیہ جماعت کے خلاف کافی اشتعال انگیز باتیں کی تھیں اور انٹرنیٹ وغیرہ پر بھی جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ اس طرح سے لیا کہ پہلے تو اس کے کیریکٹر پر الزام لگنے کی وجہ سے اس کو یونیورسٹی سے معطّل کر دیا گیا۔ پھر پولیس نے اس کو دہشت گردی کی پشت پناہی اور بلیک مَنی (black money) کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ کئی دن حراست میں رکھا۔ اس کو جامعہ مسجد کی امامت سے نکال دیا گیا۔ تمام ذمہ داریاں اس سے واپس لے لی گئیں۔ ملک کے اندر بعض دیگر امام بھی جماعت کے خلاف عوام کو مشتعل کرتے تھے دوران سال ان اماموں کو مذہبی منافرت پھیلانے اور معاشرے میں بدامنی پیدا کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔ کہتے ہیں کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ملک کے سرکردہ علماء کو اس قدر ذلّت اور رُسوائی کا سامنا کرنا پڑے اور اس وجہ سے پھر وہاں کے جو احمدی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے ایمان میں مضبوطی عطا فرمائی۔

نومبایعین پر ظلم اور پھر بھی ایمان پر قائم رہنے کی ایک مثال تو پہلے میں نے انڈیا کی بیان کی۔ اسی طرح ایک اور مثال یُوپی کے ایک گاؤں کی ہے کہ وہاں سارے گاؤں نے بیعت کی تھی لیکن بعد میں شدید مخالفت کی وجہ سے پورا گاؤں پیچھے ہٹ گیا تھا۔ لیکن ایک دوست محمد حنیف صاحب احمدیت پر قائم رہے۔ مخالفین نے ان کی بہت مخالفت کی مگر انہوں نے اپنے ایمان کو بچائے رکھا۔ اسی مخالفت کے دوران حنیف صاحب کا بیٹا وفات پا گیا۔ مخالفین نے ان کے بیٹے کو قبرستان میں دفنائے جانے اور جنازہ پڑھنے سے منع کر دیا اور اس سے کہا کہ اگر تم احمدیت سے توبہ کرو گے تو تبھی ہم تمہارے بیٹے کا جنازہ پڑھیں گے اور قبرستان میں دفنانے کی اجازت دیں گے۔ لیکن حنیف صاحب مضبوطی کے ساتھ قائم رہے اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر جنازہ پڑھ کر اپنے بیٹے کو اپنے ہی مکان میں دفن کر دیا۔ چنانچہ جب ان کا جماعت سے رابطہ بحال ہوا تو مل کر آبدیدہ ہو گئے اور مع فیملی تجدید بیعت کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے مرکز سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔ تو کہنے لگے کہ لوگوں نے ہمیں بتایا تھا کہ قادیانیوں کا جو مرکز لکھنؤ میں تھا وہ تو اُجڑ گیا ہے۔ ان کا مدرسہ بھی بند ہو گیا ہے۔ کوئی نہیں رہا اور قادیان کا رابطہ ہمارے پاس تھا نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایمان میں جو مضبوطی تھی اس پر وہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت دینی تھی ہدایت پہ قائم رکھا۔ جو کسی مقصد کے لئے احمدی ہوئے تھے اور بیعتیں کی تھیں وہ سارے پھر گئے اور جماعت چھوڑ دی۔

آئیوری کوسٹ میں بھی جماعت کی وجہ سے ظلم کی ایک مثال ہے۔ ایک نو مبائع بومباسیکو (Bamba Sekou) صاحب نے بیعت کرنے کے بعد اپنے بھائیوں کو خط کے ذریعہ اپنے قبول احمدیت کی خبر دی۔ ان کے بھائیوں نے جواب دیا کہ اگر تین دن کے اندر اندر وہ احمدیت سے باز نہ آئے تو اسلامی شریعت کے مطابق ان کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ اسی طرح کاروبار میں ان کے ساتھی جو کہ وہابیہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے ان کو ان کا حصہ دے کر کاروباری شراکت سے علیحدہ ہو گئے۔ لیکن موصوف نے کسی قسم کے نقصان یا مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور مضبوطی سے احمدیت پر قائم رہے۔

فرانس کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے جو ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا سے رابطہ کی سہولت مہیا فرمائی ہے اور جس طرح میرے خطبے ہر جگہ جاتے ہیں وہ غیر بھی سنتے ہیں۔ اس کے اثر کا ایک واقعہ امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دوست دانیال صاحب بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ بیعت سے پہلے وہ مایوٹے آئی لینڈ میں رہتے تھے جو کہ فرانس کا جزیرہ ہے۔ وہاں مایوٹے میں وہ جس مسجد جاتے تھے اس کے امام اکثر ایم ٹی اے پر میرا خطبہ جمعہ سنتے تھے۔ خطبہ میں مَیں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بارے میں ذکر کیا تھا جس سے کہتے ہیں میں بہت متاثر ہوا۔ مسجد کے امام نے ہمیں جماعت احمدیہ کا تعارف کروایا۔ وہاں کا امام شریف تھا۔ ذاتی غرض نہیں تھی۔ کہتے ہیں اس نے ہمیں کہا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سیدھا راستہ دکھائے۔ ان باتوں کا کہتے ہیں مجھ پر بڑا اثر ہوا۔ اور امام صاحب نے ہمیں جماعت کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کو کہا۔ چنانچہ میں نے انٹرنیٹ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی شروع کیں تو فرنچ زبان میں بعض جماعتی ویڈیوز سامنے آ گئیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بارے میں تھیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کے بارہ میں جو خطبہ تھا اس کا یُوٹیوب پر فرنچ ترجمہ بھی مل گیا۔ چنانچہ کہتے ہیں اس کے بعد مَیں نے بیعت کر لی۔ امیر صاحب لکھتے ہیں اب موصوف نے فرانس کے مبلغ انچارج کا مایوٹے میں اس امام کے ساتھ رابطہ کروایا ہے چنانچہ اس امام کو فرانس سے جماعتی کتب ارسال کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ امام بھی ستّر افراد کے ساتھ بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ہزاروں میل دور بیٹھے اس چھوٹے سے جزیرے میں خطبہ کے ذریعہ سے ہی تبلیغ کا یہ کام ہو گیا اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جو ہم پر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اس نے فرمایا ہوا ہے۔

کتب کا غیر مسلم پر کیا اثر ہوتا ہے؟ کانگو برازویل سے معلم لکھتے ہیں کہ ایک نومبائع اوم بیما صاحب نے اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دن میں اپنے چھوٹے بھائی کے گھر گیا تو اس کے پاس فرنچ زبان میں ایک کتاب دیکھی جس کا عنوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سچی کہانی تھا۔ کہتے ہیں میں نے اس سے یہ کتاب پڑھنے کے لئے لی۔ میں نے اپنے پادری سے اس کتاب کا ذکر کیا تو پادری نے کہا کہ ایسے بغیر سوچے سمجھے کوئی کتاب نہیں پڑھنی چاہئے۔ ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن جب میں نے وہ کتاب پڑھی تو میری آنکھیں ہی کھل گئیں اور مجھے سمجھ آ گئی کہ پادری لوگ ہم سے بہت کچھ چھپاتے ہیں۔ میں نے دوبارہ کتاب پڑھی اور بائبل سے حوالے بھی چیک کئے۔ میں نے اپنے بھائی سے رابطہ کیا جو پہلے ہی جماعت احمدیہ میں داخل ہو چکا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کتاب تم نے کہاں سے لی ہے اور یہ کون لوگ ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ جماعت احمدیہ کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور کہتے ہیں کچھ دنوں تک مَیں نے جماعت احمدیہ کے مشن ہاؤس جانا ہے جہاں جرمنی میں جو جلسہ ہونے والا ہے وہاں وہ جلسہ سنیں گے تم بھی میرے ساتھ چلو۔ خود دیکھ لینا کون لوگ ہیں۔ اسلام کے بارے میں سوالات وہیں پوچھ لینا۔ کہتے ہیں چنانچہ ہم مشن ہاؤس گئے وہاں جلسہ جرمنی کا ماحول دیکھا اور کہتے ہیں کہ آپ کے خطابات سنے اور ان کو سن کر مَیں بالکل بدل گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے جرمنی جلسہ کے موقع پر ہی بیعت کر لی۔ کہتے ہیں اب میں بہت خوش ہوں اور میں محسوس کر رہا ہوں کہ زندگی کا بھی کوئی مقصد ہے جو اَب پورا ہوا۔

بیعت کے بعد غیر معمولی تبدیلی بھی لوگوں میں ہوتی ہے۔ ازبکستان کے ایک نومبایع دوست ظہیر واحد ووچ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سورۃ فاتحہ کی تفسیر جاننے کے بعد میرا تو نماز پڑھنے کا طریق ہی تبدیل ہو گیا ہے۔ اب مجھے نماز میں وہ کچھ ملتا ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتا تھا۔ خاص طور پر مجھے اس حدیث کی تشریح نے بہت فائدہ دیا ہے جو پہلے مجھے سمجھ نہیں آتی تھی اور جس میں احسان کا مطلب بتایا گیا ہے۔

کوسووو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ احمدی نومبایعین اخلاص اور قربانی میں دن بدن آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک دوست نذیر بالائے صاحب شہر کی بلدیہ میں ایک اہم شعبہ کے نگران ہیں لیکن قبول احمدیت کے بعد باوجود اپنی مصروفیت کے دن رات جماعت کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ کوئی تبلیغی یا تربیتی پروگرام ہو تو اس کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں وقف عارضی کرنے کے لئے بھی ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ موصوف کے ذریعہ سے بہت سے نئے تبلیغی رابطے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک تبلیغی پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور شدید بیمار ہونے کے باوجود تبلیغی پروگرام میں شامل ہوئے۔ پروگرام کے دوران ہی جب زیادہ کمزوری محسوس کی تو گھر گئے اور اپنی اہلیہ جو کہ نرس ہیں اُن سے ڈرپ لگوائی اور جب بہتری محسوس کی تو پھر بضد ّہوئے کہ تبلیغی پروگرام میں شامل ہوں گا۔ چنانچہ شرکت کی اور رات دیر تک تبلیغی پروگرام میں مصروف رہے۔ تو یہ ان لوگوں کا تبلیغ کرنے کے بارے میں جوش اور جذبہ ہے جو نئے احمدی ہو رہے ہیں۔ کانگو برازاویل کے معلم سلسلہ ابراہیم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں کا ایک نمبر دار ہے وہ کہتا ہے کہ میرے داماد کا میرے ساتھ رویّہ ٹھیک نہیں تھا اور روزانہ شام کو شراب پی کر گالی گلوچ کرتا تھا اور میرے ساتھ بدزبانی کرتا تھا۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جب سے اس نے اسلام احمدیت کو قبول کیا ہے اس نے شراب پینا اور گالی گلوچ کرنا بالکل چھوڑ دیا ہے اور میرے لئے یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔ یہ تبدیلیاں اللہ تعالیٰ ان میں پیدا فرماتا ہے۔

برکینا فاسو کے نومبائع دوست سوری حمیدو صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں غیر احمدی تھا تو بہت سی مشکلات میں پھنسا ہوا تھا۔ میرے ہاں اولاد تو ہوتی لیکن مر جاتی۔ پیروں فقیروں کے پاس جاتا تو کوئی کہتا کہ بکرے لاؤ۔ کوئی کہتا مرغے بتوں کی جگہ پر ذبح کرو۔ اس طرح ہی تمہاری مشکلات حل ہوں گی۔ کہتے ہیں مَیں نے جب جماعت احمدیہ کا پیغام سنا تو بہت اچھا لگا اور اس جماعت میں شامل ہو گیا۔ وہ پیسے جو میں مولویوں اور بتوں کی نظر کرتا تھا اس کو چندے میں ادا کرنا شروع کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ میری ساری مشکلات حل ہوتی گئیں۔ خدا تعالیٰ نے مجھے زندہ اولاد سے بھی نوازا۔ کچھ عرصہ کے بعد جب مولویوں نے دیکھا کہ یہ شخص اب ہمارے پاس نہیں آتا اور ان کو معلوم ہو گیا کہ یہ احمدی ہو گیا ہے تو اس پر مولوی کہنے لگے کہ تمہارے اپنے باپ دادا جس دین پر قائم تھے تم نے اس کو کیوں چھوڑ دیا؟ کہتے ہیں کہ مَیں نے ان کو کہا کہ اب میں بہت خوش ہوں۔ خدا نے مجھے زندگی والی اولاد بخشی ہے۔ میں چندہ دیتا ہوں اور خدا مجھے دوگنا کر کے واپس کرتا ہے۔ یہ سب جماعت احمدیہ کی برکت ہے۔ خدا نے میرے گھر کے حالات بدل دئیے ہیں۔ جو کام کرتا ہوں پورا ہو جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہی مجھے اس رستہ پر ڈالا ہے۔ جو باپ دادا کا راستہ تھا وہ گمراہی کا راستہ تھا۔

پھر ریڈیو کے ذریعہ بیعتیں ہوتی ہیں۔ بینن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ میرے ریجن کے ایک گاؤں سے ایک عیسائی دوست سوئے جورافن (Soe Joraphin) نے ایک روز ہمارے ریڈیو پروگرام کے دوران فون کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے متعلق سوال کیا اور اپنے ہاں آنے کی دعوت بھی دی۔ بعد ازاں جب ان سے ملاقات ہوئی اور ان کے سوالات کے جواب دئیے اور عقلی دلائل اور بائبل کے حوالے سے جواب دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو شرح صدر ہو گیا اور انہوں نے اقرار کیا کہ جماعت احمدیہ کا مسلک درست ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف ایک نبی تھے اور ان کی آمد ثانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صورت میں پوری ہو چکی ہے۔ یہ بات ان کو سمجھ آ گئی اور وہ اسلام احمدیت میں داخل ہو گئے۔ دوران گفتگو موصوف نے بتایا کہ وہ ایک لمبے عرصے سے ہمارا پروگرام بڑے شوق سے سن رہے ہیں اور سوموار اور جمعرات کو ریڈیو پروگرام کے مقررہ اوقات سے قبل وہ خاص طور پر صرف اپنے پروگرام کے لئے اپنے کام سے گھر واپس آتے ہیں۔ جستجو ہو تو رہنمائی بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بولیویا کے مبلغ غالب صاحب لکھتے ہیں کہ ولیم شاہین جو یہوواہ وٹنس فرقے کے ایک پادری تھے۔ ان کا تعلق لبنان سے ہے اور پیدائشی طور پر عیسائی تھے۔ گزشتہ تین سال سے بولیویا میں مقیم تھے۔ خاکسار نے عیسائیت کے اس فرقے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ان سے میٹنگ طے کی۔ جب ہماری پہلی میٹنگ ہوئی تو انہوں نے اپنے فرقے کے بارے میں بتانے کی بجائے مجھ سے اسلام احمدیت کے بارے میں سوال پوچھنے شروع کر دئیے۔ چنانچہ اس میٹنگ میں جماعت کے عقائد پیش کئے گئے۔ خاص طور پر حضرت عیسیٰ کا تفصیل سے ذکر ہوا۔ کہتے ہیں میں نے انہیں جمعہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تو وہ جمعہ کے لئے باقاعدگی کے ساتھ آنا شروع ہو گئے اور ہر دفعہ جمعہ کے بعد ان سے تفصیلی بات چیت ہوتی رہی۔ ولیم صاحب کو فکر تھی کہ اگر وہ جماعت میں داخل ہوئے تو ان کے والدین اور چرچ والے بھی مخالفت کریں گے اور اس طرح انہیں نئی نوکری ڈھونڈنی پڑے گی لیکن دوسری طرف حق کی تلاش کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ موصوف عربی سمجھ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے جماعت کی ویب سائٹ سے عربی کتب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اس مطالعہ کے بعد کہنے لگے کہ وہ بہت دیر سے حق کی تلاش میں تھے اور اب انہیں حق مل گیا ہے۔ چنانچہ مخالفت اور روزگار کی پرواہ کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک روز جمعہ کے بعد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔

پیغام کا لوگوں پر اثر پڑتا ہے چاہے وہ بیعت کریں نہ کریں۔ کامران مبشر صاحب اس بارے میں آسٹریلیا سے لکھتے ہیں کہ ہم نے گھر گھر جا کر تبلیغ کرنے کا پروگرام بنایا۔ ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک آدمی غصہ سے کانپتا ہوا باہر نکلا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ شاید مجھ پر حملہ کر دے گا۔ مربی صاحب کہتے ہیں اسی غصہ کی حالت میں وہ مجھے کہنے لگا کہ جب سے تم مسلمان لوگ ہمارے ملک میں آئے ہو ہمارے ملک کا امن تباہ ہو گیا ہے۔ تم لوگ ہمارے ملک سے نکل جاؤ اور ہمارے ساتھ تم لوگ integrate نہیں ہو سکتے، نہ ہونا چاہتے ہو۔ جب اس کی بات ختم ہو گئی تو میں نے اس سے کہا کہ آپ کی بات صحیح ہے بعض مسلمان شدت پسند ہیں جو اسلام کو غلط طور پر پیش کر رہے ہیں لیکن ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔ جماعت احمدیہ تو جس ملک میں بھی جاتی ہے وہاں ہر طرح سے integrate ہوتی ہے۔ ہمارے بچے بھی کھیلتے ہیں۔ فٹبال کلبوں میں بھی ہیں۔ میں یہاں نیا آیا ہوں۔ لائبریری کا ممبر بن گیا ہوں۔ بہرحال ان سے لمبی باتیں ہوئیں۔ یہ باتیں سن کر وہی شخص جو پہلے غصہ میں کانپ رہا تھا اور لگ رہا تھا کہ شاید حملہ کر دے گا بہت خوش ہوا اور کہنے لگا مَیں تمہارے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا ہوں۔ آخر پر کہتے ہیں اس کو میں نے مشن ہاؤس آنے کی دعوت دی اور اس نے بڑی خوشی سے قبول کی۔ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ خود لوگوں کے دلوں کو جماعت کے پیغام کے لئے نرم کر رہا ہے۔

پچھلی دفعہ میں نے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ یہاں جو اسائلم سیکرز ہیں وہ تبلیغ کریں۔ جرمنی کے ایک اسائلم سیکرز جو اسائلم پر آئے، اپلائی کیا ہوا تھا وہ اپنا واقعہ لکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میری ایک جج کے پاس فائنل پروٹوکول تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اپنی جماعت کے فلائر تقسیم کرتے ہو؟ اس پر مَیں نے کہا کہ جی میں فلائر تقسیم کرتا ہوں۔ پھر جج نے پوچھا کہ کن جگہوں پر فلائر تقسیم کرتے ہو؟ میں نے چند جگہوں کے نام لئے تو وہ جج کہنے لگا کہ ٹھیک ہے فلاں جگہ پر مَیں نے بھی فلائر لیا تھا۔ چلو جاؤ تمہارا کیس پاس کرتا ہوں۔ تو اس طرح تبلیغ بھی اس کے حق میں فیصلہ کروانے کا ذریعہ بن گئی۔

پھر دوبارہ آسٹریلیا کے مبلغ کامران صاحب کا یہ واقعہ ہے۔ کہتے ہیں کہ خدام الاحمدیہ کے بعض لڑکوں کو بڑی ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ بعض کام کرنے میں شاید شرماتے ہیں کہ یہاں کے لوگ ہمیں کیا کہیں گے؟ یہاں تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب اتنا تعارف جماعت کا ہو گیا ہے اور اتنا لوگ جانتے ہیں کہ یہاں کے نوجوانوں میں جو یہ جھجھک تھی وہ دُور ہو گئی ہے لیکن بعض جگہوں پر ہے۔ کہتے ہیں آسٹریلیا میں خدام الاحمدیہ کے ساتھ ایک تبلیغی پروگرام رکھا گیا جس میں خدام سے کہا گیا کہ وہ جماعتی شرٹس پہن کر باہر جائیں گے اور لوگوں کو تبلیغ کریں گے۔ اس پر ایک خادم میرے پاس آیا۔ کہنے لگا مجھے جماعتی شرٹس پہنتے ہوئے شرم آتی ہے جس پر لکھا ہوا ہے جماعت احمدیہ۔ کہتے ہیں میں نے اسے سمجھایا کہ اسی وجہ سے لوگ ہمارے پاس آئیں گے۔ تم پہن کر جاؤ اور دیکھو کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی ہوا اور جب خدام الاحمدیہ کا گروپ باہر نکلا تو کہتے ہیں لوگوں نے ہماری تصویریں لینا شروع کر دیں اور اس موقع پر ہمارے انٹرویو لئے گئے اور تبلیغ کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے۔ بعد میں یہی خادم جو تھا اپنے دوستوں کو کہنے لگا کہ پہلے مجھے جماعت کی قمیص (شرٹ) پہنتے ہوئے جو ٹی شرٹ تھی شرم محسوس ہو رہی تھی لیکن اب مجھے پتا چلا ہے کہ تمام برکات جماعت کے نام سے ہی منسلک ہیں۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ اس تبلیغ کے ذریعہ نوجوانوں کی تربیت کے سامان بھی پیدا فرما رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً فرمایا تھا کہ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔ آپ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ایک زمانہ آئے گا کہ تیری مدد کی جائے گی اور تُو لوگوں میں شناخت کیا جائے گا۔ یہ وَ تُعْرَفَ بَیْنَ النَّاس کا مطلب ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے آپ کو 1883ء میں پہلی دفعہ الہام کی تھی۔ اس کے بعد بھی دو دفعہ یہ الہام ہوا جب آپ کو کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ کیا یہ انسان کا کام اور منصوبہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ پہلے ایک واقعہ کی خبر دیتا ہے اور وہی علم غیب رکھتا ہے۔ وہی خبر دے سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہر روز یہ نشان پورا ہوتا ہے کہ آپ کا تعارف دنیا میں بڑھ رہا ہے اور لوگ آپ کی بیعت میں آ رہے ہیں۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک خبر دیتا ہے کہ تیرے لئے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ تُو عالم میں مشہور ہو جائے گا۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 162-163)

اور اسی طرح ہو رہا ہے۔ اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی، جماعت کا نام بھی، اسلام کا نام بھی دنیا میں پھیل رہا ہے۔ ایک دور دراز علاقے کی آواز آج دنیا کے بے شمار ممالک میں پہنچ چکی ہے۔ 210 ممالک میں پہنچ چکی ہے۔

ممالک کے حوالے سے بھی بات کر دوں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاید جماعت مبالغہ کرتی ہے اتنی تعداد تو دنیا میں ملکوں کی ہے ہی نہیں جتنی ہم لوگ کہتے ہیں۔ کیونکہ یو این (UN) کی ممبر شپ بھی 190 یا پچانوے ملک ہیں۔ بیشک یُو این (UN) کی ملکوں کی ممبر شپ اتنی ہی ہے لیکن دنیا میں تعداد دو سو بیس ممالک کے قریب ہے۔ گزشتہ دنوں بی بی سی نے کسی گیم کے حوالے سے بات کی تھی تو انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ یہ پروگرام جو ہے، یہ میچ جو ہے دنیا کے 220 ممالک میں دیکھا جائے گا۔ (http: //www.bbc.com/sport/boxing/41033008)

اس لئے یو این (UN) کے حوالے سے بات کر کے پھر یہ خیال پیدا کرنا کہ شاید جماعت احمدیہ مبالغہ کرتی ہے اور انہوں نے زائد ممالک اپنے پاس سے بنا لئے ہیں۔ تو بعض نوجوانوں کاجو یہ تصور ہے، یہ جو خیال ہے وہ اسے دماغوں سے نکالیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم یہ پیغام پہنچائیں اور اس کو پہنچانے والے بن سکیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہمیں دنیا میں پہنچانے کے لئے کہا ہے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 6؍ اکتوبر 2017ء شہ سرخیاں

    مَیں وقتاً فوقتاً ایسے ایمان افروز واقعات بیان کرتا رہتا ہوں جو لوگوں کے اپنے احمدیت قبول کرنے یا ان کے احمدیت قبول کرنے کے بعد کے روحانی اور غیر معمولی تجربات یا جماعت پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے نتیجہ میں افراد جماعت کے ایمان میں ترقی اور مضبوطی وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں یا اظہار خیال کرتے ہیں کہ ایسے واقعات سناتے رہا کریں کیونکہ یہ واقعات دلچسپ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچوں کی بھی توجہ کھینچتے ہیں۔ نوجوانوں کی دینی اور روحانی حالت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں اور خود ہماری حالتوں میں ترقی کا باعث بنتے ہیں اور ہمیں ہماری اپنی حالتوں کی بہتری کی طرف توجہ دلانے کا باعث بنتے ہیں۔ بعض پیدائشی احمدی لکھتے ہیں کہ نئے آنے والوں کی یہ ایمانی حالت اور اللہ تعالیٰ سے جو ان کا تعلق ہے ہمیں شرمندہ کر رہا ہوتا ہے اور توجہ دلا رہا ہوتا ہے کہ ہم بھی ایمان میں بڑھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح بعض نومبایعین بھی اس بات کاا ظہار کرتے ہیں کہ ان واقعات سے ہمارے ایمانوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

    یورپ میں رہنے والے جو دین کی طرف توجہ کرنے والے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نشان دکھاتا ہے۔ ان کے ایمان میں ترقی کے اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے سامان پیدا فرماتا ہے۔ یہاں برطانیہ میں بھی بہت سے نومبایع ہیں یا یہاں کے مقامی باشندے ہیں جن کو بیعت کئے عرصہ ہو گیا ہے اور ہر روز ان کے ایمان ترقی کر رہے ہیں۔ جو نومبایعین ہیں یا کچھ عرصہ سے احمدیت میں شامل ہیں وہ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں جو حیرت انگیز ہیں اور جو انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی یقین اور ایمان میں بڑھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جماعت کی سچائی بھی ان پر کھلتی چلی جاتی ہے اور خلافت سے اخلاص و وفا کے تعلق میں بھی وہ لوگ بڑھ رہے ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں عورتیں بھی ہیں۔ مغربی ممالک میں رہنے والے ان لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نشان دکھاتا ہے جو دین کی طرف توجہ کرنے والے ہیں۔ احمدیت کی سچائی ان پر ظاہر کرتا ہے۔ پھر ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو گو احمدیت کو قبول تو نہیں کرتا لیکن اسلام کی بڑائی اور برتری احمدیت کے ذریعہ ان پر ظاہر ہوتی ہے اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جو مَیں اپنے دوروں کے بعد یا جلسوں کے بعد بیان کرتا رہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسلام احمدیت کی صداقت کی طرف رہنمائی، تبلیغ میں ایم ٹی اے کے کردار، نئی جماعتوں کے قیام، نو احمدیوں کے اخلاص و وفا، قربانی اور جذبۂ تبلیغ، قبولیت دعا، صبر و استقامت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو تقویت ایمان کے لئے زبردست نشانوں کا اظہار، مخالفین کی مخالفت اور ان سے خدا تعالیٰ کے عبرتناک سلوک، جماعتی کتب و لٹریچر کی تاثیرات، بیعت کے بعد اپنی زندگیوں میں نمایاں پاک تبدیلیوں، ریڈیو پروگراموں کے ذریعہ بیعتوں اور تبلیغی مساعی کے نیک اثرات سے متعلق نہایت ایمان افروز اور روح پرور واقعات کا تذکرہ۔

    فرمودہ مورخہ 06؍اکتوبر 2017ء بمطابق 06؍اخاء 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور