نماز: کامیابی اور نجات کا ذریعہ

خطبہ جمعہ 29؍ ستمبر 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصار اللہ یوکے کا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے میں انصار کو ایک انتہائی اہم اور بنیادی چیز کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں اور وہ ہے نماز۔ نماز ہر مومن پر فرض ہے لیکن چالیس سال کی عمر کے بعد جبکہ یہ احساس پہلے سے بڑھ کر پیدا ہونا چاہئے کہ میری عمر کے ہر دن کے بڑھنے سے میری زندگی کے دن کم ہو رہے ہیں ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہئے کہ وقت تیزی سے آ رہا ہے جب میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں ہمارے ہر عمل کا حساب کتاب ہونا ہے۔ پس ایسی حالت میں ایک مومن کی، ہر اس شخص کی جس کو مرنے کے بعد کی زندگی اور یوم آخرت پر ایمان ہے، فکر ہونی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھی حق ادا کرنے والے ہوں اور اس کے بندوں کے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں اور ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں جب اپنی کوشش کے مطابق یہ حقوق ادا کر رہے ہوں۔ نماز کے پڑھنے کی طرف جب بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے تو اس طرف توجہ دلائی کہ نماز میں باقاعدگی بھی ہو، تمام نمازیں وقت پر ادا ہوں اور باجماعت ادا ہوں۔ نماز کے قائم کرنے کا حکم ہے اور نماز کے قائم کرنے کا مطلب ہی نماز کو وقت پر اور باجماعت ادا کرنا ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے، انصار اللہ والے بھی اپنی رپورٹوں سے جائزہ لیتے ہوں گے اور جائزہ لینا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ انصار کی عمر ایک پختہ اور سنجیدگی کی عمر ہے نماز باجماعت کی طرف اس طرح توجہ نہیں ہے جو ہونی چاہئے۔ پس انصار اللہ کو خاص طور پر سب سے زیادہ اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ ان کا ہر ممبر نماز باجماعت کا عادی ہو بلکہ ہر ناصر کو خود اپنا جائزہ لینا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ وہ نماز باجماعت کے عادی ہوں۔ سوائے بیماری اور معذوری کی صورت کے نماز باجماعت ادا کرنے کی انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر قریب کوئی مسجد اور نماز سینٹر نہیں ہے تو علاقے کے کچھ لوگ کسی گھر میں جمع ہو کر نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ سہولت بھی نہیں تو گھر کے افراد مل کر نماز باجماعت پڑھیں۔ اس سے بچوں کو بھی، نوجوانوں کو بھی نماز اور باجماعت نماز کی اہمیت کا احساس ہو گا۔

پس انصار اللہ حقیقی رنگ میں انصار اللہ تبھی بن سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اس پر عمل نہیں کر رہے اور جن کے نگران بنائے گئے ہیں ان سے عمل نہیں کروا رہے یا عمل کروانے کی کوشش نہیں کر رہے، اپنے نمونے پیش نہیں کر رہے تو صرف نام کے انصار اللہ ہیں۔ آج تلواروں اور تیروں کی جنگ نہیں ہو رہی جہاں مددگاروں کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے کہ ہمارا غالب آنے کا ہتھیار دعا ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 9صفحہ 28۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس انصار اللہ بننے کے لئے اس دعا کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس ہتھیار کو استعمال کیا جائے اور جب یہ ہو گا تبھی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا بھی صحیح حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ ورنہ آپ نے بار بار یہی فرمایا ہے کہ اگر میری باتوں کو نہیں ماننا اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کرنی، اپنی عبادتوں کے حق ادا نہیں کرنے تو پھر میری بیعت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 10صفحہ 140۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہر ناصر کو خاص طور پر اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کس حد تک وہ نماز کے پابند ہیں۔ کس حد تک وہ اپنا نمونہ اپنے بچوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نمازوں کی حالت اور کیفیت کیا ہے۔ کیا صرف ایک فرض اور بوجھ سمجھ کر نمازیں ادا ہو رہی ہیں یا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نماز کی اہمیت، اس کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کو پڑھنے کا طریق، اس کا مقصد، اس کا فلسفہ اور اوقات کا فلسفہ، غرض اس موضوع پر مختلف پیرائے میں بار بار مختلف موقعوں پر اور جگہوں پر توجہ دلائی ہے۔ آپ کے بعض ارشادات اس وقت مَیں پیش کروں گا جو اس کی اہمیت اور حکمت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ نمازوں کو باقاعدگی سے اور بالالتزام پڑھنے کے بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجلس میں فرمایا کہ:

’’نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو‘‘۔ فرمایا کہ’’بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔ انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں۔ اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو‘‘۔ فرمایا کہ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو تو تبھی زمین و آسمان قائم ہیں ورنہ نہیں۔ فرمایا کہ ’’بعض دفعہ وہ لوگ جن کی طبائع طبیعیات کی طرف مائل ہیں کہا کرتے ہیں کہ نیچری مذہب قابلِ اِتّباع ہے کیونکہ اگر حفظ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو تقویٰ اور طہارت سے کیا فائدہ ہو گا‘‘؟ (اپنے اپنے فلسفے لوگوں نے گھڑے ہوئے ہیں۔) آپ فرماتے ہیں کہ’’سو واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض وقت ادویات بیکار رہ جاتی ہیں اور حفظ صحت کے اسباب بھی کسی کام نہیں آ سکتے۔ نہ دوا کام آ سکتی ہے، نہ طبیبِ حاذق۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا امَر ہو تو الٹا سیدھا ہو جایا کرتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 1صفحہ 263۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے اور اس کے لئے بہترین ذریعہ اس کی عبادت اور عبادتوں میں نماز کی ادائیگی ہے۔

پھر نماز کی حقیقت اور اہمیت اور انسان کو اس کی ضرورت اور نماز کی کیا کیفیت ہونی چاہئے؟ ان باتوں کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ

’’نماز کیا ہے؟‘‘ فرمایا کہ’’یہ ایک خاص دعا ہے۔ مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کے غناءِ ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا، تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہے۔ بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے‘‘۔ (نمازوں کے ذریعہ سے جو اس کی حاجات ہیں پوری ہوتی ہیں۔ جو اس کا مقصدِ زندگی ہے وہ پورا ہوتا ہے، وہ اپنے مطلب کو پہنچتا ہے۔) فرمایا کہ ’’مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آجکل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔ اس کی وجہ ایک عام زہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت سرد ہو رہی ہے اور عبادت میں جس قسم کا مزا آنا چاہئے وہ مزا نہیں آتا‘‘۔ فرمایا کہ ’’دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس میں لذّت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھاہو‘‘ (ہر چیز میں لذت رکھی ہے اور انسان اس میں ایک خاص قسم کا حظ محسوس کرتا ہے)۔ فرمایا کہ’’جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیز کا مزا نہیں اٹھا سکتا اور وہ اسے تلخ یا بالکل پھیکا سمجھتا ہے‘‘۔ (مریض ہیں۔ ان کے منہ بدمزہ ہو جاتے ہیں۔ زبان بک بکی ہو جاتی ہے تو ان کو کسی چیز کا مزا نہیں آتا۔ اکثر مریضوں سے ہم یہی دیکھتے ہیں۔) فرمایا کہ ’’اسی طرح وہ لوگ جو عبادت الٰہی میں حظ اور لذت نہیں پاتے ان کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے‘‘۔ (جن کو نماز میں حظ نہیں آتا تو اس کا مطلب ہے وہ بھی بیمار ہیں۔) فرمایا’’کیونکہ جیسا مَیں نے ابھی کہا ہے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذّت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اس کے لئے لذّت اور سرور نہ ہو۔ لذّت اور سرور تو ہے مگر اس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(الذَّاریات:57)۔ اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے (تو پھر) ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سرور بھی درجہ غایت کا رکھا ہو۔‘‘ (عبادت میں اعلیٰ درجے کی لذت اور سرور بھی ہونا چاہئے۔ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے صرف پیدا کیا اور اس کا کوئی مقصدنہیں یا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے یا اس میں سرور نہیں حاصل ہو رہا تو کس طرح انسان وہ کام کر سکتا ہے۔) فرمایا ’’اس بات کو ہم اپنے روزمرّہ کے مشاہدے اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔ مثلاً دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں‘‘۔ (کھانے پینے کی تمام چیزیں انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں) ’’تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا؟ کیا اس ذائقہ، مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجودنہیں؟ کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات، (پودے ہوں، پھل ہوں، پہاڑ ہوں، خوبصورت چیزیں ہوں) حیوانات ہوں یا انسان حظ نہیں پاتا‘‘؟ (ان کو دیکھ کر یقیناً اس سے وہ لطف اندوز ہوتا ہے)۔ فرمایا کہ ’’کیا دل خوش کُن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اَور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے کہ عبادت میں لذت نہیں‘‘۔ آگے آپ فرماتے ہیں کہ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد کو جوڑا پیدا کیا اور مرد کو رغبت دی ہے۔ اب اس میں زبردستی نہیں کی بلکہ ایک لذّت بھی دکھلائی ہے۔ اگر محض توالد و تناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہو سکتا۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذت اور سرور ہے اور یہ لذت اور سرور دنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ ِنفس سے بالا تر اور بلند ہے۔‘‘ فرماتے ہیں کہ’’جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح، پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادت الٰہی سے لذت نہیں پاسکتا‘‘۔ (ملفوظات جلد 1صفحہ 159-160۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ انسان کی کمزوری ہے اور نمازوں کی طرف توجہ نہ دینا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم ہونا ہے کہ نماز میں لذت نہیں آتی۔ پس ہمیں، ہم میں سے جو بھی ایسے ہیں ان کو فکر کرنی چاہئے۔

پھر حقیقی نماز کس قسم کی ہے اور کیسی ہونی چاہئے؟ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’یاد رکھو! یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔ لیکن اکثر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے۔ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ(الماعون5:۔ 6)۔ یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں‘‘۔ فرمایا کہ’’نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے۔ … اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا‘‘۔ (نماز پڑھنے کے لئےاور یہ مقام حاصل کرنے کے لئے کہ جہاں انسان سب برائیوں سے بچے ایک کوشش کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے خشوع اور خضوع ضروری ہے۔) آپ فرماتے ہیں ’’اس لئے چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو‘‘۔ (ملفوظات جلد 10صفحہ 66-67۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس نماز کا حظ اور سرور حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنے کے لئے پھر اسی کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے اور چلتے پھرتے بھی اس کا ذکر کرنے کی ضرورت ہے اور خشوع مانگنے کی ضرورت ہے۔ یہ حالت انسان پیدا کرے تو پھر نمازوں کا بھی مزا آتا ہے۔

پھر نماز میں لذّت نہ آنے کی وجہ اور اس کا علاج بتاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سست اس لئے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذّت اور سرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گاؤں میں تو اَور بھی سستی اور غفلت ہوتی ہے۔‘‘(جو آبادیوں میں رہنے والے لوگ ہیں، زیادہ مصروف ہیں۔ وہ اپنے کاموں کی وجہ سے اَور بھی زیادہ سست ہو جاتے ہیں۔ فرمایا کہ) ’’سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولائے حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔ پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ان کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزا کو چکھا۔ اَور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔‘‘ (دوسرے مذہب جو ہیں اُن میں باقاعدگی سے عبادت کرنے کے ایسے احکام نہیں ہیں۔) فرمایا’’کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے گویا ان کے دل دُکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں۔‘‘ (اذان ہو گئی مگر اذان پہ کان نہیں دھرا۔ یا نماز کا وقت ہو گیا اور اس کی طرف توجہ نہیں دی۔) فرمایا کہ ’’یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں‘‘۔ آپ نے فرمایا کہ ’’بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر کبھی جا کر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔‘‘ (یعنی نماز کے لئے نہیں جاتے۔) فرمایا کہ ’’پس مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہئے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھا دے۔ کھایا ہوا یاد رہتا ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے۔ اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے تو اس کی ساری حالت باعتبار اس کے مجسم ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کچھ یادنہیں رہتا‘‘۔ (بدصورتیاں اور خوبصورتیاں بھی انسان کو اس لئے یاد رہتی ہیں کہ ایک توجہ دے کر دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی تعلق نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسے کچھ نہیں یاد رہتا۔) فرمایا کہ’’اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اٹھ کر سردی میں وضو کر کے خوابِ راحت چھوڑ کر، کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اُسے بیزاری ہے‘‘۔ فرمایا کہ’’اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے۔ وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے‘‘(اس کو پتا ہی نہیں کہ نماز میں کیا لذّت اور راحت ہے۔) فرمایا ’’پھر نماز میں لذّت کیونکر حاصل ہو‘‘۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پَے در پَے پیالے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آ جاتا ہے۔ دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے‘‘۔ (باقاعدگی کرے۔ جب تک مزا نہ آئے نمازیں پڑھتا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا جائے کہ اے اللہ! مجھے نماز میں وہ سرور اور حظ دے جو اَور چیزوں میں تو نے دیا ہوا ہے۔) فرمایا ’’دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سرور آ جاوے۔ اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسے سرور کا حاصل کرنا ہو‘‘۔ (ساری جو قوتیں ہیں اس طرف لگائے کہ میں نے نماز میں سرور حاصل کرنا ہے۔ نماز کا مزا اٹھانا ہے۔) فرمایا’’اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذّت حاصل ہو تو مَیں کہتا ہوں‘‘۔ (آپ فرماتے ہیں اس لذت کے حاصل کرنے کے لئے اگر یہ دعا پیدا ہو، ایک کرب پیدا ہو، اضطراب پیدا ہو تو آپؑ فرماتے ہیں ) ’’تو مَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذت حاصل ہو جاوے گی‘‘۔ پھر آپ فرماتے ہیں ’’پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے۔ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ (ہود:115:)‘‘۔ فرماتے ہیں: ’’نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔‘‘ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔) ’’پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔ یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ(ہود: 115)۔ یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجودنماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔‘‘ (نمازوں میں روح کوئی نہیں ہوتی۔) فرمایا ’’وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ ان کی روح مردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا، اَلصَّلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجودیکہ معنی وہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے‘‘۔ (وہ نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے۔)’’اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔ وہ نماز یقیناً یقیناً برائیوں کو دور کرتی ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔‘‘ (نماز صرف اٹھنے بیٹھنے کا نام نہیں ہے۔)’’نماز کا مغز اور روح وہ دعا ہے جو ایک لذت اور سرور اپنے اندر رکھتی ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 162 تا 164۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

نماز کی روح اور مقصد کو حاصل کرنے کی کس طرح کوشش کرنی چاہئے؟ ارکانِ نماز جو ہیں، قیام ہے۔ رکوع ہے۔ سجدہ ہے۔ قعدہ ہے۔ یہ جو ساری حالتیں نماز میں ہیں اس لئے رکھی گئی ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ اس روح کو حاصل کیا جائے۔

اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں کہ ’’ارکان نماز دراصل روحانی نشست و برخاست ہیں۔ انسان کو خدا تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگاران میں سے ہے‘‘۔ (جو خدمت کرنے والے لوگ ہیں کسی بڑے آدمی کے سامنے جاتے ہیں تو ادب سے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو قیام جو ہے نماز میں وہ ادب کی نشانی ہے۔) ’’رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیلِ حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے۔ اور سجدہ کمالِ آداب اور کمالِ تذلّل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔‘‘ (جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو انتہائی عاجزی اور نیستی اور تذلّل کی حالت میں لے جاتا ہے۔ یہی عبادت کا مقصد ہے کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکاتا ہوں ) فرمایا کہ ’’یہ آداب اور طُرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دئیے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے‘‘۔ (انسان جس طرح ظاہری طور پر یہ آداب بجا لا رہا ہے، اسی طرح اندرونی طور پر روحانی طور پر روح کو بھی اسی طرح آداب بجا لانے چاہئیں۔ دل کا بھی اسی طرح قیام اور رکوع اور سجدہ ہونا چاہئے۔) فرمایا کہ ’’علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں (جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے) صرف نقّال کی طرح نقلیں اتاری جاویں‘‘ (صرف ہاتھ باندھ لئے، رکوع میں چلے گئے، سجدے میں چلے گئے، بیٹھ گئے اگرنقّال کی طرح صرف یہ اُٹھک بیٹھک ہی کرنی ہے، نقل ہی اتارنی ہے) فرمایا’’اور اسے ایک بار گراں سمجھ کر اتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آ سکتا ہے اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اس کی حقیقت کیونکر متحقق ہو گی؟‘‘(لذت اور سرور نہیں آیا تو پتہ ہی نہیں لگ سکتا کہ نماز کی حقیقت کیا ہے؟۔) فرمایا ’’اور یہ اس وقت ہو گا جبکہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلّل تام ہو کر آستانہ الوہیت پہ گرے‘‘۔ (پس روح کو بھی اسی طرح سجدہ کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے آگے گرنا چاہئے جس طرح انسان کا جسم سجدے میں چلا جاتا ہے)’’اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے‘‘(جو الفاظ زبان سے بولے جا رہے ہیں وہ دل سے نکلنے والے الفاظ ہوں۔) فرمایا کہ’’اس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’میں اس کو اَور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے۔ یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفے کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور ان کی ساخت اور بناوٹ پھر نطفے کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ۔ پھر جوان۔ بوڑھا۔ غرض ان تمام عالموں میں جو اس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا رہے تو بھی وہ اس قابل ہو سکتا ہے کہ ربوبیت کے مدّ مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے‘‘۔ انسان جب یہ سارا سوچے کہ میں کس طرح پیدا ہوا؟ کس طرح مختلف مراحل میں سے گزرا؟ کس طرح بڑا ہوا؟ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے پالا پوسا بڑا کیا؟ تو تبھی صحیح طرح، صحیح عبودیت کا حق، ایک عبد بننے کا حق انسان سوچ سکتا ہے اور ادا کر سکتا ہے۔) فرمایا کہ ’’غرض مدّعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر‘‘ (جب تک بے وقعت اور بے حقیقت نہ سمجھو گے) ’’جو ربوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پَرتو اس پر نہیں پڑتا‘‘۔ (اللہ تعالیٰ کے فیض سے فائدہ اٹھانا ہے تو کامل عبودیت پیدا کرنی ہو گی۔) فرمایا کہ ’’اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔ اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع تام ہو جاتا ہے۔‘‘ (اللہ کے علاوہ ہر دوسری چیز سے وہ مکمل طور پر تعلق کاٹ لیتا ہے۔) ’’اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔ اس اتّصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے‘‘۔ (ایسا تعلق جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پھر جوش میں آتی ہے اور انسان کی عبودیت کا بھی ایک جوش پیدا ہو رہا ہوتا ہے اور جب یہ دونوں ملتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تب ’’ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کا نام صلوٰۃ ہے۔‘‘ (اس خاص کیفیت کا نام صلوٰۃ ہے جو ربوبیت اور عبودیت کے ملنے سے پیدا ہو۔) فرمایا کہ ’’پس یہی وہ صلوٰۃ ہے جو َسیِّئات کو بھسم کر جاتی ہے۔‘‘ (اس طرح کی نماز ہو اس طرح کی صلوٰۃ ہو تبھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ برائیوں کو ختم کرتی ہے۔ توپھر برائیاں ختم ہوتی ہیں، ان کو جلا دیتی ہے۔) ’’اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستے کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے۔‘‘ (ایک روشنی کا کام دیتی ہے۔ ایک ٹارچ لائٹ کا کام دیتی ہے)’’اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خار و خس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے۔‘‘ (ہر برائی نظر آ جاتی ہے۔) ’’اور یہی وہ حالت ہے جبکہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ (العنکبوت:46)  کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں نہیں، اس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے‘‘۔ (فرمایا یہی وہ حالت ہے جبکہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کہ نماز جو ہے وہ فحشاء اور گناہوں سے روکتی ہے۔ غلط چیزوں سے روکتی ہے۔ فرمایا کہ اس وقت اس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے) ’’اور یہ درجہ کامل تذلّل، کامل نیستی، کامل فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے‘‘۔ فرمایا’’پھر گناہ کا خیال اسے کیونکر آ سکتا ہے۔‘‘ (جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو گناہ کا خیال کس طرح آ سکتا ہے) ’’اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا‘‘۔ فرمایا کہ’’فحشاء کی طرف اس کی نظر اٹھ ہی نہیں سکتی۔ غرض ایک ایسی لذت، ایسا سرور حاصل ہوتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیونکر بیان کروں‘‘۔ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 164 تا 166۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ ایک غیرت مند مومن ہر حالت میں صرف اللہ تعالیٰ کے آگے ہی جھکتا ہے اور جھکنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے غیر کو کسی صورت میں بھی اپنی امیدوں اور توجہ کا مرکز نہیں بنانا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں۔ ’’پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے، دعا سے حاصل ہوتی ہے‘‘۔ (نماز بھی دعا سے حاصل ہوتی ہے۔) ’’غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے کیونکہ یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔ جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے، سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔ جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی کلوں کو چلاتا ہے‘‘ (بہت سے پرزوں کو ایک انجن چلاتا ہے) ’’پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون کو اسی انجن کی طاقتِ عُظمیٰ کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی اُلوہیت کا قائل ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو اِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ(الانعام:80)  کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے منہ سے کہتا ہے ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہو‘‘۔ (جب اپنی تمام توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیرنے کا اظہار کرتا ہے اور اپنے آپ کو عبادت کرنے والا موحّد کہتا ہے تو فرمایا کہ پھر تمام توجہ اس طرف متوجہ ہونی چاہئے۔ فرمایا جب ایسی حالت ہو) ’’تو لاریب وہ مسلم ہے۔‘‘ (تب یقیناً وہ مسلمان ہے۔) ’’وہ مومن اور حنیف ہے۔ لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بدقسمت اور محروم ہے کہ اس پر وہ وقت آ جانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے‘‘۔ فرمایا کہ ’’ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداءً ایک طرف کر دی جاویں اور اس طرف جھک کر پرورش پالیں ) ادھر ہی جھکتا ہے‘‘۔ (پس یہ بہت اہم بات ہے۔ جب نماز ترک کی یا کمزوریاں دکھائیں۔ نماز پڑھنے میں سستی دکھائی اور اللہ کے سوا کسی اور طرف زیادہ انحصار کرنا شروع کر دیا تو پھر انسان اس درخت کی طرح دُور ہٹتا چلا جاتا ہے جس کی شاخوں کا رخ اگر ایک طرف پھیر دیا جائے تو آہستہ آہستہ وہ شاخیں اسی طرف بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں)۔ فرمایا ’’اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے۔ جیسے وہ شاخیں۔‘‘ (جو درخت کی شاخیں ایک طرف جھک رہی تھیں) ’’پھر دوسری طرف مڑ نہیں سکتا۔ اسی طرح پر دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دور ہوتی جاتی ہے۔ پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تاکہ اوّلاً وہ ایک عادتِ راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آ جاتا ہے جبکہ انقطاعِ کُلّی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے‘‘۔ (پھر ہر چیز سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ کٹ جاتا ہے۔ اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ تب انسان کو ایک نور ملتا ہے اور لذت حاصل ہوتی ہے۔) فرمایا ’’مَیں اس امر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔ افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کر سکوں۔ لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے۔ پس وہ اس سے ہٹتا ہے اور اسے دور پھینک دیتا ہے۔ مَیں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔ گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آ سکتا ہے کہ جیسے ایک مردِ غیّور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی وارداتیں ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے‘‘۔ (اللہ تعالیٰ کو بڑی غیرت ہے۔) ’’عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مدّ مقابل ہیں۔‘‘ (پس اسی ذات کے مدّمقابل ہیں یعنی عبودیت اور دعا خاص کر اسی کو چاہئے۔) ’’وہ پسندنہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔ پس خوب یاد رکھو! اور پھر یاد رکھو! کہ غیراللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔ نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔ اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلّل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ 166 تا 168۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر نماز میں وساوس پیدا ہونے کی وجہ بیان فرماتے ہیں۔ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ مختلف قسم کے وسوسے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ خیالات آتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ: ’’جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا انہیں کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں۔ دیکھو ایک قیدی جبکہ ایک حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی وسوسہ گزر جاتا ہے؟‘‘۔ (ایک قیدی جب حاکم کے سامنے کھڑا ہو تو اور خیال اس کے دل میں آ ہی نہیں سکتا۔ یہی مثال ہے۔) فرمایا کہ’’ہرگز نہیں‘‘۔ (کبھی اس کے دل میں یہ خیال نہیں آئے گا۔) ’’وہ ہمہ تن حاکم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ابھی حاکم کیا حکم سناتا ہے۔ اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہوتا ہے۔ ایسا ہی جب صدق دل سے انسان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور سچے دل سے اس کے آستانہ پر گرے تو پھر کیا مجال ہے کہ شیطان وساوس ڈال سکے۔‘‘ (ملفوظات جلد 10صفحہ 90-91۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

نماز کی حفاظت کیوں کی جائے اور نماز کیوں پڑھی جائے؟ کیا اللہ تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی ضرورت ہے؟ اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ بھی سوال اٹھتے ہیں۔ آجکل کی دہریت کے اثر کی وجہ سے اٹھتے رہتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اللہ غنی ہے اور اسے ہماری عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’پھر یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو غنی عن العالمین ہے۔ اس کو کسی کی حاجت نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لئے وہ خدا سے مدد طلب کرتا ہے۔ کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جانا حقیقی بھلائی کا حاصل کرلینا ہے۔ ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلاکت کے درپے رہے تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خاطر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 10صفحہ 66۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

صحابہ کس طرح غالب آئے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:

’’اخلاص جیسی اَور کوئی تلوار دلوں کو فتح کرنے والی نہیں۔ ایسے ہی امور سے وہ لوگ دنیا پر غالب آگئے تھے۔ صرف زبانی باتوں سے کچھ ہو نہیں سکتا‘‘۔ فرمایا کہ ’’اب نہ پیشانی میں نور اور نہ روحانیت ہے اور نہ معرفت کا کوئی حصہ۔‘‘۔ (نمازکی معرفت نہیں ہے۔ نماز پڑھنے کی وجہ سے جو نور ملتا ہے وہ نہیں ہے۔ نمازیں بھی بوجھ سمجھی جاتی ہیں ) فرمایا کہ’’خدا تعالیٰ ظالم نہیں ہے۔ اصل بات ہی یہی ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص نہیں۔ صرف ظاہری اعمال سے جو رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیں بنتا‘‘۔ (اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت میں بہت سارے ایسے ہیں جو خالص ہو کر نمازیں پڑھنے والے ہیں۔ یہ عمومی حالت آپ اُس زمانے کی بیان فرما رہے ہیں۔ پس یہ ہمارے لئے بھی سبق ہے اور ایک تنبیہ بھی ہے۔ ان باتوں کا خیال رکھیں۔) فرمایا ’’اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں نماز کی تحقیر کرتا ہوں۔ وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اور وہ معراج ہے۔ بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنی بھی آتے ہیں۔ پچاس پچاس برس کے نمازی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہوں گے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے ہیچ ہیں۔ بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔‘‘ (اکثر مسلمانوں میں سے یہی حالت دیکھیں گے) فرمایا ’’مَیں تو یہاں تک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔ بیشک اردو میں، پنجابی میں، انگریزی میں جو جس کی زبان ہو اُسی میں دعا کر لے۔ مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اِسی طرح پڑھو۔ اس میں اپنی طرف سے کچھ دخل مت دو۔ اس کو اِسی طرح پڑھو اور معنی سمجھنے کی کوشش کرو۔ اِسی طرح ماثورہ دعاؤں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔ قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد جو چاہو خدا تعالیٰ سے مانگو اور جس زبان میں چاہو مانگو۔ وہ سب زبانیں جانتا ہے۔ سنتا ہے۔ قبول کرتا ہے‘‘۔ فرمایا ’’اگر تم اپنی نماز کو باحلاوت اور پُرذوق بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کرو۔ مگر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں تو ٹکّریں مار کر پوری کر لی جاتی ہیں۔ پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے‘‘۔ (اکثر مسلمان ملکوں میں غیر احمدیوں میں یہی رواج ہے کہ نماز جلدی جلدی پڑھ لی۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کے دعا کرنے لگ گئے۔ فرمایا یہ دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ اس سے ظاہر تو یہی لگتا ہے کہ)’’نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے۔ اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تو نماز کے بعدمیں ہوتا ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دعا کا نام ہے جو بڑے عجز، انکسار، خلوص اور اضطراب سے مانگی جاتی ہے۔ بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی صرف دعا ہی ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعا ہی ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفیدنہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر تو خود خدا تعالیٰ نے لعنت اور وَیْل بھیجا ہے چہ جائیکہ ان کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔ وَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْن خود خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یہ ان نمازیوں کے حق میں ہے جو نماز کی حقیقت سے اور اس کے مطالب سے بے خبر ہیں۔ صحابہؓ تو خود عربی زبان رکھتے تھے اور اس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معانی سمجھیں اور اپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریں۔ مگر ان لوگوں نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرا نبی آ گیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کر دیا ہے۔‘‘ (آپ کے خلاف جو لوگ باتیں کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ فرما رہے ہیں جب میں یہ کہتا ہوں کہ اپنی زبان میں دعائیں کرو تو کہتے ہیں کہ نئی شریعت لے آئے۔) فرمایا’’دیکھو خدا تعالیٰ کا اس میں فائدہ نہیں بلکہ خود انسان ہی کا اس میں بھلا ہے کہ اُس کو خدا تعالیٰ کی حضوری کا موقع دیا جاتا ہے اور عرض معروض کرنے کی عزت عطا کی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پا سکتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیونکر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گزر جاتا ہے اور رات بھی گزر جاتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی خدا بھی ہے۔ یاد رکھو کہ ایسا انسان آج بھی ہلاک ہوا اور کل بھی‘‘۔ فرمایا کہ’’مَیں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں کاش لوگوں کے دل میں پڑ جاوے۔ دیکھو عمر گزری جارہی ہے غفلت کو چھوڑ دو اور تضرع اختیار کرو۔ اکیلے ہو ہو کر خدا تعالیٰ سے دعا کرو کہ خدا ایمان کو سلامت رکھے اور تم پر وہ راضی اور خوش ہو جائے‘‘۔ (ملفوظات جلد 10صفحہ 411 تا 413۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے کہ حقیقی نماز کیا چیز ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ: ’’وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:70) پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزلِ مقصود تک پہنچ جاؤ گے‘‘۔ (کوشش کرو جہاد کرو۔ فرمایا کہ توبہ و استغفار وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے اور جو لوگ ہمارے رستے میں کوشش کرتے ہیں ان کو ہم پھر صحیح رستوں کی طرف رہنمائی بھی کر دیتے ہیں۔) فرمایا کہ’’اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں۔ آخر انہیں مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور اَبدال اور غوث ہوئے۔ اب بھی اُس کی رحمت کا دروازہ بندنہیں۔ قلبِ سلیم پیدا کرو۔ نماز سنوار کر پڑھو۔ دعائیں کرتے رہو۔ ہماری تعلیم پر چلو۔ ہم بھی دعا کریں گے۔ یاد رکھو! ہمارا طریق بعینہٖ وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا تھا۔ آجکل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں۔ یہ چلّے اور ورد وظائف جو انہوں نے رائج کر لئے ہیں ہمیں ناپسند ہیں‘‘۔ (بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ بتائیں فلاں کیا دعا کریں۔ خاص دعا کیا ہے۔ خاص کوشش کیا کرنی چاہئے۔ اصل چیز نماز ہے۔ نماز کی طرف ہر احمدی کی پوری توجہ ہونی چاہئے)۔ فرمایا کہ ’’اصل طریقِ اسلام قرآن مجید کو تدبّر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ اور انابت اِلَی اللہ سے کرتے رہنا۔ بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ ہے تو سب کچھ ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 10صفحہ 107۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اور معراج پر پہنچانے والی نماز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے والے کے دل کو پگھلا دے۔

پھر فرائض نمازوں کے ساتھ تہجد کی تاکید بھی آپ نے فرمائی اور انصار اللہ کو تو خاص طور پر اس کا بھی التزام کرنا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’اس زندگی کے کُل اَنفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا‘‘۔ (اگر ساری سانسیں اور ساری عمر دنیاوی کاموں کے لئے گزار دی تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا) فرمایا کہ ’’تہجد میں خاص کر اٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں بہ باعث ملازمت کے ابتلا آ جاتا ہے‘‘۔ (یعنی آگے پیچھے بھی ہو جاتی ہیں۔ بعض دفعہ ایسا ابتلا بھی آ جاتا ہے کہ قضاء بھی ہو جاتی ہیں۔) فرمایا کہ ’’رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لئے یہ گنجائش رکھ دی۔ مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی۔ جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں اور موردِ عتابِ حُکّام ہوتے ہیں تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 1صفحہ 6۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اگر دنیاوی کاموں میں بھی تکلیفیں اٹھا رہے ہوتے ہیں، اگر نماز کے لئے، فرض پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کے لئے تھوڑی سی تکلیف اٹھا لو تو کیا حرج ہے۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’یہ اللہ تعالیٰ کا کمال فضل ہے کہ اس نے کامل اور مکمل عقائد کی راہ ہم کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بِدُوں مشقّت و محنت کے دکھائی ہے‘‘۔ (بغیر کسی مشقت اور محنت کے ہمیں راستہ دکھا دیا۔)’’وہ راہ جو آپ لوگوں کو اس زمانہ میں دکھائی گئی ہے بہت سے عالِم ابھی تک اس سے محروم ہیں‘‘۔ (احمدیوں کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو ماننے کی وجہ سے وہ رستہ دکھا دیا۔) ’’پس خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت کا شکر کرو اور وہ شکر یہی ہے کہ سچے دل سے ان اعمال صالحہ کو بجا لاؤ جو عقائد صحیحہ کے بعد دوسرے حصہ میں آتے ہیں اور اپنی عملی حالت سے مدد لے کر دعا مانگو کہ وہ ان عقائد صحیحہ پر ثابت قدم رکھے اور اعمال صالحہ کی توفیق بخشے۔ حصّہ عبادات میں صوم، صلوٰۃ و زکوٰۃ وغیرہ امور شامل ہیں۔ اب خیال کرو کہ مثلاً نماز ہی ہے یہ دنیا میں آئی ہے لیکن دنیا سے نہیں آئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ۔‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ 149-150۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ حقیقی توحید کس طرح پوری ہوتی ہے فرمایا:

’’توحید تب ہی پوری ہوتی ہے کہ کُل مرادوں کا مُعطی اور تمام اَمراض کا چارہ اور مدار وہی ذاتِ واحد ہو۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے معنی یہی ہیں۔ صوفیوں نے اس میں اِلٰہ کے لفظ سے محبوب، مقصود، معبود مراد لی ہے‘‘۔ فرمایا’’بے شک اصل اور سچ یونہی ہے۔ جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کاربندنہیں ہوتا اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔ اور پھر میں اصل ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذّت اور سرور اُسے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک برے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں، اَنانیت اور شیخی دُور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے، خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا۔ اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلّم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے‘‘۔ فرمایا’’مَیں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق، حقیقی اِرتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کاربند ہو جاؤ اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم، نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری رُوح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں‘‘۔ (ملفوظات جلد 1صفحہ 169-170۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی توحید پر قائم ہونے، اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے اور پُرسرور نمازیں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ غیر اللہ کو اپنا معبود بنانے کی بجائے ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو اپنا حقیقی معبود بنانے والے ہوں۔ انصار اللہ کا اجتماع جہاں ہو رہا ہے وہاں مجھے پتا لگا ہے کہ شاید مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھنے کا انتظام نہیں ہو گا کیونکہ شام کو ایک معیّن وقت کے بعد انہوں نے وہ جگہ چھوڑنی بھی ہے۔ شاید ہال خالی کرنا ہے۔ اگر تو یہ صحیح ہے تو پھر انتظامیہ کو اجتماع کا انتظام ایساکرنا چاہئے کہ دوسری جگہ جہاں بھی لے کے جانا ہے وہاں پر باجماعت نماز کا انتظام ہو سکے۔ اور آئندہ بھی انصار اللہ کو چاہئے کہ اپنے اجتماعات ایسی جگہ منعقد کریں جہاں پانچوں وقت کی نمازوں کا اہتمام بھی ہو سکے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ان کا اجتماع کامیاب کرے اور ہمیں حقیقی عابد بنائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 29؍ ستمبر 2017ء شہ سرخیاں

    آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصار اللہ یوکے کا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے میں انصار کو ایک انتہائی اہم اور بنیادی چیز کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں اور وہ ہے نماز۔

    نماز ہر مومن پر فرض ہے لیکن چالیس سال کی عمر کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہئے کہ وقت تیزی سے آ رہا ہے جب میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں ہمارے ہر عمل کا حساب کتاب ہونا ہے۔

    نماز کے پڑھنے کی طرف جب بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے تو اس طرف توجہ دلائی کہ نماز میں باقاعدگی بھی ہو، تمام نمازیں وقت پر ادا ہوں اور باجماعت ادا ہوں۔ نماز کے قائم کرنے کا حکم ہے اور نماز کے قائم کرنے کا مطلب ہی نماز کو وقت پر اور باجماعت ادا کرنا ہے۔

    انصار اللہ کو خاص طور پر سب سے زیادہ اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ ان کا ہر ممبر نماز باجماعت کا عادی ہو بلکہ ہر ناصر کو خود اپنا جائزہ لینا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ وہ نماز باجماعت کے عادی ہوں۔ سوائے بیماری اور معذوری کی صورت کے نماز باجماعت ادا کرنے کی انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر قریب کوئی مسجد اور نماز سینٹر نہیں ہے تو علاقے کے کچھ لوگ کسی گھر میں جمع ہو کر نماز باجماعت پڑھ سکتے ہیں۔ اگر یہ سہولت بھی نہیں تو گھر کے افراد مل کر نماز باجماعت پڑھیں۔ اس سے بچوں کو بھی، نوجوانوں کو بھی نماز اور باجماعت نماز کی اہمیت کا احساس ہو گا۔

    انصار اللہ حقیقی رنگ میں انصار اللہ تبھی بن سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت جو انسان کی پیدائش کا مقصد ہے اس پر عمل نہیں کر رہے اور جن کے نگران بنائے گئے ہیں ان سے عمل نہیں کروا رہے یا عمل کروانے کی کوشش نہیں کر رہے، اپنے نمونے پیش نہیں کر رہے تو صرف نام کے انصار اللہ ہیں۔ ہر ناصر کو خاص طور پر اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کس حد تک وہ نماز کے پابند ہیں۔ کس حد تک وہ اپنا نمونہ اپنے بچوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نمازوں کی حالت اور کیفیت کیا ہے۔ کیا صرف ایک فرض اور بوجھ سمجھ کر نمازیں ادا ہو رہی ہیں یا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نماز کی اہمیت، اس کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کو پڑھنے کا طریق، اس کا مقصد، اس کا فلسفہ اور اوقات کا فلسفہ، غرض اس موضوع پر مختلف پیرائے میں بار بار مختلف موقعوں پر اور جگہوں پر توجہ دلائی ہے۔ آپ کے بعض ارشادات اس وقت مَیں پیش کروں گا جو اس کی اہمیت اور حکمت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

    فرمودہ مورخہ 29ستمبر2017ء بمطابق 29تبوک 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور