حق کے متلاشیوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے صداقت کی طرف رہنمائی

خطبہ جمعہ 24؍ نومبر 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ خطبہ میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بتایا تھا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان تعصب سے پاک ہو کر اور ہر قسم کی ضد سے پاک ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، بے چین ہو کر اللہ تعالیٰ سے نمازوں میں دعا مانگے تو چالیس دن نہیں گزریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس پر حق کھولے گا۔ لیکن صاف دل ہونا، ہر قسم کے تعصب سے پاک ہونا یہ انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جولوگ دلوں میں کینہ رکھیں، غضب رکھیں یا نیک پاک سوچ نہ رکھیں وہ ہمیشہ یہی کہیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے خوابوں میں رہنمائی نہیں کی یا آپ کے خلاف بتایا۔ بہرحال جو پاک دل ہو کے ایسا کرتے ہیں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ملتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی آپ کی زندگی میں خوابوں کے ذریعہ سے رہنمائی فرمائی۔

چنانچہ ایک مجلس میں ذکر ہوا کہ لاہور سے ایک شخص کا خط آیا کہ اسے خواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت بتلایا گیا کہ آپ سچے ہیں۔ اس شخص کی ارادت ایک فقیر کے ساتھ تھی۔ کسی فقیر کا وہ مرید تھا جو کہ داتا گنج بخش کے مقبرے کے پاس رہا کرتا تھا۔ اس شخص نے اس فقیر سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ مرزا صاحب کی اتنے عرصے سے ترقی ہونا ان کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر ایک اور مست فقیر وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا بابا ہمیں بھی پوچھ لینے دو۔ دوسرے دن اس نے بتایا کہ خدا نے کہا ہے کہ مرزا مولیٰ ہے۔ تو اس پہ پہلے فقیر نے کہا کہ مولانا کہا ہو گا کہ وہ تیرا اور میرا ہم سب کا مولیٰ ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا کہ ’’آجکل خواب اور رؤیا بہت ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ لوگوں کو خوابوں کے ذریعہ اطلاع دے۔ خدا تعالیٰ کے فرشتے اس طرح پھرتے ہیں جیسے آسمان میں ٹڈّی ہوتی ہے۔ وہ دلوں میں ڈالتے پھرتے ہیں کہ مان لو، مان لو۔

پھر ایک اَور شخص کا حال بیان کیا جس نے حضور کے ردّ میں کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ تُو تو ردّ لکھتا ہے‘‘۔ (خلاف لکھ رہا ہے) ’’اور اصل میں مرزا صاحب سچے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلدنمبر 4 صفحہ 188۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) تو اللہ تعالیٰ سعید فطرت لوگوں کو غلط کام سے بچانے کے لئے یہ بھی رہنمائی فرما دیتا ہے۔ وہ مخالف تھا۔ اس نے آپ کے خلاف لکھنا چاہا لیکن شاید اس کی کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کو پسند تھی اس لئے خواب میں اسے اس بات سے روک دیا گیا۔

یہ سلسلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں شروع ہوا تھا آج بھی قائم ہے۔ نیک فطرت لوگوں کی اللہ تعالیٰ رہنمائی بھی فرماتا ہے اور جب وہ رہنمائی کے لئے اس کے آگے جھکتے ہیں تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پتا بھی نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ رہنمائی فرما رہا ہوتا ہے کہ مسیح موعود آ گئے۔ بعض دفعہ بعض لوگوں کے علم میں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرما دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی کے بارے میں رہنمائی فرمائے جانے کا ایک واقعہ مالیؔ جو مغربی افریقہ کا ایک ملک ہے اس میں ایک شخص کے ساتھ اس طرح ہوا۔ وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ مصطفی دِیالو (Diallo) صاحب نے ایک روز خواب دیکھا کہ وہ جنت میں ایک بہت ہی خوبصورت گھر میں ہیں۔ گھر کے ایک طرف پانی چل رہا ہے جس میں ایک سفید رنگ کے بزرگ کی تصویر ہے جنہوں نے پگڑی پہنی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خواب کے کچھ عرصے بعد وہ اپنے ایک دوست کی طرف گئے تو ان کے گھر اسی بزرگ کی تصویر دیکھی۔ انہوں نے اپنے دوست سے تصویر والے بزرگ کے متعلق پوچھا تو اس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ امام مہدی ہیں۔ چنانچہ موصوف نے اپنی خواب سنائی اور احمدیت کے متعلق مزید معلومات چاہیں۔ اس پر احمدی دوست نے کہا کہ آج ہمارا ماہانہ اجلاس عام ہے آپ میرے ساتھ چلیں وہاں مبلغ سے آپ ہر قسم کے سوال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ اجلاس میں شامل ہوئے اور اجلاس کے بعد احمدی ہونے کا اعلان کیا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مَیں چاہتا ہوں کہ یہ سچائی میرے تمام بہن بھائی بھی قبول کریں۔ اس لئے میں گھر جا کر اپنے بہن بھائیوں کو اس سے آگاہ کروں گا اور کل سب کے ساتھ انشاء اللہ بیعت کروں گا۔ چنانچہ اگلے روز سحری کے وقت جب تمام بہن بھائی اکٹھے ہوئے تو انہوں نے احمدیت کے متعلق اپنا خواب بتایا اور ساتھ ہی باقیوں کو بھی بیعت کرنے کا کہا جس پر سب بہن بھائیوں نے اُن کو برا بھلا کہا اور کہا کہ تمہیں یہ نیا مذہب اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو ضرور بیعت کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ فجر کی نماز کے بعد وہ کچھ دیر کے لئے لیٹے، سو گئے، نیند آ گئی۔ تو خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو سورۃ الحجر کی آیات30 تا 33 پڑھنے کی نصیحت کر رہے ہیں۔ بیداری کے بعد وہ مشن ہاؤس آئے اور بہن بھائیوں کو اپنا رؤیا بیان کیا اور ساتھ ہی خواب کی تعبیر پوچھی۔ اس پر مربی صاحب نے انہیں قرآن کریم کی متعلقہ آیات نکال کے دکھائیں جن میں آدم کی تخلیق کے بعد فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس کی نافرمانی کا ذکر ہے۔ چنانچہ انہیں بتایا گیا کہ آج صبح جو واقعہ گزرا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی ہے کہ آپ کا بیعت میں آنا دراصل فرشتوں والا طرز عمل اختیار کرنا ہے۔ موصوف نے اسی وقت باقاعدہ بیعت کر لی اور جماعت میں شامل ہوئے۔ اللہ کے فضل سے جماعت کے بڑے فعّال رکن ہیں۔ اسی طرح آئیوری کوسٹ کے شہر گراں لاؤ (Grand Lahou) کے نو مبایع دوست کَونے آدما (Kone Adama) خواب کی بناء پر اپنی قبولیت احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں نماز پڑھنے کے لئے مسجد گیا ہوں۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ مسجدنمازیوں سے بھری ہوئی ہے۔ میں نماز پڑھنے کے لئے ایک طرف اپنی جائے نماز بچھاتا ہوں تو اچانک ایک شخص آ کر مجھ سے پوچھتا ہے کہ مَیں کس فرقے سے تعلق رکھنے والا مسلمان ہوں اور مجھ سے میری جائے نماز لے لیتا ہے۔ میں اسے جواب دیتا ہوں کہ مَیں احمدی مسلمان ہوں۔ اس پر وہ شخص مجھے احمدیہ مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا کہتا ہے۔ چنانچہ یہ خواب دیکھ کر کہتے ہیں میری تسلی ہو گئی اور میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔

اسی طرح یمن کی ایک خاتون جمیلہ صاحبہ ہیں۔ ان کے قبول احمدیت کا واقعہ ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ جماعت احمدیہ سے تعارف سے بہت عرصہ قبل مَیں سعودی عرب میں تھی جہاں میرا رجحان صوفی ازم کی طرف ہو گیا اور حضرت عبدالقادر جیلانی کی تالیفات مجھے بہت پسند آئیں۔ ان کے بیان کردہ طریق خلوت پر عمل کر کے مجھے کسی قدر سکون ملتا اور روحانیت کا احساس ہوتا۔ اس کا طریق یہ تھا۔ یہ کس طرح عبادت یا ذکر کرتی تھیں کہ سو سو مرتبہ سورۃ فاتحہ، آیۃ الکرسی اور سورۃ اخلاص پڑھنے کے بعد ایک ایک ہزار بار درود شریف اور استغفار کیا جاتا تھا۔ یہ وہ صوفیوں کا طریق تھا۔ کہتی ہیں اِنہی خلوت کے ایام میں ایک رات مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک چاندنما بہت بڑا ستارہ زمین پر نازل ہوا ہے اور زمین پر چل پھر رہا ہے اور پھر چھت کے راستے وہ ہمارے گھر میں بھی داخل ہو جاتا ہے۔ مَیں خائف اور حیران تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ چند روز بعد ہی مَیں نے ایک اور خواب میں پانچ مزید ستارے دیکھے جو قطار بنائے زمین پر چل رہے تھے لیکن وہ پہلے دیکھے گئے ستارے سے حجم میں چھوٹے تھے۔ وہ جمیلہ صاحبہ تو اتنی واضح نہیں لیکن غالب یہی ہے کہ جو پہلا ستارہ تھا وہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہو گا باقی پھر پانچ خلفاء۔ بہرحال کہتی ہیں کہ پھر جب ایم ٹی اے کے ذریعہ جماعت کے بارے میں پتا چلا تو اس کے بارے میں جاننے کی پیاس بڑھتی چلی گئی۔ ایم ٹی اے دیکھنے کے دوران میرے دل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی محبت پیدا ہو کر بڑھنے لگی اور مجھے اس بات کا مکمل یقین ہو گیا کہ آپ ہی امام الزمان ہیں۔ اسی اثناء میں مَیں نے پروگرام الحوار المباشر میں سنا کہ حضرت امام مہدی کی صداقت کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو استخارہ کر کے خدا تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کرنی چاہئے۔ کہتی ہیں چنانچہ بتائے گئے طریق کے مطابق میں نے دو رکعت نماز ادا کی اور سو گئی۔ اسی رات مَیں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکّۃ المکرّمہ میں لوگوں کے جَمِّ غفیر میں ہوں۔ لوگ اپنے پاؤں کے پنجوں پر کھڑے ہو کر گردنیں لمبی کرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بآوازِ بلند کہتا ہے کہ اے لوگو! تمہارا امام آ گیا ہے۔ اے لوگو! امام مہدی آ گیا ہے۔ مَیں بھی اس سمت دیکھنا شروع کر دیتی ہوں حتی کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ایک اونچے مقام پر سب کے سامنے نمودار ہو جاتے ہیں۔ ان کا چہرہ بدر منیر کی مانند چمک رہا تھا۔ آنکھوں میں حزن کی کیفیت تھی۔ جب میں نے بغور ان کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو بعینہٖ وہ اسی امام مہدی اور مسیح موعود کا چہرہ تھا جسے میں نے ایم ٹی اے پر دیکھا تھا۔ یہ دیکھتے ہی میری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور میں بشدّت رونا شروع کر دیتی ہوں۔ جب میں یہ رؤیا دیکھ رہی تھی اس وقت میرا خاوند جاگ رہا تھا۔ یہ سوئی ہوئی تھیں اور خواب دیکھ رہی تھیں۔ خاوند قریب ہی اس وقت جاگ رہا تھا۔ اس نے مجھے جگا کر کہا کہ تم بہت درد کے ساتھ رو رہی تھی۔ مَیں جاگی تو میری آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ کہتی ہیں اس رؤیا کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ حق یہی ہے کہ یہ شخص امام الزمان ہے۔ چنانچہ مَیں نے اس امام کی بیعت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ یمن کی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ آجکل یمن کے حالات بہت خراب ہیں اور ان کے سمندری اور ہوائی راستے بھی ہمسایہ ملک سعودی عرب نے بند کر دئیے ہیں۔ ہر قسم کی امداد جانے پر وہاں روکیں ڈالی جا رہی ہیں۔ معصوم بچے، عورتیں، بوڑھے خوراک نہ ہونے کی وجہ سے اور علاج کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ مسلمان مسلمان کو قتل کر رہا ہے اور وجہ یہی ہے کہ آنے والے امام کو نہیں مانتے۔ ان کے لئے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے بھی حالات پھیرے اور یہ آزادی اور آسانی کے سانس لینے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔

بعض نیک فطرت دل سے احمدیت کو سچا سمجھنے کے باوجود بعض وجوہ کی بناء پر بیعت نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو بیعت کر کے باقاعدہ جماعت میں شامل ہونے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اس بارے میں مالی سے ہی کائی ریجن کے معلّم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست عبدالحئی جابی صاحب کے ایک قریبی دوست کی رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اچانک وفات ہو گئی۔ انہوں نے ایک دن خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے اسی فوت شدہ دوست کے ساتھ بس میں سفر کر رہے ہیں اور ان کے دوست ان سے کہتے ہیں کہ تم جس جماعت میں داخل ہو رہے ہو وہ سچی جماعت ہے۔ مَیں بھی اسی جماعت میں شامل ہو رہا ہوں۔ عبدالحئی جابی صاحب باقاعدگی سے ہمارا ریڈیو سنتے تھے اور دل سے احمدی تھے مگر ابھی تک بیعت نہیں کی تھی۔ لیکن اس خواب کے بعد انہوں نے فون کر کے کہا کہ میں کائی شہر سے کافی دُور رہتا ہوں۔ آپ کا ریڈیو سنتا ہوں۔ تبلیغ سنتا ہوں۔ میں نے اس طرح خواب دیکھی ہے۔ میری بیعت قبول کر لیں اور آج سے میں احمدی ہوں۔ پھر مصر کے ایک دوست محمود غریب صاحب ہیں۔ کہتے ہیں نو سال کی عمر سے مَیں خواب میں ایک بارعب آواز سنتا جس کی بازگشت میرے کانوں میں گونجتی رہتی۔ میں اسے سمجھ نہ سکتا تھا لیکن اس کو سن کر میں ڈر جاتا تھا۔ پھر جب 2010ء میں میرا ایم ٹی اے العربیۃ سے تعارف ہوا تو اس پر شریف عودہ صاحب اور اسد موسیٰ عودہ صاحب کی آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات سنے تو فوراً سمجھ گیا کہ یہی وہ آواز تھی جو میں نو سال کی عمر میں اپنے خوابوں میں سن رہا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد مَیں نے ایم ٹی اے مزید شغف کے ساتھ دیکھنا شروع کر دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام اور آپ کے قصائد میرے دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتے میں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کا تصور کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر میرے سامنے آ جاتی۔ ایک روز مَیں ایم ٹی اے دیکھ رہا تھا اور ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر آ رہی تھی۔ میں نے اسے مخاطب ہو کر کہا کہ مَیں تجھے خدا کی قَسم دے کر کہتا ہوں کہ تم مجھے خود بتاؤ کہ کیا تم اپنے دعوے میں سچے ہو یا نہیں؟ اس کے بعد کہتے ہیں میں کام پہ چلا گیا۔ شام کو جب واپس آیا اور فوراً ٹی وی آن کر کے ایم ٹی اے لگایا تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ اقتباس پڑھا جا رہا تھا کہ یٰا قَوْمِ اِنِّی مِنَ اللّٰہِ۔ اِنِّیْ مِنَ اللّٰہِ۔ اِنِّیْ مِنَ اللّٰہِ۔ وَاُشْھِدُ رَبِّیْ اَنِّی مِنَ اللّٰہِ۔ یعنی اے میری قوم! مَیں خدا کی طرف سے ہوں۔ مَیں خدا کی طرف سے ہوں۔ مَیں خدا کی طرف سے ہوں اور مَیں اپنے رب کو گواہ ٹھہرا کر کہتا ہوں کہ مَیں خدا کی طرف سے ہوں۔ کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی مَیں اپنے گھٹنوں کے بل گر گیا اور بے اختیاری کے عالَم میں ٹی وی پر سے ہی حضور علیہ السلام کی تصویر کے بوسے لیتے ہوئے عَلَیْکَ السَّلَام۔ عَلَیْکَ السَّلَام کہنا شروع کر دیا۔ یوں ایک لمحے میں احمدیت ہی میرا سب کچھ ہو گیا اور پھر انہوں نے بیعت کر لی۔

پھر اردن کے ایک دوست جمیل سرحان صاحب ہیں۔ اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ 1992ء میں جب اُمّتِ مسلمہ کو مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا تھا تو مَیں رات دن یہ سوچتا تھا کہ خیرِ اُمّت کے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اور عجیب بات ہے کہ خیر ِاُمّت ہونے کے باوجود مسلمان تفرقہ اور انحطاط کا شکار ہیں اور آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ میرے اندر سے آواز آتی کہ ہمارا دین تو ایسا نہیں ہے جیسا نظر آ رہا ہے۔ یقیناً کوئی ایسی بات ہے جس سے اُمّت غفلت برت رہی ہے۔ کہتے ہیں ایک رات مَیں نے خواب میں د یکھا کہ راستے پر اکیلا کھڑا ہوں جو سیدھا اور پختہ ہے۔ اتنے میں ایک ماڈرن مرسیڈیز کار آتی ہے اور اس میں ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر ایک شخص بیٹھا ہے جو مجھے کار چلانے کا حکم دیتا ہے۔ مَیں ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ گیا۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ مجھے خوف سا آنے لگا۔ گاڑی چلی تو راستے میں اچانک بہت سے سیاہ چہروں والے لوگ ظاہر ہوئے اور راستے کے دونوں طرف لائن بنا کر کھڑے ہو گئے اور ان کے پاس معمولی سا اسلحہ بھی تھا۔ پھر انہوں نے ہم پر فائرنگ کر دی لیکن ہمیں کوئی گولی نہیں لگی اور بالکل محفوظ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ کہتے ہیں کہ رؤیا میں ہی مَیں گاڑی کھڑی کرتا ہوں تو حضرت امام مہدی علیہ السلام مجھے فرماتے ہیں کہ نیچے اتر آؤ اور گاڑی کی ڈِگی کھولو۔ میں نیچے اتر کر کھولتا ہوں تو وہاں لکڑی کا ایک خوبصورت صندوق ہوتا ہے جس میں ایک پانچ سالہ بچہ ہوتا ہے جو بہت خوبصورت ہے۔ وہ بچہ مجھے دیکھنے لگتا ہے۔ جب میں بیدار ہوا تو خواب سے بہت خوش تھا اور دل میں کہا کہ یقیناً یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغام ہے۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ نئی گاڑی سے مراد زندگی کا نیا سفر ہے۔ سیاہ شکل والے جو ہم پر فائرنگ کرتے ہیں ان سے مراد اس نئے سفر سے دشمنی کرنے والے اقوال و افعال ہیں جن کا کوئی اثر نہیں ہو گا اور خوبصورت صندوق میں اسرار محفوظ کئے جاتے ہیں اور پانچ سال کے بچے سے مراد کچھ بشارات ہیں جو پانچ سال کے عرصے میں پوری ہوں گی۔ کہتے ہیں کہ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی خواب کی یہ تعبیر سمجھی اور وہ اس طرح ظاہر ہوئی کہ جماعت احمدیہ سے تعارف کے بعد میری زندگی کا نیا سفر شروع ہو گیا اور خلافت خامسہ کے عہد مبارک میں مجھے جماعت میں شمولیت کی توفیق ملی۔ کہتے ہیں مَیں اپنے گاؤں میں اکیلا احمدی تھا اور جونہی میں نے امام مہدی کے ظہور کا اعلان کیا تو اپنے پرائے سب میرے دشمن ہو گئے۔ مساجد سے میرے کفر کے فتوے جاری ہونے لگے۔ پھر میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اس سفر کی تکمیل کے لئے مجھے ساتھی عطا فرمائے تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایسے نیک اور اچھے لوگ مہیا فرما دئیے جنہیں مَیں جانتا بھی نہ تھا اور وہی میرے حقیقی عزیز و اقارب ٹھہرے۔

پھر ایک دوست محمد عبداللہ صاحب ہیں جو سیریا کے ہیں اور آجکل کینیڈا میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں ایک سیلزمَین کی جاب کرتا تھا۔ میرے گاہکوں میں سے ایک شخص کے بیٹے سے میرا تعارف ہوا۔ یہ نوجوان احمدی تھا۔ اس سے تعلق بڑھا تو اس نے مجھے جماعت احمدیہ کے بنیادی عقائد اور اس کے تجدیدی مفاہیم کے بارے میں بتایا۔ اس نے مجھے اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ دیا۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر بہت متاثر ہوا اور اس میں پائی جانے والی معقول باتیں بہت پسند آئیں۔ پھر تقریباً ایک سال تک مَیں جماعت کی مختلف کتب پڑھتا رہا۔ نیز ایم ٹی اے العربیہ بھی دیکھنا شروع کر دیا۔ ایک سال کے مطالعہ اور ایم ٹی اے دیکھنے اور جماعت کے عقائد کا موازنہ کرنے کے بعد میرے دل میں جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی خواہش جنم لینے لگی۔ لیکن میں اپنی باطنی طہارت کے حوالے سے اپنے آپ کو اس پاکیزہ جماعت کے قابل نہ سمجھتا تھا اور اس مقام تک پہنچنے کی راہوں سے ناآشنا تھا۔ لہٰذا میں نے اپنے اس دوست سے کہا کہ مجھے بعض احمدیوں سے ملوادو۔ اس نے اپنے گھر پر ہی چند احمدیوں کے ساتھ ملاقات کا بندوبست کر لیا۔ یہ نیک دوست آئے جن کے ساتھ بیٹھ کر مجھے روحانی ارتقاء کے ذرائع میں بات کر کے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری روحانی پیاس کی تسکین ہونے لگی ہے۔ چونکہ مجھے رؤیا صالحہ وغیرہ کی بناء پر یہ یقین تھاکہ اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور ضرور مجھے ہدایت دے گا۔ لہٰذا یہ سوچ کر میں نے استخارہ کرنا شروع کیا۔ میں اپنے کام کے سلسلہ میں دمشق میں تھاجب کہ میری بیوی حلب میں دیگر اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھی۔ میں نے استخارہ شروع کرنے کے بعد اپنی بیوی کو فون کر کے کہا کہ اس عرصہ میں اگر کوئی خواب دیکھو تو مجھے ضرور بتانا۔ کہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے بعد آنے والی ایک رات میرے لئے لیلۃ القدر ثابت ہوئی جس میں مَیں نے ایک نہایت عظیم رؤیا دیکھا۔ میں نے اپنے ایک نیک و پارسا رشتہ دار کو خواب میں دیکھا اس نے مجھے ایک ورق دیتے ہوئے کہا کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ مَیں نے پورے شوق سے اسے بسرعت کھولا تو اس میں لکھا تھا ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ‘‘۔ میں بیدار ہوا تو بہت خوش تھا اور میری زبان پر یہ آیت کریمہ جاری تھی کہ اُدْخُلُوْھَا بِسَلَامٍ اٰمِنِیْن۔ کہ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر داخل ہو جاؤ۔ کہتے ہیں یہ جماعت میں داخل ہونے کے لئے ایک واضح پیغام تھا۔ گو یہ رؤیا تو آنے والے امام مہدی اور مسیح موعود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانے کی طرف بھی اشارہ کر رہا تھا لیکن اس وقت مجھے اس بات کا علم نہ تھا۔ بہر حال مجھے یقین تھا کہ یہ میرے استخارہ کا جواب ہے اور اس وجہ سے پھر مَیں نے بیعت کر لی۔

پھر سیریا کی ایک خاتون ہیں وہ اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ احمدیت کے بارے میں جاننے سے قبل مَیں اور میری بہن ایک جماعت کو سچا سمجھ کر اس میں شامل ہوئے لیکن بعد میں پتا چلا کہ اس جماعت نے تو شریعت کے نام پر اپنی ہی شریعت بنائی ہوئی ہے۔ اس کے بعد مَیں نے خدا تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کیں اور عرض کی کہ خدایا مجھے بتا کہ آج تیرا صحیح دین کہاں ہے اور آج کس جماعت کو تیری تائیدیں حاصل ہیں۔ کئی دن تک یہ دعا کرنے کے بعد ایک روز مجھے ایسے لگا جیسے کوئی عظیم الشان نور میرے جسم میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر کہتی ہیں کہ میں نے اپنی دعائیں اور تیز کر دیں اور شدتِ بُکا کی وجہ سے میری آواز حلق میں اَٹکی جاتی تھی۔ ایسی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ ایک شخص میرے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا ہے اور اس کیفیت میں مجھے یہی محسوس ہوا کہ وہ میرے ساتھ ہمدردی کرنے کے لئے آیا ہے۔ میں نے اسے دیکھ کر دل میں کہا کہ یہ شخص کون ہے لیکن مجھے اس کا کوئی جواب نہ ملا۔ اگلے روز پھر مَیں بہت روئی یہاں تک کہ میری ہچکی بندھ گئی۔ اس وقت پھر مجھ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی اور میں نے دوبارہ اس شخص کو اپنے ساتھ دیکھا۔ تیسری بار پھر ویسا ہی ہوا تو مَیں نے بآواز بلند خدا تعالیٰ کے حضور یہ التجا کی کہ خدایا مجھے بتا دے کہ یہ ہمدرد شخص کون ہے اور بار بار مجھے کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کہتی ہیں کہ اس سوال کا جواب مجھے کچھ عرصہ بعد ملا۔ ہوا یوں کہ میں اپنی بہن اور خالہ کے ساتھ بیٹھی تو اس موضوع پر بات ہوئی کہ اب تو مسیح موعود کو آ جانا چاہئے۔ ہم کہتے کہ آجکل کے دَور میں ٹی وی کے ذریعہ کہیں سے اعلان ہو گا کہ مسیح آ گیا ہے اور لوگ اس پر ایمان لانے کے لئے دوڑ پڑیں گے لیکن ہمارے مولویوں نے تو ٹی وی دیکھنا بھی حرام قرار دے دیا ہے۔ بعض علاقوں میں عربوں میں مولویوں کا یہ بھی فتویٰ ہے کہ ٹی وی دیکھنا حرام ہے۔ کہتی ہیں پھر ہمیں اس کا علم کیسے ہو گا جب ٹی وی نہیں دیکھیں گی۔ آپس میں لمبی بحثوں کے بعد ہم نے اپنے مولویوں کے فتووں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹی وی لا کر دیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد مَیں نے ایک عجیب رؤیا دیکھا جس نے میری کایا پلٹ دی۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک بڑے میدان میں ہوں۔ ایسے میں کچھ لوگوں کو ایک کار میں آتے دیکھا جس کی چھت پر سیٹلائٹ ڈش لگی ہوتی ہے۔ ان کی کار اس میدان کے درمیان میں پہنچ کر رک جاتی ہے اور اس میں سے کچھ لوگ سامان نکال کر زمین پر رکھتے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نے عربی لباس پہنا ہوا ہے اور اس کا چہرہ روشن ہے۔ اچانک یہ شخص میدان کے وسط سے میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ بہن تم یہاں پر کیا کر رہی ہو؟ مَیں جواب دینے کی بجائے اس سے پوچھتی ہوں کہ آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ وہ کہتا ہے کہ ہم نیا ٹی وی چینل کھولنے لگے ہیں کیا تم اسے دیکھو گی۔ میں کہتی ہوں کیوں نہیں۔ مَیں ضرور دیکھوں گی۔ کہتی ہیں اسی گفتگو کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ اگلے روز میں ٹی وی لے آئی اور کچھ دیر میں ہی سب کچھ سَیٹ کر لیا۔ باری باری مختلف چینلز کو دیکھنے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ایک چینل ان سب سے الگ ہے بلکہ یوں لگتا تھا کہ یہ کسی اَور ہی زمانے کا چینل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میں باقی چینلز کو چھوڑ کر کچھ دیر کے لئے اسے دیکھنے لگ گئی۔ یہ چینل ایم ٹی اے تھا اور اس وقت اس پر ’’حوار کا پروگرام‘‘ چل رہا تھا۔ اس پروگرام کو دیکھنے کے دوران بار بار میری نظر پروگرام کے میزبان کی طرف اٹھتی اور مجھے خیال گزرتا کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی شخص ہے جسے خواب میں مَیں نے وسیع میدان میں سیٹلائٹ چینل کھولتے دیکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ خواب میں ہی اس کا چینل دیکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اپنے وعدے کو یاد کر کے میں اس چینل کو دیکھنے لگ گئی اور پھر اسی چینل کی ہو کر رہ گئی۔ ایک روز میں حسب عادت ان کا پروگرام دیکھ رہی تھی کہ اس میں امام مہدی اور مسیح موعود کے الفاظ سن کر فوراً متوجہ ہو گئی۔ اتنے میں ایک تصویر ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہوئی اور اس کے نیچے امام مہدی اور مسیح موعود کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ میرا تجسّس اور بڑھا۔ اتنے میں امام مہدی کے کلام سے اقتباسات پیش کئے گئے۔ پہلے اقتباس کا پہلا جملہ ہی میری کایا پلٹنے کے لئے کافی ثابت ہوا جو یہ تھا۔ وَ وَاللہِ اِنِّیْ مِنَ اللہِ اَتَیْتُ وَ مَا افْتَرَیْتُ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَی۔ یعنی خدا کی قسم! مَیں خدا کی طرف سے آیا ہوں نہ کہ میں نے کوئی افترا کیا ہے۔ یقینا افترا کرنے والا خائب و خاسر رہتا ہے۔ یہ الفاظ سنتے ہی مَیں نے بے اختیار ہو کر کہا کہ یہ کسی سچے شخص کا کلام ہے۔ یقیناً یہ شخص اپنے دعوے میں سچا ہے اور یہی مسیح موعود اور امام مہدی ہے۔ اقتباس کے دوران ہی جب دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی تو اب کی بار اس کو دیکھ کر میں وہیں ٹھٹھک کر رہ گئی کیونکہ یہ وہی شخص تھا جسے قبل ازیں مَیں کشفی حالت میں دیکھ چکی تھی۔ جب میں نے خدا تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کرتے ہوئے عرض کیا کہ خدایا آج تیرا صحیح دین کہاں ہے اور آج کس جماعت کو تیری تائید حاصل ہے؟ اُس وقت یہی شخص میرے ساتھ ہمدردی کرنے کے لئے آیا تھا اور اسے دیکھ کر میں نے دل میں کہا تھا کہ نہ جانے یہ شخص کون ہے۔ اب ٹی وی پر وہی تصویر دیکھ کر مجھے اپنا کشف اور اس کی تعبیر بھی سمجھ آ گئی۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اس وقت بتایا تھا کہ یہ شخص ہے جس کی جماعت کو خدائی تائید حاصل ہے اور یہی خدا تعالیٰ کے سچے دین کی نمائندہ جماعت ہے۔ کہتی ہیں مَیں نے روتے ہوئے اس تصویر کو مخاطب ہو کر کہا کہ آج تُو ہی اسلام کا دفاع کر رہا ہے۔ تُو عیسائیوں کے مزاعم کا ردّ کر رہا ہے۔ تُو ہی سچا مسیح و مہدی ہے۔ مَیں تیری تصدیق کرتی ہوں اور تیری بیعت کرتی ہوں۔ حالانکہ اس وقت مجھے علم بھی نہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنی ضروری ہے۔ مَیں نے اپنے قریبی لوگوں کو اس چینل اور جماعت کے بارے میں بتایا تو اکثر لوگوں نے میری بات کو سنجیدگی سے نہ لیا تاہم میری بہن اور خالہ نے متعدد ایام ایم ٹی اے دیکھنے کے بعد بیعت کرنے کا فیصلہ کر لیا اور پھر بعد میں میری والدہ، بھائی اور دیگر دو بہنوں نے بھی بیعت کر لی۔ ان کا نام ہے غنی العجان۔

پھر مصر کے ایک دوست سعید رخا صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کہ احمدیت کے ساتھ تعارف ہونے سے کچھ عرصہ پہلے مَیں نے رؤیا میں خود کو ایک وسیع میدان میں دیکھا۔ جہاں ایک نہایت خوبصورت خیمہ لگا ہوا تھا جس کے باہر کئی لوگ اس کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان محافظوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ تم یہاں کیسے آ گئے؟ مَیں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن آپ بتائیں کہ اس خیمہ میں کون ہے؟ اس محافظ نے کہا کہ اس خیمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ سنتے ہی مجھے بے انتہا خوشی ہوئی اور ساتھ شدید خوف بھی طاری ہو گیا کیونکہ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ مَیں اس عظیم الشان جگہ تک کیسے پہنچ گیا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہایت خوبصورت اور دل نشیں آواز آتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں تم میری عزت تکریم کر رہے ہو لیکن شیماء کو کیوں چھوڑ آئے ہو۔ تیار ہو جاؤ کیونکہ وہ آ رہی ہے۔ اس وقت خیمہ کا دروازہ کھلتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمانی رنگ کی رداء اوڑھے باہر تشریف لاتے ہیں۔ دوسری جانب سے شیماء نامی ایک چھوٹی سی لڑکی بھی سکول کا یونیفارم پہنے ہوئے آ جاتی ہے اور تمام محافظ دو قطاریں بنا کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اس لڑکی کا استقبال کرتے ہیں۔ کہتے ہیں مَیں اس وقت تک خوابوں پر یقین نہ رکھتا تھا۔ شیمہ نامی بچی کا بھی اس رؤیا میں آنا میرے اس خیال کو تقویت دیتا تھا کہ یہ محض اضغاث احلام ہے یعنی یونہی خواب آ گئی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ اس بچی کی رؤیا میں موجودگی مجھے اس رؤیا اور اس کے بعد کی رؤیا کی صداقت پر یقین دلانے کے لئے تھی۔ بہرحال کہتے ہیں کہ مَیں نے اس خواب پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ نہ ہی کسی سے اس بارے میں کوئی ذکر کیا۔ مجھے یقین بھی نہیں تھا اور مجھے یہ بھی تھا کہ یہ بچی کا آنا تو اس طرح ہی ہے جس طرح مجھے کوئی غلط قسم کی خواب آ گئی ہے۔ اس لئے ذکر کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ لیکن ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ میں نے ایک اور رؤیا دیکھا جو بڑی حدتک پہلی رؤیا سے ملتا جلتا تھا۔ میں نے ایک گندمی رنگ والے شخص کو دیکھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کچھ دیر کے بعد وفات پا گئے اور آپ کی تدفین ہو گئی۔ اس کے بعد دیکھا کہ چاندی کے سکّوں کے ایک بڑے ڈھیر سے لوگ بالٹیاں بھر بھر کے آپ کی قبر پر ڈالتے جا رہے ہیں۔ میں نے حسب عادت اس رؤیا کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی کیونکہ خوابوں پر یقین نہیں تھا، نہ ہی اس کے بارے میں کسی سے بات کی۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں خوابوں نے مجھے ایک بات کے بارے میں سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا۔ وہ یہ تھی کہ میں نے دونوں خوابوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا لیکن دونوں خوابوں میں دیکھی جانے والی شخصیات مختلف تھیں۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل تو ایک ہی ہے۔ پھر اگر میری خوابیں سچی ہیں تو ہر خواب میں آپ کا حلیہ مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد جب میں ایک بُک شاپ میں تھا جہاں میں کام کرتا تھا تو کتابوں کی جھاڑ پونچھ کا کام کر رہا تھا اور پرانے اخبارات اور مجلات کو ترتیب سے رکھ رہا تھا کہ ایک اخبار کے صفحہ پر ایک تصویر دیکھ کر میں سکتے میں آ گیا۔ یہ ایک بچی کی تصویر تھی۔ یہ کوئی عام بچی نہ تھی بلکہ شیماء نامی وہی بچی تھی جسے میں نے چند روز قبل خواب میں دیکھا تھا۔ پڑھا لکھا نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اپنے بعض دوستوں سے اس تصویر کی کہانی پوچھی تو مجھے پتا چلا کہ یہ بچی کچھ سال پہلے دہشتگردی کی ایک کارروائی میں ماری گئی۔ میں چونکہ پڑھا لکھا نہ تھا، نہ ہی اخبار اور ٹی وی پر خبروں سے کوئی لگاؤ تھا۔ اس لئے مجھے اس حادثے کی کوئی خبر نہ ہوئی۔ نہ ہی میں نے اس کے بارے میں پہلے کبھی سنا تھا۔ لیکن شیماء کی تصویر دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ میرا پہلا خواب سچا تھا اور اس بچی کا خواب میں آنا مجھے اس رؤیا کی صداقت پر یقین دلانے کے لئے تھا۔ اس واقعہ کے بعد یہ بھی یقین ہو گیا کہ پہلے رؤیا کی طرح دوسرا خواب بھی ضرور سچا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اگر دوسرا خواب بھی سچا ہے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف حلیے سے کیا مراد ہے؟ کئی سال گزرنے کے بعد ایک روز ٹی وی پر مختلف چینل بدل بدل کر دیکھ رہا تھا کہ ایم ٹی اے لگ گیا جس پر اس وقت پروگرام الحوار المباشر لگا ہوا تھا جس میں وفات مسیح علیہ السلام کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ میں پڑھا لکھا تو تھا نہیں، نہ ہی دینی لحاظ سے کوئی خاص علم تھا اس لئے ان امور کو میں بہت حیرت سے دیکھنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد شریف عودہ صاحب نے اس پروگرام میں کہا کہ ابھی ہم ایک وقفہ لیتے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود اور امام مہدی علیہ السلام کا قصیدہ سنتے ہیں۔ قصیدے کے ساتھ ایک شخص کی تصویر بھی دکھائی جا رہی تھی جو میرے لئے کسی حیرانی سے کم نہ تھی۔ یہ بعینہٖ اس شخص کی تصویر تھی جسے میں نے دوسری رؤیا میں دیکھا تھا اور مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس حقیقت کے روشن ہو جانے کے بعد میں نے کسی سے اس بارے میں بات نہ کی اور اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر چپ چاپ ایم ٹی اے دیکھتا رہا۔ ایک ماہ کے بعد میں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ اس جماعت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا کہ میری رائے میں یہ جماعت سچی اور حقیقی ہے۔ اس کے بعد میں نے اسے اپنی اس رؤیا کی تفصیل بتائی جس میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا تھا اور مجھے رؤیا میں بتایا گیا تھا کہ یہ رسول اللہ ہیں۔ کیونکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی عاشق اور غلام صادق تھے۔ اس لئے بعض دفعہ جو خواب میں دیکھتے تھے تو مطلب یہی تھا کہ آپ کا آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ ہے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ کہتے ہیں کہ ہم آٹھ ماہ تک ایم ٹی اے دیکھتے رہے لیکن ابھی تک بیعت نہ کی تھی۔ ایک روز میری بیوی نے مجھے کہا کہ کیا تم بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو؟ مَیں نے کہا کیوں نہیں۔ دو ہفتے بعد میری اہلیہ نے دوبارہ مجھ سے پوچھا کہ کیا تم بیعت کے لئے تیار نہیں؟ میں نے پھر وہی جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ مَیں تیار ہوں۔ کہنے لگی اب اگر تم بیعت کرنے نہ گئے تو میں اکیلی چلی جاؤں گی۔ چنانچہ اہلیہ کی اس دوٹوک بات کے بعد میں نے افراد جماعت سے رابطہ کیا اور ہم دونوں نے بیعت فارم پُر کر دیا۔ تو بعض دفعہ عورتیں بھی مردوں کے لئے جرأت دلانے کا اور فوری ہدایت کا باعث بن جاتی ہیں۔ آئیوری کوسٹ سے ہمارے مبلغ باسط صاحب لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں کُچالَو (Kouchalo) کے وفدنے درخواست کی کہ ہمارے ہاں بھی تبلیغ کی جائے۔ اگلے روز ایک وفد کے ہمراہ متعلقہ گاؤں پہنچے اور بعدنماز عشاء تبلیغ کا پروگرام شروع ہوا۔ رات دس بجے تبلیغ شروع ہوئی اور اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ صبح تین بجے تک جاری رہا۔ اس پروگرام میں مسلمان عیسائی اور مشرک لوگوں کی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی۔ (لوگ سمجھتے ہیں کہ افریقن یونہی قبول کر لیتے ہیں۔ پانچ چھ گھنٹے یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر وہ سوال بھی کرتے ہیں۔) کہتے ہیں گاؤں کے چیف مسٹر جماندے (Diomande) نے بھی سارا وقت تبلیغ سنی اور اللہ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں اس وقت 160 افراد بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ صبح آٹھ بجے ہم چیف سے ملنے اس کے گھر گئے تو گاؤں کے نومبایعین بھی ہمراہ تھے۔ اس موقع پر چیف نے اپنی ایک خواب سنائی جو انہوں نے ایک سال پہلے 2014ء میں دیکھی تھی۔ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور دو سفید جہاز آتے ہیں۔ ایک گاؤں سے کچھ دور سے واپس چلا جاتا ہے جبکہ دوسرا ان کے قریب ایک دوسرے درخت پہ اترتا ہے اور وہ سیڑھی لگا کر اوپر جاتے ہیں۔ اس جہاز میں مسلمان سوار ہیں۔ وہ انہیں کتاب دیتے ہیں۔ نیچے آ کر وہ کتاب کو دیکھتے ہیں تو وہ نہایت خوبصورت سونے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اذان کی آواز پر ان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ چیف صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ خواب اپنے کئی مسلمان علماء کو سنائی مگر کوئی بھی اس کی معقول تعبیر نہ بتا سکا۔ ایک غیر احمدی مولوی نے کہا کہ اس خواب میں تم نے سونا دیکھا ہے جو اچھا شگون نہیں ہے۔ تم ایک کلو سونا مجھے دے دو ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہے۔ پھر خود ہی کہنے لگا یہ تو تمہارے لئے ممکن نہیں ہو سکتا کہ ایک کلو سونا دو۔ بہتر یہ ہے کہ مجھے بس بیس ہزار فرانک سیفا دے دو تو میں تمہارے لئے کچھ کرتا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ دو سفید بکرے صدقہ دے دو۔ اس پر ہمارے مبلغ نے گاؤں کے چیف کو ان کی خواب کی تعبیر بتائی کہ دو سفید جہازوں سے مراد دو سفید کاریں ہیں جن میں سے ایک تمہارے گھر تک نہیں پہنچی جبکہ تمہارے گاؤں میں پہنچی ہے۔ کہتے ہیں کہ میری اور امیر صاحب، دونوں کی گاڑیاں سفید رنگ کی ہیں۔ اس گاؤں میں آنے سے پہلے امیر صاحب ہمارے علاقے میں آئے تھے اور پھر وہ راستے سے اپنی سفید کار میں واپس چلے گئے تھے۔ سیڑھی لگا کر اوپر پہنچنے سے مراد آپ کی اسلام سیکھنے اور جاننے کی کوشش ہے کہ آپ نے تین بجے صبح تک تبلیغ سنی۔ رہی کتاب کی بات تو آنے والے مہدی کے بارے میں یہی بتایا گیا ہے کہ وہ خزائن تقسیم کرے گا اور آپ کو بھی یہ لٹریچر دیا گیا ہے۔ یہ کتابیں یہی خزانے ہیں۔ تو یہ تعبیر سن کر چیف صاحب اچھل پڑے اور بڑے جوش سے اسی وقت اپنے احمدی مسلمان ہونے اور شرک سے توبہ کرنے کا اعلان کیا تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی ہدایت کے لئے بھی سامان پیدا کر دیتا ہے۔

فرانس سے ایک خاتون نادیہ صاحبہ کہتی ہیں کہ میرے خاوند پہلے سے احمدی تھے لیکن میں نے بیعت نہیں کی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے احمدیوں پر ہونے والے مظالم کی ویڈیو دیکھی تو مجھ پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور میں سوچنے پر مجبور ہو گئی۔ کہتی ہیں مَیں خلیفۂ وقت کے خطبات بھی سنتی رہی۔ آہستہ آہستہ اسلام کی اصل تعلیم مجھ پر اثرانداز ہو گئی۔ تب مَیں نے دعا کرنی شروع کر دی کہ اے اللہ تُو میری رہنمائی فرما۔ اسی دوران ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں فرانس کی مسجد مبارک میں (یہ وہاں ہماری مسجد ہے) واقع لائبریری میں بیٹھی ہوں اور میرے والد مرحوم آتے ہیں اور مجھے قرآن کریم کا تحفہ دیتے ہیں اور قرآن کریم کے ساتھ ایک ڈاکیومنٹ (document) بھی دیتے ہیں۔ اس خواب کے بعد جب میں نے احمدیت قبول کی تو مجھے پتا چلا کہ میرے والد صاحب نے جو ڈاکیومنٹ مجھے دیا تھا وہ بیعت فارم تھا۔ چنانچہ میں نے اس کی وجہ سے احمدیت قبول کر لی۔

پھر الجزائر کے ایک دوست رضوان صاحب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ احمدیت سے تعارف کے بعد میں ایم ٹی اے کا ہی ہو کر رہ گیا۔ میرے اہل خانہ نے مجھے اس سے روکنے کی کوشش کی۔ شروع شروع میں تو بات صرف نصیحت کی حد تک رہی لیکن بعد میں یہ نصیحت دباؤ میں بدل گئی اور مجھے اس چینل سے دور رہنے کا تاکیدی حکم ملنے لگا۔ میں نے صورتحال دیکھ کر استخارہ کیا تو ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پانچوں خلفاء میرے گھر میں تشریف لائے ہیں اور میں ان کے درمیان میں بیٹھا ہوں۔ گو رؤیا مختصر تھا لیکن میرے لئے اس میں واضح پیغام موجود تھا۔ جب میں نے اس کا ذکر اپنے اہل خانہ سے کیا تو انہوں نے کہا یہ ایک عام سی خواب ہے اور چونکہ تم اکثر اس جماعت کے بارے میں سوچتے رہتے ہو اس لئے ایسی خواب دیکھی ہے۔ میں نے ان کی بات سن لی لیکن سوچنے لگا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ میں بلاؤں تو زید کو اور میری آواز سن کر بکر آ جائے۔ جب یہ ممکن نہیں تو پھر کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں خدا سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے دعا کروں اور اس کی رہنمائی کے نتیجہ میں جو خواب آئے وہ شیطان کی طرف سے ہو۔ بہرحال کہتے ہیں مجھے اپنے گھر والوں کی باتوں پہ یقین نہیں آیا اور 2009ء میں پھر مَیں نے بیعت کر لی۔

یہ چند واقعات جو مَیں نے بیان کئے ہیں۔ اس قسم کے بہت سارے واقعات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان نئے آنے والوں کے ایمان اور یقین میں ترقی بھی عطا فرمائے۔ اخلاص و وفا میں بڑھائے اور ہم جو پہلے احمدی ہیں ہم میں سے بھی ہر ایک کو اخلاص اور ایمان میں بڑھائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 24؍ نومبر 2017ء شہ سرخیاں

    گزشتہ خطبہ میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے بتایا تھا کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان تعصب سے پاک ہو کر اور ہر قسم کی ضد سے پاک ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، بے چین ہو کر اللہ تعالیٰ سے نمازوں میں دعا مانگے تو چالیس دن نہیں گزریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس پر حق کھولے گا۔ لیکن صاف دل ہونا، ہر قسم کے تعصب سے پاک ہونا یہ انتہائی ضروری ہے۔

    بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی آپ کی زندگی میں خوابوں کے ذریعہ سے رہنمائی فرمائی۔ یہ سلسلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں شروع ہوا تھا آج بھی قائم ہے۔ نیک فطرت لوگوں کی اللہ تعالیٰ رہنمائی بھی فرماتا ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے سعید فطرت اور حق کے متلاشی لوگوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوابوں اور رؤیا کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی صداقت کی طرف رہنمائی کے ایمان افروز واقعات کا بیان۔

    فرمودہ مورخہ 24؍نومبر 2017ء بمطابق24؍نبوت 1396 ہجری شمسی، بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور