آنحضرت ﷺ کے اخلاق عالیہ اور اُسوۂ حسنہ: دنیا کیلئے رحمت اور نیک نمونہ

خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

12؍ربیع الاول کا دن وہ دن ہے جب دنیا میں وہ نور آیا جس کو اللہ تعالیٰ نے سراجِ منیر کہا۔ جس نے تمام دنیا کو روحانی روشنی عطا کرنی تھی اور کی۔ جس نے خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنی تھی اور کی۔ جس نے برسوں کے مُردوں کو روحانی زندگی دینی تھی اور دی۔ جس نے دنیا کو امن اور سلامتی عطا کرنی تھی اور عطا کی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(الانبیاء: 108)۔ اور ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ جو صرف انسانوں کے لئے نہیں بلکہ چرند پرند سب کے لئے رحمت ہے۔ جو صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت تھا اور ہے۔ اور جس کی تعلیم تا قیامت ہر ایک کے لئے رحمت ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے ماننے والوں کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول میں تمہارے لئے اُسوۂ حسنہ ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے کہ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُو اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللہَ کَثِیْرًا(الاحزاب:22) کہ یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتاہے۔ پس اس اُسوۂ حسنہ پر چلنے کے بغیر مسلمان مسلمان نہیں کہلا سکتا۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے توحید کے قیام کے بھی نمونے قائم کئے۔ عبادتوں کے بھی نمونے قائم کئے۔ اعلیٰ اخلاق کے بھی نمونے قائم کئے اور حقوق العباد کے بھی نمونے قائم فرمائے۔ لیکن افسوس ہے کہ آجکل کی مُسلم اکثریت دعویٰ تو آپ کی محبت کا کرتی ہے لیکن عمل اس کے اُلٹ ہیں جس کی ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی تھی اور جو آپ نے عمل کر کے دکھائے تھے۔ آپ تو رحمۃٌ للعالمین بن کر آئے تھے اور یہ لوگ جو محبت کا دم بھرتے ہیں اور آج 12؍ربیع الاول کو بھی بڑے جوش سے منا رہے ہیں اس میں بجائے یہ عہد کرنے کے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم تیرے اُسوہ پر چلتے ہوئے رحمتیں ہر طرف پھیلائیں گے اکثر مسلمان ملکوں میں فتنہ و فساد کی کیفیت ہے۔

آج تو اس خوشی کے دن ہر مسلمان کے عمل سے یہ ظاہر ہونا چاہئے تھا کہ ہم جس نبی کے ماننے والے ہیں وہ امن و سلامتی کا بادشاہ ہے۔ وہ دنیا کے لئے رحمت ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے والا ہے۔ وہ اخلاق کے اعلیٰ ترین معیار پر فائز ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی سنت پر چلنے والے ہیں۔ پس ہم سے آج کے دن اس نبی کی پیدائش کے دن کی خوشی میں محبت، پیار اور امن و سلامتی کے چشمے جاری ہوں گے کہ یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں سے کہا ہے اور یہی ان سے توقع رکھی ہے اور یہی ان کو تعلیم دی ہے لیکن اس کے برعکس مسلمان ملکوں میں فساد کی کیفیت طاری ہے جیسا کہ میں نے کہا بلکہ بعض جگہ پہ غیر مسلم دنیا بھی مسلمانوں کی وجہ سے خوفزدہ ہے۔

پاکستان میں اس خوف کے مارے کہ فتنہ و فساد کی آگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ چلی جائے بعض شہروں میں آج موبائل فون کی سروس بند کر دی گئی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری ہر چوک اور ہر سڑک پر کھڑی ہے۔ کیا یہ اس نبی کی پیدائش کی خوشی منانے کا طریق ہے کہ ہر شریف آدمی خوفزدہ ہے اور حکومت قانون نافذ کرنے کے لئے، لاء اینڈ آرڈر کے لئے تحفّظات لئے ہوئے ہے۔ ہمارے پیارے آقا کے نام پر احمدیوں کے خلاف دریدہ دہنی کرنا اور مغلّظات بکنا تو روز کا معمول ہے لیکن آج کے دن کی خوشی میں آج اس میں بھی شدت پیدا ہو گئی ہے۔ اپنے زعم میں یہ لوگ اس عمل سے اس عظیم نبی کی عزت و وقار کو بلند کر رہے ہیں۔ چند دن ہوئے پاکستان کے کئی شہروں میں جو گھیراؤ ہوا، محاصرہ ہوا، دھرنے ہوئے، اس نے ہر شریف شہری کو پریشان کر دیا تھا۔ کاروبار زندگی معطل ہو گیا تھا۔ کوئی مریض ہسپتال نہیں جا سکتا تھا۔ سکول بند کر دئیے گئے بلکہ دکانیں تک بند کر دی گئیں۔ کوئی شخص جس کے گھر میں کھانے پینے کا سامان نہیں تھا اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کا سامان نہیں لا سکتا تھا۔ کروڑوں اور اربوں روپوں کا قوم کو مالی نقصان بھی ہوا اور یہ سب کچھ ان نام نہاد علماء کے حُبِّ رسول کے نعرے کی وجہ سے ہوا۔ وہ رسول جو رحمۃٌ للعالَمین ہے جس نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ راستوں کے حقوق ادا کرو۔ آپؐ نے فرمایا کہ بازاروں میں شور و غوغاکرنے سے بچو۔ (صحیح البخاری کتاب البیوع باب کراھیۃ السخب فی السوق حدیث 2125)

آپؐ نے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ جب صحابہ نے کہا کہ ہم بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس زمانے میں کاروباری جگہیں تو نہیں تھیں، دفاتر نہیں ہوتے تھے کہ وہاں بیٹھ کر کاروباری معاملات طے کریں اس لئے بازاروں میں بیٹھ کر، راستوں میں بیٹھ کر طے کئے جاتے تھے۔ آپ نے اس بات کو سن کر فرمایا کہ پھر راستوں کے حق ادا کرو۔ جب عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! راستوں کے حق کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظریں نیچی رکھا کرو۔ دکھ دینے سے بچو کہ یہ راستے کا حق ہے۔ سلام کا جواب دو کہ یہ راستے کا حق ہے۔ نیک بات کی تلقین کرو اور بری بات سے روکو کہ یہ راستے کا حق ہے۔ (صحیح البخاری کتاب المظالم والغضب باب افنیۃ الدور والجلوس فیھا … الخ حدیث2465)

لیکن یہ لوگ تو ناموس رسالت کے نام پر راستے بند کر کے لوگوں کو تکلیف میں ڈال رہے تھے۔ اس کے باوجود یہ لوگ اپنے زعم میں دین کے ٹھیکیدار ہیں اور اپنی مرضی کے معیار کے مطابق جس کو چاہیں کافر بنا دیں اور جس کو چاہیں مومن بنا دیں۔ بہرحال یہ تو اُن کے عمل ہیں جو ان کے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ کے اُسوہ سے ان چیزوں کا دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ لوگ جو چاہیں کرتے رہیں لیکن ہم احمدیوں کا کام ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے ہر پہلو کو دیکھیں اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔ اپنی تمام تر طاقتوں اور استعدادوں کے مطابق کوشش کریں۔ اِس وقت مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعض پہلو بیان کروں گا۔ اللہ تعالیٰ سے جو آپؐ کو محبت تھی اسے بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشقِ زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہٖ۔ یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب پر عاشق ہو گیا (ہے)۔ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 273۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ: ’’جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رِجس ہیں۔ پلید ہیں۔ شَرُّالْبَرِیَّہ ہیں۔ سُفَہَاء ہیں اور ذُریّتِ شیطان ہیں اور ان کے معبود وَقُودُ النّار اور حَصَبُ جہنم ہیں۔ تو ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُو نے ان کے عقلمندوں کو سَفِیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شرّ البریّہ کہا اور ان کے قابلِ تعظیم معبودوں کا نام ہیزمِ جہنم اور وَقُوْدُ النّار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رِجس اور ذریّتِ شیطان اور پلید ٹھہرایا۔ مَیں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آ جا ورنہ مَیں قوم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا‘‘۔ (یہ آپ کے چچا نے آپ کو کہا۔) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چچا! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہارِ واقعہ ہے اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں۔ اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو مَیں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔ میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔ مَیں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رک نہیں سکتا۔ اور اے چچا اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جا۔ بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں۔ مَیں احکام الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔ مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ بخدا اگر مَیں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔ یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذّت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقّت نمایاں ہو رہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ مَیں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔ تُو اور ہی رنگ میں اور اَور ہی شان میں ہے۔ جا اپنے کام میں لگا رہ۔ جب تک مَیں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے مَیں تیرا ساتھ دوں گا۔‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 110-111)

آج ہم احمدیوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ماننے کی وجہ سے یہ کافر ہیں۔ یہ واقعہ جو مَیں نے ابھی بیان کیا یہ ہم تاریخ میں پڑھتے اور سنتے ہیں لیکن جس بے اختیاری اور دلی کیفیت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو بیان فرمایا ہے اس سے آپ کے عشقِ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اظہار ہوتا ہے اور اس توسّط سے پھر خدا تعالیٰ سے عشق کے راستے بھی نظر آتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھائے۔ پھر عشقِ محمد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے اس پہلو کے بارے میں مزید بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’پس مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر)۔ یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی‘‘۔ (یہ دو چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے محبت اور بنی نوع کی ہمدردی میں اپنے آپ کو فنا کر لینا۔) ’’اِس لئے خدانے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافرِ نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منوّر رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں‘‘۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118-119)

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل کر ہی حقیقی توحید کا علم ہو سکتا ہے۔ آپ کے اُسوہ پر عمل کر کے ہی ہم اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے کی بنیاد ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے کیا اعلیٰ معیار تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی نماز تہجد کی کیفیت بیان فرماتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔ مگر وہ اتنی پیاری اور لمبی اور حسین نماز ہوا کرتی تھی کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے بارے میں مت پوچھو‘‘۔ (صحیح البخاری کتاب التھجد باب قیام النبیﷺ باللیل فی رمضان وغیرہ حدیث1147)۔ الفاظ وہ کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے ایک صحابی نے آپ کو دیکھا۔ یعنی علیحدگی میں جب آپ نفل پڑھ رہے تھے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ اس وقت شدت گریہ و زاری کے باعث آپ کے سینے سے ایسی آوازیں آ رہی تھیں کہ جیسے چکّی کے چلنے کی آواز ہوتی ہے (سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 904)۔ یا ایک روایت میں یہ ہے کہ جس طرح ہنڈیا میں پانی اُبلنے کی آواز ہوتی ہے۔ (سنن النسائی کتاب السھو باب البکاء فی الصلوٰۃ حدیث 1215)

روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض دفعہ نماز میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور متورّم ہو کر پھٹ جاتے تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام قصور معاف فرما دئیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَفَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا کہ کیا میں یہ نہ چاہوں کہ مَیں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ بنوں۔ (صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک … حدیث4837)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے ان معیاروں نے صحابہ میں کیا انقلاب پیدا کیا، یہ بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’مَیں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ خواہ کیسا ہی پکّا دشمن ہو اور خواہ وہ عیسائی ہو یا آریہ جب وہ ان حالات کو دیکھے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب کے تھے اور پھر اس تبدیلی پر نظر کرے گا جو آپ کی تعلیم اور تاثیر سے پیدا ہوئی تو اسے بے اختیار آپ کی حقّانیت کی شہادت دینی پڑے گی۔ موٹی سی بات ہے کہ قرآن مجیدنے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے۔‘‘ (آپ کے ماننے والے جو عرب کے لوگ تھے ان کی پہلی حالت کا تو یہ نقشہ کھینچا ہے کہ) ’’یَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ(محمد:13)‘‘ (یعنی اس طرح کھاتے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں۔ جانوروں والی حالت ہے۔) ’’یہ تو ان کی کفر کی حالت تھی۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات نے ان میں تبدیلی پیدا کی تو ان کی یہ حالت ہوگئی یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا(الفرقان:65) یعنی وہ اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے راتیں کاٹ دیتے ہیں‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’جو تبدیلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے وحشیوں میں کی اور جس گڑھے سے نکال کر جس بلندی اور مقام تک انہیں پہنچایا اس ساری حالت کے نقشے کو دیکھنے سے بے اختیار ہو کر انسان رو پڑتا ہے کہ کیا عظیم الشان انقلاب ہے جو آپ نے کیا‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’دنیا کی کسی تاریخ اور کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ یہ نری کہانی نہیں۔ یہ واقعات ہیں جن کی سچائی کا ایک زمانہ کو اعتراف کرنا پڑا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 9 صفحہ 144-145۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس پہلوں سے ملنے والی آخرین کی اِس جماعت کے افراد کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس اُسوہ کی پیروی کرتے ہوئے جیسے صحابہ نے عبادتوں کے معیار بلند کئے ہم بھی اپنی عبادتوں کے معیار بلند کریں اور صرف دنیا داری میں ہی نہ ڈوبے رہیں۔ ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام یہ رپورٹ دیتے ہیں کہ ہمارے اتنے فیصدنماز پڑھنے والے ہو گئے۔ چالیس فیصد۔ پچاس فیصد۔ ساٹھ فیصد۔ ہم تو جب تک سو فیصد عابد پیدا نہ کر لیں ہمیں چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے اور صرف نظام نہیں بلکہ ہر شخص کو خود جائزہ لینا چاہئے کہ مَیں کس حالت میں ہوں۔ پھر صدق و سچائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اُسوہ تھا؟ آپ کے اشد ترین دشمن نظر بن حارث کی گواہی سنیں۔ ایک مرتبہ سردارانِ قریش جمع ہوئے جن میں ابو جہل اور نظر بن حارث بھی شامل تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب کسی نے یہ کہا کہ انہیں جادوگر مشہور کر دیا جائے یا جھوٹا قرار دیا جائے تو نظر بن حارث کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے گروہ قریش! ایسا معاملہ تمہارے سامنے آ گیا ہے جس کے مقابلے کے لئے تم کوئی تدبیر نہیں کر سکے۔ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں ایک جوان لڑکے تھے اور تم میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ سب سے زیادہ سچ بولنے والے تھے۔ تم میں سب سے زیادہ امانت دار تھے۔ اب تم نے ان کی کنپٹیوں میں عمر کے آثار دیکھے یعنی سفید بال آنے شروع ہوئے اور جو پیغام وہ لے کر آئے تو تم نے کہا کہ وہ جادوگر ہے۔ ان میں جادو کی کوئی بات نہیں۔ ہم نے بھی جادوگر دیکھے ہوئے ہیں۔ تم نے کہا وہ کاہن ہے۔ ہم نے بھی کاہن دیکھے ہوئے ہیں۔ وہ ہرگز کاہن نہیں ہیں۔ تم نے کہا وہ شاعر ہے۔ ہم شعر کی تمام قسمیں جانتے ہیں۔ وہ شاعر نہیں ہے۔ تم نے کہا وہ مجنون ہے۔ اس میں جنون کی کوئی علامت نہیں۔ اے گروہِ قریش! مزید غور کر لو تمہارا واسطہ ایک بہت بڑے معاملے سے ہے۔ (سیرت ابن ہشام جزء اول صفحہ 192 باب عتبۃ بن ربیعۃ یفاوض الرسولؐ مطبوعہ دار الکتب العربی بیروت 2008ء)

پھر ابوجہل آپ کے سچے ہونے کا یعنی سچ بولنے کا انکار کبھی نہیں کر سکا۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں جھوٹا نہیں کہتا لیکن جو تعلیم لائے ہو وہ غلط ہے کیونکہ تم ہمارے بتوں کے خلاف بول رہے ہو۔ (سنن الترمذی ابواب تفسیر القرآن باب ومن سورۃ الانعام حدیث 3064)

ابوسفیان نے بھی ہرقل کے دربار میں یہی کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہﷺ حدیث7)

پس دشمن سے دشمن بھی آپ کو کبھی جھوٹا نہیں کہہ سکا اور یہی آپ کی نبوت کے سچا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔ یہودی عالم نے آپ کے چہرہ کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ (سنن الترمذی ابواب صفۃ القیامۃ باب افشوا السلام حدیث 2485)

پس آج بھی آپ کی تعلیم اور عمل کی سچائی کے اعلیٰ معیار ہیں جو غیر مسلموں کو اسلام کے قریب کر سکتے ہیں۔ یہ جھوٹ فریب اور دھوکہ اسلام کے خلاف نفرتوں میں بڑھا تو سکتا ہے، اسلام کے قریب نہیں لا سکتا۔ یہ دنیاداری کی باتیں اور اپنی حکومتوں کو قائم کرنا اور نام نہاد علماء کا جھوٹ کی بنیاد پر اپنے منبروں کو سنبھالنا یہ کبھی اسلام کی برتری ثابت نہیں کر سکتا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلتے ہوئے احمدیوں کو اپنی سچائی کے معیار بلند کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے تا کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کے پھیلانے میں آسانی پیدا ہو۔ تبلیغ کے لئے ضروری ہے کہ قول و عمل ایک ہو۔ اگر عمل میں سچائی نہیں تو لوگ دینی تعلیم کو بھی جھوٹا سمجھیں گے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ایک سچائی ہے۔ دین اسلام ایک سچائی ہے۔ اس سچائی کو پھیلانا اور سچ کے ذریعہ سے پھیلانا آج ہمارا کام ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

’’ایک عقل مند کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اسلام سے کچھ دن پہلے تمام مذاہب بگڑ چکے تھے اور روحانیت کھو چکے تھے۔ پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدّد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اس فخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔ جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتبِ ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔ یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔ یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانے میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جبکہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھا اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جبکہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا۔ اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا۔ اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206-207)

پس اگر حقیقی مسلمان کہلانا ہے، اگر سچے خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے والا بننا ہے تو پھر سچائی کے معیاروں کو بلند کرنے کی ضرورت ہے اور آج اگر کوئی اس کا حق ادا کر سکتا ہے تو احمدی کر سکتے ہیں کہ انہوں نے زمانے کے امام سے یہ عہد کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔ پس اس کو صرف عہد تک ہی نہ رہنے دیں بلکہ ہر احمدی کا ہر عمل اس کا گواہ ہونا چاہئے تبھی عہد کی سچائی ظاہر ہو گی۔

ایک خُلقِ عظیم عجز و انکسار ہے یا کہہ سکتے ہیں عجز و انکسار میں بھی آپ کا خُلق اپنی عظمتوں کو چھو رہا تھا۔ آپ کے عجز و انکسار کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ میں سے یا اہل بیت میں سے، گھر والوں میں سے کسی نے آپ کو بلایا ہو اور آپ نے اس کو لبّیک کہہ کر جواب نہ دیا ہو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ(القلم:05) کہ تُو خُلقِ عظیم پر فائز کیا گیا ہے۔ (تفسیر در منثور جلد 8 صفحہ 226 سورۃ القلم زیر آیت انک لعلیٰ خلق عظیم مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت 2001ء)

حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی طرف رُخ پھیرتے تو پورا رخ پھیرتے۔ نظر ہمیشہ نیچی رہتی۔ لگتا کہ زمین کی طرف آپ کی زیادہ نظر پڑتی ہے۔ ہر ملنے والے کو سلام میں پہل کرتے۔ (الشمائل المحمدیہ لامام ترمذی باب ما جاء فی خلق رسول اللہؐ حدیث 8 صفحہ 38 مطبوعہ المکتبۃ التجاریۃ مصطفی احمد الباز مکہ 1993ء)۔ آپ نے فرمایا مَیں بنی آدم کا سردار ہوں مگر اس میں کوئی فخر کی بات نہیں ہے۔ قیامت کے دن مَیں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلا ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی لیکن اس میں کوئی فخر کی بات نہیں اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا لیکن اس میں کوئی فخر نہیں۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر الشفاعۃ حدیث 4308)۔ یہ عاجزی کی انتہا ہے جو آپ کے ہر قول اور فعل سے ظاہر ہوتی ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :

’’خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبّر اور بڑائی سے پرہیز کرنا چاہئے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہئے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ ایک دن آپ کے پاس عمائدِ مکّہ اور رؤوسائے شہر جمع تھے اور آپ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔ باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہو جانے سے وہ نابینا اٹھ کر چلا گیا۔ یہ ایک معمولی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ نازل فرما دی۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا‘‘۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ’’اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمت الٰہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بننا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں و لرزاں رہتے ہیں‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’جس طرح اللہ تعالیٰ نکتہ نواز ہے اسی طرح نکتہ گیر بھی ہے۔ اگر کسی حرکت سے ناراض ہو جا وے تو دم بھر میں سب کارخانہ ختم ہے۔ پس چاہئے کہ ان باتوں پر غور کرو اور ان کو یاد رکھو اور عمل کرو‘‘۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 343-344۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آپؐ کی سیرت کا اور اُسوہ کا مضمون تو نہ ختم ہونے والا مضمون ہے۔ ہر خُلق میں آپ کا عظیم نمونہ ہے اور کیوں نہ ہو۔ آپ ایک عظیم معلّم ہیں اور معلّمِ اخلاق ہیں۔ اگر کوئی برا بھی ہے جو آپ کے پاس آیا تو آپ اس سے بھی اخلاق سے پیش آئے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ یہ اپنے گھرانے میں بہت ہی بُرا بھائی ہے۔ مطلب سلوک اچھا نہیں ہے اپنے بھائی کی حیثیت سے۔ اور اپنے خاندان کا بہت ہی بُرا بیٹا ہے۔ جب وہ آ کر بیٹھ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔ باوجود اس کے کہ وہ بُرا بھائی تھا اور بُرا بیٹا تھا اور اس میں بداخلاقیاں تھیں۔ آپ نے اس سے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔ جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ نے اس کے بارے میں فلاں فلاں بات کی تھی اور پھر اس سے گفتگو کے دوران آپ نے کمال خندہ پیشانی کا مظاہرہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ السلام نے فرمایا عائشہ! تُو نے کب مجھے بدزبانی کرتے ہوئے پایا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ یقیناً سب سے بُرا آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس کی بدی سے ڈر کر لوگ اس کی ملاقات چھوڑ دیں‘‘۔ (صحیح البخاری کتاب الأدب باب لم یکن النبیؐ فاحشا ولا متفحشا حدیث6032)

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک موقع پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مجھے کس طرح پتا چلے کہ مَیں اچھا کر رہا ہوں یا برا کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم اچھے ہو تو سمجھو کہ تمہارا طرز عمل اچھا ہے۔ اور جب پڑوسی کہے کہ تم بُرے ہو اور تمہارا رویّہ بُرا ہے پھر سمجھ لو کہ تم بُرے ہو اور تمہارا رویّہ جو ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب الثناء الحسن حدیث 4223)

پس اپنے اخلاق ہر حال میں اچھے رکھنے کی ضرورت ہے اور یہی آج ایک احمدی کا شیوہ ہونا چاہئے۔ آج مسلمانوں میں جو فتنے ہیں، فساد ہیں ان کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ اخلاق کے معیار گر گئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو لوگ بھول گئے ہیں اور صرف زبانی دعوے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل نمونہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خَلیق تھے۔ باوجودیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سودے خود خرید لایا کرتے تھے۔ ایک بار آپ نے کچھ خریدا تھا۔ ایک صحابی نے عرض کی کہ حضور مجھے دے دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کی چیز ہو اس کو ہی اٹھانی چاہئے‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’اس سے یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ آپ لکڑیوں کا گٹھا بھی اٹھا کر لایا کرتے تھے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’غرض ان واقعات سے یہ ہے کہ آپ کی سادگی اور اعلیٰ درجے کی بے تکلّفی کا پتا لگتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 44-45۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ آپ کی نبوت کے زمانے میں سے تیرہ سال مصائب اور شدائد کے تھے اور دس سال قوت و ثروت اور حکومت کے۔ مقابل میں کئی قومیں۔ اوّل تو اپنی ہی قوم تھی۔ یہودی تھے۔ عیسائی تھے۔ بت پرست قوموں کا گروہ تھا۔ مجوس تھے وغیرہ۔ جن کا کام کیا ہے؟ بت پرستی۔ جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقاد سے پختہ اعتقاد اور مسلک تھا۔ وہ کوئی کام کرتے ہی نہ تھے جو اُن بتوں کی عظمت کے خلاف ہو۔ شراب خوری کی یہ نوبت کہ دن میں پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ شراب بلکہ پانی کی بجائے شراب ہی سے کام لیا جاتا تھا۔ حرام کو تو شِیرِ مادر جانتے تھے اور قتل وغیرہ تو ان کے نزدیک ایک گاجر مولی کی طرح تھا۔ غرض کُل دنیا کی اقوام کا نچوڑ اور گندے عقائد کا عطر ان کے حصے میں آیا ہوا تھا۔ اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو درست کرنا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکا و تنہا بے یارومددگار پھرتے ہیں۔ کبھی کھانے کو ملا اور کبھی بھوکے ہی سو رہے۔ جو چند ایک ہمراہی ہیں ان کی بھی ہر روز بُری گت بنتی ہے۔‘‘ (یعنی مکّہ میں بہت برے حالات تھے۔ فاقوں تک نوبت آتی تھی اور جو ساتھی تھے، مسلمان ہونے والے تھے ان کو بھی روز ماریں پڑا کرتی تھیں۔) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’بے کس اور بے بس۔ اِدھر کے اُدھر اور اُدھر کے اِدھر مارے مارے پھرتے ہیں۔ وطن سے بے وطن کر دئیے گئے ہیں۔‘‘ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ’’پھر دوسرا زمانہ تھا‘‘ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا) ’’کہ تمام جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلام بنا ہوا ہے۔ کوئی مخالفت کے رنگ میں چُوں بھی نہیں کر سکتا اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہوا ہے کہ اگر چاہتے تو کُل عرب کو قتل کر ڈالتے۔ اگر ایک نفسانی انسان ہوتے تو ان سے ان کی کرتوتوں کا بدلہ لینے کا عمدہ موقع تھا‘‘ (جو پہلے ظلم ہوتے رہے تھے۔) ’’جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم فرمایا۔ غرض اس طرح سے جو دونوں زمانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آئے اور دونوں کے واسطے ایک کافی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پرکھے جاتے اور ایک جوش یا فوری ولولہ کی حالت نہ تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر طرح کے اخلاق فاضلہ کا پورا پورا امتحان ہو چکا تھا اور آپ کے صبر، استقلال، عفّت، حلم، بردباری، شجاعت، سخاوت، جُود وغیرہ وغیرہ کُل اخلاق کا اظہار ہو چکا تھا اور کوئی ایسا حصہ نہ تھا کہ باقی رہ گیا ہو‘‘۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 195-196۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس آج اگر حقیقی خوشی منانی ہے تو پھرآپ کے اُسوہ پر عمل کر کے منائی جا سکتی ہے جہاں عبادتوں کے معیار بھی بلندہوں۔ جہاں توحید پہ بھی کامل یقین ہو اور اعلیٰ اخلاق کے معیار بھی بلند ہوں۔ اگر یہ نہیں تو ہم میں اور غیر میں کوئی فرق نہیں۔ اگر ہم عمل نہیں کر رہےتو وہ لوگ جو بکھرے ہوئے ہیں اور عارضی لیڈر اور نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر لوگوں کے لئے تنگیوں کے سامان کر رہے ہیں ان میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر کام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو سامنے رکھیں۔ اللہ کرے کہ اس کی ہم سب کو توفیق ملے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مقام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالَم کا عالَم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر النبیین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدائے دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحيٰ اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرّب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔‘‘ (اتمام الحجۃ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)

نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ سسٹر سلمی غنی صاحبہ امریکہ کا ہے۔ فلاڈلفیا میں رہتی تھیں۔ 20؍نومبر کو 83 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ امیر صاحب امریکہ لکھتے ہیں کہ 1960-61ء میں چھبیس سال کی عمر میں انہوں نے بیعت کی اور جماعت میں شامل ہوئیں۔ پیشے کے لحاظ سے سکول ٹیچر تھیں۔ ان کو 1975-76ء کے جلسے میں ربوہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔ بہت خوشی سے وہاں کے واقعات اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ ان کو تقریباً پندرہ سال بطور صدر لجنہ امریکہ خدمت کی توفیق ملی۔ آپ نے بہت محنت سے کام کیا اور لجنہ اماء اللہ امریکہ کو ایک نئے لیول تک لے گئیں۔ آپ کو کئی مرتبہ فلاڈلفیا کی صدر لجنہ کے طور پر بھی خدمت بجا لانے کی توفیق ملی۔ مرحومہ پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ تہجد کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔ ہمیشہ جماعت کی ترقی کے لئے کوشاں رہتی تھیں۔ آپ کی بڑی خواہش تھی کہ فلاڈلفیا میں مسجد مکمل ہو اور اس کے لئے آپ دعائیں بھی کیا کرتی تھیں۔ امید ہے انشاء اللہ اب جلدی مکمل ہو جائے گی۔ محترم امیر صاحب لکھتے ہیں کہ مقامی صدر صاحب کا کہنا ہے کہ بحیثیت صدر جماعت میرے ساتھ ان کا بہت اطاعت کا تعلق اور تعاون تھا۔ تمام ایکٹیویٹیز (activities) کو شیئر (share) کیا کرتی تھیں۔ صدر صاحب مزید کہتے ہیں کہ دو ماہ قبل آپ کو معدے کے کینسر کا علم ہوا۔ میں وفات سے ایک ہفتہ قبل ان سے ملنے گیا تو کہنے لگیں کہ میری وصیت سن لو۔ ڈاکٹر چار چھ مہینے کہتے ہیں لیکن چند دنوں کی بات ہے۔ جنازہ تم نے پڑھانا ہے۔ تین دن سے زیادہ انتظار نہیں کرنا۔ وِلنگ بارو (Willingborough) کی مسجد میں جنازہ ہو گا۔ قبر کا بندوبست فلاڈلفیا میں ہو چکا ہے۔ مرحومہ کی کوئی اولادنہیں تھی۔ آپ کے خاندان میں کوئی احمدی یا مسلمان بھی نہیں تھا۔ لیکن آپ کا دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ سلوک بہت اچھا تھا۔ صدر لجنہ امریکہ لکھتی ہیں کہ آپ کی پرورش عیسائی ماحول میں ہوئی لیکن پندرہ سال کی عمر سے ہی آپ کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیبی موت اور عیسائیت کے غلط عقیدہ کفّارہ کے بارے میں سوال اٹھنے لگے۔ آپ ایک ایسے مذہب کی تلاش میں تھیں جس سے آپ کے دل و دماغ کو اطمینان پہنچے۔ اسی جستجو میں انہوں نے کیتھولک ازم کا گہرا مطالعہ کیا اور دیگر مذاہب یعنی بدھ مت، ہندو مت اور مختلف عیسائی فرقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ہر مذہب میں اچھی تعلیمات پائیں لیکن ان میں سے کوئی مذہب آپ کی مطلوبہ توقعات پہ پورا نہ اترا۔ چنانچہ اسی اثناء میں آپ کے ایک دوست نے، جس نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا تھا آپ کو ایک پمفلٹ دیا جس میں لکھا تھا کہ حضرت عیسیٰ کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی۔ اس پمفلٹ کو دیکھتے ہی آپ کی آنکھیں بھر آئیں اور آپ نے کہا کہ مَیں ایک بار پھر زندہ ہو گئی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ایک حصہ میرے وجود کا کئی سالوں سے مردہ تھا۔ اس پمفلٹ میں آپ کے ذہن میں اٹھنے والے تمام سوالوں کے جواب تھے۔ اس کے بعد آپ مسجد گئیں اور وہاں سے مختلف کتب کو خریدا۔ ان کا مطالعہ بھی کیا۔ آخر کار آپ نے امریکہ کے شہر فلاڈلفیا میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آپ نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس جگہ رہائش رکھی۔ ایک مرتبہ ذکر کیا کہ یہ وہی پمفلٹ تھا جس پر لکھا تھا کہ حضرت عیسیٰ کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی جو میرے اسلام لانے کی وجہ بنا جو کہ سچا اور حقیقی مذہب ہے۔ بطور احمدی ستاون (57) سالہ زندگی بسر کی۔ اس میں آپ نے جماعت اور خلافت احمدیہ سے اخلاص و وفا اور پیار و محبت کا اعلیٰ ترین نمونہ قائم کیا۔ اطاعت میں دوسروں کے لئے ایک مثال تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے دَور میں پندرہ سال تک بطور صدر لجنہ امریکہ خدمت کی توفیق پائی اس کے بعد بطور اعزازی ممبر لجنہ خدمت کی توفیق ملتی رہی۔ آپ کو افریقن امریکن ڈیسک کی لجنہ کی مشاورتی کمیٹی کے صدر کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی۔ آپ کا دل ہر وقت تبلیغی امور کی طرف مائل رہتا تھا۔ آپ کا تعلق چونکہ عیسائی گھرانے سے تھا اس لئے نہایت عالمانہ انداز میں مؤثر طریق پر عیسائیوں کو تبلیغ کرتی تھیں۔ ان کی کوششوں کے نتیجہ میں بہت سے لوگوں نے احمدیت قبول کی اور اس طرح آپ بہت سارے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنیں۔ ہمیشہ بھائی چارہ اور پیار اور محبت کا سلوک کرنے کی نصیحت کرتی تھیں۔ غانا اور نائیجیریا کے متعدد سفروں کے بعد آپ ہر جگہ ’’آنٹی سلمیٰ غنی‘‘ کے نام پر پہچانی جاتی تھیں۔ جماعت امریکہ میں آپ ہمیشہ ایک نہایت پارسا اور پرہیز گار اور ہر دلعزیز خاتون کے طور پر یاد رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور باقی جو اِن کے ذریعہ سے احمدی ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی ثبات قدم عطا فرمائے اور امریکہ جماعت کو توفیق دے، امریکنوں کو بھی توفیق دے کہ وہ اسلام کے حقیقی پیغام کو سننے سمجھنے والے اور قبول کرنے والے ہوں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • یکم دسمبر 2017ء شہ سرخیاں

    12؍ربیع الاول کا دن وہ دن ہے جب دنیا میں وہ نور آیا جس کو اللہ تعالیٰ نے سراجِ منیر کہا۔ جس نے تمام دنیا کو روحانی روشنی عطا کرنی تھی اور کی۔ جس نے خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنی تھی اور کی۔ جس نے برسوں کے مُردوں کو روحانی زندگی دینی تھی اور دی۔ جس نے دنیا کو امن اور سلامتی عطا کرنی تھی اور عطا کی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(الانبیاء: 108)۔ اور ہم نے تجھے دنیا کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ جو صرف انسانوں کے لئے نہیں بلکہ چرند پرند سب کے لئے رحمت ہے۔ جو صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت تھا اور ہے۔ اور جس کی تعلیم تا قیامت ہر ایک کے لئے رحمت ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے ماننے والوں کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول میں تمہارے لئے اُسوۂ حسنہ ہے۔

    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے توحید کے قیام کے بھی نمونے قائم کئے۔ عبادتوں کے بھی نمونے قائم کئے۔ اعلیٰ اخلاق کے بھی نمونے قائم کئے اور حقوق العباد کے بھی نمونے قائم فرمائے۔ لیکن افسوس ہے کہ آجکل کی مُسلم اکثریت دعویٰ تو آپ کی محبت کا کرتی ہے لیکن عمل اس کے اُلٹ ہیں جس کی ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی تھی اور جو عمل آپ نے کر کے دکھائے تھے۔ آپ تو رحمۃٌ للعالمین بن کر آئے تھے اور یہ لوگ جو محبت کا دم بھرتے ہیں اور آج 12؍ربیع الاول کو بھی بڑے جوش سے منا رہے ہیں اس میں بجائے یہ عہد کرنے کے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم تیرے اُسوہ پر چلتے ہوئے رحمتیں ہر طرف پھیلائیں گے، اکثر مسلمان ملکوں میں فتنہ و فساد کی کیفیت ہے۔

    پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک میں فتنہ و فساد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اُسوۂ حسنہ سے انحراف کی تکلیف دہ صورتحال کا تذکرہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت الٰہی، قیام عبادات اور ہمدردیٔ بنی نوع انسان اور عجز و انکسار وغیرہ اخلاق عالیہ کی دلآویز روشن مثالوں کے حوالہ سے آپ کے اُسوۂ حسنہ کو اپنانے کی تاکید۔

    پہلوں سے ملنے والی آخرین کی اِس جماعت کے افراد کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس اُسوہ کی پیروی کرتے ہوئے جیسے صحابہ نے عبادتوں کے معیار بلند کئے ہم بھی اپنی عبادتوں کے معیار بلند کریں اور صرف دنیا داری میں ہی نہ ڈوبے رہیں۔ ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام یہ رپورٹ دیتے ہیں کہ ہمارے اتنے فیصدنماز پڑھنے والے ہو گئے۔ چالیس فیصد۔ پچاس فیصد۔ ساٹھ فیصد۔ ہم تو جب تک سو فیصد عابد پیدا نہ کر لیں ہمیں چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے اور صرف نظام نہیں بلکہ ہر شخص کو خود جائزہ لینا چاہئے کہ مَیں کس حالت میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلتے ہوئے احمدیوں کو اپنی سچائی کے معیار بلند کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے تا کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کے پھیلانے میں آسانی پیدا ہو۔ تبلیغ کے لئے ضروری ہے کہ قول و عمل ایک ہو۔ اگر عمل میں سچائی نہیں تو لوگ دینی تعلیم کو بھی جھوٹا سمجھیں گے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ایک سچائی ہے۔ دین اسلام ایک سچائی ہے۔ اس سچائی کو پھیلانا اور سچ کے ذریعہ سے پھیلانا آج ہمارا کام ہے۔

    اپنے اخلاق ہر حال میں اچھے رکھنے کی ضرورت ہے اور یہی آج ایک احمدی کا شیوہ ہونا چاہئے۔ آج مسلمانوں میں جو فتنے ہیں، فساد ہیں ان کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ اخلاق کے معیار گر گئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو لوگ بھول گئے ہیں اور صرف زبانی دعوے ہیں۔ آج اگر حقیقی خوشی منانی ہے تو پھرآپ کے اُسوہ پر عمل کر کے منائی جا سکتی ہے جہاں عبادتوں کے معیار بھی بلندہوں۔ جہاں توحید پہ بھی کامل یقین ہو اور اعلیٰ اخلاق کے معیار بھی بلند ہوں۔ اگر یہ نہیں تو ہم میں اور غیر میں کوئی فرق نہیں۔ اگر ہم عمل نہیں کر رہےتو وہ لوگ جو بکھرے ہوئے ہیں اور عارضی لیڈر اور نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر لوگوں کے لئے تنگیوں کے سامان کر رہے ہیں ان میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔

    ایفریقن امریکن احمدی سسٹر محترمہ سلمیٰ غنی صاحبہ آف فلا ڈلفیا (امریکہ) کی وفات۔ مرحومہ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 01؍ دسمبر 2017ء بمطابق 01؍فتح 1396 ہجری شمسی، بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور