بدری اصحاب نبویؐ کی سِیرِ مبارکہ

خطبہ جمعہ 17؍ جنوری 2020ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾

حضرت سعد بن عُبادہؓ کا ذکر گذشتہ چند خطبوں سے چل رہا ہے۔ آج مَیں اس کا آخری حصہ بیان کروں گا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انصار اپنے میں سے جن کو خلیفہ منتخب کرنا چاہتے تھے ان میں ان کا نام بھی خاص طور پر لیا جاتا ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی سیرت خاتم النبیینؐ میں لکھا ہے کہ انصار کا ان کو خلیفہ منتخب کرنے پر زور تھااور یہ قوم کے سردار بھی تھے اور جب حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب کیے گئے تو یہ اس وقت بلکہ اس سے پہلے ہی انصار کے کہنے پر کچھ متزلزل بھی ہو گئے تھے کہ ان کو ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور خلافت کے مقام کی اہمیت بھی اس حوالے سے بیان کی ہے۔ اس لیے مَیں اس بیان کو بڑا ضروری سمجھتا ہوں۔ وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ مصلح موعودؓ کے اس حوالے سے پہلے حدیث اور ایک تاریخی حوالہ بھی پیش کروں گا۔

حُمَید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت حضرت ابوبکرؓ مدینہ منورہ کے نواح میں تھے۔ جب وہ آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر آپؐ کے چہرۂ مبارک کو چوما اور فرمایا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! آپؐ زندہ ہونے اور وفات یافتہ ہونے کی حالت میں کس قدر پاکیزہ تھے۔ پھر کہا کہ ربِّ کعبہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما تیزی کے ساتھ سقیفہ بنو ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ دونوں وہاں پہنچے تو حضرت ابوبکرؓ نے گفتگو شروع کی۔ آپؓ نے قرآنِ کریم میں انصار کی بابت جو کچھ نازل ہوا اس میں سے کچھ نہ چھوڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا وہ سب بیان کیا۔ پھر آپؓ نے فرمایا تم لوگوں کو علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں تو مَیں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ پھر حضرت سعدؓ کو مخاطب کر کے حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ اے سعد! تجھے علم ہے کہ تُو بیٹھا ہوا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلافت کا حق دار قریش ہوں گے۔ لوگوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ قریش کے نیک افراد کے تابع ہوں گے اور جو فاجر ہوں گے وہ قریش کے فاجروں کے تابع ہوں گے۔ حضرت سعدؓ نے کہا کہ آپؓ نے سچ کہا۔ ہم وزیر ہیں اور آپ لوگ امراء۔ یہ مسند احمد بن حنبل کی حدیث ہے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 01 صفحہ 158-159، مسند ابی بکر صدیق حدیث 18 مطبوعہ دار الحدیث قاھرہ 1994ء)

طبقات الکبریٰ میں اس موقعےکی تفصیل میں اس طرح لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے حضرت سعد بن عبادہؓ کی طرف پیغام بھجوایا کہ وہ آ کر بیعت کریں کیونکہ لوگوں نے بیعت کر لی ہے اور تمہاری قوم نے بھی بیعت کر لی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! مَیں اس وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک میں اپنے ترکش میں موجود سارے تیر لوگوں کو نہ مار لوں یعنی بقول اِن کے انکار کیا، اور وہ لوگ جو میری قوم و قبیلہ میں سے میرے تابع ہیں ان کے ہمراہ تم لوگوں سے قتال نہ کر لوں۔ حضرت ابوبکرؓ کو جب یہ خبر موصول ہوئی تو بشیر بن سعدؓ نے کہا کہ اے خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم! انہوں نے انکار کیا ہے اور اصرار کیا یعنی انکار پر اصرار کر رہے ہیں۔ وہ آپؓ کی بیعت کرنے والے نہیں خواہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ اور وہ ہرگز قتل نہیں کیے جا سکتے جب تک کہ ان کے ساتھ ان کی اولاد اور ان کے قبیلے کو قتل نہ کیا جائے۔ اور یہ لوگ ہرگز قتل نہیں کیے جا سکتے جب تک کہ قبیلہ خزرج کو قتل نہ کیا جائے۔ اور خزرج کو ہرگز قتل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اَوس کو قتل نہ کیا جائے۔ لہٰذا آپؓ ان کی طرف پیش قدمی نہ کریں جبکہ اب لوگوں کے لیے معاملہ سیدھا ہو چکا ہے۔ وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا یعنی ان کی قوم میں سے اکثریت نے بیعت کر لی ہے۔ اگر انکار کیا ہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ وہ ایک ایسا تنہا شخص ہے جسے چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت بشیرؓ کی نصیحت کوقبول کرتے ہوئے حضرت سعدؓ کو چھوڑ دیا۔

پھر جب حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو ایک روز مدینہ کے راستے پر سعدؓ سے ملے تو آپؓ نے فرمایا۔ کہو اے سعد۔ سعدؓ نے کہا کہو اے عمرؓ۔ یہ آپس میں گفتگو ہو رہی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم ویسے ہی ہو جیسے پہلے تھے؟ سعدؓ نے کہا ہاں مَیں ویسا ہی ہوں۔ خلافت آپؓ کو مل گئی ہے۔ ٹھیک ہےکہ خلافت تو مل گئی ہے آپؓ کو۔ بہت سارے لوگوں نے بیعت بھی کر لی ہے لیکن مَیں نے ابھی تک نہیں کی۔ پھر انہوں نے کہا کہ بخدا آپؓ کا ساتھی یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں آپؓ کی نسبت زیادہ محبوب تھا۔ یہ حضرت عمرؓ کو حضرت سعدؓ نے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ ہمیں آپؓ کی نسبت زیادہ محبوب تھے۔ پھر حضرت سعدؓ نے کہا کہ بخدا مَیں نے اِس حالت میں صبح کی ہے کہ مَیں آپؓ کی ہمسائیگی کو پسندنہیں کرتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو اپنے پڑوسی کی مصاحبت کو ناپسند کرتا ہے تو وہ پھر اُس کے پاس سے منتقل ہو جائے۔ حضرت سعدؓ نے کہا مَیں یہ بھولنے والا نہیں یعنی مَیں یہ کروں گا۔ مَیں ایسی ہمسائیگی کی طرف منتقل ہونے والا ہوں جو اُن کے خیال میں آپؓ سے بہتر ہے۔ کچھ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ حضرت سعدؓ نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آغاز میں ملک شام کی طرف ہجرت کی۔ طبقات الکبریٰ کا یہ حوالہ ہے۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء ثالث، سعد بن عباده، صفحہ312، داراحیا ء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء)

حضرت سعدؓ کے متعلق یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی تھی۔ چنانچہ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ

وَاتَّبَعَ الْقَوْمُ عَلَى الْبَیْعَۃِ، وَبَایَعَ سَعْدٌ کہ ساری قوم نے باری باری حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی اور حضرت سعدؓ نے بھی بیعت کی۔ یہ تاریخِ طبری کا حوالہ ہے۔ (تاریخ طبری جلد3 صفحہ 266، سنہ احدی عشرة ذكر الخبر عما جرى بين المهاجرين والأنصار فِي أمر الإمارة فِي سقيفة بني ساعدة، دار الفکر بیروت 2002)

بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو تفصیل بیان فرمائی ہے اس میں بہت سے پہلو بیان ہو جاتے ہیں۔ خلافت کی بیعت بھی کیوں ضروری ہے، خلافت کا مقام کیا ہے اور حضرت سعدنے جو کچھ کیا اس کی کیا حیثیت ہے؟

آپؓ اپنے ایک خطبہ میں بیان فرماتے ہیں کہ ’’قتل کے معنی قطع تعلق کے بھی ہوتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب صحابہ میں خلافت کے متعلق اختلاف پیدا ہوا۔ انصار کا خیال تھا کہ خلافت ہمارا حق ہے، ہم اہلِ بلد ہیں۔ کم سے کم اگر ایک مہاجرین میں سے خلیفہ ہو تو ایک انصار میں سے ہو۔‘‘ یعنی دو دو ہوں۔ ’’بنوہاشم نے خیال کیا کہ خلافت ہمارا حق ہے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے خاندان سے تھے۔ اور مہاجرین گو یہ چاہتے تھے کہ خلیفہ قریش سے ہونا چاہیے کیونکہ عرب لوگ سوائے قریش کے کسی کی بات ماننے والے نہ تھے مگر وہ کسی خاص شخص کو پیش نہ کرتے تھے بلکہ تعین کو انتخاب پر چھوڑنا چاہتے تھے‘‘ کہ انتخاب کر لیتےہیں۔ ’’مسلمان جسے منتخب کر لیں وہی خدا تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ سمجھا جائے گا۔ جب انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا تو انصار اور بنو ہاشم سب ان سے متفق ہو گئے مگر ایک صحابی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی۔ یہ وہ انصاری صحابی تھے جنہیں انصار اپنے میں سے خلیفہ بنانا چاہتے تھے اس لیے شاید انہوں نے اس بات کو اپنی ہتک سمجھا یا یہ بات ہی ان کی سمجھ میں نہ آئی‘‘ جو بھی وجہ تھی ’’اور انہوں نے کہہ دیا کہ مَیں ابوبکرؓ کی بیعت کے لیے تیار نہیں ہوں۔ حضرت عمرؓ کا اس موقعے کے متعلق ایک قول بعض تاریخوں میں آتا ہے کہ آپؓ نے فرمایا اُقْتُلُوْا سَعْدًا۔ یعنی سعد کو قتل کر دو لیکن نہ انہوں نے خود ان کو قتل کیا نہ کسی اَور نے۔ بعض ماہرِ زبان لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی مراد صرف یہ تھی کہ سعدؓ سے قطع تعلق کر لو۔ بعض تاریخوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت سعدؓ باقاعدہ مسجد میں آتے اور الگ نماز پڑھ کر چلے جاتے تھے اور کوئی صحابی ان سے کلام نہ کرتا تھا۔ پس قتل کی تعبیر قطع تعلق اور قوم سے جدا ہونا بھی ہوتی ہے۔‘‘ (خطبات محمود جلد 16 صفحہ 81-82، خطبہ جمعہ فرمودہ یکم فروری 1935ء)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سعد بن عبادہؓ کے واقعے کی مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں اور یہ پہلا اقتباس جو مَیں نے پڑھا ہے اس خطبے کے حوالے سے آپؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے پہلے ایک خطبے میں ایک انصاری صحابی کا ذکر کیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض انصار کی تحریک تھی کہ انصار میں سے خلیفہ مقرر کیا جائے لیکن جب مہاجرین نے اور خصوصاً حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کو بتایا کہ اس قسم کا انتخاب کبھی بھی ملتِ اسلامیہ کے لیے مفیدنہیں ہو سکتا اور یہ کہ مسلمان کبھی اس انتخاب پر راضی نہیں ہوں گے یعنی انصار کو منتخب کرنے پہ تو پھر انصار اور مہاجر اس بات پر جمع ہوئے، اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ کسی مہاجر کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات پر اِن سب کا اتفاق ہوا۔ انصار پر تو اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے وضاحت فرمائی اور بعض اَور صحابہ نے وضاحت فرمائی کہ کیونکہ یہ مفیدنہیں ہو گا۔ بہرحال یہ فیصلہ ہوا کہ مہاجرین میں سے خلیفہ ہو اور پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات پر ان سب کا اتفاق ہوا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اس وقت بتایا تھا کہ اُس وقت جب سعدؓ نے بیعت سے تخلّف کیا تھا، تھوڑا سا انقباض کیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا کہ اُقْتُلُوْا سَعْدًا۔ یعنی سعد کو قتل کر دو مگر نہ تو انہوں نے سعدؓ کو قتل کیا اور نہ کسی اَور صحابی نے بلکہ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت تک زندہ رہے۔ حضرت سعدؓ حضرت عمرؓ کی خلافت تک زندہ رہے جیسا کہ پہلے اقتباس بیان ہو چکا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں شام میں فوت ہوئے۔ ا نہوں نےہجرت کر لی تھی اور شام میں فوت ہوئے جس سے ائمہ سلف نے استدلال کیا ہے کہ قتل کے معنی یہاں جسمانی قتل نہیں بلکہ قطعِ تعلق کے ہیں اور عربی زبان میں قتل کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ اردو میں بے شک قتل کے معنی جسمانی قتل کے ہی ہوتے ہیں لیکن عربی زبان میں جب قتل کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن میں سے ایک معنی قطع تعلق کے ہیں اور لغت والوں نے استدلال کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد قتل سے قتل نہیں بلکہ قطع تعلق تھا، ان کو چھوڑ دیا جائے، ان سے بات چیت بند کر دی جائے ورنہ اگر قتل سے مراد ظاہری طور پر قتل کر دینا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو بہت جوشیلے تھے انہیں خود کیوں نہ قتل کر دیا یا صحابہؓ میں سے کسی نے کیوں انہیں قتل نہ کیا مگر جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ صرف انہیں اس وقت قتل نہ کیا بلکہ اپنی خلافت کے زمانے میں بھی قتل نہ کیا اور بعض کے نزدیک تو وہ حضرت عمرؓ کی خلافت کے بعد بھی زندہ رہے اور کسی صحابی نے ان پر ہاتھ نہ اٹھایا تو بہرحال اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل سے مراد قطعِ تعلق ہی تھا۔ ظاہری طور پر قتل کرنا نہیں تھا اور گو وہ صحابی عام صحابہ سے الگ رہے۔ حضرت سعدؓ ان سے الگ ہو گئے لیکن کسی نے اُن پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔

پس حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے مثال دی تھی کہ رؤیا میں بھی اگر کسی کے متعلق قتل ہونا دیکھا جائے تو اس کی تعبیر قطع تعلق اور بائیکاٹ بھی ہو سکتی ہے۔ اپنے ایک خطبہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ بہرحال آگے فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک دوست نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے اس خطبے کے بعد کہا کہ سعدؓ نے گوبیعت نہیں کی تھی لیکن مشوروں میں انہیں ضرور شامل کیا جاتا تھا یعنی بیعت نہ ہونے کے باوجود بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں مشوروں میں شامل کرتے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں اس شخص نے جو بات کی ہے حضرت سعدؓ کے متعلق اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں کہ یا تو میرے مفہوم کی تردید ہے یعنی حضرت مصلح موعودؓ لغت کی قتل کی جو تعریف بیان کر رہے ہیں یا تو وہ میرے مفہوم کی تردید کر رہا ہے یا یہ کہ یعنی کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا یا یہ کہ خلافت کی بیعت نہ کرنا کوئی اتنا بڑا جرم نہیں ہے۔ دوسری بات یہ شخص یہی ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اگر خلافت کی بیعت نہ کی جائے تو کوئی بڑا جرم نہیں ہے کیونکہ سعدؓ نے گو بیعت نہیں کی تھی مگر مشوروں میں شامل ہوا کرتے تھے۔ آپؓ فرماتے ہیں کسی شاعر نے کہا ہے کہ

تَا مَرْد سُخَن نَگُفْتَہ بَاشَد

عَیْب وہُنْرَشْ نَہُفْتَہ بَاشَد

انسان کے عیب و ہنر اس کی بات کرنے تک پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جب انسان بات کر دیتا ہے تو کئی دفعہ اپنے عیوب ظاہر کر دیتا ہے۔ خاموش ہو تو عیب چھپے رہتے ہیں۔ بعض دفعہ بیوقوفوں والی باتیں کر دیتا ہے تو عیب ظاہر ہو جاتے ہیں۔ آپؓ کہتے ہیں کہ اس شخص نے جس نے یہ تعریف کی تھی کہ حضرت سعدؓ مشورے میں شامل ہوتے تھے یا حضرت مصلح موعودؓ کے خطبہ پہ تبصرہ کیا تھا، اس شخص کا بات کرنا بھی یہی معنی رکھتا ہے کہ یا تو وہ خلافت کی بیعت کی تخفیف کرنا چاہتا ہے یا اپنے علم کا اظہار کرنا چاہتا ہے لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ علم کے اظہار کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بات اتنی ہی غلط ہے کہ ہر عقل مند اِس کو سن کر سوائے مسکرا دینے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ صحابہ کے حالات کے متعلق اسلامی تاریخ میں تین کتابیں بہت مشہور ہیں اور تمام تاریخ جو صحابہ سے متعلق ہے انہی کتابوں میں چکر کھاتی ہے اور وہ کتابیں یہ ہیں کہ تہذیب التہذیب، اصابہ اور اُسُد الغابة۔ ان تینوں میں سے ہر ایک میں یہی لکھا ہے کہ سعد باقی صحابہ سے الگ ہو کے شام میں چلے گئے اور وہیں فوت ہوئے اور بعض لغت کی کتابوں نے بھی قتل کے لفظ پر بحث کرتے ہوئے اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ بات یہ ہے کہ صحابہ میں سے ساٹھ، ستّر کے نام سعد ہیں۔ انہی میں سے ایک سعد بن ابی وقاصؓ بھی ہیں جو عشرۂ مبشرہ میں سے تھے۔ حضرت عمرؓ کی طرف سے کمانڈر اِن چیف مقرر تھے اور تمام مشوروں میں شامل ہوتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے حضرت مصلح موعودؓ کے خطبے پہ یہ اعتراض کیا تھا اس نے کمی علم سے سعد کا لفظ سن کر یہ نہ سمجھا کہ یہ سعد اَور ہے اور وہ سعد اَور، بلکہ جھٹ میرے خطبے پہ تبصرہ کر دیا۔ یہ میں نے سعد بن ابی وقاصؓ کا ذکر نہ کیا تھا جو مہاجر تھے بلکہ میں نے جس کا ذکر کیا وہ انصاری تھے۔ ان دو کے علاوہ اَور بھی بہت سے سعد ہیں بلکہ ساٹھ، ستّر کے قریب سعد ہیں۔ جس سعد کے متعلق میں نے ذکر کیا ان کا نام سعد بن عبادہؓ تھا۔ عرب کے لوگوں میں نام دراصل بہت کم ہوتے تھے اور عام طور پر ایک ایک گاؤں میں ایک نام کے کئی کئی آدمی ہوا کرتے تھے۔ جب کسی کا ذکر کرنا ہوتا تو اُس کے باپ کے نام سے اس کا ذکر کرتے مثلاً صرف سعد یا سعیدنہیں کہتے تھے بلکہ سعد بن عُبادہؓ یا سعد بن ابی وقاصؓ کہتے۔ پھر جہاں باپ کے نام سے شناخت نہ ہو سکتی وہاں ان کے مقام کا ذکر کرتے، جہاں مقام کے ذکر سے بھی شناخت نہ ہو سکتی وہاں اس کے قبیلہ کا ذکر کرتے۔ چنانچہ ایک سعد کے متعلق تاریخوں میں بڑی بحث آئی ہے کیونکہ نام ان کا دوسروں سے ملتا جلتا تھا اس لیے مؤرخین ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مثلاً ہماری مراد اَوسی سَعد سے ہے یا مثلاً خزرجی سَعد سے ہے۔ یہ اعتراض کرنے والے صاحب جو ہیں یا تبصرہ کرنے والے ان صاحب نے معلوم ہوتا ہے کہ ناموں کے اختلاف کو نہیں سمجھا اور یونہی اعتراض کر دیا مگر ایسی باتیں انسانی علم کو بڑھانے والی نہیں ہوتیں بلکہ جہالت کا پردہ فاش کرنے والی ہوتی ہیں۔ پھر آپؓ فرماتے ہیں کہ خلافت ایک ایسی چیز ہے جس سے جدائی کسی عزت کا مستحق انسان کو نہیں بنا سکتی۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ اِسی مسجد میں جہاں آپؓ خطبہ دے رہے تھے غالباً مسجد اقصیٰ ہے کہ مَیں نے حضرت خلیفہ اوّلؓ سے سنا، آپؓ فرماتے تھے کہ تم کو معلوم ہے کہ پہلے خلیفہ کا دشمن کون تھا؟ پھر خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت خلیفہ اوّلؓ نے فرمایا کہ قرآن پڑھو تمہیں معلوم ہو گا کہ اس کا دشمن ابلیس تھا۔ یعنی آدمؑ کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا تو اس کا دشمن ابلیس تھا۔ اس کے بعد آپؓ نے فرمایا یعنی حضرت خلیفہ اوّلؓ نے فرمایا کہ میں بھی خلیفہ ہوں اور جو میرا دشمن ہے وہ بھی ابلیس ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیفہ مامور نہیں ہوتا، گو یہ ضروری بھی نہیں کہ وہ مامور نہ ہو۔ حضرت آدمؑ مامور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔ حضرت داؤدؑ مامور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔ اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مامور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔ پھر تمام انبیاء مامور بھی ہوتے ہیں اور خدا کے قائم کردہ خلیفہ بھی۔ جس طرح ہر انسان ایک طور پر خلیفہ ہے اسی طرح انبیاء بھی خلیفہ ہوتے ہیں مگر ایک وہ خلفاء ہوتے ہیں جو کبھی مامور نہیں ہوتے۔ گو اطاعت کے لحاظ سے ان میں اور انبیاء میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اطاعت جس طرح نبی کی ضروری ہوتی ہے ویسے ہی خلفاء کی بھی ضروری ہوتی ہے۔ ہاں ان دونوں اطاعتوں میں ایک امتیاز اور فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نبی کی اطاعت اور فرمانبرداری اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ وہ وحیٔ الٰہی اور پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے مگر خلیفہ کی اطاعت اس لیے نہیں کی جاتی کہ وہ وحیٔ الٰہی اور تمام پاکیزگی کا مرکز ہے بلکہ اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ تنفیذِ وحیٔ الٰہی اور تمام نظام کا مرکز ہے یعنی جو وحی نبی پہ اتری ہے اس کی تنفیذ کرنے والا ہے۔ اور جو نظام نبی نے قائم کیا ہے اس کو چلانے کا مرکز ہے خلیفہ۔ اسی لیے واقف اور اہلِ علم لوگ کہا کرتے ہیں کہ انبیاء کو عصمتِ کبریٰ حاصل ہوتی ہے اور خلفاء کو عصمتِ صغریٰ۔ اسی مسجد میں (جہاں قادیان میں مصلح موعودؓ خطبہ فرما رہے ہیں کہ اسی مسجد میں) اسی منبر پر جمعہ کے ہی دن حضرت خلیفہ اوّلؓ سے میں نے سنا۔ آپؓ فرماتے تھے کہ تم میرے کسی ذاتی فعل میں عیب نکال کر اس اطاعت سے باہر نہیں ہو سکتے۔ اگر میرا کوئی ذاتی کام ہے اس میں کوئی عیب نکال لو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اطاعت سے باہر ہو گئے۔ کبھی نہیں ہو سکتے جو خدا نے تم پر عائد کی ہے۔ وہ اطاعت جو خدا نے تم پر عائد کی ہے تم اس سے باہر نہیں ہو سکتے کیونکہ جس کام کے لیے میں کھڑا ہوا ہوں وہ اَور ہے اور وہ نظام کا اتحاد ہے۔ اس لیے میری فرمانبرداری ضروری اور لازمی ہے۔ تو انبیاء کے متعلق جہاں الٰہی سنت یہ ہے کہ سوائے بشری کمزوریوں کے جس میں توحید اور رسالت میں فرق ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دخل نہیں دیتا اور اس لیے بھی کہ وہ امّت کی تربیت کے لیے ضروری ہوتی ہے جیسے سجدۂ سہو کہ وہ بھول کے نتیجے میں ہوتا ہے مگر اس کی ایک غرض امّت کو سہو کے احکام کی عملی تعلیم دینا تھی۔ ایسی غلطی نبی بھی کر سکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوئی اور سجدۂ سہو بھی آپؐ نے پھر ادا فرمایا۔ فرمایا کہ انبیاء کے تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتے ہیں اور وہاں خلفاء کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے، انبیاء کے لیے تو ہو گیا کہ تمام اعمال خدا کی حفاظت میں ہیں لیکن خلفاء کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اُن کے وہ تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں گے جو نظامِ سلسلہ کی ترقی کے لیے ان سے سرزد ہوں گے اور کبھی بھی وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے اور اگر کریں تو اس پر قائم نہیں رہیں گے جو جماعت میں خرابی پیدا کرنے والی اور اسلام کی فتح کو اُس کی شکست میں بدل دینے والی ہو۔ وہ جو کام بھی نظام کی مضبوطی یعنی خلیفۂ وقت جو کام بھی نظام کی مضبوطی اور اسلام کے کمال کے لیے کریں گے خدا تعالیٰ کی حفاظت اس کے ساتھ ہو گی اور اگر وہ کبھی غلطی بھی کریں تو خدا ان کی اصلاح کا خود ذمہ دار ہو گا گویا نظام کے متعلق خلفاء کے اعمال کے ذمہ دار خلفاء نہیں بلکہ خدا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلفاء خود قائم کیا کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے یعنی خلفاء غلطی نہیں کر سکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یا تو انہی کی زبان سے یا عمل سے خدا تعالیٰ اُس غلطی کی اصلاح کرا دے گا یا اگر ان کی زبان یا عمل سے غلطی کی اصلاح نہ کرائے تو اِس غلطی کے بدنتائج کو بدل ڈالے گا یعنی اس کے نتائج پھر بدنہیں نکلیں گے۔

فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت چاہے کہ خلفاء کبھی کوئی ایسی بات کر بیٹھیں جس کے نتائج بظاہر مسلمانوں کے لیے مضر ہوں اور جس کی وجہ سے بظاہر جماعت کے متعلق خطرہ ہو کہ وہ بجائے ترقی کرنے کے تنزل کی طرف جائے گی تو اللہ تعالیٰ نہایت مخفی سامانوں سے اس غلطی کے نتائج کو بدل دے گا اور جماعت بجائے تنزل کے ترقی کی طرف قدم بڑھائے گی اور وہ مخفی حکمت بھی پوری ہو جائے گی جس کے لیے خلیفہ کے دل میں ذہول پیدا کیا گیا تھا یعنی کوئی بھول ہو گئی تھی یا غفلت ہو گئی تھی، وہ حکمت پوری ہو جائے گی۔ مگر انبیاء کو یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہیں یعنی عصمتِ کبریٰ بھی اور عصمتِ صغریٰ بھی۔ وہ تنفیذ ونظام کا بھی مرکز ہوتے ہیں اور وحی و پاکیزگیٔ اعمال کا بھی مرکز ہوتے ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر خلیفہ کے متعلق ضروری ہے کہ وہ پاکیزگیٔ اعمال کا مرکز نہ ہو۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے، ممکن ہےکہ پاکیزگیٔ اعمال سے تعلق رکھنے والے بعض افعال میں وہ دوسرے اولیاء سے کم ہو۔ پس جہاں ایسے خلفاء ہو سکتے ہیں جو پاکیزگیٔ اعمال کا مرکز ہوں اور نظامِ سلسلہ کا مرکز بھی، وہاں ایسے خلفاء بھی ہو سکتے ہیں جو پاکیزگی اور ولایت میں دوسروں سے کم ہوں لیکن انتظامی قابلیت، نظامی قابلیتوں کے لحاظ سے دوسروں سے بڑھے ہوئے ہوں مگر ہرحال میں ہر شخص کے لیے ان کی اطاعت فرض ہو گی چونکہ نظام کا ایک حد تک جماعتی سیاست کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔

اب جماعتی سیاست سے لوگ ایک دم چونک گئے ہوں گے۔ بعضوں کو خیال آیا ہو گا کہ یہ جماعتی سیاست کیا ہوئی؟ یہاں لفظ‘سیاست’سے مراد عمومی طور پر ہماری زبان میں، زبان میں کیا؟ ہمارے ہاں عام طور پر جو مفہوم لیا جاتا ہے وہ منفی رنگ میں لیا جاتا ہے اور منفی رنگ میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ کچھ سیاست دانوں نے اس لفظ کو بدنام کر دیا ہے کہ جوڑ توڑ کرنا اور نقصان پہنچانا یا صحیح کام نہ کرنا لیکن حقیقت میں اس کا جو لغت میں مطلب ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نظام چلانے کا طریق۔ صحیح رنگ میں نظام چلانا اس کو سیاست کہتے ہیں۔ پھر حکمتِ عملی سے کام کرنا یہ ہے اس کا مطلب۔ برائیوں کو روکنے کے لیے نظام کو قائم کرنا یہ ہے اس کا مطلب۔ عقل اور حکمت سے کام کو چلانا۔ بین الاقوامی معاملات کو صحیح رنگ میں ادا کرنے کی صلاحیت ہونا یہ اصل سیاست ہے۔ گویا تمام مثبت باتیں اس لفظ کا مطلب ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم اصلی معنوں کو بھول کر سیاست دانوں کے عمل کی وجہ سے اور اپنی ہی غلط حرکتوں کی وجہ سے منفی مطلب لیتے ہیں لیکن بہرحال یہاں حضرت مصلح موعودؓ نے جو یہ لفظ سیاست استعمال کیا ہے وہ مثبت رنگ میں استعمال کیا ہے اور وہ ساری وہ باتیں ہیں جو میں نے بیان کی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ نظام کو چلانے کے لیے جو عقل اور حکمت اور دانائی اور صلاحیتیں ہونی چاہئیں۔ فرمایا کہ چونکہ نظام کا ایک حد تک جماعتی سیاست کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس لیے خلفاء کے متعلق غالب پہلو یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ نظامی پہلو کو برتر رکھنے والے ہوں۔ نظامی پہلو کو سب سے اوپر رکھیں۔ گو ساتھ ہی یعنی یہاں آپؓ نے اس بات کی وضاحت بھی کر دی۔ گو ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دین کے استحکام اور اس کے مفہوم کے قیام کو بھی مدّنظر رکھیں، نظامِ جماعت چلانا بھی فرض ہے خلیفۂ وقت کا اور ساتھ ہی ان کے لیے دین کے استحکام اور اس کے قیام کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جہاں خلافت کا ذکر کیا وہاں بتایا ہے کہ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ خدا ان کے دین کو مضبوط کرے گا اور اسے دنیا پر غالب کرے گا۔

پس جو دین خلفاء پیش کریں وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے مگر یہ حفاظتِ صغریٰ ہوتی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ جزئیات میں وہ غلطی کر سکتے ہیں اور خلفاء کا آپس میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے مگر وہ نہایت ادنیٰ چیزیں، معمولی چیزیں ہوتی ہیں جیسے بعض مسائل کے متعلق حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں اختلاف رہا بلکہ آج بھی امتِ محمدیہ ان مسائل کے بارے میں ایک عقیدہ اختیار نہیں کر سکی مگر یہ اختلاف صرف جزئیات میں ہوتا ہے۔ اصولی امور میں ان میں کبھی اختلاف نہیں ہو گا بلکہ اس کے برعکس ان میں بھی اتحاد ہو گا کہ وہ یعنی خلفاء دنیا کے ہادی اور رہنما اور اسے روشنی پہنچانے والے ہوں گے۔ پس یہ کہہ دینا کہ کوئی شخص باوجود بیعت نہ کرنے کے اس مقام پر رہ سکتا ہے جس مقام پر بیعت کرنے والا ہو درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص سمجھتا ہی نہیں کہ بیعت اور نظام کیا چیز ہے۔

مشورے کے متعلق بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ایکسپرٹ اور ماہر ِفن خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے مشورہ لے لیا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقدمے میں ایک انگریز وکیل کیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آپؑ نے امور ِنبوت میں اس سے مشورہ لیا۔ جنگِ احزاب ہوئی تو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ لیا اور فرمایا کہ تمہارے ملک میں جنگ کے موقعے پر کیا کیا جاتا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں تو خندق کھود لی جاتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا یہ بہت اچھی تجویزہے۔ چنانچہ خندق کھودی گئی اور اسی لیے اسے غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے مگر باوجود اس کے ہم نہیں کہہ سکتے کہ سلمان فارسیؓ فنونِ جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ماہر تھے۔ انہیں فنونِ جنگ میں مہارت کا وہ مقام کہاں حاصل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کام کیے وہ کب حضرت سلمان فارسیؓ نے کیے بلکہ خلفاء کے زمانے میں بھی انہیں یعنی حضرت سلمان فارسیؓ کو کسی فوج کا کمانڈر اِن چیف نہیں بنایا گیا حالانکہ انہوں نے لمبی عمر پائی تھی۔ تو ایک ایکسپرٹ خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے۔ آپؓ پھر اپنا بیان فرماتے ہیں کہ مَیں بیمار تھا تو انگریز ڈاکٹروں سے بعض مشورے لے لیتا ہوں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلافت میں بھی مَیں نے ان سے مشورہ لیا ہے یا ان سے مشورہ لیتا ہوں یا یہ کہ مَیں انہیں اسی مقام پر سمجھتا ہوں جس مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کو سمجھتا ہوں۔ صحابہؓ سے مشورہ لیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر سے مشورہ لینا اور صحابہ سے مشورہ لینا ایک بات ہے۔ صحابہؓ کا مقام بہرحال بلند ہے۔ فرمایا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ مَیں نے طب میں مشورہ لیا۔ ایک خاص فیلڈ، ایک خاص شعبہ ہے اس میں مشورہ لیا یا کسی خاص بات کے لیے مشورہ لیا۔ پس فرض کرو کہ سعد بن عبادہؓ سے کسی دنیوی امر میں جس میں وہ ماہر ِفن ہوں مشورہ لینا ثابت بھی ہو تو یہ نہیں کہا جا سکتا، تب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے۔ مگر ان سے متعلق تو کوئی صحیح روایت ایسی نہیں جس میں ذکر آتا ہو کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے بلکہ مجموعی طور پر روایات یہی بیان کرتی ہیں کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے تھے اور صحابہ پر یہ اثر تھا کہ وہ اسلامی مرکز سے منقطع ہو چکے ہیں۔ اسی لیے ان کی وفات پر صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے نزدیک ان کی موت کو بھی اچھے رنگ میں نہیں سمجھا گیا کیونکہ یوں تو ہر ایک کو فرشتہ ہی مارا کرتا ہے مگر ان کی وفات پر خاص طور پر کہنا کہ انہیں فرشتوں نے یا جنّوں نے مار دیا، بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک وفات ایسے رنگ میں ہوئی کہ گویا خداتعالیٰ نے انہیں اپنے خاص فعل سے اٹھا لیا کہ وہ شِقاق کا موجب نہ ہوں یعنی بہرحال بدری صحابہ میں سے تھے تو کسی قسم کے نِفاق یا کوئی اَور مخالفت یا اَور کوئی ایسی بات کا موجب نہ ہوں جس سے پھر ان کا وہ مقام گرتا ہو لیکن بہرحال وہ علیحدہ ہو گئے۔

یہ بیان کرنے کے بعد آپؓ فرماتے ہیں کہ یہ تمام روایات بتلاتی ہیں کہ ان کی وہ عزت صحابہؓ کے دلوں میں نہیں رہی تھی جو ان کے اُس مقام کے لحاظ سے ہونی چاہیے تھے جو کبھی انہوں نے حاصل کیا تھا۔ اور یہ کہ صحابہؓ ان سے خوش نہیں تھے ورنہ وہ کیونکر کہہ سکتے تھے کہ فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا بلکہ ان الفاظ سے بھی زیادہ سخت الفاظ ان کی وفات پر کہے گئے ہیں جنہیں میں اپنے منہ سے کہنا نہیں چاہتا۔

پس یہ خیال کہ خلافت کی بیعت کے بغیر بھی انسان اسلامی نظام میں اپنے مقام کو قائم رکھ سکتا ہے واقعات اور اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور جو شخص اس قسم کے خیالات اپنے دل میں رکھتا ہے مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ بیعت کا مفہوم ذرہ بھی سمجھتا ہو۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 95 تا 101، خطبہ جمعہ فرمودہ 08 فروری 1935ء)

حضرت سعد بن عبادہؓ کی وفات حوران ملکِ شام میں ہوئی۔ حضرت عمرؓ کے خلیفہ منتخب ہونے کے اڑھائی سال کے بعد ہوئی تھی۔ علامہ ابنِ حجر عسقلانی کے مطابق ان کی وفات شام کے شہر بُصریٰ میں ہوئی تھی۔ یہ شام کا پہلا شہر تھا جو مسلمانوں نے فتح کیا تھا۔ مدینہ میں ان کی موت کا پتا نہیں لگا، پھر کس طرح علم ہوا؟یہ روایت آتی ہے یہاں مدینہ میں اس کا علم اس وقت ہوا کہ جب بِئْرِ مَنَبِّہْ یا بِئْرِسَکَنْ کے کنویں تھے ان میں دوپہر کی سخت گرمی میں چھلانگیں لگانے والے لڑکوں میں سے ایک نے کنویں میں سے کسی کویہ کہتے ہوئے سنا کہ

قَدْ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَہ

وَرَمَیْنَاہُ بِسَھْمَیْنِ فَلَمْ نُخْطِ فُؤَادَہ

کہ ہم نے خزرج کے سردار سعد بن عبادہؓ کو قتل کر دیا۔ ہم نے اسے دو تیر مارے ہم نے اس کے دل پر نشانہ لگانے سے خطا نہ کیا۔ لڑکے ڈر گئے اور لوگوں نے اس دن کو یاد رکھا۔ لوگوں نے اسے وہی دن پایا جس روز حضرت سعدؓ کی وفات ہوئی تھی۔ سعدؓ بیٹھے پیشاب کر رہے تھے کہ انہیں قتل کر دیا گیا اور وہ اسی وقت وفات پا گئے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ کی وفات حضرت عمرؓ کے دَورِ خلافت میں ہوئی۔ ان کی وفات کے سال میں اختلاف ہے۔ بعض روایات کے مطابق 14؍ ہجری میں اور بعض کے مطابق 15؍ہجری میں اور بعض کے مطابق وفات 16؍ ہجری میں ہوئی۔ حضرت سعدؓ کی قبر دمشق کے قریب نشیبی جانب واقع ایک گاؤں مَنِیْحَہْ میں ہے۔ طبقات الکبریٰ کا یہ حوالہ ہے۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3، صفحہ463 سعد بن عباده، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2012ء) (الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی جلد03صفحہ56 سعد بن عبادہ، دار الکتب العلمیہ بیروت 2005ء) (الاستیعاب فی معرفة الاصحاب المجلد الثانی صفحہ 164 سعد بن عبادہ داراکتب العلمیہ بیروت لبنان 2002ء)

اب اس کے بعد میں دو مرحومین کا ذکر کروں گا جن کا ابھی جنازہ بھی پڑھاؤں گا ان شاء اللہ۔

پہلے ہیں مکرم سید محمد سرور شاہ صاحب جو صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ممبر تھے۔ 8؍جنوری کو 85سال کی عمر میں یہ وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ گذشتہ کچھ عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے لیکن بڑی ہمت سے، صبر سے، حوصلے سے انہوں نے بیماری کا سامنا کیا اور آخر تک اپنے فرائضِ منصبی احسن رنگ میں ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کبھی بیماری کو آڑے نہیں آنے دیا۔ آپ موضع سونگڑاصوبہ اڑیشہ کے ایک معروف مخلص احمدی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے پڑنانا حضرت سید عبدالرحیم صاحبؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور نانا مکرم مولوی عبدالعلیم صاحب مرحوم ایک جیّد عالمِ دین تھے اور شاعر بھی تھے۔ اور آپ کی ولادت پر آپ کے والدنے اپنے خسر سے نام تجویز کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے خواب میں سید سرور شاہ صاحب کو دیکھا ہے کہ ہمارے گھر آئے ہیں۔ اس لیے اس کا نام بھی سید سرور رکھ لیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جو انہوں نے ضلع کٹک میں حاصل کی بی۔ اے پاس کیا۔ پھر پرائیویٹ سکول میں ہیڈ ماسٹر ہو گئے۔ اس کے بعد اڑیشہ ہائی کورٹ میں اسسٹنٹ رہے۔ پھر آڈٹ آفیسر کے عہدے پر فائز رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 1995ء میں جماعتی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا۔ حضرت خلیفہ المسیح الرابعؒ نے 1996ء میں بعض کام ان کے سپرد کیے، ان کا انچارج بنایا۔ ان کو عمرہ کی بھی توفیق ملی۔ مرکزی آڈیٹر اور کئی معاملات میں ون مین کمیشن (one man commission) کے طور پر بھی حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے ان کو مقرر فرمایا اور پھر یہ آخر تک اسی آڈٹ کے عہدے پر رہے۔ اور مرحوم کو نو سال تک بطور صدر قضاء بورڈ خدمت کی توفیق ملی۔ اسی طرح کئی اہم مرکزی کمیٹیوں کے صدر اور ممبر بھی رہے اور وفات تک صدر انجمن احمدیہ کے ممبر ہونے کی توفیق پائی۔ انتظامی صلاحیت بڑی اچھی تھی۔ لمبا عرصہ مرکزی آڈیٹر کے طور پر بھی خدمت کی توفیق ملی جیسا کہ میں نے کہا۔ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خط میں فرمایا کہ آپ خوب کام کر رہے ہیں۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔ بلاخوف اظہار ِحقیقت کرنے کی ادا بہت پسند آئی ہے آپ کی۔ ماشاء اللہ بڑے باریک اور اہم پہلوؤں پر نظر جاتی ہے۔ آپ اسی طرح اپنے پروگرام کے مطابق اپنا کام کرتے رہیں اور آپ کو اس سے کوئی روک نہیں سکتا اللہ آپ کو صحت دے اور عمر میں برکت بخشے۔ (اس وقت ان کی صحت اور عمر کی دعا بھی دی)۔

قادیان کے ناظم صاحب دارالقضاء بیان کرتے ہیں کہ قضاء کے جملہ کارکنان کے ساتھ بہت محبت کا تعلق رہا۔ بورڈ میں زیرِ کارروائی مقدمات میں حتی الامکان جلد فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ موصوف بہت احتیاط کے ساتھ مسل کا جائزہ لیتے تھے۔ انصاف پر مبنی فیصلہ کروانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ صائب الرائے تھے اور حساس معاملات میں اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کے طالب رہتے تھے۔

ڈاکٹر طارق صاحب ان کے داماد ہیں۔ نور ہسپتال قادیان کے سینیئر میڈیکل افسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ باقاعدگی سے تہجد ادا کرنے کے علاوہ مسجد مبارک میں نمازیں بروقت ادا کرتے تھے۔ ہاتھ پیر جب لڑکھڑانے لگے، صحیح طرح چل نہیں سکتے تھے تو دوسروں کے سہارے مسجد جاتے تھے۔ نمازِ جمعہ میں ہمیشہ وقت پر جا کر پہلی صف میں بیٹھتے تھے۔ نمازِ مغرب سے عشاء تک مسجد میں بیٹھ کر نوافل، دعاؤں اور تسبیحات میں مشغول رہتے تھے۔

ناظرِاعلیٰ قادیان نے بھی لکھا ہے ان کی خوبیاں بہت تھیں۔ بڑی ملنساری تھی۔ مہمان نوازی تھی۔ بڑے انتھک محنتی انسان تھے۔ غریبوں کے ہمدرد تھے اور اپنے افسرانِ بالا کے نہایت مطیع اور فرمانبردار تھے۔ خلافت سے وابستگی گہری تھی اور دوسروں کو بھی اس کی، خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرحوم موصی تھے اور مرحوم کے سب بیٹے بیٹیاں جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اور ان کے چھوٹے بیٹے سید محمود احمدنور ہسپتال قادیان میں بطور فارماسسٹ (pharmacist) خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے دونوں داماد سید تنویر احمد صاحب اور ڈاکٹر طارق احمد صاحب واقفِ زندگی ہیں۔ قادیان میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے داماد جو سید حسن خان ہیں وہ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد جماعت کی خدمت رضاکارانہ طور پر کر رہے ہیں۔ جب تک صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم ناظر اعلیٰ رہے ہمیشہ ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے آڈٹ کیا اور ان سے متعلقہ سوالات کیا کرتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ سارے قادیان میں میاں صاحب جیسا محبت کرنے والا وجود کوئی نہیں تھا۔ دارالمسیح میں رہتے تھے اور حضرت میاں صاحب ان کا بڑا خیال رکھا کرتے تھے۔ بعض اوقات شاہ صاحب ان کی محبتوں اور شفقتوں کو یاد کر کے رو پڑا کرتے تھے۔ درویشانِ قادیان کا بڑا احترام کرتے تھے اور خود بھی انہوں نے بڑی عاجزی سے اور درویشی کی زندگی گزاری۔ طلباء جامعہ احمدیہ سے بڑی محبت کا سلوک تھا۔ علماء کی بڑی عزت فرمایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ جو پڑھا جائے گا وہ محترمہ شوکت گوہر صاحبہ کا ہے جو ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب ربوہ کی اہلیہ تھیں اور مولانا عبدالمالک خان صاحب مرحوم کی بیٹی تھیں۔ پانچ جنوری کو ربوہ میں ان کی ستتر سال کی عمر میں وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ اللہ کے فضل سے آپ بھی موصیہ تھیں۔ آگرے میں یہ پیدا ہوئی تھیں اور اُن دنوں میں ان کے والد مولانا عبدالمالک خان صاحب وہاں بطور مربی متعین تھے۔ پھر یہ والدین کے ساتھ حیدر آباد دکن میں رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی شفٹ ہو گئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور تعلیم میں، پڑھائی میں بہت ہوشیار تھیں۔ ہمیشہ اچھی پوزیشن لیا کرتی تھیں۔ بڑی چھوٹی عمر سے خدمت سلسلہ کا ان کو شوق تھا۔ ناصرات کی سیکرٹری بنی ہیں تو وہاں کراچی کی ناصرات کو صفِ اول میں لے آئیں۔ پھر اس کے بعد جب 1961ء میں ان کا نکاح ڈاکٹر لطیف قریشی صاحب کے ساتھ ہوا ہے تو وہ میڈیکل کالج میں پڑھ رہے تھے۔ اس کے بعد جب وہ انگلستان آ گئے تو یہ ان کے ساتھ رخصت ہو کر یہاں آئیں۔ پھر یہاں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو جب لکھا تو انہوں نے آپ کو کہا کہ پاکستان آئیں اور فضلِ عمر ہسپتال میں ان کا تقرر فرمایا۔ انہوں نے بھی اپنے خاوند کے ساتھ بڑی بشاشت سے ربوہ جاکر وہاں خدمت شروع کی اور خدمتِ سلسلہ کے مواقع بھی ان کو میسر آئے۔ انہوں نے وہاں لجنہ کا بہت کام کیا ہے اور ان کے زمانے میں ربوہ کا رہنے والا ہر شخص، ہر عورت میرا خیال ہے ہر بچی بھی ان کی خدمات کو جانتی ہوگی۔

میری والدہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ جب صدر لجنہ ربوہ تھیں تو انہوں نے ان کو مجلسِ عاملہ میں جنرل سیکرٹری مقرر کیا تھا۔ اور پندرہ سال تک اس کام پر متعین رہیں۔ اور انہیں سے انہوں نے ٹریننگ لی تھی۔ اس کے بعد بڑی اعلیٰ انتظامی صلاحیت کے ساتھ انہوں نے کام کیا۔ پھر مرکزی عاملہ میں بھی سیکرٹری کے طور پر کام کیا۔ پھر ان کو مَیں نے جنرل سیکرٹری مرکزیہ، پاکستان مقرر کیا۔ چھ سال تک وہاں بھی انہوں نے بڑی اعلیٰ خدمات سرانجام دی ہیں اور اپنی علالت کی وجہ سے لجنہ کا کام چھوڑنا پڑا لیکن پھر بھی موقع ملتا رہتا تھا۔ کسی نہ کسی طریقے سے خدمت کرتی رہتی تھیں۔ پچاس سال تک مختلف شعبہ جات میں انہوں نے خدمتِ سلسلہ کی توفیق پائی ہے اور آپ کے ساتھ کام کرنے والی ہر عورت، ہر بچی آپ کی بڑی تعریف کرتی ہے۔ ہمسایوں کے ساتھ حسنِ سلوک، غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال، مہمان نوازی، چندوں کی خاص طور پر ادائیگی اور توجہ اور پہلی فرصت میں ادا کرنا یہ سب ان کی خاصیت تھی۔ بلکہ وقفِ جدید کی ادائیگی کا اس سال بھی جب اعلان کیا تو انہوں نے اُسی وقت، وفات سے چند دن پہلے اپنا چندہ ادا کر دیا۔ پانچ کو وفات ہوئی ہے اور یکم کو اعلان ہوا تو فوراً پہلے ادا کیا۔

ڈاکٹر قریشی صاحب لکھتے ہیں کہ مرحومہ نے پچاس سالہ دورِ رفاقت میں بہترین بیوی، بہترین ماں، بہترین بہن اور بہترین بیٹی کے طور پر اپنے حقوق ادا کیے۔ ایک چیز یہاں لکھنے والے نے چھوڑ دی ہے یا ڈاکٹر صاحب نے بیان نہیں کی کہ بہترین بہو بھی تھیں۔ شاید غلطی سے رہ گیا۔ ان کی ساس اور سسر ان کے ساتھ رہے بلکہ اب تک حیات ہیں اور ساتھ ہیں تو ان کی انہوں نے خدمت کی۔ بیماری میں بھی خدمت کی اور ماں کی طرح ان کو رکھا۔ الغرض آپ مثالی زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئی تھیں۔ بیماری بہت لمبی تھی اس کے باوجود گھر کے کاموں میں دلچسپی لیتیں اور ان کو مکمل کرتیں۔ بیماری میں کبھی شکوہ زبان پر نہیں آیا۔ بیماری کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ خلافت کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ ان کے پسماندگان میں ان کے خاوند ڈاکٹر لطیف قریشی صاحب کے علاوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور دو بیٹے اور ایک بیٹی ڈاکٹر ہیں۔ ایک بیٹا انجینئر ہے۔ سارے پڑھے لکھے ہیں۔ ان کو سخت حالات میں پڑھایا اور کسی بیٹی نے ان کو ایک دفعہ کہا کہ آپ کبھی زیور نہیں پہنتیں، کوئی اچھا لباس نہیں بناتیں تو انہوں نے کہا جو میں بچت کرتی ہوں تم لوگوں کی تعلیم پر خرچ کرتی ہوں اور یہی مَیں چاہتی ہوں میرا زیور اور میرا لباس یہی ہےاگر تم لوگ اعلیٰ پڑھ لکھ جاؤ اور جماعت کے لیے بھی مفید بن جاؤ، مفید وجود بنو اور اپنے آپ کو بھی سنبھالنے والے ہو۔

بڑی سچی رؤیا دیکھنے والی تھیں، صاحبِ رؤیا و کشوف بھی تھیں۔ ان کی کئی خوابیں جو ان کے بچوں نے لکھی ہیں پوری ہوئیں۔ ایک بیٹی کو داخلے کے وقت بتایا کہ تمہارا فلاں میڈیکل کالج میں داخلہ ہوگا، مَیں نے خواب میں دیکھا ہے اور وہیں ان کا داخلہ ہوا۔ اسی طرح ان کی اَور بہت بے شمار خوابیں ہیں۔ اللہ کے فضل سے بڑی نیک خاتون تھیں اور اپنی بہنوں وغیرہ کا خیال رکھا۔

ان کے بیٹے عبدالمالک نے لکھا ہے کہ جماعت کی بے لوث خدمت کرنے والی تھیں۔ کئی دفعہ دفتر لجنہ سے دارالعلوم تک شدید گرمی میں پیدل چلتی آئیں اور کبھی ایک دفعہ بھی شکوہ نہیں کیا۔ اور عید کے موقعے پر ہمیشہ قریبی اور دور کے ہمسایوں کو گھر سے میٹھا بنا کر بھیجا کرتی تھیں اور ہمیشہ یہ کہتی تھیں کہ اگر ہم دین سے وابستہ رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کبھی ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔

ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ شادی کے بعد جب میرے بچے ہوئے جو امریکہ میں رہتے ہیں تو مجھے ہمیشہ تلقین کی کہ امریکہ اور باہر کے ملکوں کے عمومی بُرے ماحول سے بچنے کے لیے اپنے بچوں سے پیار اور دوستی کا تعلق رکھنا۔ گھر کا ماحول ایسا بناؤ کہ ان کا گھر میں دل لگے اور باہر جانے کے بجائے وہ گھر میں زیادہ وقت گزاریں۔ پھر یہ بیٹی کہتی ہیں کہ میڈیکل کالج میں ایک دفعہ لڑکیوں نے میری مخالفت کی۔ احمدی ہونے کی وجہ سے بائیکاٹ کر دیا۔ مَیں نے اپنی امی کو فون کیا اور رونے لگی تو انہوں نے بڑے اچھے انداز میں نصیحت کی اور فرمایا کہ اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ یہ تو انبیاء کی سنت ہے جس پر تمہیں چلنے کا موقع مل رہا ہے اور یہ کہا کہ لکھ لو کہ اگر احمدیت کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی تو اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا اور امتحان میں بھی کامیاب ہو گی۔ چنانچہ کہتی ہیں کہ مَیں امتحان میں نہ صرف کامیاب ہوئی بلکہ وہی شرارتی لڑکیاں سب کی سب فیل بھی ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیک ہوں۔ صالح ہوں اور خادمِ دین ہوں اور خلافت سے ہمیشہ تعلق رکھنے والے، وفا کا تعلق رکھنے والے ہوں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا نمازوں کے بعد ان دونوں کی نمازِ جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔

(الفضل انٹر نیشنل لندن 07؍ فروری 2020ء صفحہ 5تا9)


  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 17؍ جنوری 2020ء شہ سرخیاں

    جو دین خلفاء پیش کریں وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے۔

    خلافت ایک ایسی چیز ہے جس سے جدائی کسی عزت کا مستحق انسان کو نہیں بنا سکتی۔

    خلیفہ کی اطاعت اس لیے …کی جاتی ہے کہ وہ تنفیذِ وحیٔ الٰہی اور تمام نظام کا مرکز ہے۔

    ہرحال میں ہر شخص کے لیے خلیفۂ وقت کی اطاعت فرض ہو گی۔

    یہ کہہ دینا کہ کوئی شخص باوجود بیعت نہ کرنے کے اس مقام پر رہ سکتا ہے جس مقام پر بیعت کرنے والا ہو درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص سمجھتا ہی نہیں کہ بیعت اور نظام کیا چیز ہے۔

    یہ خیال کہ خلافت کی بیعت کے بغیر بھی انسان اسلامی نظام میں اپنے مقام کو قائم رکھ سکتا ہے۔

    واقعات اور اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور جو شخص اس قسم کے خیالات اپنے دل میں رکھتا ہے مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ بیعت کا مفہوم ذرہ بھی سمجھتا ہو۔

    خلیفۂ وقت کی بیعت، خلافت کا مقام اور خلافت کی اطاعت کے بارے میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے ارشادات کی روشنی میں بصیرت افروز بیان۔

    اخلاص و وفا کے پیکر بدری صحابی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی سیرتِ مبارکہ کا تذکرہ۔

    سلسلے کے دیرینہ خادم مکرم سید محمد سرور شاہ صاحب، ممبر صدر انجمن احمدیہ قادیان اور نصف صدی تک خدمات سلسلہ بجالانے والی محترمہ شوکت گوہر صاحبہ کی وفات۔ مرحومین کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب۔

    فرمودہ 17؍جنوری2020ء بمطابق 17؍صلح 1399 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، (سرے)، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور