احمدیت کی صداقت: ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ 12؍ ستمبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ دنوں امریکہ سے مجھے ایک خط آیا کہ جلسے پر آپ اپنی تقریر میں واقعات بیان کررہے تھے کہ کس طرح لوگ احمدیت میں شامل ہو رہے ہیں۔ کس طرح تبلیغ کے ذریعہ اور براہ راست بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ سے بھی احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔ لوگ ایمان میں مضبوط ہو رہے ہیں اور احمدیت کی سچائی بھی ان کے دلوں میں گڑتی چلی جا رہی ہے۔ تو یہ سب سن کر وہ کہتے ہیں میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میرے ذریعہ سے بھی دنیا کے اس حصہ میں کوئی احمدیت میں شامل ہو اور میں بھی اس طرح کے نشان دیکھوں۔ کہتے ہیں کچھ دیر کے بعد میرے فون کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف ایک خاتون تھی۔ کہنے لگیں کہ میں نے کہیں سے بلکہ ویب سائٹ پر آپ کا نمبر دیکھا تھا تو مَیں فون کر رہی ہوں۔ مجھے اسلام میں دلچسپی ہے اور میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے آ جائیں۔ خیر بڑی دُور کا سفر کر کے وہ ان کے پاس گئیں۔ اپنے حالات بتائے کہ کس طرح اسلام میں ان کی دلچسپی پیدا ہوئی۔ پھر انٹرنیٹ کے ذریعہ سے انہوں نے مزید معلومات حاصل کیں جس کی وجہ سے ان کے خاوند اور سسرال جو کٹر عیسائی ہیں وہ بھی ان کے خلاف ہو گئے۔ ان کی ناراضگی مول لی۔ اس وجہ سے خاوند سے علیحدگی ہو گئی۔ ان کے دو بچے ہیں وہ بھی عدالت کے فیصلے کے مطابق خاوند کو دینے پڑے۔ لیکن انہوں نے سچائی کی تلاش کو مقدم رکھا اور یہ سب کچھ چھوڑ دیا۔ بہرحال کہتی ہیں کہ جماعت احمدیہ کی سائٹ پر جا کر میں نے گہرا مطالعہ کیا ہے اور ایم ٹی اے بھی باقاعدگی سے دیکھتی ہوں اور یہ بھی بتایا کہ دوسرے مسلمان فرقوں کی بھی معلومات لیں لیکن میری تسلی کہیں نہیں ہوئی۔ اور ہر مرتبہ جب بھی مَیں اسلام کی طرف توجہ کرتی تھی تو جماعت کا لٹریچر پڑھنے کی طرف میری توجہ رہتی تھی۔ ہمارے ان احمدی نے انہیں بتایا کہ گزشتہ دنوں ایم ٹی اے پر ہمارا جلسہ بھی تھا۔ انہوں نے کہا ہاں، وہ جلسہ بھی میں نے سنا اور اب میں حقیقی اسلام میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔ یہ لکھتے ہیں کہ میری بیٹی جو اس وقت اس کے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور وہاں موجود تھی۔ وہ یونیورسٹی میں شاید پڑھتی ہے، کہنے لگی کہ جب جلسے پر احمدیت میں نئے آنے والوں، نئے شامل ہونے والوں کے واقعات بیان ہو رہے تھے کہ کس طرح ان کو احمدیت کی صداقت پر یقین آیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی کے واقعات بیان ہو رہے تھے تو مَیں سمجھی تھی ان میں کچھ قصے ہیں، کچھ مبالغہ ہے۔ لیکن اس عورت کی یہ باتیں سن کر میرا ایمان بھی تازہ ہوا ہے کہ یہ مبالغہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا کے دلوں کو پھیر رہا ہے۔ کس طرح اللہ تعالیٰ رہنمائی کرتا ہے؟ پس بعض پڑھے لکھے لوگوں یا نوجوانوں میں بھی بعض دفعہ خیال آ جاتا ہے کہ شاید کوئی واقعہ بڑھا چڑھا کر بیان ہو رہا ہو لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جو بھی واقعات یہاں بیان ہوتے ہیں، یہ قصے کہانیاں نہیں بلکہ حقائق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چلائی ہوئی ہوا کے وہ چندنمونے ہیں جو مَیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ ایسے بیشمار واقعات ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک مَیں لیتا ہوں اور جلسے کے لئے جو واقعات چنے جاتے ہیں وہ بھی وہاں بیان نہیں ہو سکتے۔ اس لئے گزشتہ سال مَیں نے کہا تھا کہ دوران سال بھی مَیں موقع ملا تو بیان کرتا رہوں گا۔ لیکن کچھ بیان ہوئے، کچھ نہیں ہو سکے۔ پھر اس سال کے بہت سارے واقعات جمع ہوگئے۔

بہرحال یہ واقعات مَیں اس لئے بیان کرتا ہوں کہ ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو اور ہم بھی اپنے جائزے لیتے رہیں کہ کس حد تک ہمارے اندر بھی احمدیت کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ کس طرح ہمیں بھی اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ کس طرح ہمیں بھی احمدیت قبول کرنے کے بعد خدا تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔

بہرحال اس حوالے سے آج مَیں نئے شامل ہونے والوں کے کچھ واقعات بیان کروں گا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔ انہیں صرف دلچسپ واقعات سمجھ کر ہمیں نہیں سننا چاہئے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور بننی چاہئے۔ اپنی حالتوں کے جائزے لینے والی ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے جماعت کے ساتھ سلوک پر شکر گزاری کے جذبات کا اظہار کرنے والی ہونی چاہئے۔ اپنی ذمہ داری کا احساس اور اس کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے۔ دنیا تک صداقت کا پیغام پہنچانا، ان کی رہنمائی کرنا آج ہمارا کام ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے۔ پس اس کام کی ادائیگی کی طرف جہاں ہمیں کوششوں کی ضرورت ہے وہاں اپنی عملی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ڈھالنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ ہمارے عملی نمونے نئے آنے والوں کے ایمانوں کو مزید مضبوط کرتے چلے جائیں۔ بہرحال جیسا کہ مَیں نے کہا اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور کس طرح اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے اس کے نمونے پیش کروں گا۔

تیونس سے ایک صاحبہ منیہ صاحبہ ہیں وہ لکھتی ہیں کہ مجھے مطالعہ کا بڑا شوق ہے۔ مَیں نے قرآن کریم اور کئی دوسری اسلامی کتب کا بھی مطالعہ کیا لیکن کئی باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ مثلاً سورۃ النساء کی آیت وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ (النساء: 158) اسی طرح وفات مسیح کے متعلق دوسری آیات ہمیشہ میری توجہ کا مرکز رہیں کہ کیا مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں یا زندہ آسمان پر ہیں؟ پھر ریاض الصالحین میں دجّال کے اوصاف پڑھے اور خیال آیا کہ خیرِ اُمّت میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص کیسے بھجوا سکتا ہے؟ خیال آتا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر بیٹھے کیا کر رہے ہیں؟ ان خیالات سے پریشان ہو جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرتی تھی۔ اچانک ایک روز چینل بدلتے ہوئے ایم ٹی اے مل گیاجو دوسرے تمام دینی چینلز سے مختلف تھا۔ اس پر ایک پادری کے ساتھ وفات مسیح پر بحث چل رہی تھی۔ دوسرے چینلز کے برعکس میزبان اور شرکاء کی گفتگو بڑی پُروقار تھی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام ظاہر ہو چکے ہیں۔ پھر باقاعدگی سے ایم ٹی اے دیکھتی رہی اور سارے مسائل آہستہ آہستہ سمجھ آتے گئے۔ پھر مَیں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے موت نہ آئے جب تک احمدی نہ ہو جاؤں۔ بالآخر مَیں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئی۔ یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔

پھر یمن سے غمدان صاحب اپنی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ مجھے چین میں جا کے چینی معاشرے میں رہنے کا موقع ملا اور ان کو بہت اچھے لوگ پایا۔ یہ بھی دیکھا کہ بعض عرب ان کے حسنِ معاملہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے اور ان کو برا بھلا بھی کہتے۔ مجھے خیال آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ لو گ اپنے تمام حسنِ اخلاق اور حسنِ عمل کے باوجود جہنم میں جائیں اور ہم صرف نام کے مسلمان ہونے پر جنّت کے وارث ٹھہریں؟ اس کے بعد کہتے ہیں، مَیں نے تحقیق کی اور اسلامی کتب پڑھنی شروع کیں۔ یہ تحقیق جاری رہی۔ مختلف اسلامی کتب اور چینلز دیکھے۔ اسی دوران ایک روز اچانک ایم ٹی اے دیکھنے کا موقع مل گیا۔ اس میں بیان ہونے والے دلائل اتنے قوی تھے کہ ان کی قوت اور ہیبت سے میرا جسم کانپ اٹھا۔ ایسا لگا جیسے جسم میں کوئی بجلی کا کرنٹ لگا ہو۔ اس کے بعد مستقل ایم ٹی اے دیکھنے لگا۔ اس کو دیکھتے دیکھتے بے اختیار رونے لگتا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ کیوں روتا ہوں۔ یہ احساس غالب تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے اس چینل کی طرف رہنمائی کی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت جاننے کے لئے اللہ تعالیٰ سے کثرت سے دعا کرنے لگا۔ ہر بار مجھے اس کا جواب جسم پر کپکپی اور ذہنی اطمینان کی صورت میں ملتا۔ اس سے تسلّی ہو جاتی کہ مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کیا جن میں میرے اکثر سوالات کا جواب تھا۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ مَیں بیعت کر کے جماعت کا حصہ بن گیا۔

پھر ہالینڈ سے Tom Overgoor صاحب، قبولیت کے اپنے واقعات کو لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری عمر 22سال ہے اور یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ میں نے 2014ء کے شروع میں ایمسٹرڈم میں مسجد بیت المحمود میں بیعت کی۔ مجھے ہمیشہ ہی سے دین سے لگاؤ تھا اور ایک خاص عمر میں تو خدا کی ہستی پر ایمان بھی بہت تھا مگر کبھی خاص مذہب کی طرف توجہ نہ تھی۔ مجھے روز بروز اس بات کا احساس ہوتا گیا کہ دنیا میں برائی پھیل گئی ہے۔ یہ نوجوان ہے اور یہ ان کی سوچ ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو بھی سوچنا چاہئے جو بعض پیدائشی احمدی ہیں اور اس بات پر سوچتے ہی نہیں۔ کہتے ہیں مجھے روز بروز اس بات کا احساس ہوتا گیا کہ دنیا میں برائی بہت پھیل گئی ہے۔ اس بات نے مجھے مجبور کیا اور مَیں زندگی کے مقصد کی تحقیق میں لگ گیا۔ مَیں نے بہت مطالعہ کیا اور دوستوں سے اس بارے میں گفتگو کی۔ اس تحقیق کے دوران میرا دل اسلام کی طرف مائل ہونا شروع ہو گیا۔ اس حوالے سے میں اپنے دو احمدی دوستوں کے ساتھ بھی گفتگو کرتا رہا۔ ان کے ساتھ نن سپیٹ میں جماعتی سینٹر بھی گیا جہاں جماعتی ماحول دیکھا۔ اس سے مجھ پر واضح ہو گیا کہ حقیقی اسلام احمدیت ہی ہے اور اور مجھ پر یہ بھی واضح ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقتاً اس دنیا میں آ چکے ہیں۔ تمام مسلمان اتحاد کی تلاش میں ہیں اور احمدیت ہی وہ واحد سلسلہ ہے جس میں حقیقی اور مضبوط اتحاد ہے اور جس میں حقیقی ایمان کی حلاوت پائی جاتی ہے۔ لکھتے ہیں مَیں نے خلیفۃ المسیح کی خدمت میں دعا کا خط لکھا اور خط لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرمایا۔ اسلام کی حقانیت پورے طور پر مجھ پر واضح ہو گئی اور مسجد محمود جا کر میں نے بیعت کر لی۔ میں نماز پڑھنا سیکھ رہا ہوں۔ پاکباز زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ پھر قرغیزستان سے سلامت صاحب ہیں۔ جماعت کے صدر ہیں۔ کہتے ہیں کہ جہاں مَیں کام کرتا ہوں وہاں میری ایک colleague رشین خاتون جو عیسائی تھیں ان کے ساتھ مذہب کے متعلق گفتگو ہوئی۔ کہتے ہیں گفتگو کے دوران انہوں نے خاکسار سے کہا کہ مجھے اپنے مذہب پر دلی اطمینان نہیں ہے۔ انہیں اسلام احمدیت کا تعارف کروایا گیا اور کتاب’اسلامی اصول کی فلاسفی‘ دی گئی تو کہنے لگی کہ مذہب کے بارے میں میرے جتنے بھی سوالات تھے مجھے ان کے جوابات مل گئے اور مجھے تسلی ہو گئی ہے کہ واقعی اسلام حقیقی اور سچا مذہب ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مزید جماعتی کتب کا مطالعہ کیا اور اسلام کی صداقت پر ان کا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ موصوفہ قادیان بھی گئیں اور بیعت بھی کر لی اور اب نظام وصیت میں بھی شامل ہیں۔ پھر ہالینڈ سے ہرجان (Arjan) صاحب جو کہ مذہباً عیسائی تھے، اپنی قبولیت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی محبت کے حصول کی ہمیشہ تلاش تھی مگر بائبل نے میری کبھی بھی حقیقی رہنمائی نہیں کی۔ ایک دن گھر سے نکلنے سے پہلے نہایت دلسوزی سے خدا کے حضور دعا کی کہ مجھے حق کی طرف رہنمائی فرما اور مجھے ایک ایسے وجود سے ملا جو مجھے تجھ سے ملا دے۔ یہ دن (ہالینڈ میں ) بادشاہ کی سالگرہ کا دن تھا جب کہ سب لوگ باہر جا کر اپنے اپنے سٹال لگاتے ہیں۔ ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا ہو گا کہ میں احمدیہ جماعت کے ایک بک سٹال سے گزرا۔ وہاں مجھے ایک احمدی دوست ملے جنہوں نے مجھے جماعت کا تعارف کروایا اور دیگر جماعتی لٹریچر کے علاوہ’اسلامی اصول کی فلاسفی‘ کی کتاب دی۔ مَیں نے گھر جا کر اس کتاب کا مطالعہ کیا تو میری دنیا ہی بدل گئی۔ مجھ پر فوراً ظاہر ہو گیا کہ اس کتاب کا مصنف کوئی معمولی انسان نہیں ہے بلکہ خدا سے تعلیم یافتہ انسان ہی ایسی کتاب لکھ سکتا ہے اور اسلام واقعی سچا مذہب ہے۔ اس کے بعد مَیں جلسہ سالانہ ہالینڈ اور جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوا۔ ان روحانی جلسوں نے مجھ پر ایک غیر معمولی اثر ڈالا اور مجھ پر واضح ہو گیاکہ یہ سب کچھ میری دعا کا جواب ہے جو میں نے مانگی تھی۔ میرے پاس انکار کی کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ چنانچہ جلسہ جرمنی کے دوران انہوں نے بیعت کر لی۔

لیبیا سے ہالہ صاحبہ ہیں کہتی ہیں۔ لیبیا میں قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مَیں نے خدا تعالیٰ سے بہت تضرع سے دعا کی کہ اب تو امام مہدی کو جلد بھیج دے تا کہ حالات کو درست فرمائے۔ اس کے بعد اچانک ایک دن چینل بدلتے ہوئے ایم ٹی اے مل گیا جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی جس نے میری توجہ کو اپنی طرف کھینچا۔ چنانچہ مَیں اس چینل کے مختلف پروگرام دیکھنے لگی اور عقائد پر اطلاع ہوئی۔ اور یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا۔ جس کے بعد مَیں نے فیصلہ کیا کہ تاخیر کے بغیر فوراً بیعت کر لینی چاہئے اور پھر یہ مجھے خط لکھتی ہیں کہ میرے مضبوطیٔ ایمان اور استقامت کے لئے دعا کریں۔ پھر بوآکےؔ مشن ہاؤس کے پَونے عبداللہ صاحب جو کہ مشن ہاؤس کے ڈرائیور کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میری شادی ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا تھا اور کوئی اولادنہ تھی۔ دو سال قبل جب مَیں نے احمدیت کا نام نیا نیا سنا اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی خبر ابھی میرے کانوں تک پہنچی ہی تھی تو مَیں نے حصول اولاد کے لئے دعا کی کہ اے میرے اللہ! اے سمیع و علیم خدا!! اگر واقعی مسیح اور مہدی کا ظہور ہو چکا ہے اور مرزا غلام احمد صاحب ہی وہی امام مہدی ہیں تو مجھے اولاد کی نعمت سے بھی مالا مال فرما اور مسیح محمدی علیہ السلام کے غلاموں میں بھی شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور اسی ماہ میری اہلیہ امید سے ہو گئیں اور اب میری ایک بیٹی بھی ہے۔ اور اس کے بعد پھر اس فیملی نے بیعت بھی کر لی۔ اگر بعضوں کو کسی طرح تسلّی نہیں ہوتی لیکن حق کے پہچاننے کی خواہش ہے تو اگر وہ خدا تعالیٰ کے آگے خالی الذھن ہو کر گڑ گڑائیں اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات فرمائی ہے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سیدھے راستہ کی رہنمائی کرے۔ اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے اور پھر کسی نہ کسی ذریعہ سے یا خوابوں کے ذریعہ سے رہنمائی ہوتی ہے اور احمدیت کی صداقت ظاہر ہو جاتی ہے۔

کچھ خوابوں کے واقعات ہیں۔ امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ ایک جگہ ڈونگے کبِے ہے وہاں کے ایک دوست نے کہا کہ جب سے جماعت احمدیہ کا پیغام سنا ہمیشہ اچھا محسوس کیا اور پھر افراد جماعت کا کردار مثالی اور متأثر کن تھا لیکن مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا کہ کیا وجہ ہے کہ تمام مسلمان علماء احمدیت کے مخالف ہیں اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام غلط ہوں۔ اس لئے جماعت احمدیہ کے دعاوی کے متعلق مَیں ہمیشہ شک میں رہتا تھا۔ مجھے مشورہ دیا گیا کہ معاملہ اللہ پر چھوڑ دو اور دعا کرو تا کہ اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمائے۔ چنانچہ میں نے دعائیں کرنی شروع کر دیں۔ ایک رات خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آؤ میرے ساتھ چلو۔ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہم نے ایک صحراء عبور کیا۔ صحرا عبور کر کے جس جگہ پہنچ رہے تھے وہاں دُور سے کچھ لوگ نظر آنے لگ گئے۔ جب مَیں ان لوگوں کے قریب پہنچا تو میں نے واضح طور پر پہچان لیا کہ یہ جماعت احمدیہ کے افراد ہیں۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو گروہوں کے ساتھ تھے۔ ایک پہلا گروہ تھا اور دوسرا بعد والا۔ اس خواب کے ذریعہ مجھ پر احمدیت کی صداقت واضح ہو گئی۔ میں نے خواب مشنری صاحب کو سنائی اور بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔ اب یہ تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ ان کے ذریعہ سے کئی لوگ احمدیت میں داخل بھی ہوئے ہیں۔ پھر ہیٹی کے مبلغ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے ایک نو مبائع عبدالمتعالی صاحب نے بتایا کہ وہ جماعت کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔ فروری 2014ء کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک دن ہے جو غیر معمولی روشن ہے اور لگتا ہے کہ سورج بہت قریب سے چمک رہا ہے کہ اچانک بہت شدید زلزلہ آتا ہے جس کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً تمام گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے گھر کا کچھ حصہ بھی گر جاتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ان کو خیال آتا ہے کہ میں جا کر احمدیہ مشن ہاؤس دیکھتا ہوں۔ وہ خواب میں ہی گھر سے مشن ہاؤس کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ راستے میں ہر طرف تباہ حال عمارات ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکل کر چیخ رہے ہیں۔ جب وہ احمدیہ مشن پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مشن کی عمارت بالکل صحیح سلامت ہے۔ اور مبلغ صاحب بعض دوسرے احمدی احباب کے ساتھ گھر سے باہر کھڑے ہو کر باتیں کر رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر کہتے ہیں کہ آئیں sea port جاتے ہیں اور ہم سب جب پورٹ پر پہنچتے ہیں تو ایک سفید رنگ کی کشتی کھڑی ہوتی ہے اور ہم سب احمدی احباب اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ اس کشتی میں پہلے سے بھی کچھ احمدی سوار ہوتے ہیں اور ہم اس بڑی سی کشتی کے ذریعہ اپنا سفر سمندر میں شروع کرتے ہیں۔ اس کے بعد خواب ختم ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ بات یقین کی طرح گڑ گئی کہ اب اگر نجات ہے تو احمدیت کے ذریعہ سے ہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کرلی۔

پھر آسٹریلیا سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک سکھ دوست دیپ اِندر صاحب زیر تبلیغ تھے۔ جلسہ سالانہ آسٹریلیا میں بھی شامل ہوئے۔ کافی تحقیق کے بعد ایک خواب کی بناء پر انہوں نے احمدیت قبول کی۔ کہتے ہیں دوہفتے قبل انہوں نے مجھے فون کیا اور آواز بہت بھرائی ہوئی تھی۔ بات کرنا مشکل تھا اور رو پڑتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تین دن پہلے خواب دیکھا کہ مَیں ایک ایسی جگہ پر ہوں جہاں بہت اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے کی وجہ سے شدید گھبراہٹ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سانس نہیں آئے گی اور جان نکل جائے گی۔ سوچتا ہوں اس اندھیرے سے کیسے نکلوں گا۔ اتنے میں اندھیرے میں اچانک روشنی پیدا ہوئی اور اندھیرا روشنی میں بدل گیا۔ ایک بزرگ میرے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ ان اندھیروں سے نکلنا ہے تو میرا ہاتھ پکڑ لو اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا کہ ہاتھ پکڑو۔ مَیں نے جونہی ان کا ہاتھ پکڑا تو میری آنکھ کھل گئی۔ مَیں دو دن پریشان رہا کہ یہ کیسی خواب تھی۔ یہ خواب اور وہ بزرگ میرے ذہن سے نہیں نکلتے۔ اسی روز مبلغ صاحب نے ان صاحب کو بلایااور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی تصاویر دکھائیں تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہی وہ بزرگ تھے جو مجھے کہہ رہے تھے کہ میرا ہاتھ پکڑ لو تو اندھیرے سے نجات پا جاؤ گے۔

مالی کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے احمدیہ مشن ہاؤس فون کیا اور کہا کہ آج سے مَیں احمدی ہوتا ہوں۔ براہ کرم آپ میری بیعت لے لیں۔ جب ان سے بیعت کرنے کی وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے باعث میرا کسی فرقے میں شامل ہونے کو دل نہیں کرتا تھا اور مَیں قرآن کریم و حدیث کی کتابیں پڑھ کر اس پر حتی الوسع عمل کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا مگر مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر میرے دل میں ہمیشہ یہ بات تھی کہ خدا اس دین کو اس حالت پر نہیں چھوڑے گا اور مہدی کا ظہور ضرور ہو گا۔ اس وقت کو ہی امام مہدی کا وقت خیال کرتا تھا اور اس کے لئے دعا کیا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کل رات جب مَیں دعا کرنے کے بعد سویا تو خواب میں دیکھا کہ چاند آسمان سے علیحدہ ہوا ہے اور زمین کی طرف آ رہا ہے۔ اور چاند قریب آتے آتے میرے ہاتھ پر آگیا جس میں سے آواز آ رہی ہے کہ مہدی آ گیا ہے اور وہ پکار پکار کر لوگوں کو بلا رہے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ آپ کا ریڈیو جو ہے وہ بھی یہی اعلان کر رہا ہے کہ جَآئَ الْمَہْدِی، جَآئَ الْمَہْدِی۔ اس لئے اب کوئی ابہام نہیں ہے اور مَیں بیعت کرتا ہوں۔ گنی کناکری سے السینی سوما صاحب کہتے ہیں مجھے ایک احمدی دوست محمد صاحب تبلیغ کر رہے تھے۔ مجھے اطمینان قلب نہیں تھا اور میں مسلسل دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے سیدھا راستہ دکھائے۔ اس دوران مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے جس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے وہی صحیح راستہ ہے۔ اس پر میرا دل مطمئن ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔

پھر جرمنی سے ابراہیم قارون صاحب لکھتے ہیں کہ جماعت کے ساتھ تعارف ہونے کے بعد میں ایم ٹی اے دیکھنے لگا۔ اس کے بعد میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے بارے میں دعا کی اور استخارہ کیا۔ ایک دن نماز استخارہ کے بعد مَیں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ اپنے محل سے تشریف لا رہے ہیں۔ اس محل کی دیواروں سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ میں احرام باندھے آپ کے محل کی دہلیز کے پاس کھڑا تھا۔ میں نے جھک کر اپنے بازو اپنے گھٹنے پر رکھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کھول کر میرے سر پر رکھے تو میں ان سے عرض کرنے لگا کہ سَمْعًا وَ طَاعَۃً۔ اس کے بعد مَیں بیدار ہو گیا۔ کہتے ہیں اس کے بعد مجھے شرح صدر ہو گیا۔

پھر مصر سے علاء صاحب لکھتے ہیں کہ مَیں مصری نوجوان ہوں۔ تقریباً ایک سال قبل ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جماعت سے تعارف ہوا اور فرقہ ناجیہ کا یقین ہو گیا۔ میری بیعت قبول کریں۔ کہتے ہیں کہ ایک رات مَیں نے خدا سے رو رو کر استقامت کے لئے کوئی نشان مانگا تو خواب میں خود کو ایک مجلس میں دیکھا جہاں وہ مجھے لکھ رہے ہیں کہ مَیں نے آپ کو دیکھا اور آپ نے مجھے ایک چاندی کی انگوٹھی درمیانی انگلی میں پہنائی جس پر ایک قرآنی آیت درج تھی۔ مَیں بیدار ہوا تو بہت خوش تھا اور خواب کو احمدیت اور اسلام کے درمیان واسطہ خیال کیا۔

پھر سیرالیون سے مبلغ لکھتے ہیں کہ کینیا ریجن کی ایک دور دراز جماعت ٹونگو فیلڈ (Tongo Field) ہے۔ اس جماعت کے ارد گرد کے گاؤں میں احمدیت کا پودا نہیں لگا۔ اس جماعت کے ساتھ والے گاؤں میں ایک اچھے اخلاق کے مالک نوجوان تھے۔ اس گاؤں کے لوگوں نے انہیں اپنے لوکل رواج کے مطابق نوجوانوں کا لیڈر بنانے کے لئے تاج پہنچایا۔ وہ نوجوان بیان کرتے ہیں کہ جس رات یہ تاج مجھے پہنایا گیا مَیں نے خواب میں ایک بڑی اور چھوٹی مسجد دیکھی۔ مَیں بڑی مسجد میں نماز کے لئے جانا چاہتا ہوں۔ آواز آتی ہے کہ اگر تم نے دعا قبول کروانی ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا ہے تو اس چھوٹی مسجد میں جاؤ۔ جب مَیں اس چھوٹی مسجد میں جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میرے والد صاحب اس چھوٹی مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ بیٹا یہ احمدیہ مسلم جماعت کی مسجد ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا ہے تو صرف اسی مسجد میں آ کر نماز پڑھو اور رابطہ رکھو۔ یہ نوجوان کہتے ہیں کہ اس خواب سے پہلے مَیں جماعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن اس کے بعد میں نے ارد گرد کے گاؤں کے لوگوں سے پوچھنا شروع کیا کہ یہاں کوئی احمدیہ مسلم جماعت کی مسجد ہے۔ ایک آدمی نے مجھے ٹونگو کی مسجد کے بارے میں بتایا۔ وہاں کے معلم صاحب سے رابطہ کیا اور بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوگیا۔

اصل چیز اخلاص ہے، کثرت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل جس کے ساتھ ہو۔ پس صرف یہ کہنا کہ مسلمانوں کے تمام فرقے ایک طرف اور جماعت احمدیہ ایک طرف۔ اس طرف بھی ان کو اشارہ کیا گیا کہ کثرت کو نہ دیکھو۔ یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کہاں ہے اور قبولیت دعا کس طرف زیادہ ہے۔

گیمبیا سے ایک صاحب اپنی خواب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک رات جب وہ سو رہے تھے تو خواب میں انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ آئے اور ان کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا۔ خواب میں انہوں نے اس شخص کو نہیں پہچانا اور پھر خواب ہی میں وہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہے؟ تو لوگ بتاتے ہیں کہ یہ جماعت احمدیہ کے امام ہیں اور پھر کہتے ہیں میری آنکھ کھل گئی۔ اگلی صبح یہ صاحب ہمارے مشن ہاؤس آئے اور ہمارے معلم کو خواب سنائی تو ہمارے معلم نے ایم ٹی اے لگایا ہوا تھا۔ اس وقت میرا جمعہ کا خطبہ ایم ٹی اے پر چل رہا تھا۔ تو کہتے ہیں مجھے دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ کل رات یہی شخص میری خواب میں آیا تھا اور پھر انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔

نائب ناظر صاحب دعوت الی اللہ قادیان کہتے ہیں کہ یہاں ہنومان گڑھ کا ایک موضع موجہا والی کے ایک دوست لال دین صاحب نے کچھ عرصہ قبل ایک خواب دیکھا کہ ایک فوت شدہ بچہ ہے جو اُن کو یہ کہہ رہا ہے کہ آپ کے پاس چار لوگ آئیں گے۔ وہ آپ کو دین اسلام کی باتیں بتائیں گے۔ آپ ان کی باتیں ماننا اور ان کا ساتھ دینا اور عمل کرنا۔ جب ہم لوگ لال دین صاحب کے گھر گئے اور ان کو احمدیت کا پیغام دیا تو انہوں نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا کہ آپ لوگوں کے آنے کی اطلاع مجھے پہلے ہی بذریعہ خواب مل گئی تھی اور میں آپ لوگوں کا انتظار کر رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اور ان کے بیٹوں نے اور سارے خاندان نے بیعت کر لی۔

قرغیزستان کی ایک لوکل جماعت ہے وہاں کے نو مبائع بہادر صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1998ء کی بات ہے کہ خاکسار نماز عصر ادا کر رہا تھا کہ سلام پھیرنے سے کچھ دیر قبل خاکسار پر کشفی کیفیت طاری ہوئی اور میرے دائیں کان میں قرآن کریم کی سورۃ یونس کی یہ آیت تلاوت کی گئی کہ وَاللّٰہُ یَدْعُوْا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ  (یونس: 26)کہ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ اس آیت کی تشریح اور تفسیر تمہیں انڈیا سے ایک استاد آ کے سمجھائے گا۔ اس کے بعد یہ کیفیت جاتی رہی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں بہت زیادہ حیران اور ششدر تھا کہ مجھ پر یہ کیسی کیفیت ہوئی اور یہ کیا سلوک ہوا ہے کیونکہ میں اس وقت تک انڈیا جیسے ملک کو جانتا نہیں تھا اور نہ ہی نام سنا تھا۔ پھر مجھے کام کے سلسلے میں قرغیزستان سے رشیا آنا پڑا۔ جب مَیں یہاں آیا تو کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق انڈیا سے ہی تھا لیکن جماعت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اور ان سے بھی کوئی دینی باتیں نہیں ہوئیں۔ صرف دنیا داری اور کاروباری باتیں ہوتی رہیں۔ پھر آہستہ آہستہ دین کے بارے میں آگاہی اور دلچسپی بڑھتی گئی۔ ایک دن آیا کہ میرا تعارف جماعت احمدیہ سے ہوا اور مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو قبول کرنے کا موقع مل گیا۔ 2012ء میں بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گیا۔ خاکسار کو اس آیت کی تفسیر و تشریح سمجھ آئی کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعلق قادیان سے ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس امام کو ماننے اور جماعت میں داخل ہونے کی توفیق دی اور انڈیا سے ہی آنے والا میرے لئے ہدایت اور سلامتی کا موجب ہوا۔

چندر پور مہاراشٹر کے ہمارے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ یہاں ایک قصبہ ہے وہاں شیخ قدیر صاحب کی اہلیہ سلطانہ بیگم عرصے سے جماعت احمدیہ کی سخت مخالفت کرتی تھیں۔ یہ خاتون صوبہ آندھرا پردیش کے ایک شدید مخالف گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ شادی کے بعد ان کے شوہر شیخ قدیر صاحب نے احمدیت قبول کر لی۔ اس پر گھر میں بہت ہنگامہ ہوا اور بات خلع طلاق تک پہنچ گئی۔ شیخ قدیر صاحب نے احمدیت کے سامنے تمام تر رشتوں کو ہیچ مانا اور ثابت قدم رہے۔ قدیر صاحب کے کہنے پر ہم نے بھی ان کی اہلیہ کو سمجھایا کہ آپ کے شوہر سچائی پر ہیں۔ آپ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ضرور معجزہ دکھائے گا۔ لیکن موصوفہ یہی سوچتی تھیں کہ کہیں احمدیت کی وجہ سے میرا ایمان خراب نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے وہ احمدیت سے دُور رہنے کی کوشش کرتیں۔ گھر میں ایم ٹی اے ہونے کے باوجود وہ مدنی چینل دیکھتی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت نے اپنا جلوہ دکھایا۔ ایک روز موصوفہ سلطانہ صاحبہ نے ایک خواب دیکھا کہ ایک بزرگ انہیں کلمہ پڑھا رہے ہیں اور وہ بتا رہے ہیں کہ قرآن پاک آخری شریعت ہے اس پر عمل کرو۔ وہ کہتی ہیں وہ بزرگ ان کے خیال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اس خواب پر موصوفہ کی تسلی نہ ہوئی لیکن ویسے ہی کچھ عرصے کے لئے خاموش ہو گئیں۔ پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ ایک خواب دیکھا کہ آس پاس کے پورے علاقے میں احمدیت پھیل چکی ہے اور جسے بھی پوچھتی ہیں وہ اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ انڈے کی زردی کے اندر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا ہوا ہے اور اس پر لکھا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام آ چکے ہیں اور خواب میں ہی سلطانہ صاحبہ اپنے مخالف بھائی سے کہتی ہیں کہ یہ لوگ واقعی سچے ہیں۔ ان کی نیک فطرت تھی۔ اس کے بعد صبح ہوتے ہی انہوں نے بیعت کر لی۔

مالی ریجن کے کولی کورو (Koulikoro) سے ہمارے معلم لکھتے ہیں کہ ان کے گاؤں شو (Show) میں ایک بزرگ بنگے جارہ (Bange Diarra) صاحب نے بتایا کہ ایک لمبا عرصہ پہلے انہوں نے خواب دیکھا کہ وہ ایک بہت بلند دیوار پر چڑھ رہے ہیں اور جب وہ اس کی بلندی پر پہنچتے ہیں تو وہاں انہیں بہت سے پھول نظر آتے ہیں اور ان پھولوں کی دائیں جانب بہت سے لوگ بیٹھے ہیں۔ خواب میں انہیں بتایا گیا کہ اگر تم نے اسلام سیکھنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا ہے تو ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ مگر انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔ اب جبکہ انہوں نے ’ریڈیو احمدیہ نور‘(احمدیہ ریڈیو کا نام نور ہے) سننا شروع کیا تو ایک دن پھر انہیں یہ خواب آئی۔ انہیں کہا گیا کہ احمدیہ ریڈیو کے جو لوگ ہیں ان میں شامل ہو جاؤ تو خدا تک پہنچ جاؤ گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بیعت کر لی۔

اللہ تعالیٰ جب ایسے لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے تو ایسے واقعات سن کر ہم جو پرانے اور پیدائشی احمدی ہیں ہماری بھی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ اپنی حالت کی طرف ہمیشہ نظر رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔ اپنی عملی حالتوں کو درست کریں جیسا کہ مَیں نے کہا۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری سستیاں ہمیں کہیں محروم نہ کرتی جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ احمدیت کے قافلے نے انشاء اللہ تعالیٰ آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔ یہ تو آگے بڑھتا جائے گا۔ پس بہت توجہ کی ضرورت ہے کہ ہم بھی ہمیشہ اس قافلے کا حصہ بنے رہیں۔ باقی ایسے بھی واقعات ہیں جہاں احمدیت کے خلاف بڑے فتوے دئیے جاتے ہیں لیکن بعض دفعہ سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے موقع پیدا کرتا ہے کہ انہی فتووں کا نشانہ یہ فتوے حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں۔ مصر سے ہماری ایک خاتون ہیں جہاد صاحبہ، کہتی ہیں کہ میرے والد صاحب ایک تنظیم اخوان المسلمین کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور اس کی اندھی تقلید کرتے تھے۔ اسی تنظیم نے احمدیت کے نعوذ باللہ اسلام سے خارج ہونے کا ایک اور مصری تنظیم دارالافتاء سے فتویٰ نکالا تھا۔ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے ہمارے اقرباء کے سامنے ہم پر ایک جھوٹا الزام عائد کیا۔ اس وقت مَیں نے انتہائی لاچارگی کے عالم میں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اپنے فضل سے ہماری تائید فرما اور اس سے انتقام لے جو جھوٹ بول کر حق بولنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مَیں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے ہیں تو کوئی نشان دکھا۔ کہتی ہیں مَیں اس وقت شوال کے روزے سے تھی اور مغرب کی نماز کے قریب کا وقت تھا۔ مَیں نے ٹی وی آن کیا کہ مصر کے حالات کے بارے میں خبریں سنوں تو میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ الازہر نے اخوان المسلمین کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تھا اور انہیں مرتد قرار دیا تھا۔ اس پر مَیں نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام درحقیقت حق پر ہیں۔ مصر میں جامعۃ الازہر سے جاری کردہ فتوے کو دار الافتاء کی طرف سے جاری کردہ فتوے پر زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ میں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ اب دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کیسا جواب ملا کہ آپ نے ایک فتویٰ نکالا اور اس کے بالمقابل آپ کو ایک زیادہ قوی فتویٰ اللہ تعالیٰ نے جواب میں دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی حق پر ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’وہ وقت کہ ایک دو آدمی ہمارے ساتھ تھے اور کوئی نہ تھا اور اب دیکھتے ہیں کہ جوق در جوق آ رہے ہیں۔ یَأْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْق۔ اور پھر اتنی ہی بات نہیں بلکہ اس کے اوپر ایک اَور حاشیہ لگا ہوا ہے کہ مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگایا کہ لوگ آنے سے رُکیں مگر آخر کار وہ فقرہ پورا ہو کر رہا۔ اب جو نیا شخص ہمارے پاس آتا ہے۔ وہ اِسی الہام کا ایک نشان ہوتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 370۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ایک جگہ فرمایا کہ:

’’اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت کا ایمان کمزور رہے۔ … اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کے ایمان کو بڑھانے کے لئے نشانات ظاہر کر رہا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 356۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ لیکن کچھ ایسے بدقسمت ہیں جو نہ نشانات دیکھ کر سبق حاصل کرتے ہیں، نہ حق کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ مخالفت میں ترقی کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ پھر ایک دن اپنے انجام کو دیکھیں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

’’خدا نے مجھے مامور کیا ہے۔ خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ وہ دیکھتے (یعنی مخالفین دیکھتے) کہ کیا جس شخص نے اپنا آنا خدا کے حکم سے بتایا ہے وہ خدا کی نصرتیں اور تائیدیں بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے یا نہیں۔ مگر انہوں نے نشان پر نشان دیکھے اور کہا کہ جھوٹے ہیں۔ انہوں نے نصرت پر نصرت اور تائید پر تائید دیکھی لیکن کہہ دیا کہ سحر ہے۔‘‘ (جادو ہے۔) ’’مَیں ان لوگوں سے کیا امید رکھوں جو خدا تعالیٰ کے کلام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ خدا کے کلام کے ادب کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس کا نام سنتے ہی یہ ہتھیار ڈال دیتے مگر یہ اَور بھی شرارت میں بڑھے۔ اب خود دیکھ لیں گے کہ انجام کس کے ہاتھ ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 437۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ اِن مخالفین کو بھی جلد اُن کے انجام دکھائے اور احمدیت کا قافلہ جو انشاء اللہ تعالیٰ آگے بڑھتا چلاجائے گا اس کو اور تیزی سے آگے بڑھاتا چلا جائے اور ہم بھی ہمیشہ اس کا حصہ بنیں رہیں۔ نماز جمعہ کے بعد مَیں کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔ مکرم جمیل احمد گُل یا گِل صاحب ہیں جو کہ لمبے عرصے سے جرمنی میں مقیم ہیں۔ جلسہ سالانہ یوکے پر فیملی کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ دو فیملیوں کے ساتھ دو گاڑیوں میں تھے۔ 3؍ستمبر کو یہ واپس جرمنی جا رہے تھے تو رات کو لمبرگ (Limburg) شہر کے قریب جہاں سڑک پر کام ہو رہا تھا ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جسے ان کی بیٹی چلا رہی تھی۔ اس حادثے میں پیچھے سے آنے والی ایک گاڑی نے اوورٹیک کرنے کی کوشش میں ان کی گاڑی سے ٹکر ماری جس کے باعث ان کا توازن قائم نہ رہا۔ گاڑی دوسری Lane میں چلی گئی اور مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں سے ٹکرا گئی۔ اس کے نتیجے میں جمیل احمد صاحب کی اہلیہ امۃ الحمید صاحبہ، ان کی پوتی عزیزہ سلینہ جمیلہ احمد عمر 11سال اور نواسی فاتحہ رانا عمر 10 سال موقع پر ہی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ جبکہ جمیل صاحب کی بیٹی حُمدٰی جو گاڑی چلا رہی تھیں وہ اور ان کا نواسہ شدید زخمی ہو کر قَومے میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی حالت اب بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔

مکرمہ امۃ الحمید صاحبہ نے تقریباً 15سال بطور صدر لجنہ اماء اللہ آفن باخ خدمت کی توفیق پائی اور بیت الجامع آفن باخ (Offenbach) کے سنگ بنیاد کے موقع پر اینٹ رکھنے کی سعادت بھی پائی۔ مرحومہ مکرم رانا کرامت اللہ خان صاحب سابق امیر ضلع مانسہرہ کی بیٹی تھیں جنہیں اسیر راہ مولیٰ رہنے کی سعادت نصیب ہوئی اور السلام علیکم کہنے پر پہلا مقدمہ بھی آپ پر ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔ مغفرت کا سلوک فرمائے اور پیچھے رہنے والوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 12؍ ستمبر 2014ء شہ سرخیاں

    خوابوں اور رؤیا و کشوف اور دیگر مختلف ذرائع سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی اسلام احمدیت کی صداقت کی طرف رہنمائی کے حیرت انگیز اور نہایت ایمان افروز واقعات کا روح پرور بیان

    یہ واقعات مَیں اس لئے بیان کرتا ہوں کہ ہمارے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہو اور ہم بھی اپنے جائزے لیتے رہیں کہ کس حد تک ہمارے اندر بھی احمدیت کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ کس طرح ہمیں بھی اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ کس طرح ہمیں بھی احمدیت قبول کرنے کے بعد خدا تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔

    انہیں صرف دلچسپ واقعات سمجھ کر ہمیں نہیں سننا چاہئے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور بننی چاہئے۔ اپنی حالتوں کے جائزے لینے والی ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے جماعت کے ساتھ سلوک پر شکر گزاری کے جذبات کا اظہار کرنے والی ہونی چاہئے۔ اپنی ذمہ داری کا احساس اور اس کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے۔ دنیا تک صداقت کا پیغام پہنچانا، ان کی رہنمائی کرنا آج ہمارا کام ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے۔ پس اس کام کی ادائیگی کی طرف جہاں ہمیں کوششوں کی ضرورت ہے وہاں اپنی عملی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ڈھالنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ ہمارے عملی نمونے نئے آنے والوں کے ایمانوں کو مزید مضبوط کرتے چلے جائیں۔

    مکرمہ امۃالحمید صاحبہ اہلیہ جمیل احمد گل صاحب آف جرمنی، عزیزہ سلینہ جمیلہ اور عزیزہ فاتح رانا کی جلسہ سالانہ یوکے سے واپسی پر جرمنی میں گاڑی کے حادثہ میں وفات۔ مرحومین کا ذکرِ خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 12؍ستمبر 2014ء بمطابق12 تبوک 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور