حضرت مصلح موعودؓکے بیان فرمودہ بعض واقعات کا ایمان افروز تذکرہ

خطبہ جمعہ 24؍ اکتوبر 2014ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

دو دن ہوئے الفضل انٹرنیشنل کا تازہ شمارہ دیکھ رہا تھا۔ اس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک خطاب کا ایک حصہ دیا ہوا تھاجس میں آپ نے اس وقت 1937ء میں یہ توجہ دلائی تھی کہ ابھی کئی صحابہ موجود ہیں اس لئے ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اور کلمات جمع کروائے جائیں کیونکہ ایک زمانہ آئے گا جب بہت سے مسائل کے حل کے لئے ان باتوں کی بہت اہمیت ہو جائے گی۔ ایک مثال آپ نے بیان فرمائی کہ ایک نوجوان صحابی نے مجھے بتایا کہ انہیں صرف اتنا یاد ہے کہ مَیں جب بہت چھوٹا سا تھا تو ایک دن مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ لیا اور کچھ دیر آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا اور برابر کھڑا رہا۔ کچھ دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ہاتھ علیحدہ کیا اور کسی کام میں مصروف ہو گئے۔

آپ لکھتے ہیں کہ اس نے تو یہی کہا کہ مجھے صرف اتنا یاد ہے۔ گو میں صحابی ہوں لیکن صرف مجھے اتنی بات یاد ہے۔ اب یہ ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن آپ نے کہا کہ ان باتوں میں بھی بڑے نتائج نکلتے ہیں۔ مثلاً اس ایک چھوٹی سی بات سے ہی پتا چلتا ہے کہ چھوٹے بچوں کو بھی بزرگوں کی مجالس میں جانا چاہئے۔ پھر یہ بھی کہ جب ضرورت محسوس ہو تو محبت سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔ پکڑا رکھا ٹھیک ہے لیکن جب ضرورت محسوس ہوئی، کام کرنا تھا تو محبت سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔ آپ لکھتے ہیں کہ ایسی باتیں بعض دفعہ بعد میں اٹھنے والے مسائل کا جواب ہوتی ہیں۔ پس ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی جو صحابہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق میں بیان کی ہے اس میں سبق ہوتا ہے کہ بچوں سے بھی محبت سے ہاتھ پکڑے رکھا، چھڑوایا نہیں۔ جب ضرورت ہوئی، کام کی ضرورت ہوئی، تو طریقے سے، محبت سے، پیار سے چھڑوا بھی لیا تا کہ بچے پر بُرا اثر بھی نہ پڑے۔ (ماخوذ از الفضل انٹرنیشنل مؤرخہ 24 تا 30 اکتوبر 2014ء صفحہ4، ماخوذ از انوار العلوم جلد 14 صفحہ 552تا 555)

صحابہ کے واقعات تو پہلے بھی مَیں بیان کرتا رہا ہوں۔ حضرت مصلح موعودنے اپنے انداز میں بھی اپنے بعض واقعات بیان کئے یا جو آپ کے سامنے ہوئے جو آپ نے دیکھے وہ آپ بیان فرماتے رہے اور آپ کے مختلف خطابات اور خطبات میں یہ چھَپے ہوئے ہیں۔ ان میں سبق بھی ہیں۔ نصائح بھی ہیں۔ تاریخ بھی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت بھی ہے۔ اس کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ سب باتیں ہماری زندگیوں میں بڑا مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ باتیں ہماری زندگیاں سنوارنے والی ہیں۔ ہمارے ایک واقف زندگی حبیب الرحمن صاحب کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو مختلف جگہوں سے نکال کے جمع کریں۔ اچھی کوشش ہے لیکن بعض باتیں بغیر سیاق و سباق کے واضح نہیں ہو سکتیں کیونکہ انہوں نے صرف واقعات اکٹھے کر دئیے ہیں۔ اس کے لئے کچھ اصول اور طریقے بنانے ہوں گے۔ بہرحال ایک خاص شکل دئیے جانے کے بعد جب یہ علیحدہ چھپ جائے گی تو امید ہے کہ ہمارے لٹریچر میں اچھا اضافہ ہو گا۔

اس وقت مَیں نے یہاں بیان کرنے کے لئے بعض باتیں اور واقعات لئے ہیں جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے اپنے ہیں یا آپ نے دوسروں کے واقعات اپنے انداز میں بیان فرمائے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا اس میں نصائح بھی ہیں اور بعض باتوں کی وضاحتیں بھی۔ چند ایک آج مَیں بیان کروں گا۔ کسی خاص موضوع پر نہیں بلکہ مختلف قسم کے واقعات ہیں اور آئندہ بھی حسب موقع بیان ہوتے رہیں گے۔ انشاء اللہ۔ خطبے میں اس لئے مَیں یہ واقعات بیان کرتا ہوں اور کروں گا کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا میں خطبہ جمعہ جو ہے یہ سب سے زیادہ جماعت احمدیہ میں سنا جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض مسائل حل کرنے میں یہ باتیں کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لئے ہر احمدی تک یہ پہنچنا ضروری ہیں اور خطبہ ہی اس کا بہترین ذریعہ ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ ایک کتّا ہمارے دروازے پر آیا اور مَیں وہاں کھڑا تھا۔ اندر کمرے میں صرف حضرت صاحب (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) تھے۔ مَیں نے اس کتّے کو اشارہ کیا اور کہا کہ ٹیپو ٹیپو ٹیپو۔ حضرت صاحب بڑے غصے سے باہر آئے اور فرمایا ’’تمہیں شرم نہیں آتی کہ انگریز نے تو دشمنی کی وجہ سے اپنے کتّوں کا نام ایک صادق مسلمان کے نام پر ٹیپو رکھ دیا ہے اور تم ان کی نقل کر کے کتّے کو ٹیپو کہتے ہو۔ خبردار آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا‘‘۔ لکھتے ہیں کہ میری عمر شاید آٹھ نو سال کی تھی۔ وہ پہلا دن تھا جب میرے دل کے اندر سلطان ٹیپو کی محبت قائم ہو گئی اور مَیں نے سمجھا کہ سلطان ٹیپو کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے نام کو اتنی برکت بخشی کہ خدا تعالیٰ کا زمانے کا مامور اس کی قدر کرتا ہے اور اس کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ (الفضل ربوہ یکم اپریل 1958ء صفحہ 3جلد47نمبر76)

اس واقعہ سے جہاں ایک طرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بچے کے ہر فعل کو بلا امتیاز برداشت کرنا حلم کی تعریف میں داخل نہیں وہاں حضرت صاحب کی بے پناہ دینی اور قومی حمیّت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ بچہ جو آپ کے نہایت محنت سے لکھے ہوئے قیمتی مسودات کو جن پر خدا جانے کتنے گھنٹوں یا راتوں کی محنت آپ نے صرف فرمائی ہو گی، آن واحد میں تیلی دکھا کر خاکستر کر دیتا ہے اس کا یہ فعل تو آپ برداشت فرما لیتے ہیں اور اس تکلیف کا کوئی خیال نہیں کرتے جو اس کے نتیجے میں دوبارہ آپ کو اٹھانی پڑی۔ (ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 78 شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن)

یہ واقعہ جس کا وہ حوالہ دے رہے ہیں یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت مصلح موعودنے جب آپ چھوٹے بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب جو آپ تصنیف فرما رہے تھے، اس کا جو مسودہ لکھا ہوا تھا اس سارے کے سارے کو آکے آگ لگا دی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پر کچھ نہیں کہا۔ (ماخوذ از سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ صفحہ 20-21پبلشر ابوالفضل محمود قادیان)

تو آپ یہی فرما رہے ہیں کہ اس کو تو برداشت کر لیا جو آپ کی اتنی محنت تھی لیکن یہ برداشت نہیں ہوا کہ ایک قومی لیڈر جو ہے اس کی ذرا سی بھی ہتک کی جائے۔ فرماتے ہیں لیکن ایک مسلمان سلطان جو قومی حمیّت میں شہید ہوا اور جس کے ساتھ آپ کا اسلام کے سوا کوئی اور رشتہ نہ تھا اس کے نام کو ایک بچے کا لا علمی کی بِنا پر بھی اس رنگ میں لینا جس سے اس کی تحقیر ہوتی ہو آپ سے برداشت نہ ہو سکا۔ اس واقعہ میں ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو حضرت صاحب پر انگریز کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگانے کی جسارت کرتے ہیں۔ قومی حمیّت سے لبریز وہ دل جو سلطان فتح علی ٹیپو کی محض اس لئے انتہائی عزت کرتا تھا کہ انگریز کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اس نے اپنی زندگی مردانہ وار نثار کر دی۔ کیسے ممکن ہے کہ ایسے غیور انسان کے متعلق کسی غیر قوم کے ایجنٹ ہونے کا واہمہ تک بھی دل میں لایا جائے۔ (ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 78 شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن)

پھر ایک جگہ آپ بیان فرماتے ہیں کہ ’’میرے نزدیک ان ماں باپ سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں جو بچوں کو نماز باجماعت ادا کرنے کی عادت نہیں ڈالتے۔ مجھے اپنا ایک واقعہ یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کچھ بیمار تھے اس لئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جا سکے۔ مَیں اس وقت بالغ نہیں ہوا تھا کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں۔ (چھوٹا تھا۔ بچہ تھا۔) تاہم مَیں جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد کو آ رہا تھا کہ ایک شخص مجھے ملا۔ اس وقت کی عمر کے لحاظ سے تو شکل اس وقت تک یادنہیں رہ سکتی مگر اس واقعہ کا اثر مجھ پر ایسا ہوا کہ اب تک مجھے اس شخص کی صورت یاد ہے۔ محمد بخش ان کا نام ہے وہ اب قادیان میں ہی رہتے ہیں۔ مَیں نے ان سے پوچھا۔ آپ واپس آ رہے ہیں۔ کیا نماز ہو گئی ہے؟ تو انہوں نے کہا۔ آدمی بہت ہیں۔ مسجد میں جگہ نہیں تھی۔ مَیں واپس آ گیا۔ میں بھی یہ جواب سن کر واپس آ گیا اور گھر میں آ کر نماز پڑھ لی۔ حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے؟ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ مَیں بچپن سے ہی حضرت صاحب کا ادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اور آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا تھا۔ آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت اثر ہوا۔ جواب میں مَیں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آ گیا۔ آپ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ لیکن جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبدالکریم صاحب آپ کی طبیعت کا حال پوچھنے کے لئے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ سے دریافت کی وہ یہ تھی کہ کیا آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے؟ اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی کیونکہ مَیں خود تو مسجد میں گیا نہیں تھا۔ معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی۔ مَیں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں۔ مجھے فکر یہ ہوئی کہ اگر مجھے غلط فہمی ہوئی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے، دونوں صورتوں میں الزام مجھ پر آئے گا کہ مَیں نے جھوٹ بولا۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے جواب دیا کہ ہاں حضور! آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔ میں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی۔ خدا نے میری بریّت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرا دی یا

فی الواقعہ اس دن غیرمعمولی طور پر زیادہ لوگ آئے تھے۔ بہر حال یہ ایک واقعہ ہوا ہے جس کا آج تک میرے قلب پر گہرا اثر ہے۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نماز باجماعت کا کتنا خیال رہتا تھا‘‘۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 9صفحہ 163-164)

پھر آپ اپنے بچپن کا ایک ہلکا پھلکا واقعہ اپنی تحریر کے بارے میں اور تعلیم کے بارے میں بھی بیان فرماتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’میری تعلیم کے سلسلہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اس قابل نہیں کہ مَیں کتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں۔ اس لئے آپ کا طریق تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے۔ میاں میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں میری آنکھ میں سخت کُکرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دکھتی رہیں اور ایسی شدید تکلیف کُکروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میری صحت کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے شروع کر دئیے۔ مجھے اس وقت یادنہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے۔ بہر حال تین یا سات روزے آپ نے رکھے۔ جب آخری روزے کی افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کے لئے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو (مصلح موعود کہتے ہیں کہ اس وقت) یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے۔ لیکن اس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی۔ چنانچہ میری بائیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے۔ میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔ دوچار فٹ پر اگر ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو مَیں اس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہوتو مجھے اس کی شکل نظر نہیں آ سکتی۔ صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے مگر اس میں بھی ککرے پڑ گئے اور وہ ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں مَیں جاگ کر کاٹا کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے استادوں سے کہہ دیا تھا کہ پڑھائی اس کی مرضی پر ہو گی‘‘۔ (اب یہ دیکھیں اس میں پیشگوئی حضرت مصلح موعود کا بھی ایک پہلو نکلتا ہے کہ باوجود سب کچھ کے، اس بیماری کے اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا تھا ’علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا‘، وہ بھی کس طرح اللہ تعالیٰ نے پُر کیا ہے۔ آپ نے ایک جگہ لکھا ہوا ہے کہ میں نے لاکھوں کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ اور بڑی جلدی پڑھ لیا کرتے تھے۔ ) بہرحال فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے۔ اگر نہ پڑھے تو اس پر زور نہ دیا جائے کیونکہ اس کی صحت اس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی فرماتے تھے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے (یعنی حضرت خلیفہ اول سے) پڑھ لو۔ اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے‘‘۔

فرماتے ہیں کہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کو خدا تعالیٰ نے اِسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے (یہ پہلے کچھ عرصے کے لئے غیر مبائع میں علیحدہ ہو گئے تھے۔ ) تو فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے حساب کے استاد تھے اور لڑکوں کو سمجھانے کے لئے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے بورڈ دکھائی نہیں دیتا تھا کیونکہ جتنی دُور بورڈ تھا اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں کر سکتی تھی۔ پھر زیادہ دیر تک مَیں بورڈ کی طرف یوں بھی دیکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ نظر تھک جاتی تھی۔ اس وجہ سے مَیں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔ کبھی جی چاہتا تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ نہیں پڑھتا۔ کبھی مدرسے میں آ جاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ شکایت کی تو مَیں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر ناراض ہوں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا کہ (ماسٹر فقیر اللہ صاحب!) آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدرسہ چلا جاتا ہے ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کرسکے۔ پھر ہنس کر فرمانے لگے اس سے ہم نے آٹے دال کی دکان تھوڑی کھلوانی ہے کہ اسے حساب سکھایا جائے۔ حساب اسے آئے نہ آئے کوئی بات نہیں۔ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کون سا حساب سیکھا تھا۔ اگر یہ مدرسے میں چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے‘‘۔ حساب کی بھی بات بتا دوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بعد میں حساب ایسا تھا کہ تقریر کے دوران ہی لاکھوں کی ضربیں تقسیمیں کر کے حساب سامنے رکھ دیا کرتے تھے۔

بہر حال فرماتے ہیں کہ ’’یہ سن کر ماسٹر صاحب واپس آ گئے۔ مَیں نے اس نرمی سے اَور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور پھر مدرسے میں جانا ہی چھوڑ دیا۔ کبھی مہینے میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی۔ غرض اس رنگ میں میری تعلیم ہوئی اور مَیں درحقیقت مجبور بھی تھا کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا اور چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی مجھے دیا جاتا رہا۔ (جگر کی خرابی کے لئے یہ علاج بھی اچھا ہے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی)۔ پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی تھی‘‘۔ اس کے لئے بھی علاج ہوتا تھا۔ اور پھر آنکھوں کے کُکرے۔ کافی بیماریاں تھیں۔ پھر اس کے ساتھ بخار بھی شروع ہو جاتا تھا جو چھ چھ مہینے تک نہ اترتا تھا۔ تو کہتے ہیں ’’میری پڑھائی کے متعلق بزرگوں کا فیصلہ کر دینا کہ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھ لے اس پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔ ان حالات سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کا کیا حال ہوگا۔ ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ نے میرا اردو کا امتحان لیا۔ مَیں اب بھی بہت بدخط ہوں۔ (لکھائی اچھی نہیں۔) مگر اس زمانے میں میرا اتنا بد خط تھا کہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا کہ مَیں نے کیا لکھا ہے۔ انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتا لگائیں میں نے کیا لکھا ہے مگر انہیں کچھ پتا نہ چلا۔ ان کی طبیعت بڑی تیز تھی۔ غصے میں فوراً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ مَیں بھی اتفاقاً اس وقت گھر میں ہی تھا۔ ہم تو پہلے ہی ان کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچے تو اَور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اب نامعلوم کیا ہو۔ خیر میر صاحب آ گئے اور حضرت صاحب سے کہنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں ہے۔ میں نے اس کا اردو کا امتحان لیا۔ آپ ذرا پرچہ تو دیکھیں۔ اس کا اتنا بُرا خط ہے کہ کوئی بھی یہ خط نہیں پڑھ سکتا۔ پھر اسی جوش کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ کہنے لگے کہ آپ بالکل پرواہ نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہو رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب میر صاحب کو اس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا۔ ’’بلاؤ حضرت مولوی صاحب کو‘‘۔ جب آپ کو کوئی مشکل پیش آتی تھی تو آپ ہمیشہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو بلا لیا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ اول کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔ آپ تشریف لائے اور حسب معمول سر نیچا ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے سر اٹھا کر نہیں دیکھا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ ’’مولوی صاحب! مَیں نے آپ کو اس غرض کے لئے بلایا ہے کہ میر صاحب کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا پڑھا نہیں جاتا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا امتحان لے لیا جائے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اٹھائی اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فرمایا اس کو نقل کرو۔ بس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا۔ مَیں نے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر نقل کر دیا۔ اول تو وہ عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی۔ دوسرے مَیں نے صرف نقل کرنا تھا اور نقل کرنے میں تو اور بھی زیادہ آسانی ہوتی ہے کیونکہ اصل چیز سامنے ہوتی ہے۔ پھر مَیں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔ الف اور باء وغیرہ احتیاط سے ڈالے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو دیکھا تو فرمانے لگے۔ مجھے تو میر صاحب کی بات سے بڑا فکر پیدا ہو گیا تھا مگر اس کا خط تو میرے خط کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے ہی میری تائید میں ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ فرمانے لگے حضور! میر صاحب کو یونہی جوش آ گیا ہے ورنہ خط تو اچھا بھلا ہے۔ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اوّل نے پھر مجھے کہا کہ میاں مجھ سے بخاری تو پوری پڑھ لو۔ دراصل میں نے آپ کو بتا دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مجھے فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب سے قرآن اور بخاری پڑھ لو۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی مَیں نے آپ سے قرآن اور بخاری پڑھنی شروع کر دی تھی گو ناغے ہوتے رہے۔ اسی طرح طب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایت کے ماتحت مَیں نے آپ سے شروع کر دی تھی۔ (ماخوذ از الموعودانوارالعلوم جلد 17 صفحہ 565تا 569)

پھر جب آپ نے تشحیذ الاذہان رسالہ جاری فرمایا تو اس کے بارے میں حضرت خلیفہ اول کا کیا کیا سلوک تھا۔ کیا دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’عرصہ ہوا کہ جبکہ پہلے پہل میں نے چند ایک دوستوں کے ساتھ مل کر رسالہ تشحیذ الاذہان جاری کیا تھا۔ اس رسالے کو روشناس کرانے کے لئے جو مضمون میں نے لکھا جس میں اس کے اغراض و مقاصد بیان کئے گئے تھے وہ جب شائع ہوا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور اس کی خاص تعریف کی اور عرض کیا کہ یہ مضمون اس قابل ہے کہ حضور اسے ضرور پڑھیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسجد مبارک میں وہ رسالہ منگوایا اور غالباً مولوی محمد علی صاحب سے وہ مضمون پڑھوا کر سنا اور تعریف کی۔ لیکن اس کے بعد جب مَیں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو آپ نے فرمایا میاں تمہارا مضمون بہت اچھا تھا مگر میرا دل خوش نہیں ہوا۔ اور فرمایا کہ ہمارے وطن میں ایک مثل مشہور ہے کہ اونٹ چالی اور ٹوڈا بتالی۔ اور تم نے یہ مثل پوری نہیں کی۔ میں تو اتنی پنجابی نہیں جانتا تھا کہ مطلب سمجھ سکتا۔ اس لئے میرے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھ کر آپ نے فرمایا۔ شاید تم نے اس کا مطلب نہیں سمجھا۔ یہ ہمارے علاقے کی ایک مثال ہے۔ کوئی شخص اونٹ بیچ رہا تھا اور ساتھ اونٹ کا بچہ بھی تھا جسے اُس علاقے میں ٹوڈا کہتے ہیں۔ کسی نے اس سے قیمت پوچھی تو اس نے کہا کہ اونٹ کی قیمت تو چالیس روپے ہے مگر ٹوڈے کی بیالیس روپے۔ اس نے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے۔ تو اس نے کہا کہ ٹوڈا اونٹ بھی ہے اور بچہ بھی۔ پھر حضرت خلیفہ اوّل نے خلیفہ ثانی کو فرمایا کہ تمہارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف براہین احمدیہ موجود تھی۔ آپ نے جب یہ تصنیف کی تو اس وقت آپ کے سامنے کوئی اسلامی لٹریچر موجودنہ تھا مگر تمہارے سامنے یہ موجود تھی اور امید تھی کہ تم اس سے بڑھ کر کوئی چیز لاؤ گے۔ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ مامورین سے بڑھ کر علم تو کوئی کیا لا سکتا ہے سوائے اس کے کہ ان کے پوشیدہ خزانوں کو نکال نکال کر پیش کرتے رہیں۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھاکہ بعد میں آنے والی نسلوں کا کام یہی ہوتا ہے کہ گزشتہ بنیاد کو اونچا کرتے رہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے آئندہ نسلیں اگر ذہنوں میں رکھیں تو خود بھی برکات اور فضل حاصل کر سکتی ہیں۔ اور قوم کے لئے بھی برکات اور فضلوں کا موجب ہو سکتی ہیں مگر اپنے آباء سے آگے بڑھنے کی کوشش نیک باتوں میں ہونی چاہئے۔ یہ نہیں کہ چور کا بچہ ہو تو وہ چوری شروع کر دے۔ نمازی آدمی کی اولاد کوشش کرے کہ باپ سے بڑھ کر نمازی بنے۔ (ماخوذ از روزنامہ الفضل قادیان مؤرخہ 26؍فروری 1931ء صفحہ 9 نمبر99 جلد 18۔ ماخوذ از خطبات محمود جلد سوم صفحہ 456-457)

قرآن کریم کی عظمت کے بارے میں ایک جگہ بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے بھی اپنے بچپن کی ایک جہالت یاد ہے۔ جب مَیں چھوٹا بچہ تھا تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجالس میں بعض دشمن آتے اور آپ پر اعتراض کرتے تو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نہایت سادگی سے بات کرتے تھے۔ بعض دفعہ مجھے یہ وہم ہوتا تھا کہ شاید آپ اس شخص کی چالاکی کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ مگر جب دشمن مخالفت میں بڑھ جاتا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی آسمانی طاقت نے آپ پر قبضہ کر لیا ہے اور آپ اس شان سے جواب دیتے کہ مجلس پر سنّاٹا چھا جاتا تھا۔ ایسی ہی بیوقوفی ان لوگوں کی ہے جو اس وقت کہ جب کوئی شخص قرآن شریف پر اعتراض کرے تو کہتے ہیں چُپ ہو جاؤ ورنہ تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا۔ (عام طور پر غیروں سے، مولویوں سے بات کریں تو یہی کہتے ہیں کہ باتوں کی سمجھ نہیں آتی۔ نئی بیعتیں کرنے والے کئی لوگ ہیں جو یہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ سمجھ نہیں آیا تو مولوی کہتے ہیں کہ تمہیں سمجھ نہیں آ سکتا اس لئے چُپ کر جاؤ۔ نہیں تو ایمان ضائع ہو جائے گا)۔ حالانکہ یہ فضول بات ہے۔ چاہئے تو یہ کہ قرآن شریف پر جو اعتراض ہو ان کے جوابات ایسے دئیے جائیں کہ دشمن بھی ان کی صداقت کو مان جائے۔ نہ یہ کہ اعتراض کرنے والے کو اعتراض کرنے سے منع کر دیا جائے اور شکوک کو اس کے دل میں رہنے دیا جائے۔ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بات خوب یاد ہے۔ میں نے کئی دفعہ اپنے کانوں سے آپ کے منہ سے یہ بات سنی ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دنیا میں سارے (حضرت) ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے لوگ ہوتے تو اتنے بڑے قرآن شریف کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف بسم اللہ کی ’’ب’’کافی تھی۔ قرآن کریم کا اتنا پُرمعارف کلام جو نازل ہوا ہے یہ ابوجہل کی وجہ سے ہے۔ اگر ابوجہل جیسے انسان نہ ہوتے تو اتنے مفصّل قرآن شریف کی ضرورت نہ تھی۔ غرض قرآن کریم تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس پر جتنے اعتراضات ہوں گے اتنی ہی اس کلام کی خوبیاں ظاہر ہوں گی۔ پس یہ ڈر کہ اعتراض مضبوط ہو گا تو اس کا جواب کس طرح دیا جائے گا ایک شیطانی وسوسہ ہے۔ کیا خدا کے کلام نے ہمارے ایمان کی حفاظت کرنی ہے یا ہم نے خدا کے کلام کی حفاظت کرنی ہے؟ وہ کلام جس کو اپنے بچاؤ کے لئے انسان کی ضرورت ہے وہ جھوٹا کلام ہے اور چھوڑ دینے کے لائق ہے۔ ہمارے کام کا نہیں۔ ہمارے کام کا وہی قرآن شریف ہے جس کی حفاظت کے لئے کسی انسان کی ضرورت نہ ہو بلکہ اس کا محافظ خدا ہو اور اس پر جو اعتراض ہو وہ خود اس کو دُور کرے اور اپنی عظمت آپ ظاہر کرے۔ ہمارا قرآن کریم ایسا ہی ہے‘‘۔ (قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید۔ انوارالعلوم جلد 18 صفحہ 160)

پھر نفس کی کمزوری کا محاسبہ کس طرح ہونا چاہئے۔ یعنی کہ اپنے نفس پر آپ کو کنٹرول ہونا چاہئے۔ اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ لاہور کی ایک گلی میں ایک شخص نے آپ کو دھکا دیا۔ آپ گر گئے جس سے آپ کے ساتھی جوش میں آ گئے اور قریب تھا کہ اسے مارتے۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنے جوش میں سچائی کی حمایت میں ایسا کیا ہے۔ اسے کچھ نہ کہو۔ پس انبیاء اپنے نفس کے سوال کی وجہ سے نہیں بولتے بلکہ خدا کی عزت کے قیام کے لئے بولتے ہیں۔ تو یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ایسا ہی کرتے ہیں (جس طرح عام لوگ کرتے ہیں)۔ ان میں اور عام لوگوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ وہ خدا کے لئے کرتے ہیں اور عام لوگ اپنے لئے کرتے ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت معاویہ کی نماز کا واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان سے ایک مرتبہ فجر کی نماز قضاء ہو گئی لیکن وہ اس غلطی کے نتیجے میں نیچے نہیں گرے بلکہ ترقی کی۔ پس جو گناہ کا احساس کرتا ہے وہ گناہ سے بچتا ہے۔ جب گناہ کا احساس نہیں رہتا تو انسان معصیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پس مومن کو اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم پر غور کرنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ وہ خطرات سے محفوظ نہیں ہوا۔ صرف اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے کہ جب خدا کی آواز اسے کہہ دے۔ پس انسان کو اپنے نفس کی کمزوری کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ ایسے شخص کے لئے روحانیت کے راستے کھل جاتے ہیں۔ جو ایسا نہیں کرتا اس کے لئے روحانیت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور ایسا انسان گمراہ ہو جاتا ہے‘‘۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحہ 141-142)

مخالفت جو جماعت کی ہوتی ہے، نبی کی ہوتی ہے، یہ ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئی دفعہ ہم نے ایک واقعہ سنا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ دشمن جب ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو ہمیں امید ہوتی ہے کہ ان میں سے سعید روحیں ہماری طرف آ جائیں گی۔ لیکن جب نہ تو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں اور بالکل خاموش ہو جاتے ہیں تو یہ بات ہمارے لئے تکلیف دِہ ہوتی ہے۔ آپ (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے کہ نبی کی مثال اُس بڑھیا کی سی ہوتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کچھ پاگل سی تھی اور شہر کے بچے اسے چھیڑا کرتے تھے اور وہ انہیں گالیاں اور بددعائیں دیا کرتی تھی۔ آخر بچوں کے ماں باپ نے تجویز کی کہ بچوں کو روکا جائے کہ وہ بڑھیا کو دِق نہ کیا کریں۔ چنانچہ انہوں نے بچوں کو سمجھایا۔ مگر بچے تو بچے تھے وہ کب باز آنے والے تھے۔ یہ تجویز بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ آخر بچوں کے والدین نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا جائے اور دروازوں کو بند رکھا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اس پر عمل کیا اور دو تین دن تک بچوں کو باہر نہ نکلنے دیا۔ اس بڑھیا نے جب دیکھا کہ اب بچے اسے تنگ نہیں کرتے تو وہ گھر گھر جاتی اور کہتی کہ تمہارا بچہ کہاں گیا ہے؟ کیا اسے سانپ نے ڈس لیا ہے؟ کیا وہ ہیضے سے مر گیا ہے؟ کیا اس پر چھت گر پڑی ہے؟ کیا اس پر بجلی گر گئی ہے؟ غرض وہ ہر دروازے پر جاتی اور قسم قسم کی باتیں کرتی۔ آخر لوگوں نے سمجھا کہ بڑھیا نے تو پہلے سے بھی زیادہ گالیاں اور بددعائیں دینا شروع کر دی ہیں۔ اس لئے بچوں کو بند رکھنے کا کیا فائدہ۔ انہوں نے بچوں کو چھوڑ دیا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہی حالت نبی کی ہوتی ہے۔ جب مخالفت تیز ہوتی ہے تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے۔ اور جب مخالف چُپ کر جاتے ہیں تب بھی اسے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو لوگوں کی توجہ الٰہی سلسلے کی طرف نہیں ہوسکتی‘‘۔ (ماخوذ از رسول کریمﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات… انوارالعلوم جلد 19 صفحہ 152)

نبی کی طرف سے گالیاں تو نہیں آتیں۔ نبی کی طرف سے تو ہر صورت میں دعائیں ملتی ہیں۔ لیکن مخالفت جب تیز ہوتی ہے تو مخالفین کے لئے بھی دعائیں ہوتی ہیں تا کہ ان میں سے سعید روحیں پھر حق کو قبول بھی کر لیں۔ پھر مخالفت ترقی کا ذریعہ ہے۔ اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک مولوی صاحب آئے۔ وہ شاعر بھی تھے اور بڑے مشہور ادیب بھی تھے۔ نواب صاحب رام پور نے انہیں اردو محاورات کی لغت لکھنے پر مقرر کیا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نواب صاحب رام پور کے پاس مشہور شاعر مینائی کے مسودات پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے اردو کی ایک بڑی بھاری لغت لکھی ہوئی تھی مگر ابھی اسے مکمل نہیں کیا تھا کہ نواب صاحب وفات پا گئے۔ (ان کے جانشین) نواب صاحب رام پور نے وہ مسودات مجھے دئیے ہیں اور کہا ہے کہ تم انہیں مکمل کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا کہ رام پور میں تو ہماری بڑی مخالفت ہے اور آپ وہاں کے رہنے والے ہیں۔ آپ کو بیعت کرنے کی توجہ کیسے ہوئی؟ وہ کہنے لگے کہ مجھے کسی نے درّثمین دی تھی۔ مَیں چونکہ خود شاعر ہوں۔ میں نے آپ کا کلام پڑھا جس کی وجہ سے میں بہت متاثر ہوا کیونکہ اس میں محبت رسول بھری پڑی تھی۔ اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب وہاں آئے اور انہوں نے ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے بتایا کہ مرزا صاحب اسلام کے سخت دشمن ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔ مَیں نے ان کی تقریر سن کر سمجھا کہ مرزا صاحب ضرور سچے ہیں ورنہ ان مولوی صاحب کو آپ کے متعلق اتنا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔ جس شخص کے اندر اس قدر محبت رسول ہے کہ اس کا کلام اس سے بھرا پڑا ہے اس کے متعلق اگر کوئی مولوی کہتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن ہے تو وہ مولوی یقینا جھوٹا ہے۔ اور جس شخص پر وہ ہتک رسول کا الزام لگاتا ہے وہ سچا ہے۔ ورنہ اس تقریر کرنے والے کو جھوٹے دلائل دینے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ سچی بات کہتا کہ اگرچہ اس شخص نے درّثمین میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی تعریف کی ہے، خدا تعالیٰ کی بڑی تعریف کی ہے مگر ہے جھوٹا۔ اگر وہ ایسا کہتا تو پھر کوئی بات نہیں تھی۔ لیکن اس نے سچائی کو بالکل ترک کر دیا اور کہا کہ یہ شخص خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بدگوئی کرتا ہے۔ میں نے اس کی تقریر سنی تو فوراً سمجھ لیا کہ مرزا صاحب اپنے دعوے میں سچے ہیں اور مَیں آپ کی بیعت کے لئے تیار ہوگیا۔ تو حقیقت یہ ہے کہ بسا اوقات دشمن تو یہ کوشش کرتا ہے کہ مومنوں کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا کرے لیکن بجائے جوش ابھرنے کے وہ بات مومنوں کے حق میں مفید ہو جاتی ہے۔

اسی طرح کا ایک پرانا، شروع کا، ابتدائی زمانے کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’گجرات کے ضلع میں چک سکندر کے قریب بھاؤ گھسیٹ پور ایک گاؤں ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں چندنہایت ہی مخلص بھائی رہا کرتے تھے‘‘۔ لکھتے ہیں کہ ’’مَیں اس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ وہ بڑے شوق سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں آ کر بیٹھا کرتے تھے اور بڑے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک سالے تھے (یعنی بیوی کے بھائی) جن کا نام علی شیر تھا۔ (یہ پہلی بیوی کے بھائی تھے۔) چونکہ خدائی منشاء اور اس کے احکام کے ماتحت آپ نے حضرت ام المومنین سے شادی کر لی تھی۔ اس لئے آپ کی پہلی بیوی کے رشتہ دار آپ سے مخالفت رکھنے لگ گئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پہلی بیوی ایک بہت ہی نیک عورت تھیں۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ وہ ہم سے اتنی محبت کرتی تھیں کہ کہنے کو لوگ کہتے ہیں کہ ’’ماں سے زیادہ چاہے پھپھے کٹنی کہلائے‘‘۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ ہم بچپن میں یہی سمجھتے تھے کہ وہ ہم سے ماں سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں‘‘۔ (اس لئے لوگوں کی یہ جو غلط فہمیاں ہیں ناں کہ پہلی بیوی سے تعلق نہیں تھا وہ بھی غلط ہے۔) لکھتے ہیں کہ ’’ہماری بڑی بہن عصمت جب فوت ہوئیں تو ان دنوں چونکہ محمدی بیگم کی پیشگوئی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رشتے داروں نے ایک مخالفانہ اشتہار شائع کیا تھا اس لئے ہمارے اور ان کے درمیان کے گھر کا جو دروازہ تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بند کروا دیا تھا۔ حضرت ام المومنین نے سنایا کہ جب عصمت بیمار ہوئی اور اس کی حالت نازک ہو گئی تو جس طرح ذبح ہوتے وقت مرغی تڑپتی ہے وہ تڑپتی تھی۔ (یعنی بچی تڑپتی تھی، بچی بے چین ہوتی تھی) اور بار بار کہتی تھی کہ میری امّاں کو بلا دو۔ (یعنی بڑی والدہ کو۔) چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں بلوایا۔ جب وہ آئیں اور انہوں نے عصمت کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا تو اسے آرام اور سکون حاصل ہوا اور تب اس کی جان نکلی۔ غرض وہ بہت ہی نیک عورت تھیں اور ان کو اپنی سوکن کے بچوں سے بہت زیادہ محبت تھی۔ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی وہ بڑی محبت رکھتی تھیں اور آپ کی بڑی قدر کرتی تھیں اور آپ کے متعلق کسی سے بھی کوئی بری بات نہیں سن سکتی تھیں۔ مگر ان کے بھائی بڑے متعصب تھے اور وہ آنے والے احمدیوں کو ورغلاتے رہتے تھے اور کہتے تھے کہ میں تو اس کا بھائی اور رشتہ دار ہوں۔ مَیں جانتا ہوں کہ اس نے صرف ایک دکان کھول رکھی ہے اور کچھ نہیں ہے۔ (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں کہ صرف دکان کھولی ہے اور کچھ نہیں ہے نبوت کا ڈھکونسلا ہے۔ یہ باتیں سن کے) کمزور لوگوں کو دھوکہ لگ جاتا کہ بھائی جب یہ باتیں کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہی ہوں گی۔ ایک دفعہ تحصیل کھاریاں کے یہی پانچوں بھائی جن کا پہلے شروع میں ذکر ہوا ہے، قادیان آئے۔ اس وقت تک ابھی بہشتی مقبرہ نہیں بنا تھا۔ یہ اس سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس زمانے میں جو لوگ قادیان آیا کرتے تھے انہوں نے متبرک مقامات کی زیارت کے لئے یا تو مسجد مبارک میں چلے جانا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی مجلس میں چلے جانا یا پھر ہمارے دادا کے باغ میں چلے جانا۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد کا باغ ہے اس لئے یہ بھی متبرک جگہ ہے۔ اس باغ کے رستے میں وہ جگہ تھی جہاں محلہ دارالضعفاء بنا تھا۔ اس محلے کے بننے سے پہلے یہ زمین علی شیر صاحب کے پاس تھی (یعنی یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی بیوی کے بھائی تھے) اور وہ اس میں شوق سے باغیچہ لگایا کرتے تھے۔ ایک لمبی سی سیخ انہوں نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہوتی تھی۔ داڑھی بھی بڑی لمبی تھی مگر سلسلے کے سخت دشمن تھے اور ہمیشہ اس تاڑ میں رہتے تھے کہ کوئی احمدی ملے تو اسے ورغلاؤں۔ ایک دفعہ یہ پانچوں بھائی قادیان آئے (جیسا کہ ذکر ہوا ہے) اور باغ دیکھنے کے لئے چل پڑے۔ ان میں سے ایک بھائی تیز تیز قدم اٹھائے ہوئے سب سے آگے جا رہا تھا۔ مرزا علی شیر نے انہیں دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ باہر کے آدمی ہیں اور انہوں نے زور سے آواز دی کہ بھائی صاحب ذرا میری بات سننا۔ اس آواز پر وہ آ گئے۔ مرزا علی شیر نے ان سے کہا کہ آپ یہاں کس طرح آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا تھا کہ مرزا صاحب نے مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس لئے یہاں ہم ان کی زیارت کے لئے آئے ہیں کیونکہ ہمیں وہ اپنے دعویٰ میں سچے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ تم اس کے دھوکے میں کس طرح آ گئے۔ تم نہیں جانتے یہ تو اس شخص نے اپنی روزی کمانے کے لئے ایک دکان کھول رکھی ہے۔ یہ میرا بھائی ہے اور مَیں اس کے حالات کو خوب جانتا ہوں۔ تم تو باہر کے رہنے والے ہو۔ تمہیں اصل حالات کا کیا علم ہو سکتا ہے۔ تم اس کے دھوکے میں نہ آنا ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ وہ احمدی دوست مرزا علی شیر کی یہ بات سن کر بڑے شوق سے آگے بڑھے اور کہنے لگے کہ ذرا دست پنجہ تو لیں۔ (یعنی مصافحہ کریں۔ اپنا ہاتھ پکڑائیں۔) تو علی شیر نے سمجھا کہ میری باتوں کا اس پر اثر ہو گیا ہے اور میری بزرگی کا یہ قائل ہو گیا ہے کیونکہ ان کی عادت تھی کہ وہ باتیں بھی کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ سبحان اللہ اور استغفراللہ بھی کہتے جاتے تھے۔ تو علی شیر نے بڑے شوق سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور سمجھا کہ آج ایک اچھا شکار میرے قابو آ گیا ہے۔ تو بھائیوں میں سے یہ جو ایک احمدی بھائی آگے تھے، انہوں نے زور سے ان کا ہاتھ پکڑا اور باقی چاروں بھائیوں کو زور زور سے آوازیں دینی شروع کر دیں کہ جلدی آنا ایک ضروری کام ہے۔ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ ہمارے ماموں نے سمجھا کہ اس پر میری بات کا اثر ہو گیا ہے اور اب یہ اپنے بھائیوں کو اس لئے بلا رہا ہے کہ انہیں بتائے کہ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے اور وہ اپنے دل میں بڑے خوش ہوئے کہ آج میرا حربہ کارگر ہوا ہے۔ مگر جب ان کے بھائی وہاں پہنچ گئے۔ پانچوں بھائی اکٹھے ہو گئے تو جو پہلے بھائی آئے ہوئے تھے کہنے لگے ہم قرآن اور حدیث میں پڑھا کرتے تھے کہ دنیا میں ایک شیطان ہوا کرتا ہے مگر وہ ہمیں ملتا نہیں تھا۔ آج حسن اتفاق سے ہمیں شیطان مل گیا ہے (جو ورغلا رہا ہے۔) (ماخوذ از الفضل ربوہ 31 اگست 1956 صفحہ 5-6 نمبر204 جلد 45/10)

پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل بھی دریا کی طرح ہوتے ہیں اور دریا میں سے ایک قطرہ پانی کا لے لیا جائے تو اس میں کیا کمی آ سکتی ہے۔ مگر بندہ ہی ایسا بدقسمت ہے کہ وہ خود خدا کے انعامات سے اپنے آپ کو محروم کر لیتا ہے اور ان کی طرف سے منہ موڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور جب کوئی مامور آتا ہے تو لوگ اس کو حقیر سمجھ کر اس کا انکار کرنا شروع کر دیتے ہیں‘‘۔ پھر لکھتے ہیں کہ ’’حضرت باوانانکؒ کے ماں باپ بھی ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس نے ہماری دکانداری خراب کر دی ہے اور ہمارے گھر میں یہ بچہ نکمّا پیدا ہواہے۔ اگر ان کے ماں باپ زندہ ہو کر آج دنیا میں آ جائیں اور دیکھیں کہ وہی بچہ جسے ہم حقیر سمجھتے تھے اب لاکھوں آدمی اس پر فدا ہیں اور اس کے نام پر جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور ان میں کئی کروڑ پتی موجود ہیں تو وہ حیران رہ جائیں۔ مگر لوگ بیوقوفی سے سمجھ لیا کرتے ہیں کہ یہ چھوٹا آدمی ہے اسے ہم نے مان کر کیا کرنا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایسے ہی آدمیوں کو بھیجتا ہے جو بظاہر چھوٹے معلوم ہوتے ہیں اور ایک زمانہ آتا ہے کہ ان کے نام پر مر مٹنے والے لاکھوں لوگ پیدا ہو جاتے ہیں‘‘۔ فرمایا کہ ’’اسی طرح قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ قادیان میں نہ تو پہلے ریل تھی، نہ ڈاکخانہ تھا، نہ کوئی دینی یا دنیوی علوم کا مدرسہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی کوئی دنیاوی وجاہت نہ رکھتے تھے اور بظاہر آپ نے جو تعلیم حاصل کی تھی وہ بھی معمولی تھی۔ اس لئے جب آپ نے مسیحیت اور مہدویت کا دعویٰ کیا تو لوگوں نے شور مچا دیا کہ نعوذ باللہ یہ شخص جاہل ہے۔ یہ شخص کیسے مہدی ہو سکتا ہے۔ پھر لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں کیسے مامور آ سکتا ہے۔ اگر مامور آنا ہی تھا تو لاہور، امرتسر یا اس طرح کے کسی بڑے شہر میں آنا چاہئے تھے۔ غرض لوگوں نے زبردست مخالفت شروع کی اور جو لوگ آپ کے دعویٰ کو سن کر آپ کی زیارت کے لئے قادیان آنے کا ارادہ کرتے تھے ان کو بھی روکا جاتا تھا۔ اگر وہ نہ رکتے تھے تو انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جاتی تھیں۔ ان کو قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا کر دیا جاتا تھا۔ مگر ان تمام حالات کی موجودگی میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘۔ یہ الہام آپ کو اس وقت ہوا جب آپ کو ایک آدمی بھی نہ مانتا تھا۔ پھر یہ الہام ہوا کہ ’’میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘۔ اس زمانے میں مخالفت کا یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک نوکر پِیرا نامی تھا جو اتنا بیوقوف تھا کہ وہ سالن میں مٹی کا تیل ملا کر پی جاتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کبھی کبھی کسی کام کے لئے اسے بٹالہ بھیج دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ اس کو بٹالہ بھیجا گیا تو وہاں اس کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ملے جو اہلحدیث کے لیڈر مانے جاتے تھے اور بڑے بھاری مولوی سمجھے جاتے تھے۔ ان کا کام ہی یہی تھا کہ وہ ہر اس شخص کو جو بٹالہ سے قادیان آنے والا ہوتا تھا ملتے اور کہتے کہ اس شخص (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے دکان بنائی ہوئی ہے اور جھوٹا ہے۔ تم قادیان جا کر کیا کرو گے۔ مگر اس کے باوجود لوگ قادیان آ جایا کرتے تھے اور مولوی صاحب کے روکنے سے نہ رکتے تھے۔ اس دن مولوی صاحب کو اور تو کوئی آدمی نہ ملا پِیرا ہی مل گیا۔ اس کے پاس جا کر کہنے لگے کہ پِیرے! تمہیں اس شخص کے پاس نہیں رہنا چاہئے۔ کیوں اپنا ایمان خراب کرتا ہے۔ وہ بیچارہ ان کی اس قسم کی باتیں نہ سمجھ سکا۔ لیکن اس نے اتنا ضرور سمجھا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے پاس رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ جب مولوی صاحب ساری بات کر چکے تو کہنے لگا مولوی صاحب! میں تو بالکل جاہل ہوں اور اس قسم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتا۔ البتہ اتنا سمجھا ہوں کہ آپ نے کہا ہے کہ مرزا صاحب برے ہیں۔ مگر ایک بات تو مجھے بھی نظر آتی ہے کہ آپ ہر روز بٹالہ میں چکّر لگا لگا کر لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ کوئی شخص قادیان نہ جایا کرے اور دوسرے علاقوں سے آنے والے آدمیوں کو بھی روکتے ہیں اور ورغلاتے رہتے ہیں مگر مجھے تو صاف نظر آتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ آپ کے ساتھ نہیں۔ کیونکہ آپ کی ساری کوششوں کے باوجود لوگ سینکڑوں کی تعداد میں پیدل چل کر قادیان جاتے ہیں مگر آپ کے پاس کبھی کوئی نہیں آیا۔

پس اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے بندے شروع میں چھوٹے ہی نظر آتے ہیں اور دنیا کے ظاہر بین لوگ انہیں حقیر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی سمجھا گیا۔ مگر آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے، (حضرت مصلح موعود اس وقت لکھ رہے ہیں کہ) ہماری جماعت دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے‘‘۔ (اور اب تو اللہ کے فضل سے اور بھی زیادہ پھیل چکی ہے۔) ’’کجا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں آخری جلسہ سالانہ پر سات سو آدمی آئے تھے‘‘ (اور جمعہ کے خطبہ میں حضرت مصلح موعود یہ ذکر کر رہے ہیں کہ مسجد اقصیٰ میں اس وقت چار ہزار سے بھی زیادہ لوگ شامل ہوئے ہیں۔ اور آج تو دنیا کے اس خطے میں بھی اس وقت اس مسجد میں بھی پانچ چھ ہزار لوگ بیٹھے خطبہ سن رہے ہوں گے۔)

آپ فرماتے ہیں کہ ’’آپ کے زمانے میں ہندوستان کی ساری قوموں نے آپ کے خلاف شور مچایا اور شدید مخالفت کی مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود ہندوستان میں بھی ہمارے سلسلے نے ترقی کی اور بیرونی ممالک میں بھی ہماری جماعتیں قائم ہوئیں۔ چنانچہ آج ہمارے مشن دنیاکے تمام ممالک میں اپنا کام کر رہے ہیں۔ انگلینڈ، امریکہ، افریقہ، چین، جاپان، جاوا، سماٹرا اور یورپ کے تمام ممالک میں ہمارے مشن قائم ہیں اور تبلیغ کا کام جاری ہے۔ افریقہ کے حبشی تعلیم پا رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے شرک کرنے والے لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں خدا نے اپنے مامور کے ذریعہ ایک نیا ایمان پیدا کر دیا ہے جس سے دوسرے لوگ محروم ہیں ……‘‘۔ پھر فرماتے ہیں کہ ’’ہماری جماعت کے ایک معزز شخص صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید بھی اسی قسم کے لوگوں میں سے تھے (جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ سن کر پہنچے۔) وہ حج کے لئے گھر سے نکلے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعوت سن کر قادیان آ گئے اور بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد واپس گھر گئے تو افغانستان کے بادشاہ نے ان کو سنگساری کی سزا دی۔ صرف اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کر چکے تھے۔ لوگوں نے بہتیرا زور لگایا کہ آپ اپنے عقیدے کو بدل لیں مگر وہ نہ مانے کیونکہ ان پر صداقت کھل چکی تھی۔ آخر بادشاہ نے ان کو زمین میں گاڑ کر سنگسار کرا دیا اور نہایت بے رحمی سے شہید کیا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی اور خداکی راہ میں اپنی جان دے دی۔ سنگساری سے پہلے ایک وزیر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تم اپنے دل میں بیشک وہی عقائد رکھو مگر صرف زبان سے ہی انکار کر دو مگر انہوں نے فرمایا مَیں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ پس ان کو شہید کر دیا گیا مگر ان کے شہید ہونے کے تھوڑے عرصے بعد ہی افغانستان میں ہیضہ پھوٹا اور ہزاروں لوگ مر گئے۔ (اور اب تک دیکھیں وہ تباہی پھیلتی چلی جا رہی ہے۔)

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جب لوگوں نے مقابلہ کیا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ ملک میں سخت طاعون پھوٹے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس کا لقمہ بن گئے۔ مگر اس طاعون کے وقت بھی باوجودیکہ طاعون کا پھوٹنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی تائید میں تھا آپ نے مجسم رحم بن کر خدا کے حضور اس عذاب کو ٹلانے کے لئے نہایت گڑ گڑا کر دعائیں کیں اور اس قدر گریہ و زاری کی کہ مولوی عبدالکریم صاحب جو مسجد مبارک کے اوپر کے حصے میں رہتے تھے، فرماتے تھے کہ ایک دن مجھے کسی کے رونے کی آواز آئی اور وہ آواز اتنی دردناک تھی جیسے کوئی عورت درد زِہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔ میں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام رو رو کر خدا کے حضور میں دعا فرما رہے تھے کہ اے اللہ! اگر تیرے سارے بندے مر گئے تو مجھ پر ایمان کون لائے گا۔ یہ چیز بھی آپ کی صداقت کے لئے نہایت زبردست دلیل ہے۔ آپ ہی کی تائید کے لئے اللہ تعالیٰ نے طاعون بھیجی اور آپ کے دل میں ہی رحم آ گیا اور دعائیں شروع کر دیں‘‘۔ یہ ہوتا ہے نبی کا رحم کا معیار۔ (ماخوذ از ’خداتعالیٰ دنیا کی ہدایت کے لئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے‘۔ انوارالعلوم جلد 18صفحہ 510تا 514)

اللہ تعالیٰ ہر احمدی میں دینی غیرت بھی پیدا کرے۔ خدا تعالیٰ سے تعلق میں بھی بڑھائے۔ صبر اور حوصلہ بھی پیدا فرمائے۔ اور انسانیت کے بچانے کے لئے دعاؤں کی توفیق بھی ہمیں عطا فرمائے۔ اپنی اَناؤں پر اپنی عاجزی کو غالب کرنے والے ہوں اور مکمل طور پر ہمیں اپنی رضا پر چلائے، اس کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کی تکمیل کے لئے ہم اپنا کردار ادا کرنے والے ہوں اور ہر وہ بات کرنے والے ہوں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں سے، جماعت کے افراد سے خواہش کی ہے یا امید رکھی ہے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 24؍ اکتوبر 2014ء شہ سرخیاں

    حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بیان فرمودہ بعض واقعات کا نہایت دلچسپ اور ایمان افروز تذکرہ۔ ان واقعات میں سبق بھی ہیں، نصائح بھی ہیں، تاریخ بھی ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی سیرت بھی ہے۔ یہ سب باتیں ہماری زندگیوں میں بڑا مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ باتیں ہماری زندگیاں سنوارنے والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی میں دینی غیرت بھی پیدا کرے۔ خدا تعالیٰ سے تعلق میں بھی بڑھائے۔ صبر اور حوصلہ بھی پیدا فرمائے۔ اور انسانیت کے بچانے کے لئے دعاؤں کی توفیق بھی ہمیں عطا فرمائے۔ اپنی اَناؤں پر اپنی عاجزی کو غالب کرنے والے ہوں اور مکمل طور پر ہمیں اپنی رضا پر چلائے، اس کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کی تکمیل کے لئے اپنا کردار ہم ادا کرنے والے ہوں اور ہر وہ بات کرنے والے ہوں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں سے، جماعت کے افراد سے خواہش کی ہے یا امید رکھی ہے۔

    فرمودہ مورخہ 24؍اکتوبر 2014ء بمطابق24اخاء 1393 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور