اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے متعدد روشن نشانات اور ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ 26؍ اگست 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

برطانیہ کے جلسے کے دوسرے دن اللہ تعالیٰ کے افضال کی بارش کا ذکر ہوتا ہے جہاں مختلف شعبہ جات کے اعدادو شمار پیش ہوتے ہیں۔ جماعت کی ترقیات کا ذکر ہوتا ہے۔ ان اعدادو شمار کے ساتھ میں ان سے متعلقہ واقعات بھی بیان کیا کرتا ہوں لیکن ڈیڑھ دو گھنٹے میں اعدادو شمار کی تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی واقعات بیان کئے جا سکتے ہیں اور جو نوٹس پڑھنے کے لئے میں لاتا ہوں وہ تقریباً اسی طرح واپس چلے جاتے ہیں۔ ہر سال کے اعدادو شمار تو تفصیل سے تحریک جدیدنے شائع کرنے شروع کئے ہیں۔ کتابی شکل میں شائع ہو رہے ہیں۔ جہاں تک واقعات کا تعلق ہے وہ میں مختلف وقتوں میں بیان کرتا رہتا ہوں۔ آج بھی میں ان میں سے کچھ واقعات بیان کروں گا جن سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے۔ بعض کو رؤیا کے ذریعہ سے احمدیت کی صداقت بتا رہا ہوتا ہے۔ کہیں کوئی لٹریچر یا کتاب تبلیغ کا باعث بن جاتی ہے۔ کہیں احمدیت کی مخالفت احمدیت پھیلانے میں کھاد کا کام دیتی ہے۔ کہیں احمدیوں کے اخلاق دوسروں کو احمدیوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ پھر ایسے واقعات بھی ہیں جو دور دراز کے ملکوں میں رہنے والوں کے احمدیت پر ایمان اور یقین کے حیرت انگیز نظارے بھی ہمیں دکھاتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کو دیکھیں تو احمدیت قبول کرنے یا احمدیوں کی صحبت میں رہنے سے بچوں میں بھی حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوتی ہے جس کو دوسرے بھی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مختصر یہ کہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ بیشک ہم ایک نظام کے تحت اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جو پھل اللہ تعالیٰ لگاتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جو ہماری کوشش ہوتی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے سے اسلام کا پیغام پہنچانے اور لوگوں کے سینے اسے قبول کرنے کے لئے کھولنے کا کام خود اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا تو بہت سارا کام خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور یقینا ہر صحیح العقل احمدی کو اس بات کا پورا اِدراک ہے اور وہ جانتا ہے کہ احمدیت کی ترقی ہماری کوششوں اور وسائل سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہو رہی ہے۔ اب مزید تمہید کے بجائے مَیں کچھ واقعات پیش کرتا ہوں۔ ایک واقعہ یہ ہے۔ گنی کناکری کے مبلغ لکھتے ہیں کہ جماعتی تعارف پر مشتمل دو صفحوں کا لیف لیٹ خدا تعالیٰ کے فضل سے ملک کے طول و عرض میں پھیل چکا ہے اور ہمیں ملک کے دور دراز علاقوں سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں سے امام مہدی اور مسیح کے بارے میں سنا کرتے تھے۔ اب آپ کا یہ لیف لیٹ دیکھ کر ہمیں اشتیاق ہے کہ ہم آپ سے ملیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جب امت مسلمہ کو ایک مصلح کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے لوگوں سے ہمارے رابطے ہوئے اور وہ لوگ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔

اب لیف لیٹ تو صرف پتہ بتانے کے لئے ہے۔ ایک ذریعہ بنا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دلوں کو پہلے تیار کیا ہوا تھا اور جو عقل والے ہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ زمانہ ہے جس میں ایک مصلح کی ضرورت ہے، مسیح و مہدی کی ضرورت ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس دور دراز علاقے میں کسی کے زیر اثر احمدیت قبول کی گئی ہے یا احمدیت کی خبریں پہنچیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے کسی انسانی کوشش کا اس میں دخل نہیں۔ پھر تنزانیہ ایک اور ملک ہے۔ پہلے مغربی افریقہ تھا۔ اب یہ مشرقی افریقہ کا واقعہ ہے۔ ڈوڈوما ایک شہر ہے وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی ایک نمائش کے دوران ایک عورت ہمارے سٹال پر آئی اور بڑی حیرت سے پوچھنے لگی کیا یہ مسلمانوں کا سٹال ہے؟ پھر آہستہ آہستہ کتب سے تعارف حاصل کرتی رہیں۔ آخر پر ایک کتاب خریدی جس میں عیسائیت کے حوالے سے مواد تھا۔ چنانچہ ایک دن بعد وہی عورت اپنے خاوند کے ساتھ دوبارہ سٹال پر آئی اور اس دن وہ دونوں فوجی وردی میں ملبوس تھے۔ دونوں فوجی تھے۔ وہ عورت کہنے لگی کہ یہ میرا خاوند ہے اور ہماری شادی کو کافی عرصہ ہو چکا ہے۔ مَیں مسلمان ہوں اور یہ عیسائی ہے۔ اور عورت کہتی ہے کہ میری کافی دیر سے کوشش تھی کہ میں اسلام کی تعلیم بتاؤں اور مسلمان کروں لیکن کہیں سے اسلام کی تعلیم کے بارے میں مجھے کوئی ایسا اچھا موادنہیں مل رہا تھا۔ کل جب میں آپ کے سٹال پر آئی تو مجھے لگا کہ آج میں صحیح جگہ پر آئی ہوں۔ چنانچہ میں نے آپ سے کل ایک کتاب خریدی اور اپنے خاوند کو دی جس سے ان کے کافی سوالات حل ہو گئے اور باقی جو کچھ سوالات رہ گئے تھے وہ کہنے لگی کہ مجھے امید ہے آپ سے بات کر کے آج حل ہو جائیں گے۔ چنانچہ کافی دیر ان دونوں کی مبلغ کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی اور آخر کار اس کا خاوند بھی اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور وہ دونوں بیعت کر کے حقیقی اسلام یعنی احمدیت میں داخل ہو گئے۔ خاوند کے اسلام قبول کروانے کی سچی تڑپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل کو اس طرح کھینچا کہ اتفاق سے وہ وہاں آ بھی گئی اور پھر دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی اسلام کی آغوش میں آنے کی توفیق عطا فرمائی۔

پھر یہ صرف افریقہ کی ہی بات نہیں کہ لیف لیٹ کے ذریعہ سے یا تبلیغ کے ذریعہ سے پیغام پہنچ رہے ہیں یا لوگوں میں تجسّس صرف افریقہ میں اور تیسری دنیا کے لوگوں میں ہے۔ بلکہ ہمارے یہاں ہڈرز فیلڈ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ یہاں بھی ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بارنزلے (Barnsley) ٹاؤن میں تبلیغی لیف لیٹ تقسیم کئے گئے جس کی وجہ سے وہاں سے رابطہ قائم ہوا۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد وہاں سے پچاس سے زائد افراد مرد اور خواتین کوچ کروا کر ہڈرز فیلڈ میں ہماری مسجد میں آئے اور ان کا مقصد اسلام کے بارے میں معلومات لینا تھا۔ اس وفد کے ساتھ مسجد میں اڑہائی گھنٹے کا پروگرام ہوا اور اسلام اور احمدیت کے بارے میں انہیں پریزینٹیشن (presentation) دی گئی جس کے بعد سوال و جواب بھی ہوئے۔ تو یہاں بھی یہ لوگوں کا خود آنا اور خود توجہ کرنا یہ بھی ایک کڑی ہے کہ اللہ تعالیٰ اب ہر جگہ دنیا میں لوگوں کے دلوں کی تاریں ہلا رہا ہے۔ ایک طرف اسلام کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ایک طرف خود مسلمان اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں غیر مسلم انتہا سے آگے جانا شروع ہو گئے ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ خود ہی ایک ہوا چلا رہا ہے جس سے لوگوں میں حقیقی اسلام کو سمجھنے کی طرف توجہ بھی پیدا ہو رہی ہے۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دور دراز کے رہنے والوں کے دلوں کو ایمانی لحاظ سے کس طرح اللہ تعالیٰ نے مضبوط کیا اور ان میں قربانی کا جذبہ بھی پیدا کیا۔ بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ الاڈا ریجن کی ایک جماعت سوکو (Soko) میں اس سال فروری میں نئی مسجد تعمیر ہوئی۔ مسجد کی تعمیر میں احباب جماعت نے بہت اخلاص اور محبت کے ساتھ حصہ لیا اور بہت سے مراحل میں غیر معمولی طور پر وقت اور مال کی قربانی کرتے ہوئے مزدوروں کی مدد بھی کرتے رہے۔ خواتین بھی تعمیری کام کے لئے دور دور سے پانی لے کر آتی رہیں اور اس طرح مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتی رہیں۔ وہاں گاؤں کے اپنے جو مقامی روایتی صدر ہیں انہوں نے کہا کہ یہ مسجد اہل علاقہ کے لئے پرامن اسلام کی قیامگاہ ہے۔ اسی طرح وہاں کے جو چیف تھے انہوں نے کہا کہ مسجد الاڈا ریجن کی اس کونسل کے لئے یقینا روشنی کا مینار اور راستہ ہے۔ اس علاقے کے لوگ زیادہ تر بت پرستی کے مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ وہاں ایک لوکل چیف جو اپنے چھوٹے چھوٹے علاقوں کے بادشاہ کہلاتے ہیں کہنے لگے میں بھی ایک وقت میں بت پرست ہوتا تھا لیکن آج احمدیت کی بدولت توحید پرست ہو گیا ہوں اور اس نے لوگوں کو کہا کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ جماعت سچائی اور محبت کا مجسم نمونہ ہے اور جماعت احمدیہ کی بدولت ہی مجھے یہ ادراک ہوا ہے کہ گو میں ایک بادشاہ ہوں مگر میرے اوپر ایک عظیم شہنشاہ ہے جس کی عبادت ہم سب پہ فرض ہے۔

اب اللہ تعالیٰ ہی ہے جو یہ سوچ ذہنوں میں پیدا کرتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا پیغام بھی سچا ہے اور اسلام کی تعلیم بھی سچی ہے اور یہی حقیقی تعلیم اور پیغام ہے جو جماعت احمدیہ دنیا میں پھیلا رہی ہے اور یہی وہ تعلیم ہے جس سے جو مشرک لوگ ہیں وہ موحّد بن رہے ہیں۔ اس علاقہ کے ایک اور عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ جب اس علاقہ میں اسلام کی تبلیغ ہوئی اور لوگوں کی توجہ اسلام اور احمدیہ جماعت کی طرف ہوئی تو میرے پاس بہت سے لوگ جو اسلام کے نام سے خائف تھے اور جماعت کے حق میں نہیں تھے آئے اور اس خوف کا اظہار کیا کہ یہ لوگ دوسری دہشتگرد تنظیموں کی طرح ہمارے لوگوں کو قتل اور بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش سے آئے ہیں۔ چنانچہ اس علاقے کے جو افسر تھے کہتے ہیں ہم نے اپنے نوجوانوں کی ڈیوٹی لگائی جو رات کے وقت مختلف اوقات میں جا کر علاقہ کے احمدی لوگوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے تھے کہ جماعت کسی قسم کی کوئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں۔ لیکن بڑی تحقیق اور تجربے کے بعد اب ہم مطمئن ہیں کہ جماعت کا مقصد صرف امن کا قیام ہے۔

احمدیت کے مخالف بڑی لالچوں کے ذریعہ لوگوں کو احمدیت سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بظاہر ان دور دراز علاقوں میں رہنے والوں اور کم تعلیم یافتہ اور اَن پڑھ لوگوں کے ایمانوں کو بھی مضبوطی عطا فرما رہا ہے۔

بینن میں ایک جگہ بوزنپے (Bozinkpe) سے ہمارے مقامی معلم کہتے ہیں کہ چند افراد کو بیعت کی توفیق ملی اور نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ کہتے ہیں کہ بیعت کرنے سے قبل یہ لوگ مسلمان تھے اور ایک اور شہر کی ایک مسجد کے زیر اثر تھے۔ قریبی بڑا شہر تھا۔ بیعت کے بعد ان افراد سے مسلسل رابطہ رکھا گیا۔ وہاں کلاسز شروع کی گئیں۔ قرآن کریم، نماز اور دوسری اسلامی باتیں سکھائی گئیں۔ کچھ عرصے بعد جب اس علاقے کے امام کو علم ہوا تو اس نے جماعت کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیں۔ کہنے لگا کہ احمدی تو مسلمان ہی نہیں ہیں۔ یہ کافر ہیں۔ آپ لوگ ان کو چھوڑ دیں۔ اس پر نومبائعین نے جواب دیا کہ ہم لوگ بڑے عرصے سے اس علاقے میں موجود ہیں۔ آپ لوگوں نے نہ تو کبھی یہاں آ کر ہماری خیریت پوچھی نہ ہمارے بچوں کی دینی تعلیم کے بارے میں کبھی پوچھا۔ اب احمدیوں نے آ کر ہمیں اور ہمارے بچوں کو نماز اور قرآن پڑھانا شروع کیا ہے تو آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالا ہے۔ جو لوگ ہمیں نماز اور قرآن سکھا رہے ہیں ان لوگوں کو کیسے کافر کہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ لوگ سب ثابت قدم ہیں اور اب یہاں اس علاقے میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو پختہ مسجد بنانے کی بھی توفیق عطا فرمائی۔

پھر بینن کے ایک اور معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ریڈیو تبلیغی پروگرام کے دوران ایک دن ایک دوست غاں ہونتوں ایرک (Gan Hounouto Eric) صاحب کی فون کال آئی۔ موصوف نے ہمیں اپنے گاؤں میں تبلیغ کے لئے آنے کی دعوت دی۔ کہتے ہیں وہ ابھی اپنا پتہ بتا رہے تھے کہ فون کال کٹ گئی اور بات پوری نہیں ہو سکی۔ لکھتے ہیں کہ ایک دن ہم تبلیغ کی غرض سے ایک گاؤں سِنوے پوتا (Sinwe Kpota) پہنچے تو ایک آدمی ہمیں دیکھ کر کھڑا ہوا اور سب لوگوں سے کہا کہ جلدی ادھر آؤ۔ جن کو ہم روز ریڈیو پر سنتے تھے وہ آج خود ہمارے گاؤں آ گئے ہیں۔ چنانچہ وہاں تبلیغ کے نتیجہ میں 200سے زائد افرادنے بیعت کی اور ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔

اب چند دن ہوئے ہیں بیعت کئے لیکن ایمان کی مضبوطی کا حال بھی سن لیں۔ کہتے ہیں کہ بیعت کرنے کے دو دن بعد تیز بارش اور آندھی کے باعث ایرک صاحب جو احمدی تھے ان کے گھر کی دیوار گر گئی۔ جس کے نیچے آ کر ان کا آٹھ ماہ کا بچہ فوت ہو گیا۔ مشرکوں کا گاؤں تھا بعض مشرکین نے کہا کہ دیکھو تم اس جماعت پر ابھی ایمان لائے اور ابھی سے مشکلات آنی شروع ہو گئی ہیں۔ جس پر اس نے کہا کہ میں نے جو سچائی دیکھی اس پر ایمان لے آیا۔ باقی اولاد اور مال و دولت خدا ہی دیتا ہے اور وہی واپس بھی لے لیتا ہے۔ میں اس جماعت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا چاہے کچھ بھی ہو۔ میں نے احمدیت قبول کی ہے۔ مَیں احمدی ہوں اور انشاء اللہ مرتے دم تک احمدی ہی رہوں گا۔ تو یہ ہے ایمان کی مضبوطی اور توحید پر قائم ہونا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں پیدا فرما رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی زمین کا ایک حصہ نماز سینٹر بنانے کے لئے بھی دیا بلکہ اس میں خود ہی ایک معمولی سے چھپر وغیرہ کا فوری طور پر انتظام کر دیا تا کہ قرآن کریم کی کلاسیں شروع کی جا سکیں۔ اللہ تعالیٰ کس طرح احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کے راستے کھولتا ہے اس بارے میں تنزانیہ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ شیانگا ریجن کے ایک گاؤں بوتیبو (Butibu) میں اس سال ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ اسی ریجن کے ایک اور گاؤں میں تبلیغی پروگرام منعقد ہو رہا تھا۔ وہاں بوتیبو (Butibu) گاؤں کی ایک عورت اتفاقاً پہنچی اور اس نے جب جماعت احمدیہ کا پیغام سنا تو کہنے لگی آپ لوگ ہمارے گاؤں میں بھی اسلام کا پیغام لے کر آئیں کیونکہ وہاں کچھ مسلمان ہیں اور ان کی ایک مسجد بھی ہے لیکن جو اسلام آپ لوگ پیش کر رہے ہیں وہ ان کے اسلام سے بالکل مختلف ہے۔ چنانچہ جب ہمارے معلمین نے وہاں جا کر اسلام احمدیت کی تبلیغ کی تو پہلے ہی دن امام مسجد سمیت کل 93افرادنے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ جب اس علاقے کے سنّی مولوی کو پتا چلا کہ یہ لوگ احمدی ہو گئے ہیں تو اس گاؤں پہنچا اور کہنے لگا تم لوگ گمراہ ہو گئے ہو اور بھٹک گئے ہو۔ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ اس پر نومبائعین نے جواب دیا کہ ہم نے سوچ سمجھ کر احمدیت قبول کی ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے اس لئے ہم تمہاری کوئی بات نہیں سنیں گے۔ جب لوگوں نے مولوی کی بات نہیں سنی تو ان کا جو بڑا مولوی تھا وہاں کے مقامی امام کو کہنے لگا کہ تم مجھے دفتر آ کر ملو۔ اس پروہاں کے مقامی امام نے انکار کر دیا کہ مَیں نہیں آؤں گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سب نومبائع جماعت کے ساتھ تعلق میں مضبوط ہو رہے ہیں اور چندہ کے نظام میں بھی شامل ہیں۔ وہ غریب لوگ ہیں۔ بعض دفعہ سفر کے لئے کرایہ بھی جمع نہیں کر سکتے لیکن سب نے مرکز میں شوریٰ کا نمائندہ بھیجنے کے لئے چندہ اکٹھا کر کے اپنا نمائندہ بھجوایا۔ اور انہی نومبائعین کی وجہ سے قریب کے دو اور نئے گاؤں میں بھی جماعت کا پودا لگ چکا ہے اور نظام جماعت قائم ہو چکا ہے۔

اسی طرح شیانگا تنزانیہ میں شیانگا ریجن کے ایک اور گاؤں میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ پچھلے کئی سالوں سے مسلمان وہاں تھے۔ ایک کچی مسجد بھی تھی۔ جب ہمارے معلمین سلسلہ اس علاقے میں پہنچے اور تبلیغی پروگرام منعقد ہوئے تو گاؤں کے 130افراد امام مسجد کے ہمراہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔ احمدی ہونے کے بعد ان لوگوں کے بڑے بزرگ عیدی صاحب اپریل میں ہماری شوریٰ پر دارالسلام بھی آئے اور جماعت کا مضبوط نظام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ کہنے لگے کہ میں 1993ء سے مسلمان تھا لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں جماعت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔

برکینا فاسو ایک اور افریقہ کا ملک ہے جہاں فرنچ بولی جاتی ہے۔ وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ دوران سال جماعت کو تینکوڈگو ریجن میں ایک بہت خوبصورت مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔ اس گاؤں میں جب احمدیت کا نفوذ ہوا تو اس وقت گاؤں کے لوگوں نے امام سمیت بیعت کی تھی۔ مخالف مولوی اس گاؤں میں گئے اور انہوں نے کہا کہ آپ احمدیت چھوڑ دیں تو ہم آپ کو اپنی بہت خوبصورت مسجد دے دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی امام نے جماعت احمدیہ کا دامن تھامے رکھا اور جو کویت کے پیسے یا عرب ملکوں کے پیسے سے بنائی جانے والی مسجد تھی اس پر جماعت کی اس کچی مسجد کو ترجیح دی۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو وہاں ایک پختہ مسجد بنانے کی توفیق ملی ہے جو مین ہائی وے کے اوپر بنی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری مسجد کی خبر پورے شہر اور تمام ملحقہ علاقوں میں پہنچ چکی ہے۔ اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر آس پاس کے گاؤں کے تمام امام اور بعض اہم شخصیات بھی آئی تھیں اور ریجن کے بادشاہ بھی شامل تھے۔ ایک مخالف امام نے تین مرتبہ پوچھا جو مخالفت کیا کرتے تھے کہ جومیں نے یہاں دیکھا ہے کیا یہی احمدیت ہے؟ کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جماعت احمدیہ کے بارے میں جو کچھ سن رکھا تھا وہ سب جھوٹ تھا۔ لیکن آج میں کہہ سکتا ہوں کہ احمدیت سے بڑھ کر اور کوئی اسلام ہو ہی نہیں سکتا۔ پس جو حقیقی مسلمان ہے، جس کو اسلام کا درد ہے اور جو اسلام کو دنیا میں پھیلتا دیکھنا چاہتا ہے وہ جماعت احمدیہ سے باہر ہو کر کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا اور یقینا آج سوائے جماعت احمدیہ کے، سوائے اس پیغام کے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے اسلام کا پھیل رہا ہے اور جس نے پھیلنا تھا، اَور کہیں یہ صحیح اسلام نظر آ ہی نہیں سکتا۔

بینن کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بوہیکوں (Bohicon) ریجن کی ایک جماعت میں ہماری مسجد تعمیر ہوئی۔ اس گاؤں میں مارچ 2015ء میں احمدیت کا پودا لگا تھا اور 245 افراد احمدیت کی آغوش میں آئے۔ جب سے اس جماعت نے احمدیت قبول کی ہے ان کو مسلسل مخالفت کا سامنا ہے۔ رشتہ داروں کی طرف سے بھی مخالفت ہوئی۔ گاؤں کے امام کی طرف سے بھی شدید مخالفت ہوئی۔ گاؤں کے امام نے مختلف اماموں کو گاؤں میں بلا کر جماعت کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے اس جماعت کے افراد اپنے عہد بیعت پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ دوران سال جب یہاں مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو غیر از جماعت مولوی کھل کر مخالفت کرنے لگے۔ لوگوں کو کہنے لگے کہ احمدیوں کی مسجد سے بہتر ہے کہ تم لوگ کسی چرچ میں جا کر نماز پڑھ لو۔ جو مستری مسجد تعمیر کر رہا تھا اس کے گھر جا کر اس کو بھی دھمکیاں دیں کہ وہ مسجد تعمیر نہ کرے۔ لیکن ان تمام دھمکیوں اور حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو یہاں مسجد بنانے کی توفیق ملی اور اس مسجد کے تیرہ میٹر بلند دو مینارے بھی ہیں اور بڑی خوبصورت مسجد ہے اور 375 افراد اس میں نماز بھی ادا کر سکتے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خوابوں کے ذریعہ کس طرح رہنمائی فرماتا ہے۔ سان پیدرو (San Pedro) آئیوری کوسٹ کی ایک ریجن ہے۔ اس کے ایک شہر میں رؤیا کے ذریعہ سے ایک دوست زولغم احمد صاحب نے بیعت کی۔ موصوف کا تعلق عیسائیت سے تھا لیکن بعد میں اسلام قبول کر کے وہابی فرقے میں شامل ہو گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نماز سیکھی اور باقاعدہ مسجد میں جا کر نمازوں کی ادائیگی شروع کر دی۔ اسی دوران میں نے خواب میں دو مرتبہ ایک بزرگ کو دیکھا۔ پہلی مرتبہ خواب میں ہی مجھے علم ہوا کہ یہ شخص خدا کا نبی ہے۔ مَیں سمجھا کہ شاید یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے۔ کچھ عرصہ بعد ایک مرتبہ پھر مَیں نے خواب میں دیکھا کہ انہی بزرگ کی تصویر ٹی وی پر آ رہی ہے اور کوئی ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر رہا ہے اور ٹی وی کے نیچے فرنچ میں لکھا ہوا ہے کہ مشن اسلامک احمدیہ۔ اس خواب کے بعد میں نے مسجد کے امام صاحب سے جماعت احمدیہ کے بارے میں پوچھا۔ پہلے تو امام صاحب نے ٹال مٹول سے کام لیا مگر اصرار کرنے پر کہنے لگے کہ یہ لوگ جو احمدی ہیں یہ مسلمان نہیں ہیں۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ کس نے تمہیں ورغلایا ہے۔ کیوں تم اپنا اسلام برباد کرنے پر تلے ہوئے ہو۔ اس شہر میں تو احمدیت نہیں ہے۔ (جس شہر میں وہ شخص تھا وہاں احمدیت نہیں تھی۔) اس پر انہوں نے مولوی صاحب کو جواب دیا کہ مجھے کسی نے نہیں ورغلایا کیونکہ میں تو ابھی تک کسی احمدی سے ملا ہی نہیں۔ مجھے تو خدا تعالیٰ نے احمدیت کا رستہ دکھلایا ہے۔ کہتے ہیں کہ گھر آ کر مجھے اور زیادہ تشویش ہونی شروع ہو گئی کہ آخر یہ احمدی کون لوگ ہیں اور امام صاحب ان کو کافر کیوں کہہ رہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے خدا تعالیٰ سے بہت دعا کی کہ اے خدا! تُو ہی مجھے سیدھا راستہ دکھلا۔ میں اپنے حلقہ احباب سے جماعت کے بارے میں پوچھتا رہا لیکن کوئی بھی رابطہ کا ذریعہ نہیں مل رہا تھا۔ آخر ایک دن ایک دوست نے بتایا کہ ایک دوسرے شہر دلوا (Dalwa) میں احمدیت موجود ہے۔ چنانچہ میں لوگوں سے پوچھتے پوچھاتے مشن ہاؤس تک پہنچ گیا جہاں مشنری صاحب نے جماعت کا تعارف کروایا۔ وہاں مشن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ کر مَیں حیران ہوا۔ پوچھنے پر مشنری صاحب نے بتایا کہ یہی امام مہدی اور مسیح زمان ہیں۔ چنانچہ میں نے اسی وقت وہاں احمدیت قبول کر لی اور مشنری کو بتایا کہ یہی بزرگ مجھے دومرتبہ خواب میں نظر آئے تھے۔ موصوف ہمارے مبلغ کو کہنے لگے کہ بیعت فارم تو میں نے اب ہی پُر کیا ہے لیکن احمدی میں اُس دن سے ہوں جب خدا تعالیٰ نے مجھے خواب میں رہنمائی کر دی تھی۔ اب موصوف بیعت کے بعد باقاعدہ چندے کے نظام میں شامل ہو گئے ہیں۔ گھر میں باقاعدہ نماز اور تہجد بھی ادا کرتے ہیں۔ اپنے علاقہ میں امام سمیت دوسرے لوگوں کو تبلیغ بھی کر رہے ہیں۔ اب یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے کام کہ کس طرح رہنمائی کر رہا ہے اور دوسری طرف بعض لوگ ہیں جو شکوک میں پڑے ہوئے ہیں اس لئے کہ ان کی نیتیں صاف نہیں ہیں۔ پھر بیلجیم سے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ بیلجیم جماعت میں نومبائع ادریس صاحب نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا۔ اب ایک افریقہ کی بات ہو رہی ہے اور ایک یورپ کی بات ہو رہی ہے۔ ہر جگہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا ہی تصرف ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت وہ جماعت احمدیہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ ایک دوست جنہوں نے ایک بزرگ کو خواب میں دیکھا۔ پھر دو سال قبل ایک دن ٹی وی پر مختلف چینلز بدل رہے تھے کہ اچانک ایم ٹی اے العربیۃ پر نظر پڑی۔ موصوف نے ایم ٹی اے پر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی تو انہیں فوراً اپنا خواب یاد آ گیا۔ انہوں نے خواب میں اسی بزرگ کو دیکھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے باقاعدگی کے ساتھ ایم ٹی اے دیکھنا شروع کر دیا۔ اس طرح ان کا دل احمدیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گیا۔ اس کے بعد موصوف نے خود کوشش کر کے بیلجیم جماعت کا ایڈریس تلاش کیا اور مشن ہاؤس پہنچے اور کہنے لگے کہ میں بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں۔ مربی صاحب نے انہیں کہا کہ پہلے جماعت کے بارے میں کچھ پڑھ تو لیں، مزید معلومات بھی حاصل کر لیں پھر فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے میرے تمام سوالات کے جوابات مل چکے ہیں اور جب انہیں مزید تعارف کروایا گیا، اختلافی مسائل کے حوالہ سے بھی باتیں کی گئیں تو خود ہی دلائل دے کر جواب دیتے تھے۔ کہنے لگے میرا دل پہلے ہی مطمئن تھا۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔ اب دیکھیں جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اگر افریقہ کے دور دراز ممالک میں اللہ تعالیٰ دل کھول رہا ہے تو یورپ میں بھی کھول رہا ہے۔

پھر افریقہ کا ایک ملک مالی ہے۔ وہاں کے مبلغ کہتے ہیں کہ ایک بزرگ مشن ہاؤس آئے اور کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ جب ان سے بیعت کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ میں کل رات آپ لوگوں کا ریڈیو پر لائیو پروگرام سن رہا تھا جس میں بعض لوگ لائیو کالز (live calls) کر کے جماعت احمدیہ کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ مَیں نے پروگرام کے دوران ہی خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں میں سے جو بھی حق پر ہے اس کی طرف میری رہنمائی فرما اور کہتے ہیں دعا کرتے کرتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک طرف جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں اور دوسری طرف جماعت احمدیہ کے مخالفین ہیں اور ان کے درمیان مناظرہ ہو رہا ہے۔ مگر جب مخالفین احمدیت مبلغ کوجواب نہیں دے پاتے تو مبلغ کو ایک گڑھے میں پھینک دیتے ہیں اور مٹی ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی دوران آسمان سے ایک بزرگ ظاہر ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ مَیں مہدی ہوں اور ہاتھ بڑھا کر احمدی مبلغ کی جان بچاتے ہیں۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔ اب احمدیت کی سچائی سے متعلق میرے دل میں کوئی وسوسہ نہیں ہے اس لئے مَیں بیعت کرنے کے لئے آ گیا ہوں۔ پھر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کس طرح راستے کھولتا ہے۔ فرانس کے ایک دوست مرتضیٰ صاحب پہلے مسلمان تھے، احمدی نہیں تھے۔ اس علاقے میں رہتے تھے جہاں کوئی احمدی بھی نہیں تھا۔ انہوں نے اس سال بیعت کی۔ کہتے ہیں مَیں نے بچپن میں آٹھ یا نو سال کی عمر میں ایک کتاب پڑھی جس کا نام مسیح الدجال تھا۔ اس کتاب میں تین گروہوں کا ذکر تھا۔ ایک فلاح پانے والے۔ دوسرے بزدل۔ اور تیسرے شہداء۔ اس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے فلاح پانے والے گروہ میں شامل کرنا۔ کچھ عرصے بعد ہم ہجرت کر کے فرانس آ گئے۔ یہاں ایک دن مجھے ٹی وی پر ایم ٹی اے کا چینل نظر آیا اور اس طرح مَیں جماعت سے متعارف ہوا اور باقاعدہ ایم ٹی اے دیکھنے لگا یہاں تک کہ جماعت کی صداقت کا مَیں دل سے قائل ہو گیا مگر بیعت نہ کی۔ کسی بیماری کی وجہ سے عرصے سے میرے ہاں کوئی اولادنہ تھی۔ ایم ٹی اے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو دعائیں آتی ہیں وہ مَیں نے پڑھنی شروع کیں اور ان دعاؤں کی برکت سے خدا تعالیٰ نے کچھ ہی عرصہ میں مجھے اولاد سے نواز دیا حالانکہ اس سے قبل ڈاکٹرز کہہ چکے تھے کہ میرے ہاں کوئی اولادنہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اس سال 2016ء میں مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان دیکھ کر مَیں نے بیعت کر لی۔

بچوں کے پروگراموں کا اور بچوں کی نیک تربیت کا بھی لوگوں پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ بینن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ آتیسے (Atesse) میں مسجد کے افتتاح کے موقع پر بچوں نے تلاوت قرآن کریم اور عربی قصیدہ پیش کیا۔ اس موقع پر ہمسایہ گاؤں کے غیر احمدی امام اسحاق صاحب کہنے لگے کہ بچوں نے جو تلاوت قرآن اور عربی قصیدہ پیش کیا ہے اس سے میرے دل پر گہرا اثر ہوا ہے۔ اگر وہ بچپن سے اتنی اچھی چیزیں نہ سیکھ رہے ہوتے تو کبھی بھی اتنے اچھے طریقے سے پیش نہ کر سکتے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ بچوں کی اچھی تربیت کر رہی ہے۔ وہاں اپنی تقریر میں کہا کہ میں والدین سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو ضرور مسجد بھیجا کریں۔ اگر ایک طرف اسلام سکھانے والے بچوں سے خود کش حملے کروا رہے ہیں تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی تربیت کے زیر اثر غیر بھی اس طرف توجہ دلوا رہے ہیں کہ اپنے بچوں کی تربیت کے لئے جماعت کی مسجدوں میں بھیجو۔

پھر بچوں کی تربیت کر کے انہیں اسلامی تعلیمات سکھانا اور معاشرے کا کارآمد وجود بنانا، یہ ہمارا کام ہے اس لئے تربیت کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بھی لوگوں پر جماعت کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی مثال دی۔

اب سیرالیون ایک اور ملک ہے۔ وہاں بو (Bo) ریجن کی جماعت ’’سان‘‘ میں ہمارے ایک معلم بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت میں احمدی اور غیر احمدی بچوں کی کلاس لینا شروع کی جس میں وہ ان کو بنیادی مذہبی تعلیم سکھاتے تھے۔ ان کی کلاس میں غیر احمدی بچہ بھی حصہ لینے لگا۔ اس کا نام احمد کونٹے تھا۔ کافی کچھ سیکھ گیا۔ ایک دن اس بچے کا والد عبدل جو کہ ایک غیر احمدی تھا وضو کر رہا تھا اس پر بچہ جس کی عمر گیارہ بارہ سال ہو گی اس کے پاس گیا اور اپنے والد کو بتایا کہ آپ درست طریقے سے وضو نہیں کر رہے۔ اس کے بعد بچہ لوٹے میں پانی بھر کر لایا اور اپنے والد کو وضو کرنے کا درست طریق سمجھایا اور ساتھ ہی اس کو وضو کرنے کی دعا اور مسجد جانے کی دعا بھی سکھائی۔ اس کا والد یہ سب کچھ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور پوچھا کہ یہ سب تم نے کہاں سے سیکھا ہے اس نے بتایا کہ احمدیہ مسجد میں ہونے والی کلاس میں یہ سب کچھ سکھایا جاتا ہے۔ جس پر اس کے والدنے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور ہمارے معلم صاحب کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ آج کے بعد میرا بیٹا آپ کے حوالے ہے۔ آپ جو چاہیں اس سے کام لیں اور اس کی اچھی تربیت جاری رکھیں۔ تو یہ لوگ جو ابھی احمدی نہیں ہوئے ان پر بھی بچوں کی جس رنگ میں جماعت تربیت کرتی ہے اس کا بڑا اثر ہے۔ اور یہ بات تمام احمدی والدین کو یاد رکھنی چاہئے اور جماعتی نظام کو بھی یاد رکھنی چاہئے۔ مربیان اور معلمین کو بھی یاد رکھنی چاہئے کہ بچوں کی تربیت کی طرف خاص طور پر بہت توجہ دیں۔ ایک تو آئندہ نسل کو سنبھالنے کی ذمہ داری ہے اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہمارے سپرد ہے۔ دوسرے بچوں کے ذریعہ سے ہی تبلیغ کے بھی اور تربیت کے بھی مزید راستے کھلتے ہیں۔ ہمسایوں کا حق ادا کرنا اسلام کی بنیادی تعلیم ہے اور قرآن شریف میں بھی اس کا حکم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس پر بہت زور دیا ہے۔ آئیوری کوسٹ سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نومبائع آدما (Adama) صاحب اس سال بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ قبول احمدیت سے قبل میں دیگر غیر از جماعت مساجد میں نماز پڑھتا تھا اور میں نے احمدیت کے بارے میں اس قدر منفی باتیں سن رکھی تھیں کہ احمدیہ مسجد کے قریب ہونے کے باوجود مَیں دوسری مسجد جا کر نماز ادا کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ جب میں سخت بیمار ہوا تو احمدیہ مسجد کے امام میری عیادت کے لئے آئے۔ اس بات کا میرے دل پر غیر معمولی اثر ہوا۔ صحتمند ہونے کے بعد میں نے احمدیہ مسجد جا کر نماز پڑھنا شروع کر دی اور مسجد میں ہونے والے درسوں اور خطبات کے ذریعہ احمدیت میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں تو دل اس یقین پر قائم ہو گیا کہ اگر آج کوئی جماعت قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کاربند ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی ہے۔ چنانچہ مَیں نے بیعت کر لی اور بیعت کرنے کی وجہ سے میرے بچوں نے بھی جماعت میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ اب کہتے ہیں میرا بیٹا جو سیکنڈری سکول میں پڑھ رہا ہے اس کی خواہش ہے کہ وہ سیکنڈری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرے اور بطور واقف زندگی خدمت دین بجا لائے۔

جس طرح مخالفین ہمارے راستے میں روکیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، مخالفت میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے منہ بند کرنے کے سامان بھی کر رہا ہے اور جو نئے احمدی شامل ہوتے ہیں ان کے ایمان میں اضافے کا بھی سامان کر رہا ہے۔

یادگیر کرناٹک انڈیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال یہاں غیر از جماعت کی طرف سے سخت مخالفت شروع ہوئی اور مخالفین باہر سے اپنے علماء کو بلا کر جماعت کے خلاف تقاریر کراتے رہے۔ ہندوستان پاکستان میں تو جماعت کی مخالفت انتہا پہ پہنچی ہوئی ہے۔ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہایت گندے اور جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ جماعت کے خلاف عوام کو بھڑکایا گیا جس پر بعض بدعقل لوگوں نے احباب جماعت کے ساتھ نہایت بدتمیزی کا سلوک کیا۔ جماعت کے خلاف پمفلٹ شائع کئے۔ انہی ایام میں ایک احمدی شخص جو جماعت سے بالکل کٹا ہوا تھا اور کسی طرح بھی جماعت سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا بدقسمتی سے علیحدہ ہو گیا۔ اس کو ان مخالفین نے ڈرا دھمکا کر پیسے وغیرہ کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا اور اس کوہار وغیرہ پہنا کر سارے شہر میں ہنگامہ کر دیا کہ ہم نے ایک قادیانی کافر کو مسلمان بنا لیا۔ اخبارات وغیرہ میں بہت غلط بیانی کی گئی اور اس شخص کے ذریعہ سے جماعت کی بہت مخالفت کی گئی۔ اس شخص نے بھی جماعت کے خلاف بدزبانی کی جب اس معاملے کے بارے میں اس سے جماعت کی طرف سے بات کی گئی۔ اس شخص سے جماعت نے رابطہ کیا کہ تمہیں تکلیف کیا ہے تو اس نے کہا یہ جو باتیں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں وہ ہرگز مَیں نے نہیں کہیں۔ میری بعض مجبوریاں ہیں جو مَیں آپ کو بتا نہیں سکتا اس کی وجہ سے مَیں ان کے ساتھ ہوں۔ کہتے ہیں کہ ابھی اس بات کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے عذاب سے پکڑا گیا۔ بالکل تندرست صحتمند شخص تھا۔ اچانک چکر کھا کر گر گیا۔ ایک طرف کے ہاتھ پیر سے مفلوج ہو گیا۔ غیر احمدیوں نے اس کا کوئی ساتھ نہ دیا۔ ہمارے خدّام ہی اس وقت میں بھی اس کے کام آئے اور ہسپتال لے کر اس کو جاتے رہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا اب زندہ رہنا مشکل ہے۔ آخر اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کا بیٹا بڑا مخلص احمدی ہے۔ اس کے بیٹے پر بھی غیر احمدیوں نے بڑا دباؤ ڈالا لیکن وہ ثابت قدم ہے اور یہاں تک کہ اس نے اس مخالفت کی وجہ سے جو اس کے باپ نے کی تھی اپنے باپ کا جنازہ بھی نہیں پڑھا۔ اللہ تعالیٰ اس کے بھی ایمان میں بھی مضبوطی دے۔

اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے یہ چند واقعات جو مَیں نے پیش کئے ہیں، بیشمار ایسے واقعات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اس کے فضلوں کو ہمیشہ جذب کرنے والے بنتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں۔ ہم پر جو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں شامل ہونے کا یہ احسان فرمایا ہے اس میں اللہ تعالیٰ ہمیں ثبات قدم بھی عطا فرمائے اور ایمان اور ایقان میں بڑھاتا بھی چلا جائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 26؍ اگست 2016ء شہ سرخیاں

    کس طرح اللہ تعالیٰ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے۔ بعض کو رؤیا کے ذریعہ سے احمدیت کی صداقت بتا رہا ہوتا ہے۔ کہیں کوئی لٹریچر یا کتاب تبلیغ کا باعث بن جاتی ہے۔ کہیں احمدیت کی مخالفت احمدیت پھیلانے میں کھاد کا کام دیتی ہے۔ کہیں احمدیوں کے اخلاق دوسروں کو احمدیوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ پھر ایسے واقعات بھی ہیں جو دور دراز کے ملکوں میں رہنے والوں کے احمدیت پر ایمان اور یقین کے حیرت انگیز نظارے بھی ہمیں دکھاتے ہیں۔ بچوں کی تربیت کو دیکھیں تو احمدیت قبول کرنے یا احمدیوں کی صحبت میں رہنے سے بچوں میں بھی حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوتی ہے جس کو دوسرے بھی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مختصر یہ کہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ بیشک ہم ایک نظام کے تحت اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جو پھل اللہ تعالیٰ لگاتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جو ہماری کوشش ہوتی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے سے اسلام کا پیغام پہنچانے اور لوگوں کے سینے اسے قبول کرنے کے لئے کھولنے کا کام خود اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ یقینا ہر صحیح العقل احمدی کو اس بات کا پورا اِدراک ہے اور وہ جانتا ہے کہ احمدیت کی ترقی ہماری کوششوں اور وسائل سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہو رہی ہے۔

    گزشتہ سال دنیا کے مختلف ممالک میں ظاہر ہونے والے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے متعدد روشن نشانات اور ایمان افروز واقعات میں سے بعض کا نہایت دلنشین تذکرہ۔

    فرمودہ مورخہ 26؍اگست 2016ء بمطابق26ظہور 1395 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن۔ لندن۔

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور