جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی ۲۰۱۶ء

خطبہ جمعہ 2؍ ستمبر 2016ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج سے تین دن کے لئے جماعت احمدیہ جرمنی کو اپنا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے اور اس جمعہ کے ساتھ ہی جلسہ سالانہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ افراد جماعت کی اصلاح کے لئے جلسہ سالانہ کے انعقاد کی بنیاد جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈالی تھی اُس پہلے جلسہ کو اِس سال 125 سال پورے ہونے والے ہیں۔ وہ جلسہ جو قادیان کی چھوٹی سی بستی میں ہوا تھا اور مسجد کے ایک حصہ میں پچہتّر(75) افرادنے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور دنیا کی اصلاح اور اسلام کے پیغام کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مددگار بنتے ہوئے دنیا میں پھیلانے کا جو عہد کیا تھا۔ (ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ 629)۔ اس کا نتیجہ ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کام اور ان کی نیّتوں میں ایسی برکت ڈالی کہ آج یہاں جرمنی میں جماعت احمدیہ یہاں کے بڑے بڑے میسر ہالوں اور کمپلیکس میں سے ایک مکمل کمپلیکس جو وسیع رقبہ پر پھیلا ہوا ہے اس میں اپنا جلسہ منعقد کر رہی ہے اور اس وسیع و عریض عمارت کے باوجود بعض ضروریات کے لئے باہر کھلے میدان میں مارکیاں اور خیمے لگائے گئے ہیں۔ اگر دنیاوی وسائل کے لحاظ سے ہم دیکھیں تو ہمارے لئے آج بھی ممکن نہیں کہ اتنے وسیع اخراجات کر سکیں لیکن اللہ تعالیٰ جماعت کے پیسے میں برکت ڈالتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں یہاں جلسہ منعقد کرنے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔

[ہال میں آواز کی گونج پیدا ہو رہی تھی اس پر حضور انور نے فرمایا: یہ echo واپس آتی ہے۔ انتظامیہ جلسہ گاہ دیکھیں کہ آخر تک آواز بھی صحیح جا رہی ہے یا نہیں۔]

جیسا کہ مَیں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اِذن پا کر ان جلسوں کا انعقاد شروع کیا تھا (ماخوذ از آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ611)۔ اور اس کا مقصد افراد جماعت کی اصلاح تھی۔ اس کا مقصد خدا تعالیٰ کی طرف کھینچے جانے کی کوشش کرنا تھا۔ علم و معرفت میں ترقی کرنا تھا۔ پاک تبدیلیاں پیدا کر کے انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا تھا۔ دنیا کی چاہتوں اور لغویات سے اپنے آپ کو بچانا تھا۔ اسلام اور احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کا عہد و پیمان کرنا اور اسے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ پورا کرنا تھا۔ آپس میں محبت، پیار اور بھائی چارے کے رشتے کو بڑھانا تھا۔ (ماخوذ از شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 399)

پس پہلوں نے اس کام کو خوب نبھایا۔ قادیان کی چھوٹی سی بستی کے جلسوں میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت ڈالی کہ آج اس نہج پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں جہاں جہاں جماعتیں قائم ہیں جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور ان جلسوں کا بھی وہی مقصد ہے جو قادیان کے جلسہ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا تھا اور جس کا میں نے مختصراً ابھی ذکر کیا ہے۔

پس اگر تو ہم اس مقصد کے لئے آج یہاں جمع ہوئے ہیں تو ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں گے۔ اگر کسی میلے کے تصور کے ساتھ یہاں آئے ہیں یا ہم میں سے کوئی بھی آیا ہے تو یہ بدقسمتی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک نیک مقصد کے لئے جمع ہونے کے لئے کہا اور ہم جمع بھی ہوئے لیکن نیک مقاصد کے حصول کے بجائے دنیاوی باتوں میں پڑ جائیں۔ پس یہاں آنے والا ہر احمدی یہ بات مدنظر رکھے کہ ان تین دنوں میں دنیا سے بالکل قطع تعلقی کر لے اور اس کے بعد بھی دنیا میں رہنے کے باوجود، دنیاوی کاموں میں پڑنے کے باوجود کہ یہ بھی ضروری چیز ہے، دنیاوی کام، روزگار ہے، کاروبار ہے، ضروری ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان نیکیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرنے کا عہد کر کے جائیں جو یہاں آپ میں پیدا ہوئیں تا کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے رہیں۔ ان دنوں میں فرض اور نفل عبادتوں کے علاوہ ذکر الٰہی بھی کرتے رہیں۔ ذکر الٰہی سے خیالات پاک رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رہتی ہے اور انسان برائیوں سے بچا رہتا ہے۔ یہی مقصد عبادات کا ہے۔ اور ذکرِ الٰہی لاز می عبادات کی طرف بھی توجہ دلاتی رہتی ہے۔ اور پھر اگر انسان حقیقی عبادت، صحیح عبادت کر رہا ہے تو پھر اس کی وجہ سے ذکر الٰہی کی طرف توجہ رہتی ہے۔ پس اس بات کو ہر ایک کو یاد رکھنا چاہئے۔

اللہ تعالیٰ نے اسلام میں عبادت کا ایک رکن رکھا ہے جو ہر حالت میں ہر مسلمان پر تو فرض نہیں لیکن اس کے باوجود لاکھوں مسلمان ہر سال اس فریضے کو سرانجام دیتے ہیں یعنی حج بیت اللہ کا فریضہ۔ چند دن تک انشاء اللہ تعالیٰ یہ فریضہ انجام دیا جائے گا۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے حج کی عبادت کی طرف توجہ دلا کر مسلمانوں کو یہ کہا کہ اپنی تمام تر توجہات ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رکھو کہ اس کے بغیر حج کا مقصد پورا نہیں ہوتا، وہاں اس طرف بھی توجہ دلائی کہ مجمع کی وجہ سے، ایک جگہ جمع ہونے کی وجہ سے بعض برائیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ حج کے ماحول کی وجہ سے ہر حج کرنے والے سے یہی توقع رکھی جاتی ہے کہ اس کو اس پاکیزہ ماحول کی وجہ سے کسی اور بات کا خیال نہیں آ سکتا سوائے ذکرِ الٰہی کے، تسبیح کے اور تحمید کے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جو انسانی فطرت کو جانتا ہے اس نے تین برائیوں کی طرف بھی اس موقع پر توجہ دلا دی کہ تم نے ان چیزوں سے بچ کر رہنا ہے۔ پس ماحول جیسا بھی پاکیزہ ہو انسان کو ہر وقت شیطان کے حملوں سے بچنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے اور ہوشیار ہو کر اس طرف توجہ رکھنی چاہئے۔

اللہ تعالیٰ نے حج کرنے والوں کو جن تین برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے ان میں سے پہلی فرمایا رَفَث ہے۔ شہوانی باتیں تو اس کا ترجمہ کیا ہی جاتا ہے لیکن اس کا مطلب بدکلامی کرنا، گالیاں دینا، گندی اور بیہودہ باتیں کرنا، گندے قصے سنانا، فضول اور لغو باتیں کرنا، گپیں وغیرہ مارنا، بیٹھ کے مجلسیں جمانا، یہ سب بھی اس میں شامل ہیں۔ پس یہاں وضاحت سے ہر قسم کی لغویات، فضولیات اور گپیں لگانے کی مجالس سے منع فرما دیا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حج پر جا کر یہ باتیں کون کرتا ہو گا۔ وہاں تو خالص ہو کر ہر ایک جو بھی حج پر جاتا ہے اس سے یہی توقع رکھی جاتی ہے کہ اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ پر نثار کر رہا ہوتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مَیں جب حج پر گیا تو ایک نوجوان میرے ساتھ طواف کر رہا تھا تو طواف کرتے ہوئے بجائے دعاؤں اور ذکرِ الٰہی کے وہ فلمی گانے گا رہا تھا۔ ہندوستان سے گیا ہوا تھا۔ تو میں نے اس سے کہا یہ تم کیا کر رہے ہو۔ تو کہنے لگا مجھے تو دعائیں وغیرہ آتی کوئی نہیں کہ حج پہ کیا کی جاتی ہیں۔ ہم کاروباری آدمی ہیں۔ کلکتے میں ہماری کپڑے کی بڑی دکان ہے۔ ہمارے مقابلے پہ ایک اور بڑی کپڑے کی دکان ہے۔ بڑے کاروباری لوگ ہیں۔ ان مالکوں میں سے ایک حج کر کے آیا۔ اس نے اپنی دکان کے بورڈ پر حاجی بھی اپنے نام کے ساتھ لکھ لیا ہے۔ لوگوں کی اس طرف اس وجہ سے زیادہ توجہ ہو گئی کہ حاجی صاحب کی دوکان ہے اچھا مال دیتے ہوں گے۔ تو میرے باپ نے مجھے کہا کہ مَیں تو حج پر جا نہیں سکتا بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے (جو بھی وجہ ہو)، تم حج پر جاؤ تا کہ ہم بھی اپنا بورڈ لگا لیں۔ تو میرا تو یہ مقصد ہے کہ کاروبار کو بڑھانے کی نیت سے مَیں حج کر رہا ہوں۔ پس جب حج پر اس مقصد کے لئے لوگ جا سکتے ہیں تو پھر کسی اور عبادت یا جلسے پر کیا سوچ نہیں ہو سکتی۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حج کے دنوں میں فسوق نہیں کرنا۔ یعنی اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر نہیں نکلنا۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننا ہے۔ جو نیکی کا راستہ تم نے اختیار کیا ہے اس کو اختیار کئے رکھنا ہے اور برائی کی طرف نہیں جھکنا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حج کے دنوں میں جِدال یعنی ہر قسم کے جھگڑے سے، لڑائی سے مکمل طور پر بچنا ہے۔

حضرت مصلح موعودنے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ہمارے جلسوں پر بھی اگر اس سوچ کے ساتھ لوگ آئیں جو اصول اللہ تعالیٰ نے حج کے دوران برائیوں سے رکنے کا بیان کیا ہے تو غیر معمولی اصلاح ہو سکتی ہے۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد23 صفحہ 567-566)

یقینا آپ نے اصلاح کے لئے یہ بڑی حقیقی اصولی بات بیان فرما دی۔ یہ نہیں ہم کہتے کہ جلسہ کا مقام خدانخواستہ حج کا مقام ہے یا اب جیسے بعض غیر احمدیوں نے ہم پر الزام لگانا شروع کیا ہوا ہے کہ ہم قادیان جاتے ہیں اس لئے اسے حج کا مقام دیتے ہیں، یہ غلط ہے۔ لیکن دینی ترقی کے حصول کے لئے اور اپنی اصلاح کے لئے یہ بنیاد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک بنیاد فرما دی کہ جہاں بڑے اکٹھ ہوں، مجمعے ہوں ان باتوں کا بھی خیال رکھو۔ اور اگر ہم دینی ترقی کے لئے، اپنی اصلاح کے لئے جمع ہونے والے جلسہ میں ان باتوں کا خیال رکھیں گے تو ہماری اصلاح کے معیار بڑھیں گے۔ جلسہ ایک عبادت تو نہیں لیکن ٹریننگ کیمپ ضرور ہے جو روحانیت میں ترقی کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں ہم اگر بدکلامی، گالیاں دینے، گندی اور بیہودہ باتیں کرنے، قصے سنانے کے کام کریں گے تو مقصدنہیں پورا ہو سکتا۔ تو اس میں ہمیں ان سب چیزوں سے بچنا ہے۔ اگر ہم لغو باتوں سے بچیں گے اور لغو گفتگو سے بچیں گے تو یقینا ایک پرسکون اور پر امن اور نیکیاں بکھیرنے والا ماحول پیدا ہو گا اور جلسے کا مقصد پورا ہو گا۔ پھر فسوق جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکلنے کا گناہ ہے اس سے بچنا ہے۔ یہ ضروری چیز ہے کہ ہم کامل طور پر جب دینی مقصد کے لئے آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جؤا اپنی گردن پر ہمیشہ ڈالے رکھیں۔ پس خلاصہ یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق بھی ادا کرنا ہے اور باقی احکامات پر عمل بھی کرنا ہے۔

پھر ایک انتہائی عمل جو تعلقات کو توڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور پھر یہ تعلقات سالوں ٹوٹے رہتے ہیں، جھگڑے چلتے رہتے ہیں، ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ کی جو اغراض بیان فرمائی ہیں وہ حقیقتاً انہی تین باتوں کے گرد گھومتی ہیں کہ ہمیں اپنی اصلاح کا موقع ملے۔ اپنے نفس کی اصلاح ہو۔ فضولیات سے پرہیز ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو۔ اور اس کے حکموں پرکامل اطاعت سے چلنے کی طرف خاص توجہ پیدا ہو۔ اور اپنے بھائیوں سے خاص رشتہ محبت اور بھائی چارے کا قائم ہو۔ اور ہر قسم کی خود غرضی اور جھگڑے کو ختم کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب ایک سال یہ دیکھا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے اور خود غرضی بعض لوگوں پر غالب آ گئی ہے اور بعض چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث مباحثہ اور جھگڑے کی صورت بنی ہے تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے ایک سال جلسہ ہی منعقدنہیں فرمایا تھا۔ (ماخوذ از شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 394)

پس جلسہ میں شامل ہونے والے ہر شخص کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس نے جہاں ان دنوں میں ہر چھوٹی سے چھوٹی بات میں اپنے نفس کی اصلاح کی طرف توجہ دینی ہے، اپنا وقت اِدھر اُدھر ضائع کرنے کی بجائے جلسہ میں شامل ہونے کے مقصد کو پورا کرتے ہوئے جلسہ کا تمام پروگرام سننا ہے۔ ہر مقرر کی تقریر میں اصلاح اور نیکی کی باتیں مل جاتی ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں کچھ نہیں ملا یا ہم بہت بڑے عالم ہیں۔ جتنے مرضی بڑے عالم ہوں کوئی نہ کوئی بات مل جاتی ہے یا کم از کم یاد دہانی ہو جاتی ہے۔ اس لئے انہیں غور سے سننا چاہئے۔ اپنی روحانیت کو بڑھانے کے لئے اللہ کی عبادت کا حق ادا کریں اور پھر حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ رہنی چاہئے۔ یہاں جھگڑے اور جِدال کا سوال نہیں کہ جھگڑا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ جلسہ سے حقیقی فیض پانے کے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث بننے کے لئے یہ نہیں کہ جن کے پرانے جھگڑے چل رہے ہیں وہ یہاں آ کے جھگڑے کریں بلکہ ان کو بھی ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر صلح کر کے ان کو ختم کرنا چاہئے۔ اپنی اَنانیت کو ختم کریں۔ مجھے علم ہے کہ ہر سال جلسے پر بعض خاندانوں میں، بعض لوگوں میں بعض پرانی باتوں کی وجہ سے بدمزگیاں لوگوں میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور بعض لوگ آپس میں لڑ بھی پڑتے ہیں۔ جلسہ پر تو ہر ایک یہاں آیا ہوتا ہے۔ دو ناراض گروہوں کا یا لوگوں کا آمنا سامنا ہو جاتا ہے۔ یہاں تو ہر احمدی نے آنا ہے۔ اس لئے یہ نہیں ہم کہہ سکتے کہ وہ کیوں جلسہ پر آیا اور وہ کیوں نہیں آیا۔ ناراض لوگوں میں، عورتوں میں بھی اور مردوں میں بھی جب اس طرح ان کی پرانی ناراضگیاں چل رہی ہوں تو جب ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو تیوریاں چڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ ماتھے پر بل پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر بعض دفعہ بعض لوگ دُور سے ہی یا چلتے چلتے کوئی نہ کوئی طنزیہ فقرہ کہہ جاتے ہیں اور اظہار یہ ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے ان کو نہیں کہا بلکہ ویسے ہی بات کہی حالانکہ حقیقت میں وہ چِڑانے کے لئے یا جان بوجھ کر کہا جاتا ہے۔ اور دوسرا فریق جو پہلے ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہا ہوتا ہے وہ بھی غصہ میں کچھ کہہ دیتا ہے۔ گویا ایک لغو حرکت سے پھر اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکلتے ہیں اور پھر بعض دفعہ لڑائی تک نوبت آ جاتی ہے۔ اگر کسی کو اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں ہے تو بہتر ہے کہ جلسہ کے ماحول سے پہلے ہی خود ہی باہر چلے جائیں۔ جلسہ میں شامل نہ ہوں۔ دو چار لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو جماعت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور جلسہ پر آ کر بجائے جلسہ کی برکات سے حصہ لینے کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں۔ کیا کبھی اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ ایک نیک مقصد کے لئے جمع ہونے والے مومن اپنی روحانی ترقی اور نیک مقاصد حاصل کرنے کی بجائے فتنہ و فساد کو بڑھانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جب کامیابیاں حاصل کرنے والوں کے بارے میں فرمایا تو عاجزانہ نمازوں کے بعد لغویات سے پرہیز کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (المؤمنون: 2۔ 4) یقینا کامیاب ہو گئے وہ مومن جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں اور لغویات سے بچنے والے ہیں۔ پس یہاں ایک نیک مقصد کے لئے آئے ہیں۔ نمازوں میں تو تقریباً ہر ایک شامل ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عاجزانہ نمازیں پڑھو۔ اللہ تعالیٰ کے کامل فرمانبردار بنتے ہوئے نمازیں پڑھو۔ ظاہری نمازیں نہ ہوں۔ باجماعت نمازوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جہاں ایک وحدت پیدا ہو، ایک جسم بن کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں اور اسی طرح ایک دوسرے کی روحانیت اور نیکی بھی ایک دوسرے میں سرایت کرے اور جذب ہو۔ پس جو عاجزانہ نمازیں پڑھ رہے ہوں گے، خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھک رہے ہوں گے ان کا اثر کم درجے والوں پر بھی پڑے گا جو ساتھ کھڑے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کرتے ہوئے یہ نمازیں پڑھی جا رہی ہوں گی، عاجزی ہوگی تب یہ باتیں ہوں گی۔ کئی لوگ مجھے لکھتے بھی ہیں کہ جلسہ کے دنوں میں خشوع و خضوع کی نمازوں کا انہیں بہت مزا ملتا ہے تو اس مزے کو حاصل کرنے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے تا کہ ان مومنین میں شامل ہونے والے بن جائیں جو فلاح پانے والے ہیں، جو کامیاب ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والوں اور کامیاب ہونے والوں کے لئے مختلف ذریعے بنائے ہیں۔ ان ذریعوں کے اپنانے سے حقیقی اور مکمل کامیابی ملتی ہے۔

جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان سے ظاہر ہے کہ دوسرا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے لغو سے اعراض کا فرمایا ہے۔ پس اس طرف بھی ہر احمدی کو جلسہ کے دنوں میں بھی اور بعد میں بھی خاص توجہ دینی چاہئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اللَّغْو کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں تمام چیزیں آ جاتی ہیں۔ یعنی ہر قسم کا جھوٹ، ہر قسم کے گناہ، تاش، جؤا، گپیں مارنا، نکتہ چینیاں کرنا۔ یہ سب چیزیں اس میں شامل ہیں۔ (ماخوذ از حقائق الفرقان جلد3 صفحہ 171)

تاش جُوئے کی مثال آپ نے دی ہے اس سے مجھے “WhatsApp” پر بھیجی ہوئی ایک تصویر یاد آ گئی۔ بعض لوگوں پر تو نیک ماحول اور نیک اور مقدس مقامات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایک حج پر جانے والے کا تو مَیں نے ذکر کیا ہے، اس کی مثال دی ہے۔ جس تصویر کا مَیں ذکر کر رہا ہوں وہ مسجد میں اعتکاف بیٹھنے والوں کی تصویر تھی جس میں ایسے لوگ بھی تھے۔ کچھ لوگ قرآن کریم یا کچھ کتابیں پڑھ رہے ہوں گے یا حدیث وغیرہ جو بھی پڑھ رہے تھے۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مسجد کا ماحول صاف نظر آ رہا ہے اور وہاں تاش کھیل رہے تھے۔ لکھنے والے نے اس پہ comment اپنا یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ یہ لوگ مسجدنبوی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو یہ حال ہے بعض لوگوں کا کہ عبادتوں میں بھی لغویات کرنے سے باز نہیں آتے لیکن پھر بھی یہ لوگ پکے مسلمان ہیں اور احمدی کافر! یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ سے بھی عملاً استہزاء کر رہے ہیں۔ ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے۔ پس یہ نمونے جو ہم غیروں کے دیکھتے ہیں تو ہمیں ان سے سبق لینا چاہئے کہ کبھی ہمارے اندر ایسی باتیں پیدا نہ ہوں اور ساتھ ہی ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں توفیق عطا فرمائی کہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے جنہوں نے ہمیں بار بار ان لغویات سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ لغویات کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں‘‘۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 198)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام لغویات کی نشاندہی فرما دی۔ اب جتنی باتوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا ہے یہ سب ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایک لغو کام دوسرے لغو کام کی طرف لے کر جاتا ہے اور اگر غور کریں تو لغو کام لغو باتیں اور لغو حرکتیں جن سے سرزد ہوتی ہیں وہ لغو مجلسوں میں بیٹھنے والے ہوتے ہیں۔ لغو لوگوں کی صحبت سے اور میل ملاپ سے، تعلقات سے اور لغو قسم کے جوشوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر جوش میں آ جانا اور غصہ میں آ جانا ان سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ اب اعتکاف پر بیٹھ کر تاش کھیلنے والوں کی مَیں نے مثال دی ہے۔ کہنے کو تو مسجد میں بیٹھے ہیں، اعتکاف میں بیٹھے ہیں، لیکن عبادت کے مقصد کو پورا کرنے کی بجائے لغویات میں مبتلا ہیں۔ اب ان کے ساتھ بیٹھنے والے بھی ویسے ہی لوگ ہوں گے جیسے یہ ہیں۔ ایسے لوگوں کی صحبت بھی خراب کرتی ہے چاہے وہ مسجد میں بیٹھے ہوں۔ لیکن ہم جلسہ پر آنے والوں میں ان دنوں میں ایسی پاک تبدیلی پیدا ہونی چاہئے کہ صرف جلسہ کے دنوں میں نہیں بلکہ بعد میں بھی ہماری صحبت میں بیٹھنے والے ہمیشہ لغویات سے پرہیز کرنے والے ہوں۔ ایسی مجلسیں ہوں جن کے ساتھ بیٹھنے والے کبھی ردّ نہیں کئے جاتے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہونے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ہمارے اخلاق اعلیٰ ہوں۔ ہماری سچائی کے معیار اعلیٰ ہوں جو دوسروں کو بھی ہمارے عملی نمونوں کو دیکھ کر نیک تبدیلیاں پیدا کرنے والا بنا دے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’ایک اَور بات بھی ضروری ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھا جاوے‘‘۔ فرمایا ’’زبان وجود کی ڈیوڑھی ہے اور زبان کو پاک کرنے سے گویا خدا تعالیٰ وجود کی ڈیوڑھی میں آ جاتا ہے۔ جب خدا ڈیوڑھی میں آگیا تو پھر اندر آنا کیا تعجب ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 246-245۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ڈیوڑھی کیا ہے؟ ڈیوڑھی کہتے ہیں کسی گھر کے مَین (main) دروازے کو، مین گیٹ (main gate) کو۔ جب خد اتعالیٰ آپ کے گھر کے قریب آگیا، دروازے پر آ گیا تو پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس کا اندر آنا کوئی بعیدنہیں۔ کوئی تعجب نہیں کر سکتا کہ وہ اندر نہیں آئے گا۔ پس اللہ تعالیٰ لغویات سے بچنے والوں اور حسن اخلاق دکھانے والوں، نرم زبان استعمال کرنے والوں کے قریب ہو جاتا ہے اور اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اگر نیکیوں میں باقاعدگی رہے تو خدا تعالیٰ پھر ایسے لوگوں پر اپنا فضل فرماتے ہوئے انہیں اپنا بنا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا گھر میں آنا یہی ہے کہ اس بندے کو اپنا بنا لے اور جب اللہ تعالیٰ اپنا بنا لیتا ہے تو عبادات میں بڑھنے اور نیکیوں میں بڑھنے کی انسان کو توفیق ملتی چلی جاتی ہے۔ پس نیکیوں سے نیکیاں پیدا ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہم یہاں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے آئے ہیں۔ جب یہ مقصد ہے تو پھر صرف تقریریں سن کر علمی حظ اٹھانے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک ہم اپنے اندر عملی تبدیلیاں پیدا نہ کریں۔ اور عملی تبدیلیوں کے لئے جہاں عبادت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے وہاں اعلیٰ اخلاق اور لغویات سے بچ کر ایک دوسرے کا بھی حق ادا کرنا ہے۔ پس اس کی طرف خاص تو جہ دینے کی ضرورت ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری پردہ پوشی فرمائی ہوئی ہے اور ہماری غلطیاں ابھر کر غیروں کے سامنے نہیں آتیں ورنہ اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے تو ہمیں پتا لگے گا کہ کتنی کتنی غلطیاں ہیں اور ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معیار کے مطابق کتنی کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور یہ کمزوریاں جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام کو بدنام کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام نہ کرو۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 146۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)۔ اگر ہماری عبادتوں کے معیار اچھے نہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔ اگر ہمارے اخلاق اچھے نہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔ اگر ہم لغویات میں گرفتار ہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔ پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم احمدیوں پر ہے اور ہمیں اپنے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’جو شخص ایمان کو قائم رکھنا چاہتا ہے وہ اعمال صالحہ میں ترقی کرے۔‘‘ فرمایا کہ ’’یہ روحانی امور ہیں اور اعمال کا اثر عقائد پر پڑتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 6صفحہ 366۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس صرف یہ کہنا کہ مَیں عقیدے کے لحاظ سے نہایت پختہ احمدی ہوں کافی نہیں ہے اگر نیک اعمال نہیں ہیں، اگر اعلیٰ اخلاق نہیں ہیں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں کمزوریاں آہستہ آہستہ ایمان میں کمزوری کا بھی باعث بن جاتی ہیں۔ پھر نمازوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ’’نماز سوزو گداز سے ادا کرو اور دعائیں بہت کیا کرو۔‘‘ (ملفوظات جلد 6صفحہ 367۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ان دنوں میں اور ہمیشہ اپنی نمازوں میں سوزوگداز پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ سے ہمارا تعلق مضبوط ہو۔ اور ان جلسوں میں شامل ہونے کا حقیقی مقصد تو یہی ہے کہ ہم روحانی طور پر ترقی کریں۔ آپس میں اچھے تعلقات اور ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایاکہ: ’’جیسے رفق، حلم اور ملائمت سے اپنی اولاد سے معاملہ کرتے ہو ویسے ہی آپس میں بھائیوں سے کرو‘‘۔ فرمایا ’’جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 6صفحہ 369۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آپ فرماتے ہیں کہ: ’’متکبر دوسرے کا حقیقی ہمدردنہیں ہو سکتا۔ اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں تک ہی محدودنہ رکھو بلکہ ہر ایک کے ساتھ کرو۔‘‘ چاہے وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم ہر ایک کے ساتھ ہمدردی کرو۔ فرمایا: ’’خدا سب کا ربّ ہے۔‘‘ صرف مسلمانوں کا ربّ نہیں ہے۔ خدا تو ہر ایک کا ربّ ہے چاہے وہ کوئی ہو۔ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو۔ پھر فرماتے ہیں کہ ’’ہاں مسلمانوں کی خصوصیت سے ہمدردی کرو‘‘۔ انسانیت کے ناطے ہر ایک سے ہمدردی کرنی چاہئے اور مسلمانوں کی خاص طور پر کرو۔ ’’اور پھر متقی اور صالحین کی اس سے زیادہ خصوصیت سے‘‘۔ (ملفوظات جلد 6صفحہ 371۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اور جو لوگ متقی ہوں، صالحین میں شمار ہوتے ہوں ان کے ساتھ تو پھر مزید تعلق بڑھ جاتا ہے اور بڑھنا چاہئے۔

پس یہ وہ نصائح ہیں جو ہمیں اپنے اندر روحانی تبدیلی پیدا کرنے والا بنا سکتی ہیں۔ ایک دوسرے کے لئے ہمدردی کے جذبات ہمارے اندر ہوں گے، تکبر کو ہم دل سے نکالنے والے ہوں گے، اپنی اولاد کی طرح ایک دوسرے سے نرمی اور ملائمت سے اور پیار سے بات کرنے والے ہوں گے۔ اگر یہ چیزیں ہوں گی تو ان تمام جھگڑوں اور فسادوں سے بچنے والے ہوں گے جو ہمیں بسا اوقات ابتلا میں ڈال جاتے ہیں۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا یہاں جلسے پر بھی ایسے اظہار ہو جاتے ہیں۔ اور پھر مَیں کہوں گا کہ ہمارا یہاں جمع ہونے کا مقصد اپنی روحانی اور عملی حالت کو ترقی دینا ہے اور یہ مقصد ہم اس وقت پورا کر سکتے ہیں کہ ایک کوشش سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔ پس ان دنوں میں بہت توجہ سے اس بات کا خیال رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ جلسہ کی انتظامیہ کے ساتھ بھی بھر پور تعاون کریں۔ حالات کی وجہ سے اگر بعض دفعہ داخلی راستوں پر چیکنگ وغیرہ میں وقت لگ جائے تو وہاں بھی برداشت کریں۔ حوصلے اور صبر سے کام لیں اور بیشمار یہ جو کام کرنے والے کارکنان اور کارکنات ہیں، مرد اور عورتیں ہیں، بچے بچیاں ہیں ان سے بھرپور تعاون کریں۔ یہ نہ دیکھیں کہ کون کس عمر کا ہے۔ یہ دیکھیں کہ جو اس کے ذمہ کام دیا گیا ہے وہ اس کو سرانجام دینے کے لئے آپ کو کوئی باتیں کہہ رہا ہے جس پر آپ نے عمل کرنا ہے۔ ان کے لئے دعائیں بھی بہت کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحیح رنگ میں کام کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم جلسہ سے حقیقی فیض پانے والے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 2؍ ستمبر 2016ء شہ سرخیاں

    اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج سے تین دن کے لئے جماعت احمدیہ جرمنی کو اپنا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے اور اس جمعہ کے ساتھ ہی جلسہ سالانہ کا آغاز ہو رہا ہے۔

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اِذن پا کر ان جلسوں کا انعقاد شروع کیا تھا اور اس کا مقصد افراد جماعت کی اصلاح تھی۔ اس کا مقصد خدا تعالیٰ کی طرف کھینچے جانے کی کوشش کرنا تھا۔ علم و معرفت میں ترقی کرنا تھا۔ پاک تبدیلیاں پیدا کر کے انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا تھا۔ دنیا کی چاہتوں اور لغویات سے اپنے آپ کو بچانا تھا۔ اسلام اور احمدیت کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کا عہد و پیمان کرنا اور اسے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ پورا کرنا تھا۔ آپس میں محبت، پیار اور بھائی چارے کے رشتے کو بڑھانا تھا۔ پس پہلوں نے اس کام کو خوب نبھایا۔ قادیان کی چھوٹی سی بستی کے جلسوں میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت ڈالی کہ آج اس نہج پر دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں جہاں جہاں جماعتیں قائم ہیں جلسے منعقد ہو رہے ہیں اور ان جلسوں کا بھی وہی مقصد ہے جو قادیان کے جلسہ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا تھا اور جس کا میں نے مختصراً ابھی ذکر کیا ہے۔

    ماحول جیسا بھی پاکیزہ ہو، انسان کو ہر وقت شیطان کے حملوں سے بچنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے اور ہوشیار ہو کر اس طرف توجہ رکھنی چاہئے۔

    اللہ تعالیٰ نے حج کرنے والوں کو تین برائیوں، رَفث، فُسوق اور جدال سے بچنے کی طرف خصوصیت سے توجہ دلائی ہے۔ حضرت مصلح موعودنے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ہمارے جلسوں پر بھی اگر اس سوچ کے ساتھ لوگ آئیں جو اصول اللہ تعالیٰ نے حج کے دوران برائیوں سے رکنے کا بیان کیا ہے تو غیر معمولی اصلاح ہو سکتی ہے۔

    یہ نہیں ہم کہتے کہ جلسہ کا مقام خدانخواستہ حج کا مقام ہے لیکن دینی ترقی کے حصول کے لئے اور اپنی اصلاح کے لئے یہ بنیاد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک بنیاد فرما دی کہ جہاں بڑے اکٹھ ہوں، مجمعے ہوں ان باتوں کا بھی خیال رکھو۔ اور اگر ہم دینی ترقی کے لئے، اپنی اصلاح کے لئے جمع ہونے والے جلسہ میں ان باتوں کا خیال رکھیں گے تو ہماری اصلاح کے معیار بڑھیں گے۔ جلسہ ایک عبادت تو نہیں لیکن ٹریننگ کیمپ ضرور ہے جو روحانیت میں ترقی کے لئے جاری کیا گیا ہے۔

    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ کی جو اغراض بیان فرمائی ہیں وہ حقیقتاً انہی تین باتوں کے گرد گھومتی ہیں کہ ہمیں اپنی اصلاح کا موقع ملے۔ اپنے نفس کی اصلاح ہو۔ فضولیات سے پرہیز ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو۔ اور اس کے حکموں پرکامل اطاعت سے چلنے کی طرف خاص توجہ پیدا ہو۔ اور اپنے بھائیوں سے خاص رشتہ محبت اور بھائی چارے کا قائم ہو۔ اور ہر قسم کی خود غرضی اور جھگڑے کو ختم کریں۔ ہم جلسہ پر آنے والوں میں ان دنوں میں ایسی پاک تبدیلی پیدا ہونی چاہئے کہ صرف جلسہ کے دنوں میں نہیں بلکہ بعد میں بھی ہماری صحبت میں بیٹھنے والے ہمیشہ لغویات سے پرہیز کرنے والے ہوں۔

    (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کے ارشادات کے حوالہ سے لغویات سے بچنے، حُسن اخلاق دکھانے، زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھنے، نمازوں میں سوز و گداز پیدا کرنے، تکبر سے بچنے اور ہر ایک سے ہمدردی کرنے وغیرہ امور سے متعلق اہم نصائح)

    فرمودہ مورخہ 02؍ستمبر 2016ء بمطابق02تبوک 1395 ہجری شمسی،  بمقام کالسروئے جرمنی

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور