تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی اہمیت

خطبہ جمعہ 9؍ جون 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ خطبہ میں مَیں نے بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روزوں اور رمضان کا جو مقصد بیان فرمایا ہے وہ دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے اور اس حوالے سے مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض اقتباسات پیش کئے تھے کہ اس کے حصول کے لئے کیا طریق ہیں اور ہمیں کس طرح یہ اختیار کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مضمون کو ہمارے دلوں میں بٹھانے کے لئے مختلف جگہوں پر اس کی مزید تفصیلات بیان فرمائی ہیں تا کہ ہمارے دلوں میں اس کی اہمیت راسخ ہو جائے اور ہمارے ہر عمل اور خُلق سے اس کا اظہار ہونے لگے کیونکہ اگر تقویٰ نہیں تو کسی بھی قسم کی نیکی جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہو، نہیں ہو سکتی۔ ہر انسان عارضی اور وقتی نیکیاں کسی وقتی جوش اور وجہ سے کر لیتا ہے لیکن اس میں باقاعدگی تبھی آتی ہے جب حقیقی تقویٰ ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ انسان کے متقی ہونے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ وہ عبادت کرنے والا ہو یا صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کر رہا ہو بلکہ آپ نے یہ بیان فرمایا کہ متقی وہ ہے جس کا اخلاقی معیار بھی اعلیٰ ہو اور وہ اپنے اخلاق سے دوسروں پر اپنی نیکی اور تقویٰ کا اثر قائم کرے۔

چنانچہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ: ’’اخلاق انسان کے صالح ہونے کی نشانی ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 128۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ ایک مومن کی زندگی کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی ہمیشہ ظاہر کی جائے اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب تقویٰ پر چلتے ہوئے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔ عُجب، خود پسندی، مالِ حرام سے پرہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔ جو شخص اچھے اخلاق کا ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ۔‘‘(المومن:97) (فرمایا ایک تو یہ کہ برائیوں سے بچنا یہ تقویٰ ہے۔ اچھے اخلاق کا اظہار کرنا یہ تقویٰ ہے جس سے دشمن بھی دوست ہو جاتا ہے۔) آپ فرماتے ہیں ’’اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے بلکہ اس پر صبر کیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے بہت بڑھ کر ہو گی جو انتقامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو‘‘۔ فرماتے ہیں ’’یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔ خوش اخلاقی ایک ایسا جوہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے‘‘۔ فرماتے ہیں ’’کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ (فارسی میں ) ؎

لُطف کن لُطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 81۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) (کہ مہربانی سے پیش آؤ تو بیگانے بھی تمہارے حلقہ احباب میں شامل ہو جائیں گے۔)

پس یہ وہ اصولی بات ہے جو ہمیشہ ہمیں پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اپنے ہر عمل کو تقویٰ کے تابع کرتے ہوئے اچھے اخلاق کا مظاہرہ ہو۔

پھر اس بات کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ اخلاق سے کیا مراد ہے اور ان کا مقصد کیا ہے؟ جو اچھے اخلاق کا مظاہر ہ ہے اس کا مقصد کیا ہے؟ اور ہمارے سامنے ان اخلاق کا نمونہ کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’اوّل اخلاق جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ اخلاق سے کوئی صرف نرمی کرنا ہی مرادنہ لے لے‘‘۔ (جو اخلاق انسان کو انسان بناتے ہیں ان سے صرف اتنی مرادنہیں ہے کہ تم دوسروں سے نرمی سے پیش آؤ) فرمایا ’’خُلق اور خَلق دو لفظ ہیں جوبالمقابل معنوں پردلالت کرتے ہیں۔ خَلق ظاہری پیدائش کا نام ہے۔ جیسے کان ناک یہانتک کہ بال وغیرہ بھی سب خَلق میں شامل ہیں اور خُلق باطنی پیدائش کانام ہے۔ ایسا ہی باطنی قُویٰ جو انسان اور غیرانسان میں مابہ الامتیاز ہیں وہ سب خُلق میں داخل ہیں یہانتک کہ عقل فکر وغیرہ تمام قوتیں خُلق ہی میں داخل ہیں۔‘‘

فرماتے ہیں ’’خُلق سے انسان اپنی انسانیت کو درست کرتاہے۔ اگر انسانوں کے فرائض نہ ہوں تو فرض کرنا پڑے گا‘‘ (انسانوں کے جو فرائض ہیں وہ اگر ادا نہ کرتا ہو یا مقرر نہ ہوں تو پھر فرض کرنا پڑے گا، دیکھنا پڑے گا) ’’کہ آدمی ہے؟ گدھا ہے؟ یا کیا ہے؟ جب خُلق میں فرق آجاوے توصورت ہی رہتی ہے۔‘‘ انسان بننے کے لئے تو اعلیٰ اخلاق ضروری ہیں اور اگر خُلق اچھا نہیں، اگر ان میں فرق آ جاتا ہے تو پھر ظاہری صورت انسان کی رہ جاتی ہے اور جو اصل انسانیت ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔)

آپ فرماتے ہیں ’’مثلاً عقل ماری جاوے تو مجنون کہلاتا ہے۔ صرف ظاہری صورت سے ہی انسان کہلاتا ہے۔‘‘ (کوئی پاگل ہو تو ظاہری صورت سے وہ انسان کہلاتا ہے۔ لیکن اس کی عقل بالکل نہیں ہے اور جو انسانوں میں عقل ہوتی ہے وہ اس سے عاری ہو جاتا ہے) ’’پس اخلاق سے مراد خداتعالیٰ کی رضا جوئی‘‘۔ (اور وہ رضا جوئی کیا ہے؟) (’’جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں مجسم نظرآتا ہے‘‘) (اخلاق وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے ہر پہلو سے ہمیں نظر آتا ہے) ’’کا حصول ہے۔‘‘ (یہ ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ اخلاق سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کا حصول ہے۔) ’’اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرزِ زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے۔ یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں۔ اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بناسکتے۔ اخلاق ایک اینٹ پر دوسری اینٹ کا رکھنا ہے۔ اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو تو ساری دیوار ٹیڑھی رہتی ہے۔ کسی نے کیااچھا کہا ہے ؎

خِشتِ اوّل چوں نہد معمار کج تا ثریّا مے رَوَد دیوار کج‘‘ (کہ اگر معمار پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگا دے تو اس سے بننے والی دیواریں جو ہیں وہ آسمان تک پھر ٹیڑھی ہی جائیں گی۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 132۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پھر آپ فرماتے ہیں: ’’ان باتوں کو نہایت توجہ سے سننا چاہئے۔ اکثر آدمیوں کو مَیں نے دیکھا اور غور سے مطالعہ کیا ہے کہ بعض سخاوت تو کرتے ہیں‘‘ (بڑے سخی ہیں۔ لوگوں کو دیتے بھی ہیں ) ’’لیکن ساتھ ہی غصہ وَراور زُودرنج (بھی ہوتے) ہیں‘‘۔ (غصہ میں فوراً آ جاتے ہیں) ’’بعض حلیم توہیں لیکن بخیل ہیں‘‘۔ (بڑے حلیم ہیں، نرم مزاج ہیں لیکن کنجوس ہیں ) ’’بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مارمار کرگھائل کردیتے ہیں مگر تواضع اور انکسارنام کونہیں۔ بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اور انکسار تو اُن میں پرلے درجہ کا ہے مگر شجاعت نہیں ہے‘‘۔ (یا تو غصہ میں آ گئے تو انکساری اور عاجزی کوئی نہیں۔ اگر انکساری اور عاجزی دکھائیں گے تو پھر جہاں بہادری کی ضرورت ہے وہ خُلق ان میں ختم ہو جاتا ہے۔)

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فرمایا کہ اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ اور زندگی کے ہر میدان میں آپ نے اپنے خُلق کے وہ نمونے قائم کر دئیے جو اپنی مثال آپ ہیں اور جن پر اپنی طاقت اور بساط کے مطابق چلنا ہر مومن کا فرض ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا کہ’’ایک وقت ہے کہ آپؐ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔‘‘ ایسی تقریر اور ایسی فصاحت بیانی ہے کہ بڑا مجمع جو ہے وہ متاثر ہو جاتا ہے۔ ’’ایک وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔ سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔ حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھا دیا ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سائے میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کر لے۔ اُس کا پھل، اُس کا پھول، اُس کی چھال، اس کے پتّے غرض کہ ہر چیز مفید ہو‘‘۔

پھر آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلق کے بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ ’’لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا تھا کیونکہ آپؐ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’ایک وقت آتا ہے کہ آپؐ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں تھیں کہ قیصر و کسریٰ کے پاس بھی نہ ہوں۔ آپؐ نے وہ سب ایک سائل کو بخش دیں۔‘‘ (خُلق کا یہ اظہار ہے۔) ’’اب اگر پاس نہ ہوتا تو کیا بخشتے؟‘‘ (پھر ایک اَور رنگ ہے) ’’اگر حکومت کا رنگ نہ ہوتا تو یہ کیونکر ثابت ہوتا کہ آپ واجب القتل کفّار مکّہ کو باوجود مقتدرتِ انتقام کے بخش سکتے ہیں۔‘‘ (قدرت رکھتے ہیں، طاقت ہے اس کے باوجود بخش دیا) ’’جنہوں نے صحابہ کرامؓ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور مسلمان عورتوں کو سخت سے سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی تھیں جب وہ سامنے آئے تو آپ نے فرمایا۔ لَا تَثْرَیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم۔ میں نے آج تم کو بخش دیا۔ اگر ایسا موقع نہ ملتا تو ایسے اخلاق فاضلہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کیونکر ظاہر ہوتے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’کوئی ایسا خُلق بتلاؤ جو آپؐ میں نہ ہو اور پھر بدرجہ غایت کامل طور پر نہ ہو‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 132 تا 134۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ وہ کامل نمونے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس رسول کے اُسوہ کی تم بھی حتّی الوسع، اپنی طاقت اور اپنی استعدادوں کے مطابق پیروی کرو۔ اس اُسوہ کی پیروی کرنے کے لئے کوشش کرنی ہو گی۔ ایک جدوجہد کرنی ہو گی۔ صرف یہ کہہ دینا کہ اس اُسوہ پر ہم کس طرح چل سکتے ہیں؟ یہ کافی نہیں ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے رسول کا وہ اسوہ ہے جو بڑا اعلیٰ نمونے کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی تم نے پیروی کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنانے کا حکم دیا ہے تو پھر اس کے لئے کوشش اور مجاہدے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس بارے میں بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا، دعا سے کام نہ لے گا وہ غمرہ جو دل پر پڑ جاتا ہے دُور نہیں ہو سکتا‘‘۔ (وہ سختی اور تاریکی روک جو دل میں پیدا ہو گئی ہے وہ دُور نہیں ہو سکتی جب تک مجاہدہ نہ کرو، جب تک دعا نہ کرو۔ پھر اس کے ساتھ ہی کوشش اور دعا دونوں چیزیں ضروری ہیں۔)’’چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ  (الرعد:12) یعنی خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پر آتی ہے دُور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دُور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ہمت نہ کرے۔ شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو‘‘۔ فرماتے ہیں ’’یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لَا تبدیل سنّت ہے جیسے فرمایا۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔ پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب کہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 137۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ انسان کے اخلاق جتنے بھی گرے ہوئے ہوں اگر اصلاح کرنا چاہے تو اصلاح ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی فرمایا کہ اس کے لئے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ آپ نے اس بارے میں حکماء کے نظریات کا بھی ذکر فرمایا ہے اور ایک مثال بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’حکماء کے تبدیل اخلاق پر دو مذہب ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ انسان تبدیل اخلاق پر قادر ہے اور دوسرے وہ ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ وہ قادر نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسل اور سستی نہ ہو اور ہاتھ پیر ہلاوے تو تبدیل ہو سکتے ہیں‘‘۔ (سستی نہ دکھاؤ۔ مجاہدہ کرو تو اخلاق بہتر ہو سکتے ہیں۔) فرمایا کہ ’’مجھے اس مقام پر ایک حکایت یاد آئی ہے اور وہ یہ ہے۔ کہتے ہیں کہ یونانیوں کے مشہور فلاسفر افلاطون کے پاس ایک آدمی آیا اور دروازے پر کھڑے ہو کر اندر اطلاع کرائی۔ افلاطون کا قاعدہ تھا کہ جب تک آنے والے کا حلیہ اور نقوشِ چہرہ کو معلوم نہ کر لیتا تھا اندر نہیں آنے دیتا تھا۔‘‘ (اس کا حلیہ اور اس کی ظاہری حالت وغیرہ جب تک پتا نہ کر لے اندر نہیں آنے دیتا تھا۔) ’’اور وہ قیافہ سے استنباط کر لیتا تھا کہ شخص مذکور کیسا ہے۔‘‘ (جو شخص آیا ہے وہ کیسا ہے؟ ان باتوں سے اندازہ لگا لیتا تھا کہ) ’’کس قسم کا ہے؟ نوکر نے آ کر اس شخص کا حلیہ حسب معمول بتلایا تو) افلاطون نے جواب دیا کہ اس شخص کو کہہ دو کہ چونکہ تم میں اخلاق رذیلہ بہت ہیں مَیں ملنا نہیں چاہتا‘‘۔ (تم گھٹیا اخلاق کے مالک ہو۔ مَیں تمہیں نہیں ملنا چاہتا۔) ’’اس آدمی نے جب افلاطون کا یہ جواب سنا تو نوکر سے کہا کہ تم جا کر کہہ دو کہ جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ٹھیک ہے مگر مَیں نے اپنی عادت رذیلہ کا قلع قمع کرکے اصلاح کر لی ہے۔‘‘ (گندی باتیں، بداخلاقیاں ختم کر دی ہیں۔) ’’اس پر افلاطون نے کہا۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ اس کو اندر بلایا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ اس سے ملاقات کی۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ ’’جن حکماء کا یہ خیال ہے کہ تبدیل اخلاق ممکن نہیں وہ غلطی پر ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملازمت پیشہ لوگ جو رشوت لیتے ہیں جب وہ سچی توبہ کر لیتے ہیں پھر اگر ان کو کوئی سونے کا پہاڑ بھی دے تو اس پر نگاہ نہیں کرتے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 137-138۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ اخلاق کی درستی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’انسان پر جیسے ایک طرف نقص فی الْخَلق کا زمانہ آتا ہے۔‘‘ (یعنی کہ کمزوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اس کی بناوٹ میں، جسم کی ظاہری بناوٹ میں ) ’’جسے بڑھاپا کہتے ہیں۔ اس وقت آنکھیں اپنا کام چھوڑ دیتی ہیں۔ اور کان شنوا نہیں ہو سکتے۔ غرض کہ ہر ایک عضو بدن اپنے کام سے عاری اور معطّل کے قریب قریب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے یاد رکھو کہ پیرانہ سالی دو قسم کی ہوتی ہے‘‘ (یا بڑھاپا دو قسم کا ہوتا ہے۔) ’’طبعی اور غیر طبعی۔ طبعی تو وہ ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔‘‘ (ظاہری جسم کا بڑھاپا ہے یہ طبعی بڑھاپا ہے اور ) ’’غیر طبعی وہ ہے کہ کوئی اپنی امراض لاحقہ کا فکر نہ کرے۔‘‘ (جو مرضیں ہیں ان کی فکر نہ کرو) ’’تو وہ انسان کو کمزور کر کے قبل از وقت پیرانہ سال بنا دیں۔‘ (بوڑھا کردیں گی۔ اگر فکر نہ کرو گے تو) ’’جیسے نظام جسمانی میں یہ طریق ہے۔‘‘ (کہ اگر انسان بیماریوں کا علاج نہ کرے تو جسم کمزور ہو جاتا ہے۔ جسمانی نظام میں یہ دو طرح کے طریق ہیں۔ ایک طبعی بڑھاپا کہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھاپا آتا ہے۔ ایک غیر طبعی بڑھاپا ہے جو بعض ایسی وجوہات سے انسان پر آتا ہے یا کمزوری آتی ہے جو بے احتیاطی کی وجہ سے ہوتی ہے۔) فرمایا کہ ’’ایسا ہی اندرونی اور روحانی نظام میں ہوتا ہے۔‘‘ (ایک ظاہری نظام میں جس طرح یہ دو طرح کے بڑھاپے ہیں اسی طرح اندرونی اور روحانی نظام جو ہے اس میں بھی دو طرح کے بڑھاپے ہیں۔) ’’اگر کوئی اپنے اخلاق فاسدہ کو اخلاق فاضلہ اور خصائل حسنہ سے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔‘‘ (جو برے اور گندے خیالات ہیں ان کو اچھے خیالات اور اچھی باتوں سے تبدیل نہیں کرتا، کوشش نہیں کرتا) ’’تو اس کی اخلاقی حالت بالکل گر جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور قرآن کریم کی تعلیم سے یہ امر ببداہت ثابت ہو چکا ہے کہ ہر ایک مرض کی دوا ہے۔ لیکن اگر کسل اور سستی انسان پر غالب آ جاوے تو بجز ہلاکت کے اور کیا چارہ ہے۔ اگر ایسی بے نیازی سے زندگی بسر کرے جیسی کہ ایک بوڑھا کرتا ہے تو کیونکر بچاؤ ہو سکتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 136-137۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس آجکل اس سستی کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان مہیا فرمائے ہیں۔ اس ماہ میں اخلاق کی بہتری کی طرف بھی ہر ایک کو توجہ دینی چاہئے اور دوسری کمزوریوں اور گناہوں سے بچنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ اگر اس ماحول کے باوجود توجہ نہ کی تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تو پھر انسان بڑھاپے کی حالت میں چلا جائے گا اور اس میں زندگی کا خاتمہ ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور انسان بغیر تقویٰ کے حاضر ہوتا ہے۔

پھر حصول اخلاق کے لئے توبہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ :

’’توبہ دراصل حصولِ اخلاق کے لئے بڑی محرّک اور مؤیّد چیز ہے۔‘‘ (اعلیٰ اخلاق حاصل کرنے ہیں تو وہ بھی توبہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ توبہ صرف یہ نہیں کہ گناہوں سے معافی مانگ لی بلکہ اگر اعلیٰ اخلاق پہ چلنا ہے ان کو حاصل کرنا ہے تو اس کے لئے بھی توبہ بڑی ضروری ہے) اور فرمایا کہ’’اور انسان کو کاملِ بنادیتی ہے۔ یعنی جو شخص اپنے اخلاقِ سیئہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ توبہ کرے۔ یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ توبہ کے تین شرائط ہیں۔ بِدُوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبۃ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی۔ ان ہرسہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اِقْلاع کہتے ہیں۔ یعنی اُن خیالات فاسدہ کو دور کردیا جاوے جو اِن خصائل ردّیہ کے مُحرک ہیں‘‘۔ (جو رد کرنے کے لائق چیزیں ہیں، عادتیں ہیں، بیہودہ خیالات ہیں، بداخلاقیاں ہیں ان کو دُور کرنے کے لئے پہلی ضروری شرط یہ ہے کہ انہیں کس طرح دُور کرنا ہے) فرمایا ’’اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑ ابھاری اثرپڑتا ہے‘‘ (اس کی تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ انسان جب کسی چیز کا تصور کرتا ہے تو اس کا انسان کی طبیعت پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے) کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہرایک فعل ایک تصوّری صورت رکھتا ہے‘‘۔ (کسی بھی کام کو کرنے کے لئے یا کوئی بھی چیز یا خیال جب عمل میں آتا ہے تو اس سے پہلے وہ ایک خیال ہوتا ہے، ایک تصور ہوتا ہے) ’’پس توبہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالاتِ فاسدہ و تصورات ِبد کو چھوڑدے۔ مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اسے توبہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے کیونکہ جیسا مَیں نے ابھی کہاہے تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور‘‘ فرماتے ہیں ’’مَیں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہانتک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔ غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتاہے ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔ پس جو خیالاتِ بد لذّات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔ یہ پہلی شرط ہے۔‘‘(تصور میں ان کو گندہ سمجھے)۔

’’دوسری شرط ندم ہے۔ یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے‘‘۔ فرمایا ’’مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑدیتا ہے۔‘‘ (اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر جو ایک صلاحیت رکھی ہوئی ہے اس سے کام نہیں لیتا)’’پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پرپشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذّات عارضی اور چندروزہ ہیں۔‘‘ (یہ دنیا کی لذات جو ہیں بالکل عارضی ہیں۔ چند دنوں کی ہیں ) ’’اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قویٰ بیکار اور کمزور ہوجائیں گے آخر ان سب لذّاتِ دنیا کو چھوڑنا ہوگا۔ پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذّات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیاحاصل؟‘‘

فرماتے ہیں ’’بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو توبہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اوّل اِقلاع کاخیال پیداہو۔ یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بیہودہ کو قلع قمع کرے۔ جب یہ نجاست اور ناپاکی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پرپشیمان ہو۔

تیسری شرط عزم ہے۔ یعنی آئندہ کے لئے مصممّ ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطاکرے گا۔ یہانتک کہ وہ سیّئات اس سے قطعاً زائل ہوکر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر‘‘۔ فرمایا کہ ’’اس پر قوت اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔ جیسے فرمایا اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا۔ ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا اس کی حقیقت ہے۔ پس خداتعالیٰ سے قوت پانے کے لئے مندرجہ بالا ہر سہ شرائط کو‘‘ (یہ جو تینوں شرائط ہیں ) ’’کامل کرکے انسان کسل اور سستی کو چھوڑدے اور ہمہ تن مستعد ہوکر خداتعالیٰ سے دعا مانگے۔ اللہ تعالیٰ تبدیل اخلاق کردے گا۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 138 تا 140۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ان برے اخلاق کو چھوڑنے کے لئے جو کوشش کرتا ہے اور جو چھوڑتا ہے اس کی ایک بہادر سے مثال دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ’’ہماری جماعت میں شَہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں۔‘‘ (کوئی پہلوان نہیں ہمیں چاہئیں) ’’بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں‘‘ (ایسی طاقت رکھنے والے لوگ چاہئیں) ’’جو تبدیل اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔ یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑکو جگہ سے ہٹا سکے‘‘۔ (طاقتور وہ نہیں ہے جو کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دے)فرمایا کہ ’’اصلی بہادر وہ ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے۔ پس یادرکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 140۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ’’اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا۔ جیسے فرمایا اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ (القلم:5) یوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں مگر آپؐ کے اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اوّل ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی۔‘‘

آپ فرماتے ہیں: ’’مَیں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیئّہ کو چھوڑ کر عاداتِ ذمیمہ کو ترک کر کے خصائلِ حسنہ کو لیتاہے‘‘ (برائیاں چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرتا ہے) ’’اس کے لئے وہی کرامت ہے۔ مثلاً اگر بہت ہی سخت تُند مزاج اور غصہ وَر ان عاداتِ بد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کو اختیار کرتا ہے یا اِمساک کو چھوڑ کر سخاوت اور حسد کی بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے تو بے شک یہ کرا مت ہے۔ اور ایسا ہی خود ستائی اور خودپسندی کو چھوڑ کر جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے۔ پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کراماتی بن جاوے۔ مَیں جانتا ہوں ہر ایک یہی چاہتا ہے۔ تو بس یہ ایک مدامی اور زندہ کرامت ہے۔ انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیونکہ یہ ایسی کرامت ہے جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہوتا بلکہ نفع دُور تک پہنچتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’مومن کو چاہئے کہ خَلق اور خالق کے نزدیک اہل کرامت ہو جاوے‘‘۔ (اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے نزدیک بھی اور اللہ کے نزدیک بھی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے، عاجزی پیدا کر کے، خود پسندی کو چھوڑ کے انکساری اختیار کر کے، سخاوت کی عادت پیدا کر کے، حسد کی عادت کو چھوڑ کر ہمدردی کی عادت پیدا کر کے ایک اہل کرامت ہو جائے۔ یہ خوبیاں اختیار کرے اور برائیاں چھوڑے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے نزدیک بھی اور اللہ کے نزدیک بھی کرامت ہے) فرمایا کہ ’’بہت سے رِند اور عیّاش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوئے۔ لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا ہے اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی۔ پس فرماتے ہیں کہ ’’بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامات ہی کو دیکھ کر دین حق کو قبو ل کر لیا‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 141-142۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

ایک مجلس میں مسجد میں بیٹھ کے جب آپ یہ فرما رہے تھے تو چند سکھ فقیرانہ لباس میں آئے۔ نشہ چڑھا ہوا تھا ان کو۔ وہ بھی اس مجلس میں آ گئے۔ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ انہوں نے آ کرایسی بکواس کی کہ ممکن تھا کہ اس بہشتی مجلس میں بھنگ پڑے۔ کچھ بے چینی پیدا ہو جائے۔ فرماتے ہیں کہ مگر ہمارے صادق امام علیہ السلام نے اپنے عملی نمونے سے یہ اخلاقی کرامت دکھائی جس کی ہدایت فرما رہے تھے۔ جس کا اثر سامعین پر ایسا پڑا کہ اکثر ان میں سے چلاّ چلاّ کر فرطِ جوش سے رو پڑے اور وہ شریر آخر پولیس کے ہاتھ جا کر پٹے۔ اور پولیس نے آ کر ان کو پکڑ لیا اور پھر ان کی پٹائی کی جس سے کہتے ہیں ان کا نشہ ہرن ہو گیا۔ (ماخوذ از ایڈیٹر۔ عبارت حاشیہ ملفوظات جلد اوّل صفحہ142۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ایمان لانے کے مختلف وجوہ کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ’’فاسق آدمی جو انبیاء کے مقابلہ پر تھے خصوصا وہ لوگ جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر تھے ان کا ایمان لانا معجزات پر منحصر نہ تھا اور نہ معجزات اور خوارق ان کی تسلی کا باعث تھے بلکہ وہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے اخلاق فاضلہ کو ہی دیکھ کر آپؐ کی صداقت کے قائل ہو گئے تھے۔ اخلاقی معجزات وہ کام کر سکتے ہیں جو اقتداری معجزات نہیں کر سکتے۔ اَلْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ کا یہی مفہوم ہے۔ اور تجربہ کر کے دیکھ لو کہ استقامت کیسے کرشمے دکھاتی ہے۔ کرامت کی طرف تو چنداں التفات ہی نہیں ہوتا۔ خصوصاً آجکل کے زمانے میں۔ لیکن اگر پتہ لگ جائے کہ فلاں شخص بااخلاق آدمی ہے تو اس کی طرف جس قدر رجوع ہوتا ہے وہ کوئی مخفی امر نہیں‘‘۔ فرمایا ’’اخلاق حمیدہ کی زد ان لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو کئی قسم کے نشانات کودیکھ کر بھی اطمینان اور تسلی نہیں پاسکتے۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’بات یہ ہے کہ بعض آدمی ظاہری معجزات اور خوارق کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں اور بعض حقائق اور معارف کو دیکھ کر‘‘ (ایمان لاتے ہیں۔) ’’مگر اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی ہدایت اور تسلی کا موجب اخلاق فاضلہ اور التفات ہوتے ہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 81-82۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آجکل بھی بیشمار لوگ جو احمدیت میں داخل ہوتے ہیں کسی نہ کسی احمدی کے اخلاق سے متاثر ہو کر یا مجموعی طور پر جماعت کے اخلاق سے متأثر ہو کر احمدی ہو رہے ہوتے ہیں۔ پس ہر احمدی کو اس بات پر نظر رکھنی چاہئے کہ اخلاق صرف اسے تقویٰ میں بڑھانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہیں اور دوسروں کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہیں۔ اس لئے ہر احمدی کو اپنے اخلاق پہ نظر رکھنی چاہئے۔

ایمان کا طریق کیا ہے؟ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے‘‘۔ جتنی طاقت ہے اپنا زور لگانا۔ اس کو خرچ کرنا اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ ایمان حاصل کرنے کا یہ طریق ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو یقین سے اپناہاتھ دعا کے لئے اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا ردّ نہیں کرتا ہے۔ پس خدا سے مانگو اور یقین اور صدقِ نیت سے مانگو‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’میری نصیحت پھر یہی ہے کہ اچھے اخلاق ظاہر کرنا ہی اپنی کرامت ظاہر کرنا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ مَیں کراماتی بننا نہیں چاہتا تو یہ یاد رکھے کہ شیطان اسے دھوکہ میں ڈالتا ہے۔ کرامت سے عُجب اور پندار مرادنہیں ہے۔ کرامت سے لوگوں کو اسلام کی سچائی اور حقیقت معلوم ہوتی ہے اور ہدایت ہوتی ہے۔ مَیں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ عُجب اور پندار تو کرامتِ اخلاقی میں داخل ہی نہیں۔ پس یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ دیکھو یہ کروڑ ہا مسلمان جو رُوئے زمین کے مختلف حصص میں نظر آتے ہیں کیا یہ تلوار کے زور سے، جبرو اکراہ سے ہوئے ہیں؟ نہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ یہ اسلام کی کراماتی تاثیر ہے جو اُن کو کھینچ لائی ہے۔‘‘ فرماتے ہیں ’’کرامتیں انواع واقسام کی ہوتی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک اخلاقی کرامت بھی ہے جو ہر میدان میں کامیاب ہے۔ انہوں نے جومسلمان ہوئے صرف راستبازوں کی کرامت ہی دیکھی اور اس کا اثر پڑا۔ انہوں نے اسلام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا۔ نہ تلوار کو دیکھا‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’بڑے بڑے محقق انگریزوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ اسلا م کی سچائی کی روح ہی ایسی قوی ہے جو غیرقوموں کو اسلام میں آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 145-146۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اخلاق بھی رزق کی طرح ہیں اور ان کا اظہار اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق کے خرچ کرنے کی طرح ہے اور یہ بھی تقویٰ کا ایک عملی جزو اور حصہ ہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:

’’عام لوگ رزق سے مراد اشیائے خوردنی لیتے ہیں۔ یہ غلط ہے‘‘ (کھانے پینے کی چیزیں صرف رزق نہیں ہیں۔ پیسہ مال رزق نہیں ہے) فرمایا کہ ’’جو کچھ قویٰ کو دیا جاوے وہ بھی رزق ہے۔ علوم و فنون وغیرہ معارف حقائق عطاہوتے ہیں۔ جسمانی طور پر معاش مال میں فراخی ہو۔ سب رزق ہے‘‘۔ ساری چیزیں رزق میں شامل ہیں۔ بندے کی صلاحیتیں، اس کے اخلاق، اس کا مال ہر چیز)۔ فرمایا کہ ’’رزق میں حکومت بھی شامل ہے اور اخلاقِ فاضلہ بھی رزق ہی میں داخل ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی روٹی میں سے روٹی دیتے ہیں۔ علم میں سے علم اور اخلاق میں سے اخلاق۔ علم کا دینا تو ظاہر ہی ہے۔ یہ یادرکھو کہ وہی بخیل نہیں ہے جو اپنے مال میں سے کسی مستحق کو کچھ نہیں دیتا بلکہ وہ بھی بخیل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو اور وہ دوسروں کو سکھانے میں مضائقہ کرے‘‘۔ (کنجوسوں کی کئی قسمیں ہیں۔ ہر ایک جو کسی بھی طرح اپنے پاس اس میں جو صلاحیتیں ہیں یا مال ہے اس کو چھپاتا ہے وہ کنجوس ہے، بخیل ہے) فرمایا ’’محض اس خیال سے اپنے علوم وفنون سے کسی کو واقف نہ کرنا کہ اگر وہ سیکھ جاوے گا تو ہماری بے قدری ہوجاوے گی یا آمدنی میں فرق آجائے گا شرک ہے۔ کیونکہ اس صورت میں وہ اس علم یا فن کو ہی اپنا رازق اور خدا سمجھتا ہے۔ اسی طرح پر جو اپنے اخلاق سے کام نہیں لیتا وہ بھی بخیل ہے۔ اخلاق کا دینا یہی ہوتا ہے کہ جو اخلاقِ فاضلہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دے رکھے ہیں اس کی مخلوق سے ان اخلاق سے پیش آوے۔‘‘ (جو اخلاق اللہ تعالیٰ نے انسان کو دئیے ہیں پہلے تو وہ اخلاق حاصل کرے پھر ان اخلاق کا اظہار لوگوں کے سامنے کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے رزق کا جو اس نے اس کو دیا، دینے کا اظہار ہے) فرمایا ’’وہ لوگ اس کے نمونہ کو دیکھ کر خود بھی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘جب انسان اپنے اخلاق دکھانے کے نمونے قائم کرے گا تو لوگ بھی پھر بااخلاق ہونے کی کوشش کریں گے۔ فرماتے ہیں کہ ’’اخلاق سے اس قدر ہی مرادنہیں ہے کہ زبان کی نرمی اور الفاظ کی نرمی سے کام لے۔ نہیں۔ بلکہ شجاعت، مروّت، عفّت، جس قدر قوتیں انسان کو دی گئی ہیں دراصل سب اخلاقی قوتیں ہیں۔ ان کا برمحل استعمال کرناہی ان کو اخلاقی حالت میں لے آتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 435-436۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اپنی جماعت کے افراد کو اعلیٰ اخلاق پر فائز ہونے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔ اس کا اثر ہمسایہ پر بہت اعلیٰ درجہ کا پڑتا ہے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’ہماری جماعت پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ترقی ہو گئی ہے اور تہمت لگاتے ہیں کہ افترا، غیظ وغضب میں مبتلا ہیں۔ کیا یہ ان کے لئے باعث ندا مت نہیں ہے کہ انسان عمدہ سمجھ کر اس سلسلہ میں آیا تھا جیسا کہ ایک رشید فرزند اپنے باپ کی نیک نامی ظاہر کرتا ہے کیونکہ بیعت کرنے والا فرزند کے حکم میں ہوتا ہے۔ اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو اُمّہات المؤمنین کہا ہے۔ گویا کہ حضورؐ عامّۃ المومنین کے باپ ہیں۔ جسمانی باپ زمین پر لانے کا موجب ہو تا ہے اور حیات ظاہری کا باعث۔ مگر روحانی باپ آسمان پر لے جاتا اور اس مرکز اصلی کی طرف رہنمائی کرتا ہے‘‘۔ فرماتے ہیں ’’کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدنام کرے؟‘‘ (جو الزام لگا رہے ہیں کہ یہ ہے، یہ ہے۔ آپ لوگوں میں برائی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جماعت کو بدنام کر رہے ہو اور کیا کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدنام کرے) ’’طوائف کے ہاں جاوے؟ اور قمار بازی کرتا پھرے؟۔ شراب پیوے یا ایسے افعال قبیحہ کا مرتکب ہو جو باپ کی بدنامی کا موجب ہوں‘‘۔ فرماتے ہیں مَیں جانتا ہوں کوئی آدمی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس فعل کو پسند کرے۔ لیکن جب وہ ناخلف بیٹا ایسا کرتا ہے تو پھر زبانِ خَلق بندنہیں ہو سکتی‘‘۔ (اگر کوئی کرے تو پھر دنیا انگلیاں اٹھاتی ہے) ’’لوگ اس کے باپ کی طرف نسبت کر کے کہیں گے کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا فلاں بد کام کرتا ہے۔ پس وہ ناخلف بیٹا خود ہی باپ کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے۔ اسی طرح پر جب کوئی شخص ایک سلسلہ میں شامل ہوتا ہے‘‘ (جماعت میں جب شامل ہوئے) ’’اور اس سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال نہیں رکھتا اور اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوتا ہے۔‘‘ (اللہ کے نزدیک پھر وہ پکڑا جائے گا۔ قابل مؤاخذہ ہو گا) ’’کیونکہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا بلکہ دوسروں کے لئے ایک برا نمونہ ہو کر ان کو سعادت اور ہدایت کی راہ سے محروم رکھتا ہے‘‘۔ فرماتے ہیں ’’پس جہاں تک آپ لوگوں کی طاقت ہے خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ جہاں عاجز آجاؤ وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں خالی واپس نہیں ہوتے۔ ہم تجربہ سے کہتے ہیں کہ ہماری ہزارہا دعائیں قبول ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں‘‘۔ فرماتے ہیں۔ ’’یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں پاتا وہ بخیل ہے۔ اگر مَیں ایک راہ دیکھوں جس میں بھلائی اور خیر ہے تو میرا فرض ہے کہ مَیں پکار پکار کر لوگوں کو بتلاؤں۔ اس امر کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 146-147۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس ہمارے ہر عمل سے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ ہم نے آپؑ کی بیعت میں آ کر اپنے اندر اخلاقی تبدیلیاں پیدا کیں، پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اور پھر لوگوں کو یہ بتائیں بھی اور یہی تبلیغ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے اخلاق میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کو سامنے رکھنے اور ہر وقت اعلیٰ اخلاق کے اظہار کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ہی اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔

نماز کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ ایک مکرم لطف الرحمٰن محمود صاحب امریکہ کا ہے جو مکرم میاں عطاء الرحمن صاحب کے بیٹے تھے۔ 27؍مئی 2017ء کو ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کا تعلق بھیرہ سے تھا اور ان کے دادا حضرت میاں کریم دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جنہوں نے 1894ء میں بیعت کی تھی۔ اُن کی اہلیہ، اِن کی دادی طالع بی بی نے بیعت تو شاید اپنے خاوند کے ساتھ کرلی تھی لیکن پورا یقین شایدنہیں تھا۔ طالع بی بی ان کا نام تھا۔ انہوں نے ایک خواب دیکھی تھی اور ان کی خواب سن کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جس عورت کو یہ خواب آئی ہے مگر اس عورت کو مجھ پر کامل یقین نہیں ہے (کوئی خواب آئی تھی۔ اس سے یہ اظہار ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد پر، بعثت پر کامل یقین نہیں ) فرمایا کہ ’’اگر وہ مجھ پر کامل یقین کرے تو خدا لڑکا عطا کرے گا‘‘۔ چنانچہ پھر یہ قادیان دستی بیعت کے لئے گئے اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کو لڑکا عطا کیا جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عطاء الرحمن رکھا۔ یہ لطف الرحمن صاحب کے والد تھے۔ یہ بڑا لمبا عرصہ تعلیم الاسلام سکول میں بھی پڑھاتے رہے۔ سائنس پڑھاتے تھے۔ مَیں بھی سکول میں ان کے شاگردوں میں شامل تھا۔ آپ میاں عطاء الرحمن صاحب کے بڑے بیٹے تھے۔ مرکزی طور پر خدام الاحمدیہ پاکستان کے مہتممین کی خدمت کی توفیق پائی۔ المنار اور خالد کے ایڈیٹر بھی رہے۔ پھر سیرالیون چلے گئے اور کافی لمبا عرصہ وہاں سیرالیون میں جماعت کے سکول میں رہے۔ پھر ریٹائر ہو کے آپ امریکہ چلے گئے تھے۔ تقریر اور تحریر کا انہیں بہت ملکہ حاصل تھا۔ ان کے مضامین اکثر الفضل میں شائع ہوتے تھے۔ محمود مجیب اصغر صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ پاکستان آئے تو خلافت لائبریری میں حوالے تلاش کر رہے تھے۔ پوچھا تو لطف الرحمان صاحب نے یہ بتایا کہ امریکہ میں اخبارات میں اسلام اور قرآن پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان کا مستند حوالوں سے جواب تیار کر کے انہیں بھجواتا ہوں تو عموماً اخبار والے میرا مضمون شائع کر دیتے ہیں۔ اور اسی حوالے سے مَیں اس وقت خلافت لائبریری میں حوالے تلاش کر رہا ہوں۔ عطاء المجیب راشد صاحب نے بھی لکھا ہے کہ بہت وسیع مطالعہ تھا۔ مذہبی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے تھے۔ اردو اور انگریزی پر یکساں عبور تھا۔ اردو میں بہت تحقیقی اور معلوماتی مضامین خاص عالمانہ انداز میں لکھتے تھے۔ علمی نکات تلاش کرنے کا بہت شوق تھا اور سلسلہ کا لٹریچر ہمیشہ زیر مطالعہ رہتا تھا۔ بہت علم دوست تھے۔ برجستہ گوئی میں کمال رکھتے تھے۔ خلیل مبشر صاحب جو سیرالیون مشن میں امیر اور مبلغ انچارج رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بیس سال سے زائد عرصہ ہم نے اکٹھے گزارا اور بڑا قریب سے ان کو دیکھنے کا موقع ملا۔ بڑا منفرد مقام رکھنے والے انسان تھے۔ عاجز، منکسر المزاج۔ کہتے ہیں خاکساری کی حالت ایسی تھی کہ میرے پاس بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ بڑے بے نفس انسان تھے اور یہ صرف مبالغہ نہیں۔ واقعی ان کی یہ حالت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تقریر اور تحریر کا بھی بڑا ملکہ دیا تھا۔

یہ احمدیہ سکول میں پہلے ٹیچر تھے پھر پرنسپل بن گئے اور بڑے عمدہ رنگ میں تمام انتظامی کام انہوں نے سرانجام دئیے۔ بڑے خشوع سے نمازیں ادا کرنے والے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے۔ چندوں میں نہایت باقاعدہ، صدقہ و خیرات کرنے والے۔ مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے وجو د تھے اور خلافت سے بھی ان کا بڑا عقیدت کا اور محبت کا تعلق تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کا جو 1988ء کا سیرالیون کا دورہ تھا اس میں بھی ان کو قابل قدر خدمات کی توفیق ملی اور حضور کا ادب اور احترام کہتے ہیں ایسا قابل دید تھا کہ دوسروں کے لئے بھی نمونہ تھا۔ یہاں بھی آئے ہیں۔ میرے ساتھ حالانکہ پرانا تعلق تھا لیکن خلافت کے بعد ان کا ایک انداز بالکل بدلا ہوا تھا۔

فضل احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ بھی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک عیسائی منّادنے بَو (Bo) میں آ کر بڑا مجمع اکٹھا کر کے لوگوں کے سامنے فرضی معجزات پیش کئے۔ آپ نے اس کا تحریری جواب پیش کیا جس پر عیسائی بوکھلا گئے اور اس بات پر غیر احمدی مساجد کے علماءنے بھی بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ عزیزم مرزا عمر احمد صاحب کا ہے جو صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب مرحوم کے بیٹے تھے۔ 5؍جون دوپہر دو بجے طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ میں 67 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوگئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ میرے بچپن کے ساتھی ہم عمر بھی تھے۔ بچپن میں اکٹھے ہم کھیلتے بھی تھے۔ بڑی خوبیوں کے مالک تھے اور ایک عزیز ہونے، رشتہ دار ہونے، ہم عمر ہونے کے باوجود اور باوجود اس کے کہ بچپن سے اکٹھے پلے بڑھے خلافت کے بعد تو خاص طور پر مَیں نے دیکھا ہے کہ ان کی احترام کی جو حالت تھی اور جو عقیدت تھی وہ بالکل ایک مثالی بن چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

ان کی شادی امۃ الکافی صاحبہ کے ساتھ ہوئی جو میجر سید سعید احمد صاحب کی بیٹی تھی۔ یہ حضرت میر محمد اسحٰق صاحب کی نواسی ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ ان کے پانچ بچے ہیں۔ تین بیٹیاں اور دو بیٹے۔ اور ایک بیٹی جو سب سے چھوٹی ہے واقفۂ نَو بھی ہے۔ ریویو آف ریلیجنز میں بڑا اچھا کام کر رہی ہے۔ ایک بیٹی ڈاکٹر فریحہ، یہاں لندن میں ہے یہ ڈاکٹر حماد صاحب کی اہلیہ ہیں اور لجنہ میں مختلف حیثیتوں سے انہوں نے کافی کام کیا ہے۔

یہاں ان کی ہمشیرہ امۃ الحئی صاحبہ ڈاکٹر حامد اللہ خان صاحب کی اہلیہ ہیں۔ یہ بھی جماعت کی خدمت کرنے والے ہیں۔ ان کی خواہش تو ہمیشہ سے تھی کہ وقف کریں۔ لیکن جب میری خلافت کی ابتدا میں میرے پاس آئے کہ میں نے پہلے بھی وقف کا لکھا تھا کہ وقف کرنا چاہتا ہوں تو ان کی بعض صلاحیتوں کا مجھے علم تھا اس لئے میں نے ان کا وقف منظور کیا اور ان کو ربوہ میں نائب صدر عمومی کے طور پر لگایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بڑے احسن رنگ میں یہ کام وہاں سرانجام دیا۔ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ میرا وقف کا خط جو مَیں نے لکھا تھا قبول ہو گیا ہے اور پھر میں نے ان کو جو ہدایتیں دی تھیں وہ بیان کیں کہ کس طرح وہاں جاکے کام کرنا ہے اور دُور کے محلوں میں خاص طور پر ربوہ کے جو دُور کے محلے ہیں ان کو، بعضوں کو محرومی کا احساس ہوتا ہے اس لئے وہاں ضروری دورہ کیا کرنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے آخری زندگی تک اس کام کو نبھایا اور بڑی اچھی طرح نبھایا۔ اور وہاں کے غریب لوگ بھی ان سے بڑے خوش تھے۔ ان کی طبیعت میں بڑی عاجزی تھی اور معاملہ فہمی بھی بڑی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے احسن طریق میں معاملات نپٹا دیا کرتے تھے۔ صدر عمومی نے بھی لکھا ہے کہ بعض معاملات جو بڑے مشکل ہوتے تھے ہم ان کو دیتے تھے اور یہ بڑے احسن رنگ میں ان کو سرانجام دیا کرتے تھے اور فریقین ان کی بات سن کے راضی بھی ہو جاتے تھے بلکہ بعض کہتے تھے کہ ہم نے فیصلہ کروانا ہے تو انہی سے کروانا ہے کیونکہ وہ ہر ایک کی بات سن کے بڑے انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں بہت نرمی اور پیار تھا۔ بچوں سے، اپنے بچوں سے بھی اور غیروں کے بچوں سے بھی بہت پیار کیا کرتے تھے۔

خلافت سے ان کا تعلق تو تھا ہی بہت زیادہ اور کہنا چاہئے ایک مثالی تعلق تھا۔ یہی ان کے بچوں نے بھی لکھا۔ ان کی بیوی نے بھی لکھا اور دوسرے لکھنے والوں نے بھی لکھا۔ کیونکہ آخری بیماری کے دنوں میں ان کو کینسر کی بیماری تھی تو کمزوری ہو جاتی تھی جب ذرا بہتر ہوتے تھے تو فوراً اس لئے دفتر چلے جاتے تھے کہ پچھلے دنوں جب یہاں آئے ہیں تو میں نے کہا تھا کہ دفتر جاتے رہنا۔ تو کیونکہ یہ حکم ہے خلیفہ وقت کا کہ دفتر جاتے رہنا اس لئے انہوں نے اپنی بیماری کی پرواہ نہیں کی اور باقاعدگی سے دفتر جاتے رہے اور اس عرصہ میں بھی باوجود بیماری کے بڑی محنت سے اپنے کام کو سرانجام دیا۔ ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ جب یہاں آئے ہیں اور ڈاکٹر نے دیکھا تو اس نے کہا کہ آپ کی بیماری بڑی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ شفا دینے والا ہے۔ جتنا چاہے گا وہ زندگی دے گا اور مجھے کوئی اس پہ فکر نہیں ہے۔ تو یہاں انگریز ڈاکٹر تھا وہ بھی حیران رہ گیا کہ ایسے مریض بعض دفعہ گھبرا جاتے ہیں لیکن یہ تو بڑے حوصلے سے بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر نوری صاحب بھی لکھتے ہیں کہ ان کو تین امراض لاحق تھیں۔ diabetes بھی تھی، دل کی بیماری بھی تھی اور اس کے بعد کینسر کی بیماری بھی تھی۔ جگر کا کینسر تھا۔ لیکن بڑی ہمت سے ساری بیماریوں کو انہوں نے face کیا۔ نوری صاحب کہتے ہیں بعض اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے جو میں نے ان کی بیماری کے دنوں میں مشاہدہ کئے۔ کبھی کوئی شکوہ زبان پر نہیں لائے۔ ہمیشہ یہی کہتے تھے الحمد للہ ٹھیک ہوں۔ ڈاکٹر یا مہمان انہیں ملنے آتے تو اشارے سے پاس بیٹھنے کا کہتے۔ قمر سلیمان صاحب کہتے ہیں کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی وفات ہوئی ہے تو میں لندن آ رہا تھا۔ مجھے ایک بند لفافہ دیا جس پر لکھا تھا کہ بخدمت خلیفۃ المسیح الخامس اور ساتھ کہا کہ یہ میرا بیعت کا خط ہے جو بھی خلیفہ منتخب ہو ان کی خدمت میں پیش کر دینا۔ ایک یقین تھا کہ خلافت کا جو نظام ہے یہ جاری ہے اور حق ہے۔ صدر عمومی صاحب بھی لکھتے ہیں کہ بہت خوبیوں کے مالک تھے اور جو بھی کام سپرد کیا جاتا جب تک وہ کر کے رپورٹ نہ دے دیتے چین سے نہیں بیٹھتے تھے۔ بیشمار لوگوں نے خط لکھے ہیں۔ اسی طرح باقی لکھنے والوں نے بھی ان کی عاجزی، انکساری اور محبت سے پیش آنا اور خلافت سے ایک خاص تعلق کے بارے میں لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے اور خلافت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 9؍ جون 2017ء شہ سرخیاں

    گزشتہ خطبہ میں مَیں نے بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روزوں اور رمضان کا جو مقصد بیان فرمایا ہے وہ دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے اور اس حوالے سے مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض اقتباسات پیش کئے تھے کہ اس کے حصول کے لئے کیا طریق ہیں اور ہمیں کس طرح یہ اختیار کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مضمون کو ہمارے دلوں میں بٹھانے کے لئے مختلف جگہوں پر اس کی مزید تفصیلات بیان فرمائی ہیں تا کہ ہمارے دلوں میں اس کی اہمیت راسخ ہو جائے اور ہمارے ہر عمل اور خُلق سے اس کا اظہار ہونے لگے

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ انسان کے متقی ہونے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ وہ عبادت کرنے والا ہو یا صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کر رہا ہو بلکہ متقی وہ ہے جس کا اخلاقی معیار بھی اعلیٰ ہو، اور وہ اپنے اخلاق سے دوسروں پر اپنی نیکی اور تقویٰ کا اثر قائم کرے۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے مختلف ارشادات کے حوالہ سے اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی اہمیت اور اس بارہ میں اہم نصائح کا تذکرہ۔

    آجکل اس سستی کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان مہیا فرمائے ہیں۔ اس ماہ میں اخلاق کی بہتری کی طرف بھی ہر ایک کو توجہ دینی چاہئے اور دوسری کمزوریوں اور گناہوں سے بچنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔

    حصول اخلاق کے لئے توبہ بڑی محرک اور مؤید چیز ہے۔ حقیقی توبہ کی تین بنیادی شرائط کا تذکرہ۔

    بعض آدمی ظاہری معجزات اور خوارق کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں اور بعض حقائق اور معارف کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ مگر اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی ہدایت اور تسلی کا موجب اخلاق فاضلہ اور التفات ہوتے ہیں۔ آجکل بھی بیشمار لوگ جو احمدیت میں داخل ہوتے ہیں کسی نہ کسی احمدی کے اخلاق سے متاثر ہو کر یا مجموعی طور پر جماعت کے اخلاق سے متأثر ہو کر احمدی ہو رہے ہوتے ہیں۔ پس ہر احمدی کو اس بات پر نظر رکھنی چاہئے کہ اخلاق صرف اسے تقویٰ میں بڑھانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہیں اور دوسروں کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہیں۔ اس لئے ہر احمدی کو اپنے اخلاق پہ نظر رکھنی چاہئے۔

    ہمارے ہر عمل سے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ ہم نے آپؑ کی بیعت میں آ کر اپنے اندر اخلاقی تبدیلیاں پیدا کیں، پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اور پھر لوگوں کو یہ بتائیں بھی اور یہی تبلیغ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے اخلاق میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کو سامنے رکھنے اور ہر وقت اعلیٰ اخلاق کے اظہار کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ہی اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔

    مکرم لطف الرحمٰن محمود صاحب (امریکہ) ابن مکرم میاں عطاء الرحمٰن صاحب اور مکرم مرزا عمر احمد صاحب (ربوہ) ابن مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 09؍جون 2017ء بمطابق09؍احسان 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور