جھوٹ اور تکبر۔ سچائی کی اہمیت اور عاجزی اختیار کرنے کی نصائح

خطبہ جمعہ 16؍ جون 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

گزشتہ خطبہ میں مَیں نے اخلاق کا تقویٰ سے تعلق بتایا تھا کہ تقویٰ کے لئے اخلاق ضروری ہیں اور اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد بھی کہ متقی انسان اس وقت بنتا ہے جب اس میں تمام خُلق موجود ہوں۔ پس مومن کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ تمام اخلاق کو اپنائے اور وہ تمام اوامر جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے انہیں بجا لائے اور تمام نواہی جن سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ان سے بچے تب ہی وہ اعلیٰ خُلق اس میں پیدا ہو سکتے ہیں جو ایک متقی کے لئے ضروری ہیں۔ لیکن بعض خلق کی باتیں ایسی ہیں جو اگر ایک مومن میں نہیں تو پھر اس کے ایمان کا معیار بھی محلِّ نظر ہو جاتا ہے۔ وہ بھی دیکھنے والا ہے کہ ہے بھی کہ نہیں۔ تقویٰ تو بعد کی بات ہے پہلے ایمان کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے سب سے اہم بات یا خُلق جو ایک مومن کی بنیادی شرط ہے وہ سچائی پر قائم ہونا ہے اور جھوٹ سے بچنا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الحج:31)۔ پس تم بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔ پس بتوں کی پرستش اور جھوٹ کو ملا کر واضح کر دیا کہ اگر تمہارے اندر سچائی نہیں اور سچی بات کہنے کی عادت نہیں تو یہ ایسا ہی بڑا گناہ ہے جیسے بتوں کو پوجنا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر بھی ایمان ہو اور پھر ظاہری یا مخفی بتوں کی پلیدی میں بھی وہ ملوّث ہو۔ پس ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والے کو یہ بہت بڑی اور کھلی اور واضح وارننگ ہے کہ اگر مومن ہو تو سچائی کے اعلیٰ معیار بھی اپنانے ہوں گے ورنہ اپنے ایمان کی فکر کرو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس بارے میں بڑی کھول کر توجہ دلائی ہے، بڑے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ بُت کیا ہے؟ اور تم نے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کے لئے، اپنے ایمان میں ترقی کرنے کے لئے، کس قسم کے بتوں کی پلیدی سے احتراز کرنا ہے اور بچنا ہے اور کیا طریق اختیار کرنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو اپنی مختلف کتب میں بھی بیان فرمایا ہے۔ مجالس میں بھی بار بار ذکر فرمایا ہے اور بڑے واضح طور پر سچائی کی اہمیت بیان فرمائی ہے اور اس بارے میں بڑے درد کا اظہار کیا ہے جو ہر احمدی کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے ہوئے تقویٰ کی طرف بڑھنے والے ہوں۔ آپ کے مختلف اقتباسات اس بارے میں پیش کروں گا۔ بظاہر یہ ایسی باتیں لگتی ہیں جو ایک جیسی ہیں لیکن ہر فقرے میں ایک علیحدہ سبق اور نصیحت ہے۔

آپؑ اپنی کتاب نور القرآن میں فرماتے ہیں کہ :

’’قرآن شریف نے دروغگوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الحج:31)۔ یعنی بُتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو۔‘‘ (دونوں پلید ہیں۔ دونوں گندے ہیں ان سے پرہیز کرو۔) (نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 403)

پھر جھوٹ کی وجہ سے انسان کے خدا تعالیٰ سے دُور ہو جانے کا ذکر فرمایا یا۔ یہ کہنا چاہئے کہ جھوٹے کو اللہ تعالیٰ چھوڑ دیتا ہے۔ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:

’’بُتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے پرہیز کرو۔ یعنی جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر یہ بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔ سو جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔‘‘ (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 361)

جب خدا تعالیٰ پر بھروسہ چھوڑ دیا تو پھر اللہ تعالیٰ اس بندے کے قریب نہیں آتا پھر۔ یہ آپ نے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں فرمایا۔

پھر لیکچر لاہور میں آپ نے یہ فرمایا کہ ’’بتوں سے اور جھوٹ سے پرہیز کرو کہ یہ دونوں ناپاک ہیں۔‘‘ (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 157)

پس پاک ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جھوٹ اور ہر قسم کے شرک سے انسان بچے۔

پھر آپ نے ایک مجلس میں فرمایا کہ: ’’قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رِجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الحج:31)۔ دیکھو یہاں جھوٹ کو بُت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بُت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔ جیسے بُت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بھی بجز ملمّع سازی کے اَور کچھ بھی نہیں ہوتا‘‘۔ (اپنی باتوں کو صرف ایک ظاہری پالش کیا ہوتا ہے ویسے اس کے نیچے کچھ بھی نہیں ہوتا۔) فرمایا کہ ’’جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا‘‘۔ (جب ان کو عادت پڑ جاتی ہے تو پھر جلدی سے دور نہیں ہوتا۔) فرمایا کہ ’’مدّت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہو گی‘‘۔ (ملفوظات جلد 3صفحہ 350۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

بعض عادی ہو جاتے ہیں کہ ہر بات میں انہوں نے غلط بیانی کرنی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے پھر بڑی محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور بڑا لمبا عرصہ ایک مجاہدہ کرنا پڑتا ہے پھر جا کر سچ بولنے کی عادت پڑتی ہے۔

پھر وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیاوی کامیابیاں اگر حاصل کرنی ہیں تو کچھ نہ کچھ غلط بیانی اور جھوٹ بولنے کی ضرورت ہو گی اس کے بغیر گزارہ نہیں۔ ان کے ان خیالات کی نفی فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’بُت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے۔ جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لئے جھوٹ کو بُت بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بُت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی۔ جیسے ایک بُت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بُت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔‘‘ فرماتے ہیں ’’کیسی خرابی آ کر پڑی ہے۔ اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو۔ اس نجاست کو چھوڑ دو۔ تو کہتے ہیں کیونکر چھوڑ دیں اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہو گی کہ جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں۔‘‘ فرمایا’’مگر مَیں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔ بھلائی اور فتح اسی کی ہے‘‘۔

آپؑ فرماتے ہیں ’’یقیناً یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔ عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں مگر مَیں کیونکر اس کو باور کروں؟ مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں۔‘‘ آپ فرماتے ہیں ’’مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔ اللہ تعالیٰ تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راستباز کو سزا دے؟‘‘ (کبھی ہو سکتا ہے کہ سچ بولنے والے کو سزا دے؟) فرماتے ہیں ’’اگر ایسا ہو تو دنیا میں پھر کوئی شخص سچ بولنے کی جرأت نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اٹھ جاوے۔ راستباز تو زندہ ہی مر جاویں‘‘۔ فرماتے ہیں ’’اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ وہ سزا ان کی بعض اَور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے‘‘۔ (اگر کسی جرم میں پھنس گئے اور سچ بولا اور سزا مل گئی۔ اس وقت نیکی کا ایک عارضی دَور آیا اور سچ بول دیا اور سزا مل گئی تو انسان یہ نہ سمجھے کہ یہ سزا مجھے اس وجہ سے ملی ہے۔ فرمایا یہ جو پہلے دوسری غلطیاں تھیں اور بدکاریاں تھیں ان کی وجہ سے سزا ملتی ہے) ’’اور کسی اَور جھوٹ کی سزا ہوتی ہے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ’’خدا تعالیٰ کے پاس تو ان بدیوں اور شرارتوں کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ ان کی بہت سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پا لیتے ہیں‘‘۔ (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 478تا 480۔ ایڈیشن 2009ء مطبوعہ انگلستان)

سارا ریکارڈ جو ہمارے اعمال کا ہے اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے۔ لوگوں کے کمپیوٹر تو خراب ہو جاتے ہیں۔ ہیک (hack) ہو جاتے ہیں۔ سائبر اٹیک (cyber attack) ہو جاتے ہیں۔ سارا ڈیٹا (data) ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس جو ریکارڈ ہے اس کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ وہ سارا موجود ہے۔ انسان بعض حیلے بہانے کر کے دنیا کی سزا سے تو بچ سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے فرمایا کہ اپنے آپ کو مستقل نیکیوں کی عادت ڈالنی چاہئے اور نیکیوں پر دوام حاصل ہونا چاہئے۔ اور جب انسان استغفار کرے اور برائیوں سے بچنے کے لئے عہد کرے تو پھر ہمیشہ اس پر قائم رہنے کی کوشش کرے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ دنیا دار کہتا ہے کہ کس طرح جھوٹ چھوڑیں۔ اس کے بغیر گزارہ نہیں۔ یہ صرف بہت بڑے مفاد کے حصول کے لئے نہیں ہے بلکہ دنیاداروں کی تو یہ حالت ہے کہ ہر معاملے میں چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ چنانچہ گزشتہ دنوں جو نیا نیشنل جیوگرافک رسالہ آیا جھوٹ کے بارے میں مختلف مضامین تھے۔ اس میں ایک بڑا مضمون تھا اور یہ تحقیق تھی کہ ہم جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ اس نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ بظاہر کامیابیاں جھوٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کامیابیاں جھوٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں اس نے بھی یہی لکھا ہے اور اس میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ جھوٹ بولنا انسان کی فطرت ہے۔ حالانکہ یہ انسان کی فطرت نہیں بلکہ ماحول جھوٹا بناتا ہے اور کیونکہ ان لوگوں کے تو پھر اپنے دنیاوی مقاصد بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح اسی مضمون میں اس نے جھوٹ بولنے کو ہوا دی ہے۔ justify کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ عادت بچپن سے ہی ہو جاتی ہے۔ حالانکہ بچپن میں بھی ماحول ایسا ہوتا ہے جو عادت ڈالتا ہے۔ اور اب تو ان کا یہ حال ہے کہ بڑے فخر سے ان لوگوں کی تصویریں دی گئی ہیں جو جھوٹ بولنے کے مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ بڑے چیمپئن بنتے ہیں اور اس بات پر انعام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک انعام حاصل کرنے والے نے کہا کہ میری بعض کہانیاں جو میں بیان کرتا ہوں کچھ تو صحیح ہوتی ہیں لیکن ان کہانیوں میں بھی اگر جھوٹ کی ملمع سازی نہ ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تو لوگوں کے لئے میری باتیں انتہائی بورنگ (boring) ہوجائیں کوئی ان پہ توجہ نہ دے۔ اس لئے لوگوں کی توجہ کھینچنے کے لئے جھوٹ بولتا ہوں۔ پھر اسی مضمون میں بچوں سے لے کر سیاستدانوں اور مختلف پیشوں سے لے کر سائنسدانوں تک کی یہی باتیں ہیں کہ ان کی باتوں میں جھوٹ شامل ہوتا ہے اور اس معاشرے میں، ماحول میں اتنا جھوٹ ہے کہ ہر جگہ جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے گا اور ان کے خیال میں اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لئے مجبوری ہے کہ ہم جھوٹ بولیں۔ ہم لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا، مغربی قوموں کا سچائی کا معیار بہت اچھا ہے تو اس مضمون کو پڑھ کر لگتا ہے کہ ان کی ہر بات کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔ انہوں نے پہلے جو ابتدائی سروے کیا اس سے پتا چلا کہ ہر شخص روزانہ تین چار جھوٹ بولتا ہے اور یہ سب جھوٹ جو مثلاً مختلف قسم کے جھوٹ ہیں، یہ جھوٹ اس لئے ہیں کہ کسی کی صحیح رہنمائی نہ کرو۔ کسی کی گائیڈنس کرنی ہے یا کسی کو رہنمائی دینی ہے تو صحیح نہ کرو۔ اس میں بھی جھوٹ بولا۔ کسی کو دھوکہ دینا ہےتو اس کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ پھر جو یہ ساری ریسرچ کی ہے اس میں جھوٹ بولنے کی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ پھر اور مختلف بہانے ہیں دھوکہ دینے کے لئے، اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے، اپنے بارے میں غلط تاثر قائم کروانے کے لئے، اپنی خود پسندی کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ یہ تو چھوٹے چھوٹے جھوٹ ہیں۔ بڑے جھوٹوں میں اُس نے ذکر کیا کہ خاوند اور بیوی اپنے تعلقات میں جو ایک دوسرے کے غیروں سے ہوتے ہیں ان کو چھپانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ جب بیوی اور خاوند کی دوستیاں آزادی کی وجہ سے غلط رنگ میں ہو جاتی ہیں تو اس پہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ ایک آزاد معاشرے کی یہ بھی بڑی برائی ہے کہ اس طرح آزادانہ میل ملاپ کی وجہ سے غلط تعلقات قائم ہو جاتے ہیں اور پھر جب جھوٹ کا پول کھلتا ہے تو پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر ان کی علیحدگیاں اور طلاقوں تک نوبت آ جاتی ہے۔

ہمارے ہاں بھی اگر آپ جائزہ لیں تو گھروں کی لڑائیاں، طلاق اور خلع کی نوبت اس لئے آتی ہے کہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ اسی بنیادی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ہمیں نکاح کے خطبے میں جن آیات کی تلاوت کرنے کا کہا گیا ہے اس میں یہ آیت بھی شامل ہے کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا(الاحزاب:71)۔ کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف اور سیدھی بات کیا کرو۔ اور پھرآگے فرمایا یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَن یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا (الاحزاب:72)۔ کہ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اب ایک اطاعت تو یہی ہے کہ جب آزادیاں ہوتی ہیں تو آزادی کے نام پر پردے ختم ہوتے ہیں اور جب پردے ختم ہوتے ہیں تو پھر شکوک پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح پھر بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ پھر جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ایک سلسلہ چل پڑتا ہے جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہاں میاں بیوی کے تعلق میں اس حد تک سچائی کی بات کی ہے کہ کوئی ایچ پیچ نہ ہو۔ سچائی کا اعلیٰ ترین معیار ہو۔ اور اس سے جہاں تمہارے تعلقات خوشگوار رہیں گے وہاں تمہارے بچے بھی بہت سے مسائل سے بچیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی معاف کرے گا اور فوزِ عظیم اور بڑی کامیابیاں بھی عطا کرے گا۔ پس یہ اسلام کا خوبصورت حکم ہے لیکن اس کے باوجود جو قول سدید سے کام نہیں لیتے تو وہ اپنے رشتے کو بگاڑتے ہیں۔ اپنے اعتماد کو جھوٹ کی وجہ سے قائم نہیں رکھتے۔ اس سے زیادہ بدقسمت اور کون ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی خلع اور طلاقوں کی شرح اس لئے بڑھ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے دُوری ہے۔

یہ دنیادار جن کی کوئی رہنمائی نہیں ہے اس نے بھی میاں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کا جو جھوٹ بولنا ہے اس کو serious lie لکھا ہوا ہے۔ یہ بڑا جھوٹ ہے۔ بہت قابل فکر جھوٹ ہے۔ لیکن وہ جن کی رہنمائی ہے اگر وہ ایسا کریں گے تو اس سے بھی زیادہ serious ہو جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک صورت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ پھر ایسا کرنے والا اپنے گناہوں کی بخشش سے بھی محروم رہے گا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کامیابیوں کا وعدہ ہے اس سے بھی محروم رہے گا۔ پس یہ ان لوگوں کے لئےقابل فکر ہے جو ایسے رویّے رکھتے ہیں۔ اس نے یہ بھی اس میں لکھا ہے کہ لوگ عام طور پر اپنی غلطیاں چھپانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ زیادہ percentage ان کی بن رہی ہے جو لوگوں سے بچنے کے لئے، لوگوں کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے کہ ملنا نہیں چاہتے تو بیوی یا بچوں کو کہہ دیا کہ گھر پر نہیں ہے۔ بعض لوگ اپنے بچوں کو کہہ دیتے ہیں کہ آنے والے کو یا فون کرنے والے کو کہہ دو کہ میرا باپ گھر پر نہیں ہے یا ماں گھر پر نہیں ہے۔ اس طرح وہ بچوں کو بھی جھوٹ کی عادت ڈال رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ فطرت نہیں ہے بلکہ بڑوں کے بعض عمل ہیں جو بچوں کو بھی جھوٹ کی طرف لے جاتے ہیں۔ پھر اس نے لکھا ہے کہ بغیر کسی مُحرّک کے عادتاً بھی لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور عادت بھی اصل میں ماحول کی وجہ سے ہی پڑ رہی ہوتی ہے۔ پھر اس نے لکھا ہے کہ حقائق کو نظر انداز کرنے کے لئے بھی جھوٹ بولتے ہیں تاکہ صحیح باتیں نہ بتانی پڑیں۔ حقائق چھپانے پڑیں اس کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ اچھا بننے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ لطیفہ سنایا جس پر بڑا مذاق ہو رہا ہے۔ حالانکہ پاکیزہ صاف مذاق بھی ہوسکتا ہے۔

پھر خود پسندی کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ ذاتی مفادات کے علاوہ مالی منفعت کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ مالی منفعت حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ اس سروے نے ہر قسم کے جھوٹ بولنے والوں کی علیحدہ فیصد شرح نکالی ہوئی ہے۔ تو ان میں غلطیاں چھپانے والے، مالی منفعت والے اور جو دوسرے متفرق مفادات ہیں وہ حاصل کرنے کے لئے اور لوگوں سے بچنے کے لئے، نہ ملنے کے لئے جھوٹ بولے جاتے ہیں اور جب کوئی غلطی کرتا ہے تو پھر آدمی بچتا بھی ہے۔ تو ان کا سروے یہ کہتا ہے کہ سب سے زیادہ جھوٹ بولنے کی شرح ان چار چیزوں میں ہے۔ غلطیاں چھپانا، مالی منفعت، دوسرے مفادات اور لوگوں سے بچنا۔ (National Geographic June 2017 ”why we lie” p: 36-51)

تو یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جن کو ہمارے میں سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا سچائی کا معیار ہمارے سے بہتر ہے۔ اگر یہ لوگ ہمارے لئے معیار ہیں تو پھر ایک مومن کہلانے والے کے لئے قابل فکر بات ہے۔ یہ لوگ تو ویسے ہی خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے یا شرک کرنے والے ہیں لیکن ہم جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور دین کی تعلیم پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اگر سچائی سے ہٹیں گے تو وہ نہ صرف دین سے دُور ہٹتے ہیں بلکہ شرک کے بھی مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ پس ہمیں اپنی سچائی کے معیاروں کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ گواہیوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ جھوٹی گواہیاں نہ دو۔ چنانچہ عباد الرحمن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ (الفرقان:73)۔ اور وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ پس ہماری گواہیاں نہ مالی منفعت کے لئے یا مفادات کے لئے جھوٹی ہونی چاہئیں اور نہ کسی اور مقصد کے لئے یہ جھوٹی ہونی چاہئیں۔ کیونکہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ رحمان خدا کے بندے بنیں اور ایمان میں بڑھیں تو پھر ان جھوٹوں سے بچنا ہو گا بلکہ شیطان سے بچنے کے لئے بھی ضروری ہے اور چونکہ جھوٹ بولنے سے رحمان خدا سے قطع تعلقی ہوگی، اس سے تعلق ختم ہو گا اور جب خدا سے تعلق ختم ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ پھر شیطان سے تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ شیطان کی پکڑ میں انسان آ جاتا ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 12)

ہماری سچائی کے معیار کیا ہونے چاہئیں اور کس طرح ہم نے جھوٹ سے بچنا ہے؟ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:

’’مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔‘‘ (کسی کاقتل کوئی نہیں کرتا۔) فرماتے ہیں ’’مگر مَیں کہتا ہوں کہ ناانصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔ حق کو قبول کر لو اگرچہ ایک بچّہ سے۔ اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو‘‘۔ (اگر بچہ بھی کوئی سچی بات کر رہا ہے تو اس کو قبول کر لینا چاہئے۔ ضدنہیں کرنی چاہئے۔) فرمایا کہ ’’سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الحج:31) یعنی بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں‘‘۔ فرمایا کہ ’’جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے‘‘ (جو سچائی سے تمہارا منہ پھیرتی ہے۔ سچائی سے دوسری طرف لے کر جاتی ہے) ’’وہی تمہاری راہ میں بُت ہے۔ سچی گواہی دو اگرچہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔ چاہئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو‘‘۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550)۔ انصاف سے ہٹو گے تو جھوٹ بھی ہوگا۔

کسی عیسائی نے یہ اعتراض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپانے کے لئے قرآن میں صاف حکم دے دیا ہے کہ جھوٹ بولو۔ اور جبکہ انجیل میں یہ اجازت کسی قسم کی نہیں ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:

’’واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کے لئے قرآن شریف میں تاکید ہے مَیں ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف نے دروغگوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ (الحج:31) یعنی بُتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ (النساء: 136)۔ ……. یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو لِلّٰہ ادا کرو‘‘ (اللہ کے لئے ادا کرو) ’’اگرچہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں‘‘۔ (نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 402-403)

پس یہ معیار ہے سچائی کا۔ بیشک یہ انصاف کا بھی معیار ہے۔ لیکن انصاف قائم نہیں ہوتا اس وقت تک جب تک سچائی نہ ہو۔ پس یہ معیار ہیں جو ایک مومن کے لئے ضروری ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

’’خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی، فرمایا ہے۔ لَایَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی  (المائدہ۔ 9) یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو‘‘۔ فرمایا کہ’’انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے‘‘۔ فرماتے ہیں ’’اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں جیسا کہ مکّہ والے کافروں نے کیا تھا۔ پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی………‘‘۔ فرماتے ہیں ’’مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں ’’اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں۔‘‘ (حق دبانے کے لئے جھوٹ بول جاتے ہیں۔ انصاف سے کام نہیں لیتے۔ جھوٹ بولتے ہیں۔) فرماتے ہیں ’’ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردہ میں دھوکا دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے‘‘۔ پھر آپ نے اس کی مثال دی فرمایا ’’مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کاغذات بندوبست میں نہیں لکھواتا۔‘‘ (جو کاغذات ہوتے ہیں، سرکاری رجسٹریاں وہاں نام نہیں لکھواتا) ’’اور یوں اتنی محبت کہ اس پر قربان ہوا جاتا ہے۔‘‘ (بہت سارے کیس ایسے آتے ہیں۔ جھوٹے طور پر بعض رشتہ دار عزیز اپنے رشتہ داروں کی جائیدادوں کے کاغذات بدلوا لیتے ہیں یا نام نہیں لکھواتے یا صحیح طرح گواہی نہیں دیتے اور ان کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔) آپ فرماتے ہیں کہ ’’پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا۔ کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے درگزر نہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔‘‘ (نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 409-410)

پس یہ معیار ہے کہ صرف عارضی مفادات کے لئے نہیں، عام روز مرہ کے معاشرتی معاملات تک ہی نہیں بلکہ ایک مومن کے سچائی کے معیار وہ ہوں کہ ایک دشمن کو بھی نقصان پہنچانے کے لئے جھوٹ نہیں بولنا۔ جب دشمن سے سچائی کے یہ معیار ہوں گے تو پھر آپس کے تعلقات میں بھی سچائی کے معیار بڑھنے کی وجہ سے محبت کے معیار بڑھیں گے اور محبت میں جھوٹ نہیں ہوتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی سے محبت بھی ہو اور پھر جھوٹ بھی بولا جائے کیونکہ محبت بے اختیار ہوتی ہے۔ پس یہ وہ معیار ہیں جو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پھر جب سچائی کے ایسے معیار ہوں گے تو پھر ایک بھائی کو انسان کسی بھی قسم کا دھوکہ نہیں دے سکتا۔

سچائی کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزیدنصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’حرام خوری اس قدر نقصان نہیں پہنچاتی جیسے قَولِ زُور‘‘، (جھوٹی بات)۔ ’’اس سے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔ یہ سخت غلطی ہے اگر کوئی ایسا سمجھے‘‘ (تو غلط ہے)۔ فرماتے ہیں کہ ’’میرا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اضطراراً سؤر کھالے تو یہ امر دیگر ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی زبان سے خنزیر کا فتوی دے دے تو وہ اسلام سے دُور نکل جاتا ہے‘‘۔ (اضطراری طور پر سؤر کا گوشت کھانے کی اجازت ہے۔ بھوکا مر رہا ہے تو کھا لے اور چیز ہے۔ لیکن زبان سے فتویٰ دے دینا کہ سؤر کھانا جائز ہے یہ جو ہے انسان کو اسلام سے دور کر دیتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس طرح انسان) ’’اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال ٹھہراتا ہے‘‘۔ پھر فرماتے ہیں ’’غرض اس سے معلوم ہوا کہ زبان کا زیان خطرناک ہے۔ اس لئے متقی اپنی زبان کو بہت ہی قابو میں رکھتا ہے۔ اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی جو تقویٰ کے خلاف ہو۔ پس تم اپنی زبان پر حکومت کرو، نہ یہ کہ زبانیں تم پر حکومت کریں اور اَناپ شناپ بولتے رہو۔‘‘ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 423۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

انسان کو اپنی زبان پر کنٹرول ہونا چاہئے۔ یہ زبان پر حکومت ہے۔ نہ یہ کہ جو زبان میں آئے انسان نے بول دیا۔ اس سے پھر جھوٹ سچ ہر بات نکلتی جاتی ہے اور پھر فتنہ اور فساد پیدا ہوتے ہیں۔ پس ہر وقت یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری زبان ہمیشہ سچائی کے اس معیار پر قائم ہو جو نہ صرف یہ ہے کہ شرک سے محفوظ رکھنے والی ہو بلکہ تقویٰ کے معیاروں کو بھی حاصل کرنے والی ہو۔ اس سے محفوظ رہے۔

جھوٹ میں ملوّث لوگوں کی مختلف حالتیں جو مَیں نے اس مضمون کے حوالے سے بیان کی تھیں انہیں سامنے رکھ کر ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا کسی قسم کے جھوٹ میں ہم ملوّث تو نہیں۔ اگر ہیں تو کس طرح اس سے نجات حاصل کرنی ہے۔ نجات حاصل کرنے کا ذریعہ تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کو سمجھنے کی توفیق دے اور بلکہ سچائی سے بڑھ کر آگے قول سدید پر قائم ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

پھر ایک اہم نیکی جو مومن کا خُلق ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے وہ عاجزی اور تکبر سے دُوری ہے۔ چنانچہ ایک جگہ تکبر کرنے والے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ (لقمان:19) کہ اور نخوت سے انسانوں کے لئے اپنے گالوں کو نہ پھلاؤ اور زمین میں یونہی اکڑتے ہوئے نہ پھرا کرو۔ اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے اور فخر و مباہات کرنے والے کو پسندنہیں کرتا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اس مضمون کو بڑی جگہ بیان فرمایا ہے۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’ایسے لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام سے حالانکہ کروڑوں حصہ نیچے کے درجہ میں ہوتے ہیں‘‘ (ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں انبیاء کے ساتھ۔) کہتے ہیں ’’جو دو دن نماز پڑھ کر تکبر کرنے لگتے ہیں۔ اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (آجکل بھی، رمضان میں بھی بعض لوگ عبادت کرتے ہیں۔ ذرا موقع مل جاتا ہے یا کوئی سچی خوابیں آ جائیں تو اس کی وجہ سے بے انتہا فخر ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ استغفار کرنی چاہئے۔) آپ فرماتے ہیں کہ: ’’یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔ جب تک انسان اس سے دُور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں ر وک ہو جاتا ہے۔ کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے۔ نہ علم کے لحاظ سے۔ نہ دولت کے لحاظ سے۔ نہ وجاہت کے لحاظ سے۔ نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے موادِ ردّیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی‘‘۔ جذبات کے جو ردّ کرنے والے چیزیں ہیں جذبات ہیں جو جو غلط قسم کے جذبات ہیں ان کو ختم کرنے کے لئے جو معرفت مل سکتی ہے وہ معرفت اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک انسان تکبر سے نہ بچے اور عاجزی اختیار نہ کرے۔ فرمایا ’’کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ پسندنہیں کرتا۔ شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہہ دیا اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ۔ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ  (الاعراف13) (پھر) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا۔ اور آدم لغزش پر (چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی اس کو معرفت ملی تھی) اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے لگا اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔ وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اس لئے دعا کی۔ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۔ (الاعراف24)‘‘

یہ دعا پڑھنے کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو نصیحت فرمائی ہے۔ یہ دعا پڑھتے رہنا چاہئے۔ آجکل بھی آخری عشرے سے گزر رہے ہیں، آگ سے بچنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لئے، ان دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔

آپ فرماتے ہیں : ’’یہی وہ سرّ ہے‘‘ یہ راز ہے ’’جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا کہ اے نیک استاد! تو انہوں نے کہا کہ تُومجھے نیک کیوں کہتا ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’آجکل کے نادان عیسائی تو یہ کہتے ہیں کہ ان کا مطلب اس فقرہ سے یہ تھا کہ تُو مجھے خدا کیوں نہیں کہتا؟ حالانکہ حضرت مسیح نے بہت ہی لطیف بات کہی تھی جو انبیاء علیہم السلام کی فطرت کا خاصہ ہے۔ وہ جانتے تھے کہ حقیقی نیکی تو خدا تعالیٰ سے ہی آتی ہے۔ وہی اس کا چشمہ ہے اور وہیں سے وہ اترتی ہے۔ وہ جس کو چاہے عطا کرے اور جب چاہے سلب کرلے۔ مگر ان نادانوں نے ایک عمدہ اور قابل قدر بات کو معیوب بنا دیا اور حضرت عیسیٰ کو متکبر ثابت کیا حالانکہ وہ ایک منکسرالمزاج انسان تھے‘‘۔

پھر پاک ہونے کا ایک طریق بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ’’میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں ہے کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے‘‘۔ (پاک ہونا ہے تو کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرو) ’’نہ علمی، نہ خاندانی، نہ مالی۔ جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جو ان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔ آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔ اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ، ایمان، عبادت، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کردے۔‘‘

پھر آپ فرماتے ہیں: ’’پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لا شییٔ محض سمجھے اور آستانۂ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نورِ معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لئے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔ پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے۔‘‘ (اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے، دعاؤں کی قبولیت کے نظارے دیکھنے لگے، ایک خاص قسم کی دل میں تسکین پیدا ہو جائے تو پھر اس پہ تکبر اور ناز نہ کرو) ’’بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اَور بھی ترقی ہو‘‘۔ (اس تعلق کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے مزید انکسار میں بڑھو) ’’کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لا شیٔ سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔ اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔ دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے۔ پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 275 تا 277۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

تکبر دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ہر خُلق کو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے۔ ہر اچھی بات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے۔ اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:

’’درحقیقت یہ گند جو نفس کے جذبات کا ہے اور بداخلاقی، کبر، ریا وغیرہ صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس پر موت نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور یہ مواد ردّیہ جل نہیں سکتے جب تک معرفت کی آگ ان کو نہ جلائے۔ جس میں یہ معرفت کی آگ پیدا ہو جاتی ہے وہ ان اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہونے لگتا ہے اور بڑا ہو کر بھی اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے اور اپنی ہستی کو کچھ حقیقت نہیں پاتا۔ وہ اس نور اور روشنی کو جو انوار معرفت سے اسے ملتی ہے اپنی کسی قابلیت اور خوبی کا نتیجہ نہیں مانتا اور نہ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ وہ اسے خدا تعالیٰ ہی کا فضل اور رحم یقین کرتا ہے۔ جیسے ایک دیوار پر آفتاب کی روشنی اور دھوپ پڑ کر اسے منور کر دیتی ہے لیکن دیوار اپنا کوئی فخر نہیں کر سکتی۔‘‘ (سورج کی روشنی دیوار پر پڑتی ہے اور وہ روشن ہو جاتی ہے تو دیوار کو اس پر کوئی فخر نہیں ) ’’کہ یہ روشنی میری قابلیت کی وجہ سے ہے‘‘۔ فرماتے ہیں ’’یہ ایک دوسری بات ہے کہ جس قدر وہ دیوار صاف ہو گی اسی قدر روشنی زیادہ صاف ہو گی۔‘‘ (دیوار صاف اور چمکیلی ہو تو روشنی زیادہ چمک کے ظاہر ہو گی۔) ’’لیکن کسی حال میں دیوار کی ذاتی قابلیت اس روشنی کے لئے کوئی نہیں بلکہ اس کا فخر آفتاب کو ہے اور ایسا ہی وہ آفتاب کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تُو اس روشنی کو اٹھا لے‘‘۔ فرماتے ہیں کہ’’اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے نفوس صافیہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض سے معرفت کے انوار اُن پر پڑتے ہیں اور ان کو روشن کر دیتے ہیں۔ اسی لئے وہ ذاتی طور پر کوئی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فیض کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہی سچ بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اعمال سے داخلِ جنت ہوں گے؟تو یہی فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ (بلکہ) خدا تعالیٰ کے فضل سے۔‘‘ فرمایا کہ’’انبیاء علیہم السلام کبھی کسی قوت اور طاقت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔ وہ خدا ہی سے پاتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 274-275۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس انبیاء جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں ان کا یہ حال ہے تو ایک عام انسان کو کتنی عاجزی دکھانی چاہئے اور کتنا اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر شکرگزار ہوتے ہوئے مزید جھکتے چلے جانا چاہئے۔

تکبّر انسان میں روحانی موت لاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے انسان دور ہو جاتا ہے، اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ:

’’اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔ وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا اور اس پر رحم کرتا ہے اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مُرسَلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلود زندگی سے نجات دیں۔ مگر تکبر بہت خطرناک بیماری ہے۔ جس انسان میں یہ پیدا ہو جاوے اس کے لئے روحانی موت ہے‘۔ فرمایا کہ’’مَیں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ بیماری قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ متکبر شیطان کا بھائی ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ تکبر نے ہی شیطان کو ذلیل و خوار کیا۔ اس لئے مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کا خاصّہ ہوتا ہے۔ ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔ آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے؟‘‘ ((خادم سے پوچھاکس طرح آپؐ تمہارے ساتھ سلوک کرتے ہیں ) ’’اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں۔ اَللّٰھُمَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔‘‘ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 101۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

جماعت کو اس بارے میں نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ

’’عام طور پر تکبر دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔ فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اَور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا‘‘۔ (ہر ایک تکبر میں مبتلا ہے۔ اپنی اصلاح کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں)۔ فرماتے ہیں ’’ان کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے۔ اس لئے ان کے مجاہدے اور ریاضتیں بھی کچھ اَور ہی قسم کی ہیں جیسے ذکرِ اَرّہ وغیرہ۔ جن کا چشمۂ نبوت سے پتا نہیں چلتا‘‘۔ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تو ہمیں ایسے ذکروں اور مجاہدوں کا پتا نہیں لگتا۔) فرماتے ہیں کہ ’’میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی نہیں۔ صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے جس میں ر وحانیت کا کوئی نام و نشان نہیں۔ یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں۔ پس یہ زمانہ اب بالکل خالی ہے۔ نبوی طریق جیسا کہ کرنے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے اور اس کو بھلا دیا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہدِ نبوت پھر آ جاوے اور تقویٰ اور طہارت پھر قائم ہو اور اس کو اس نے اس جماعت کے ذریعہ چاہا ہے‘‘۔ (اللہ تعالیٰ یہ ساری نیکیاں تقویٰ پیدا کرنا، ایمان مضبوط کرنا اس جماعت کے ذریعہ چاہتا ہے۔) آپ فرماتے ہیں ’’پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو‘‘۔ (جب اللہ تعالیٰ جماعت سے چاہتا ہے تو افراد جماعت جو ہیں وہ حقیقی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔) آپ فرماتے ہیں ’’حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو۔ اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کا طریق بتایا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 278۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت اور آپ کے بتائے ہوئے طریق پر چلتے ہوئے تمام برائیوں سے بچنے اور تمام اعلیٰ اخلاق کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری سچائیوں کے بھی وہ معیار ہوں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوں اور ہماری عاجزی کے بھی وہ معیار ہوں جو خدا تعالیٰ کو پسند آئیں۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ایسے افراد بنیں جیسا کہ وہ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 16؍ جون 2017ء شہ سرخیاں

    گزشتہ خطبہ میں مَیں نے اخلاق کا تقویٰ سے تعلق بتایا تھا کہ تقویٰ کے لئے اخلاق ضروری ہیں اور اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد بھی کہ متقی انسان اس وقت بنتا ہے جب اس میں تمام خُلق موجود ہوں۔ سب سے اہم بات یا خُلق جو ایک مومن کی بنیادی شرط ہے وہ سچائی پر قائم ہونا ہے اور جھوٹ سے بچنا ہے۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے سچائی کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کا تذکرہ اور اس حوالہ سے افراد جماعت کو اہم نصائح

    حال ہی میں نیشنل جیو گرافک کے ایک رسالہ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے حوالہ سے کہ لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں بعض وجوہات کا تذکرہ اور ان پر تبصرہ۔ اور اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے سچائی اور قولِ سدید کو اختیار کرنے کی تاکید۔

    ایک اہم نیکی جو مومن کا خُلق ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے وہ عاجزی اور تکبر سے دُوری ہے۔

    حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے تکبر کی مختلف صورتوں کا تذکرہ اور ان سے بچنے اور عاجزی کو اختیار کرنے کی نصائح۔

    فرمودہ مورخہ 16؍جون 2017ء بمطابق 16؍احسان 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور