نمازوں کا قیام، نماز جمعہ کی اہمیت اور رمضان

خطبہ جمعہ 23؍ جون 2017ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

رمضان کا مبارک مہینہ آیا اور تیزی سے گزر بھی گیا۔ باوجود لمبے دنوں اور پھر گرمی بھی زیادہ ہونے کے اس دفعہ تو یہاں بھی ریکارڈ گرمی پڑی ہے، لیکن اکثر یا کم از کم جو لوگ مجھے ملے وہ یہی کہتے ہیں کہ اس دفعہ روزوں کا زیادہ احساس نہیں ہوا یا شدت موسم کے باوجودنسبتاً کم احساس ہوا۔ لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ روزے اس دفعہ غیر معمولی طور پر آسانی سے گزر گئے، آرام سے گذر گئے۔ اگر گزر گئے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہم پر ہوا کہ ہمیں اس نے ان دنوں میں سے آرام سے گزار دیا یا اگر تھوڑا سا بھوک پیاس کا احساس بھی ہوا تو صرف اس لئے کہ ہم کہہ دیں کہ ہلکا سا بھوک پیاس کا احساس ہوا اور زیادہ محسوس نہیں ہوا۔ یہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے، ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان بابرکت ایام میں کیا حاصل کیا؟ چاہے روزے آرام سے گزر گئے یا ذرا سا احساس ہوا اور اس سے گزر گئے تو اس سے مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔ مقصد تبھی حاصل ہو گا جب ہم یہ دیکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے حاصل کیا کیا؟

اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں رمضان کے مہینہ میں ساتویں آسمان سے نچلے آسمان پہ آ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں اپنے بندوں کے قریب ہو کر ان کی دعائیں سنتا ہے۔ (الجامع لشعب الایمان الجزء الخامس حدیث 3394، 3334مطبوعہ مکتبۃ الرشدناشرون بیروت 2004ء)۔ اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں روزہ رکھنے والوں کی خود جزا بن جاتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ … الخ حدیث 7492)۔ اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں شیطان کو جکڑ دیتا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان حدیث 2495)۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں اور اس کی رحمتوں سے فیض اٹھانے کے لئے کیا کیا یا کیا کیا عہد کئے ہیں۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے اور اس کی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے گزشتہ کوتاہیوں کو چھوڑنے کے لئے کیا عہد کئے ہیں اور کس حد تک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کی ہیں۔ پس یہ جائزے ہمیں اللہ تعالیٰ کے مستقل فضلوں کے حصول کی طرف توجہ دلانے والے اور اس وجہ سے اپنی حالتوں میں مستقل تبدیلی لانے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہمیشہ جذب کرنے والا بنائے گی۔

اگر ہم نے نمازوں میں باقاعدگی صرف رمضان کی وجہ سے اختیار کی ہے اور بعد میں ہم نے پھر سست ہو جانا ہے تو یہ تو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنا نہیں ہے۔ اگر ہم نے جمعوں میں باقاعدگی صرف رمضان کے مہینے تک ہی رکھنی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنا نہیں ہے۔ اگر ہم نے قرآن کریم کی تلاوت کو صرف رمضان کے لئے ہی ضروری سمجھا ہے اور بعد میں اس کی طرف توجہ نہیں دینی تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چلنا نہیں ہے۔ اگر ہم نے درود اور ذکر کو صرف رمضان تک ہی محدود رکھنا ہے تو صرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہم سے نہیں چاہتا۔ اگر ہم نے اپنے اخلاق اور دوسری نیکی کی باتوں کو صرف رمضان تک ہی مجبوری سمجھ کر کرنا ہے تو یہ تو اللہ تعالیٰ ہم سے نہیں چاہتا۔ رمضان تو ایک ٹریننگ کیمپ کے طور پر آتا ہے۔ رمضان تو اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرض کیا ہے کہ جن نیکیوں کو تم بجا لا رہے ہو اس میں مزید ترقی کرو اور ہر آنے والا رمضان جب ختم ہو تو ہمیں عبادات اور نیکیوں کی نئی منزلوں اور بلندیوں پر پہنچانے والا ہو اور ہم پھر عبادتوں اور نیکیوں کے نئے اور بلند معیار قائم کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ تو ہم سے مستقل مزاجی کے ساتھ ان نیکیوں پر چلنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃ کا حکم دیا ہے کہ نمازیں قائم کرو۔ نمازوں کو وقت پر سنوار کر ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی(البقرۃ: 239) یعنی تمام نمازوں اور خصوصاً درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو۔ اور ہر مسلمان جانتا ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس لئے پانچوں نمازوں کی حفاظت کا حکم ہے اور خاص طور پر درمیانی نماز کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انسانی فطرت کا پتا ہے اس لئے خاص طور پر زور دے کر درمیانی نماز کی طرف توجہ دلائی ہے۔ صَلوٰۃُ الْوُسْطٰی کا مطلب ہے درمیانی یا اہم نماز۔ یعنی نماز کا ایسا وقت جب نماز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ہر نماز ہی اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دی ہے اور اہم ہے پھر صَلوٰۃُ الْوُسْطٰی کو کیوں اہمیت دی ہے؟ اس لئے کہ بعض نمازوں کے اوقات میں انسان ذاتی یا دنیاوی خواہشات کو ترجیح دے رہا ہوتا ہے۔ کسی کے لئے فجر کی نماز ادا کرنا مشکل ہے۔ اس وقت اٹھ کر فجر پڑھنا اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب کرتا ہے وہ اہم نماز بن جاتی ہے۔ کسی کو اپنے کام اور کاروبار کی وجہ سے ظہر یا عصر کی نماز پڑھنا مشکل لگتا ہے اس کے لئے اس نماز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ گویا کہ جہاں مجاہدہ کر کے، کوشش کر کے انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف آئے اللہ تعالیٰ اس کوشش کو بھی قدر کرتے ہوئے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نیکیوں کے اجر دینے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ پس وہ اپنی راہ میں کوشش کرنے والوں کو بے انتہا نوازتا ہے اور جب انسان دنیا اور ذاتی خواہشات کے بتوں کو توڑ کر اس کی طرف آتا ہے تو پھر اس کے فضلوں کی بھی انتہا نہیں رہتی۔

اللہ تعالیٰ نے نماز کے بارے میں کئی جگہ مختلف حوالوں سے ہمیں توجہ دلائی ہے۔ صرف رمضان تک ہی محدودنہیں کیا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازوں، جمعوں اور رمضان کے حوالے سے ایک ایسا ارشاد فرمایا ہے جو ایک مومن کو اور ایک ایسے شخص کو جو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتا ہو ہر وقت سامنے رکھنا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک اور رمضان اگلے رمضان تک ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے جب تک کہ وہ بڑے گناہوں سے بچتا رہے۔ (صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب الصلوٰت الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ … الخ حدیث 552)

پس یہاں کھول کر بیان فرما دیا کہ پانچ نمازیں کفّارہ بنتی ہیں اُس وقت جب انسان اپنی پوری کوشش کر کے پانچ نمازیں اپنے وقت پر ادا کرے اور ہر نماز کے درمیان کا جو وقفہ ہے اس میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہے۔ اگر چھوٹی موٹی کمزوریاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا بشرطیکہ نماز وقت پر اس کا حق ادا کرتے ہوئے ادا کی جائے۔

پھر اسی طرح ہر جمعہ کی اہمیت بھی واضح کر دی کہ پانچ نمازوں کی جس طرح اہمیت ہے، انہیں وقت پر ادا کرنے کا جس طرح حکم ہے اور ادائیگی کی صورت میں جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے بلکہ نمازوں کا حق ادا کرتے ہوئے اگر نمازیں پڑھی جائیں تو اللہ تعالیٰ کا یہ بھی وعدہ ہے کہ فحشاء سے بھی انسان بچتا ہے، برائیوں سے انسان بچتا ہے۔ تو بہرحال فرمایا کہ جس طرح پانچ نمازیں فرض ہیں اسی طرح جمعہ بھی فرض ہے اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک سرزد ہونے والی چھوٹی غلطیاں اور کمزوریاں اور چھوٹے گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف فرماد یتا ہے۔ اس کا کوئی یہ مطلب بھی نہ لے لے کہ اس دوران چھوٹے گناہ کر لو، اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔ نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کہ بشری کمزوریوں کی وجہ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اللہ تعالیٰ نمازوں اور جمعوں میں باقاعدگی اور گناہوں کی معافی کی دعاؤں اور اپنے عہدوں کی وجہ سے کہ آئندہ یہ غلطی نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعوں میں باقاعدگی رکھنے کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ جس نے متواتر تین جمعے جان بوجھ کر چھوڑ دئیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔ (سنن الترمذی کتاب الجمعۃ باب ما جاء فی ترک الجمعہ من غیر عذر حدیث 500)

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ (ارشیف منتدی الألوکۃ۔ 3۔ دسمبر 2010ء۔ از المکتبۃ الشاملۃ)

پس جمعہ کی اس اہمیت کو ہر ایک کو سمجھنا چاہئے۔

آج رمضان کا آخری جمعہ ہے بعض لوگ اس اہمیت کی وجہ سے آئے ہوں گے کہ رمضان کا آخری جمعہ ہے اس لئے یہاں بڑی مسجد میں آ کر پڑھ لو یا بعض دفعہ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں آخری جمعہ ضرور پڑھنا ہے اس لئے پڑھ لو۔

جماعت کے افراد کو جمعہ کی اہمیت کی طرف بار بار توجہ دلائی جاتی ہے اور اب شاید تھوڑے لوگ ہی ہوں گے جو اس بارے میں لاپرواہی کرتے ہیں۔ لیکن جو بھی لاپرواہی کرتے ہیں انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سننے کے بعد فکر کرنی چاہئے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ رمضان کے جمعے پڑھ لو یا رمضان کا آخری جمعہ پڑھ لو تو ثواب ہو گا بلکہ ہر جمعہ کی اہمیت بتائی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ۔ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ  (الجمعۃ: 10) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب جمعہ کے دن کے ایک حصہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

پس مومن کو، ایمان لانے کا دعویٰ کرنے والے کو یہ حکم ہے کہ ہر جمعہ کی نماز کا خاص اہتمام کرو اور اپنی تجارتیں، اپنے کام، اپنے کاروبار چھوڑ دو۔ سب کام چھوڑ کر، سب تجارتیں چھوڑ کر، سب دنیاوی منفعتیں اور فائدے چھوڑ کر صرف ایک چیز کی فکر کرو کہ تم نے جمعہ پڑھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم علم رکھتے ہو تو تمہیں پتا ہونا چاہئے کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اسی میں برکت ہے۔ اسی سے تمہارے کاروباروں میں برکت پڑے گی۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جان بوجھ کر جمعہ چھوڑنے والے کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کا ایمان صحیح ایمان نہیں رہتا۔ اگر ایمان حقیقی ہو تو کبھی انسان دنیاوی فائدے کی خاطر اپنے جمعوں کو قربان نہ کرے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر جمعوں میں وقت پر آنے اور باقاعدگی سے جمعہ میں شامل ہونے والوں کے بارے میں فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں وہ مسجد میں پہلے آنے والے کو پہلا لکھتے ہیں اور اس طرح وہ آنے والوں کی فہرست تیار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب امام خطبہ دے کر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور ذکر الٰہی سننے میں لگ جاتے ہیں۔ (صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملائکۃ … الخ حدیث 3211)

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور جمعوں میں آنے کے حساب سے بیٹھے ہوں گے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ باب ما جاء فی التھجیر الی الجمعۃ حدیث 1094)۔ یعنی پہلا دوسرا تیسرا چوتھا۔ پس وہ لوگ جو بغیر مجبوری کے عادتاً جمعوں پر دیر سے آتے ہیں انہیں بھی اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ یہاں بھی آج تو رمضان کے جمعوں میں خاص طور پہ لوگ پہلے آ کر بیٹھے ہوئے ہیں، نہیں تو اکثر میں نے یہی دیکھا ہے کہ جب میں آتا ہوں تو آدھی کے قریب مسجد ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ خطبہ کے اختتام تک یا اس سے چند منٹ پہلے تک مسجد بھرتی ہے۔ پس عام دنوں میں بھی اس طرف توجہ ہونی چاہئے۔

جمعوں کے حوالے سے یہ بھی بتا دوں کہ جمعہ مَردوں پر فرض ہے۔ اگر عورتیں آ سکتی ہیں تو اچھی بات ہے۔ زائد ثواب کما رہی ہیں۔ بیشک آ جائیں۔ اور بعض دفعہ ماؤں کے آنے کی وجہ سے بچوں میں بھی جمعہ پڑھنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے، اہمیت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن بہرحال جمعہ پر مسجد میں آنا اگر فرض ہے تو صرف مَردوں پر فرض ہے۔ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بڑا واضح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا ایسا حق ہے جو واجب ہے۔ یعنی فرض ہے۔ سوائے چار قسم کے افراد کے۔ اور وہ ہیں غلام، عورت، بچہ اور مریض۔ (سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب الجمعۃ للمملوک والمراۃ حدیث 1067)

یہ چار لوگ ہیں جن پر فرض نہیں ہے۔ غلام تو پرانے زمانے میں ہوتے تھے، اب اس طرح نہیں رہے۔ لیکن جو ملازم پیشہ ہیں ان کو ان ملکوں میں اپنے مالکوں کو بتا کر کوشش کرنی چاہئے کہ جمعہ کے لئے جمعہ کے وقت رخصت لیں۔ بعض لوگوں نے کوشش کی اور انہیں اجازت مل بھی گئی۔ اور اگر مجبوری ہو تو پھر جو احمدی قریب قریب ہوں ان احمدیوں کو جگہ تلاش کرنی چاہئے کہ تین چار اکٹھے ہو کر جمعہ پڑھ لیا کریں۔ عورتوں پر فرض نہیں ہے لیکن خاص طور پر بچے والی عورتوں کو یعنی چھوٹے بچے والیوں کو مَیں کہتا ہوں کہ ان کو احتیاط کرنی چاہئے کہ اتنے چھوٹے بچوں کے ساتھ جمعہ کے لئے مسجدنہ آئیں کہ بچوں کے رونے دھونے کی وجہ سے دوسروں کی نماز خراب ہو اور خطبہ صحیح طرح سن نہ سکتے ہوں۔ ہاں عید پر آنا ہر ایک کے لئے، ہر عورت کے لئے، مرد کے لئے، بچے کے لئے ضروری ہے۔ اس میں ضرور شامل ہونا چاہئے۔ (صحیح البخاری کتاب العیدین باب التکبیر ایام منی … الخ حدیث 971)

اور عید پہ اگر چھوٹے بچوں والے بھی ہیں تو یہاں جگہ بنی ہوئی ہے، جہاں جگہیں نہیں ہوتیں وہاں بھی اگر نماز نہ بھی پڑھنی ہو تو بچوں کے ساتھ ایک طرف بیٹھ کے خطبہ سن لیں۔ پس آج بڑی تعداد میں لوگ جمعہ کے لئے آئے ہوئے ہیں اس لئے مَیں اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ مرد اپنے جمعوں کی خاص طور پر حفاظت کریں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے درمیان ہونے والے گناہوں کی معافی کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہونے والے چھوٹے گناہوں کو بھی معاف فرما دیتا ہے۔

لیکن یہ واضح ہونا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہوں سے معافی کے جو ذرائع بتائے ہیں وہ آپ ایک ترتیب سے بیان فرما رہے ہیں۔ پہلے نماز۔ پھر جمعہ۔ پھر رمضان۔ پس اس ترتیب سے یہ غلط فہمی دُور ہو جانی چاہئے کہ صرف سال کے بعد رمضان کی عبادتیں ہی گناہوں سے معافی کا ذریعہ ہیں۔ بلکہ یہ ترتیب اس طرف توجہ دلا رہی ہے کہ نمازوں کی پانچ وقت روزانہ ادائیگی اپنے حصار میں لئے ہوئے ساتویں دن جمعہ میں داخل کر کے جمعہ کی برکات سے حصہ دلائے گی۔ اور سال بھر کے جمعے رمضان میں داخل کرتے ہوئے رمضان المبارک کے فیض سے فیضیاب کریں گے۔ روزانہ کی پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گی کہ یہ تیرا بندہ تیرے خوف اور تیری محبت کی وجہ سے بڑے گناہوں سے بچتے ہوئے پانچ وقت تیرے حضور حاضر ہوتا رہا۔ ہر جمعہ عرض کرے گا کہ تیرا یہ بندہ سات دن اپنے آپ کو بڑے گناہوں سے بچاتے ہوئے جمعہ کے دن جس میں تیرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اس میں ایک قبولیت دعا کا لمحہ بھی آتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الدعوات باب الدعا فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ حدیث 6400)۔ اپنی دعاؤں کی قبولیت کی آرزو لے کر تیرے حضور حاضر ہوتا رہا۔ رمضان کہے گا کہ اے خدا! یہ بندہ رمضان کا حق ادا کرنے کے بعد گناہوں سے بچتے ہوئے اور نیکیاں بجالاتے ہوئے اس رمضان میں اس امید پر داخل ہوا کہ تو اسے بھی اپنی رحمت، بخشش اور آگ سے بچانے کے عشروں سے فیضیاب کرے گا۔

تو اللہ تعالیٰ جو بڑا رحیم و کریم ہے ان سے فیضیاب کرتے ہوئے انسان کو اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے اور شیطان کے حملوں سے اسے بچاتا ہے۔ پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اس سوچ کے ساتھ اپنی نمازوں، جمعوں اور اپنے روزوں کے حق ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے والے ہیں اور رمضان کے اس ماحول سے ہر لحاظ سے پاک ہو کر نکلنے والے ہیں۔ ایسی پاکیزگی جو ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے و الا بنانے والی ہے یا بناتی ہے۔

پھر رمضان میں خاص طور پر قرآن کریم پڑھنے، سننے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ کوشش کرتے ہیں کہ کم از کم قرآن کریم کا ایک دَور مکمل کر لیں کیونکہ یہ سنّت بھی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ اور اہتمام اس طرف بھی توجہ دلانے والا ہونا چاہئے کہ اب ہم نے روزانہ باقاعدگی سے قرآن کریم کے کچھ نہ کچھ حصہ کی تلاوت کرنی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جہاں نمازوں کے مختلف اوقات کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ۔ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا (بنی اسرائیل: 79) یعنی فجر کی تلاوت کو بھی اہمیت دو۔ یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اس کی گواہی دی جاتی ہے۔ پس قرآن کریم پڑھنا صرف خاص دنوں تک ہی مخصوص نہیں کیا گیا بلکہ نمازوں کے ساتھ اسے بیان کر کے اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔

پھر تلاوت کے ساتھ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا ترجمہ پڑھنے کی ضرورت ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا بھی ہمیں پتا چلے اور اس زمانے میں تو خاص طور پر اسے باقاعدگی سے پڑھنے کی ضرورت ہے جب مسلمان کہلانے والے بھی اس کی تعلیم بھلا بیٹھے ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13)۔ کون ہے جو آسمان پر عزت پانا نہ چاہتا ہو۔ پس اس کی تلاوت میں باقاعدگی اور احکامات کی تلاش کر کے عمل اس سے فیضیاب کرے گا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم فلاح اور کامیابی چاہتے ہو تو میرے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر رکھو۔ جمعہ کی نماز کے بعد جب فارغ ہو جاؤ پھر اپنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ اس کو یاد رکھو۔ اس سے تمہیں کامیابی ملے گی۔ پس قرآن کریم کی تلاوت کی اس اہمیت کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے اب قرآن کریم کی تلاوت میں کبھی سستی نہیں ہونی چاہئے۔ اسی طرح ذکر الٰہی میں بھی جو ہماری توجہ پیدا ہوئی ہے اس کا فائدہ تبھی ہے جب ہم اب رمضان کے بعد بھی اسے جاری رکھیں۔ اسی طرح دوسری نیکیاں اور اخلاق ہیں۔ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کی توفیق عطا فرمائی اور آپ علیہ السلام نے ہر موقع پر اور ہر طرح سے ہماری اصلاح کی اور ہمیں سیدھے راستے پر چلانے اور ہمارا رخ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف رکھنے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے بار بار ہمیں فرمایا کہ تم جو میری بیعت میں آئے ہو ہمیشہ عبادتوں کے ذریعہ بھی اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ بھی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیداکرتے چلے جاؤ۔ آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ:

’’جب تک انسان پاک دل اور صدق و خلوص سے تمام ناجائز راستوں اور امیدوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر کے خدا تعالیٰ ہی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا اس وقت تک وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اسے ملے۔ لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دروازے پر گرتا اور اس سے دعا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت جاذب نصرت اور رحمت ہوتی ہے۔‘‘ (اللہ تعالیٰ کی نصرت اور رحمت کو جذب کرتا ہے۔) فرمایا ’’خداتعالیٰ آسمان سے انسان کے دل کے کونوں میں جھانکتا ہے اور اگر کسی کونے میں بھی کسی قسم کی ظلمت یا شرک و بدعت کا کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی دعاؤں اور عبادتوں کو اس کے منہ پر الٹا مارتا ہے۔ اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک و صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سائے میں لے کر اس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 396-397۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس یہ ہے وہ معیار جو ہمیں مستقل حاصل کرتے چلے جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہماری عبادتیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوں۔ رمضان کے بعد بھی ہم اپنی عبادتوں کے معیار قائم رکھنے والے ہوں تا کہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سائے میں رہتے ہوئے اس کی پرورش کے فیض سے فیض پاتے رہیں۔ پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آپ کی بیعت میں آنے کے بعد ہمارے معیاروں کے بارے میں آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ فرماتے ہیں:

’’وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔ وہ پنج وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذاء نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں۔ اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔ …….. تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 46-47)

پھر آپ فرماتے ہیں : ’’ہر ایک شر مقابلہ کے لائق نہیں۔ اس لئے لازم ہے کہ اکثر اوقات عفو اور درگذر کی عادت ڈالو۔‘‘ (ضروری نہیں ہے کہ ہر بات کا جواب لڑائی سے دیا جائے۔) اور فرمایا’’اور صبر اور حلم سے کام لو‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 48)

پس یہ اخلاق اور عادتیں مستقل اپنانے کا حکم ہے۔ لڑائی جھگڑوں سے بچنے کے لئے صرف رمضان میں ہی نہیں کہنا کہ اِنِّی صَائِمٌ کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس لئے مَیں نے نہیں لڑنا۔ بلکہ رمضان کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کو مستقل اعلیٰ اخلاق کے مطابق ہمیں ڈھالنا چاہئے۔

آپ نے اسے مزید کھول کر ایک جگہ بیان فرمایا کہ: ’’چاہئے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بری اور تمہاری آنکھیں ناپاکی سے منزّہ ہوں اور تمہارے اندر بجز راستی اور ہمدردی خلائق کے اَور کچھ نہ ہو‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 48) (یہ ہونا چاہئے کہ صحیح راستے پر چلنے والے، مخلوق سے ہمدردی کرنے والے۔ آنکھیں ہر گندی چیز سے بچنے والی ہوں )۔

آپ نے فرمایا اگر تم اپنی حالت ایسی کر لو جو مَیں بتا رہا ہوں اور خدا تم سے چاہتا ہے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تمہارے لئے جاگے گا۔ تم دشمن سے غافل ہو گے اور خدا اسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا۔ (ماخوذ از کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ22)

پس یہ باتیں ہر وقت سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات آپ نے بار بار بیان فرمائی کہ اگر تم ان باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے تو صرف بیعت تمہارے لئے کافی نہیں ہے۔ آپ نے جس فکر کے ساتھ اپنے ماننے والوں کے سامنے لائحہ عمل رکھا ہے۔ اس میں سے بھی بعض حصے مَیں پیش کرتا ہوں۔ ہر ایک خود ہی جائزہ لے سکتا ہے کہ کس حد تک ہم نے اس پر عمل کیا ہے یا عمل کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ’’تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو نہ ان کی تحقیر۔ اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خودنمائی سے ان کی تذلیل۔‘‘ (اگر علم آتا ہے تو عاجزانہ طور پر نصیحت کرو۔ یہ نہیں کہ اپنی بڑائی ظاہر کرنی ہے، اپنے علم کا اظہار کرنا ہے اور پھر ان کو ذلیل کرنا ہے۔) فرمایا ’’امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو۔ نہ خود پسندی سے ان پر تکبر‘‘۔ (اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا تمہیں کشائش دی ہے، امارت دی ہے، دوسروں سے بہتر کیا ہے تو ان کی خدمت کرو، نہ یہ کہ ان پر تکبر کرو۔) فرمایا’’ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔ خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو اور اسی کے ہو جاؤ اور اسی کے لئے زندگی بسر کرو اور اس کے لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو کیونکہ وہ پاک ہے‘‘۔ (اللہ تعالیٰ سے اگر تعلق جوڑنا ہے تو اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ اس لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔) فرماتے ہیں ’’چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو کہ وہ دھوئیں کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہو جاتی ہیں اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں۔ بلکہ تم خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جس پر پڑتی ہے اس کی دونوں جہانوں میں بیخ کنی کر جاتی ہے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں ’’تم ریا کاری کے ساتھ اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔‘‘ (یہ نہیں ہے کہ دکھاوے کے طور پر کچھ کر دو تو اپنے آپ کو بچا لو گے) ’’کیونکہ وہ خدا جو تمہارا خدا ہے اس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے‘‘ (اندر دل کی گہرائیوں تک جانتا ہے۔) ’’کیا تم اس کو دھوکہ دے سکتے ہو؟ (نہیں، یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔) ’’پس تم سیدھے ہو جاؤ اور صاف ہو جاؤ اور پاک ہو جاؤ اور کھرے ہو جاؤ۔ اگر ایک ذرہ تیرگی تم میں باقی ہے تو وہ تمہاری ساری روشنی کو دور کر دے گی‘‘۔ (اگر ذرا سا بھی اندھیرا دل میں ہے تو جو بھی روشنی ہے اس کو اندھیرا دُور کر دیتا ہے۔) فرماتے ہیں ’’اگر تمہارے کسی پہلو میں تکبر ہے یا ریا ہے یا خود پسندی ہے یا کسل ہے تو تم ایسی چیز نہیں ہو کہ جو قبول کے لائق ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تم صرف چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھوکہ دو کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کرلیا ہے۔ کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے‘‘۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے، حقیقی مومن بننا ہے تو اپنی ہستی پر ایک انقلاب لانا چاہئے) ’’اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا‘‘۔ فرماتے ہیں ’’تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔ وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔ تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو۔‘‘ (ذاتی اَنا اور نفسانیت کو چھوڑو اور آپس میں اس وجہ سے ناراضگیاں نہ پیدا کرو) ’’اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلّل کرو تا تم بخشے جاؤ‘‘۔ فرماتے ہیں کہ ’’نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان‘‘ (موٹا انسان) ’’داخل نہیں ہو سکتا۔ کیا ہی بدقسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔‘‘ فرماتے ہیں ’’جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔ تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم پر خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔ تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بدبخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا۔ سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں‘‘۔ آپ فرماتے ہیں۔ ’’بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ اور ہر ایک جو اس کے نام کے لئے غیرت مندنہیں اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘

آپ فرماتے ہیں ’’ہر ایک ناپاک آنکھ اُس سے دُور ہے۔ ہر ایک ناپاک دل اس سے بے خبر ہے۔ وہ جو اس کے لئے آگ میں ہے وہ آگ سے نجات دیا جائے گا۔ وہ جو اس کے لئے روتا ہے وہ ہنسے گا۔ وہ جو اس کے لئے دنیا سے توڑتا ہے وہ اس کو ملے گا۔ تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔ تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔ تم سچ مچ اس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جاوے‘‘۔ فرمایا ’’کوئی آفت زمین پر پیدا نہیں ہوتی جب تک آسمان سے حکم نہ ہو۔ اور کوئی آفت دور نہیں ہوتی جب تک آسمان سے رحم نازل نہ ہو۔ سو تمہاری عقلمندی اسی میں ہے کہ تم جڑ کو پکڑو نہ شاخ کو‘‘۔ فرمایا ’’تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔‘‘ (قرآن کریم کی تعلیم کو ہمیشہ پکڑ کے رکھو۔) فرماتے ہیں ’’جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔ اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پرتم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے‘‘۔ فرمایا ’’نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے‘‘۔ (آپ کی سفارش اور آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں۔) فرمایا ’’اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔ اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔‘‘ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12تا 14)

ان باتوں کے بعد پھر آپ نے دوبارہ تاکید فرمائی کہ ’’ان سب باتوں کے بعد پھر میں کہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے۔ ظاہر کچھ چیز نہیں ہے۔ خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18)

پس ہم میں سے ہر ایک کو رمضان میں سے یہ عہد کرتے ہوئے نکلنا چاہئے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں اور جو باتیں ہمیں کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائیں ان کو ہم ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے ان کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم یہ کریں تبھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رمضان میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق گزارنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

نماز کے بعد مَیں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ ایک جنازہ مکرمہ محترمہ مشتاق زہرہ صاحبہ کا ہے جو چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ مرحوم کی اہلیہ تھیں۔ 12؍جون کو رات آٹھ بجکر پینتالیس منٹ پر ربوہ میں 91سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے والد چوہدری عنایت اللہ صاحب تھے جنہوں نے چودہ سال کی عمر میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ محترمہ کا نکاح 1944ء میں چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب واقف زندگی کے ساتھ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی نے پڑھا تھا اور اس میں ایک لمبا خطبہ دیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کے بعض خاص فضلوں کا ذکر فرمایا تھا۔ بہرحال یہ تو ایک لمبا خطبہ ہے اور اس نکاح کی وجہ سے ہی پھر ان کے خاندان میں مزید احمدیت بھی پھیلی۔ اللہ تعالیٰ نے مرحومہ کو تین بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ ایک واقف زندگی بیٹا ظہیر باجوہ صاحب امریکہ میں ہیں۔ چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب انگلستان میں مبلغ بھی رہے ہیں۔ 1955ء میں ربوہ واپس گئے اور پھر نائب ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے۔ ناظر زراعت رہے۔ ناظر امور عامہ رہے۔ لمبا عرصہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔ ناظر تعلیم القرآن بھی رہے۔ پھر آخر میں وفات کے وقت صدر، صدر انجمن احمدیہ بھی تھے۔ محترمہ مشتاق زہرہ صاحبہ نے اپنے واقف زندگی شوہر کے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے وقت گزارا اور کبھی کوئی ایسی خواہش نہیں کی جس سے ایک واقف زندگی کو کوئی مشکل پیش آئے۔ 1944ء میں ان کی شادی ہوئی۔ اگلے سال 1945ء میں ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا اور بیٹا ایک مہینے کا تھا تو اس وقت چوہدری ظہور باجوہ صاحب کو مبلغ کے طور پر لندن بھجوا دیا گیا اور تقسیم ہندو پاکستان جب ہوئی ہے تو باجوہ صاحب یہاں لندن میں تھے اور اس وقت بھی ان کی اہلیہ کو بعض مشکلات سے گزرنا پڑا۔ پھر 1951ء سے 1955ء تک باجوہ صاحب کی اہلیہ محترمہ بھی ظہور باجوہ صاحب کے ساتھ یہاں انگلستان رہیں اور اس وقت یہاں مبلغین کے حالات بہت آسان نہ تھے۔ جماعت کے مالی حالات بھی کمزور تھے۔ بڑے مشکل حالات میں گزارہ ہوتا تھا۔ لیکن انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا اور بڑے آرام سے وہ وقت گزارا۔ پھر ربوہ میں پہلے کوارٹروں میں رہتے تھے پھر دارالصدر شمالی میں اپنا گھر بنا لیا تو وہاں اپنے گھر میں رہیں اور کیونکہ زمیندار خاندان کے تھے اس لئے ہر وقت ان کے گاؤں کے یا عزیزوں کے بعض سٹوڈنٹ جو ربوہ میں پڑھنے کے لئے آتے تھے وہ اور دوسرے لوگ بھی ان کے گھر میں رہتے تھے۔ گھر بھی اتنا بڑا نہیں تھا لیکن ہر وقت پندرہ بیس آدمی ان کے گھر میں رہتے تھے اور ان کی مہمان نوازی یہ بڑے شوق سے کیا کرتی تھیں۔ ان کے بیٹے نے لکھا ہے کہ روزانہ تہجد کے ساتھ آپ کے دن کا آغاز ہوتا تھا۔ پھر نماز فجر کی ادائیگی کے بعد اونچی آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا آپ کا روز کا معمول تھا۔ اس کے بعد کچھ بھینسیں وغیرہ رکھی ہوئی تھیں، جانور رکھے ہوئے تھے، ان کا دودھ بلوتی تھیں اور پھر محلے کے جو غریب لوگ تھے وہ لسّی لینے والے آ جاتے۔ ان کی ایک لمبی قطار ہوتی تھی۔ انہیں لسّی دیتی تھیں۔ اور اس کے باوجود گھر کو سنبھالنا اور ان سارے کام کرنے کے بعد باقی سوشل تعلقات بھی بڑے اچھے تھے۔ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے ساتھ آپ کو بہت محبت تھی اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ چھوٹی آپا حرم حضرت خلیفۃ المسیح ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ نے قرآن شریف بھی پڑھا اور پھر ترجمہ بھی خاص طور پر پڑھا۔ ہمیشہ ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آتی تھیں۔ مہمان نوازی کا پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ یہاں بھی جب تھیں تو مہمان نوازی کے لئے اتنے فنڈ نہیں ہوتے تھے اور کوئی ضیافت کا انتظام نہیں تھا تو پھر انہوں نے یہاں بیکنگ (baking) سیکھی اور ہر آنے والے کو خود ہی بیکنگ (baking) کر کے مہمان نوازی کرتی تھیں اور چیزیں مہیا فرماتی تھیں۔ حنیف محمود صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد لکھتے ہیں کہ یہ چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب کی سوانح لکھ رہے تھے تو اس تعلق میں ان کے ساتھ رابطہ ہوتا رہا اور یہ لکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ محترمہ اعلیٰ زمیندار خاندان کی تھیں لیکن جب ایک واقف زندگی سے بیاہ کے اس کے گھر میں آئی ہیں تو پھر بڑی معمولی زندگی گزاری۔ وہاں اپنے گھر میں تو نوکروں کی کافی ریل پیل تھی اور نوکروں سے کام ہوتے تھے لیکن یہاں آ کے خود اپنے ہاتھ سے سارے کام کئے۔ کہتے ہیں کہ لندن میں قیام کے دوران کا واقعہ سناتے ہوئے بیان کرتی تھیں کہ بڑی تنگی سے گزر بسر ہوتی تھی۔ شدید سردی کے موسم میں نہ گیزر کی سہولت تھی، نہ کمرے گرم کرنے کے لئے ہیٹر ہوتے تھے، نہ کوئلے میسر تھے اور بجٹ کے اندر رہتے ہوئے جو بھی کام کرنا ہوتا تھا کرنا ہوتا تھا۔ بڑی مشکلوں سے گزارا ہوتا تھا۔ ٹھنڈ ٹھنڈ میں گزارہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر کے لئے ہیٹنگ کرتے تھے۔ چوہدری صاحب بھی بڑے اصولوں کے پابند رہے ہیں۔ یہاں بڑی سادگی سے انہوں نے گزارہ کیا۔ پھر یہ لکھتے ہیں کہ 1955ء میں جب چوہدری ظہور باجوہ صاحب کو لندن سے واپس مرکز آنے کا حکم ہوا تو مرحومہ ان دنوں بیمار تھیں اور ڈاکٹروں نے مکمل طور پر بیڈ ریسٹ(bed rest) کے لئے کہا ہوا تھا۔ لیکن جب واپسی کا حکم آیا تو چوہدری صاحب نے تیاری شروع کر دی۔ لوگوں نے کہا کہ آپ کی اہلیہ بیمار ہیں تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے کچھ عرصہ کے لئے اجازت لے لیں۔ انہوں نے کہا نہیں حکم آیا ہے اس لئے واپس جانا ہے۔ اور مرحومہ نے بھی اس پر کوئی بحث نہیں کی۔ اس زمانے میں سفر بھی آسان نہیں تھے۔ اور باوجود اپنی بیماری کے فوری طور پر خاوند کے ساتھ واپسی کے لئے تیار ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ سے مغفرت کا سلوک فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ مکرم عبدُہٗ بکر صاحب کا ہے جو مصر کے تھے 12؍جون کو دل کے حملے کے نتیجہ میں 41سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ڈاکٹر حاتم حلمی شافعی صاحب صدر جماعت مصر لکھتے ہیں کہ مرحوم نے 2011ء میں بیعت کی تھی۔ عربی اور دینیات کے مدرس تھے لیکن کام چھوڑ کر خود کو جماعتی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔ آپ جنوبی مصر کے ایک نہایت جاہل اور متعصب معاشرے میں پیدا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجودنہایت صلح پسند اور سخت گیری سے نہایت متنفر تھے۔ بیعت سے قبل علماء کی کتب میں موجود خرافات نے انہیں اس قدر حیران کیا ہوا تھا کہ انہیں ڈر تھا کہ شاید ہمارا دین ہی بعض غلط باتیں سکھاتا ہو۔ یعنی اسلام نعوذ باللہ غلط سکھاتا ہے۔ مولویوں کی باتیں سن کے انہیں یہ خیال پیدا ہوا۔ خصوصاً حیات مسیح، صلیب سے نجات اور رفع وغیرہ امور کے بارے میں سخت حیران تھے حتی کہ انہیں ایک عیسائی نے بعض عیسائی چینلز کے نمبر دئیے کہ وہاں پر پروگرام دیکھو تا کہ تمہیں یقین آئے کہ حضرت مسیح میں بہت سی ایسی صفات تھیں جو دیگر انسانوں میں نہیں تھیں۔ اسی تلاش میں انہیں ایم ٹی اے بھی مل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دینی تھی۔ مرحوم اپنی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پروگرام میں مصطفی ثابت صاحب مرحوم کو دیکھا جو کہہ رہے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ بیہوش ہوئے تھے اور پھر آپ نے مشرق کی طرف ہجرت کی اور طبعی وفات پائی۔ جب میں ٹی وی دیکھ رہا تھا تو میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا یہ بات سن کر میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور پوری توجہ کے ساتھ بات سننے لگا۔ یہ الحوار المباشر کا پروگرام تھا۔ جب حقیقت مجھ پر واضح ہوئی تو میں پورے زور سے چیخا کہ اللہ اکبر۔ حق ظاہر ہو گیا۔ کہتے ہیں مَیں خوشی سے اچھلنے لگا۔ اسی دوران پروگرام میں وقفہ ہوا اور شریف عودہ صاحب نے اعلان کیا کہ اب ہم حضرت امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کا قصیدہ سنیں گے اور قصیدے کا مطلع تھاکہ اِنِّی مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْبَرِ۔ یعنی یقیناً میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوں جو غالب اور سب سے بڑا ہے۔ ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر بھی دکھائی گئی جس پر میں نے پروگرام کو pause کیا اور تصویر کو بغور دیکھنے لگا۔ تو کہتے ہیں کہ جب دیکھ رہا تھا تو میں کہتا ہوں یہ تو وہی چہرہ ہے جسے میں نے کچھ عرصہ قبل خواب میں چاند میں دیکھا تھا۔ کہتے ہیں یہ لمحات بہت خوبصورت تھے اور میری خوشی بیان سے باہر تھی۔ میں نے اس کے بعد مزید پروگرام دیکھے اور تین دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے وفات مسیح اور صلیب سے نجات اور ہجرت کا معمہ میرے لئے حل کر دیا۔ مرحوم کو بیعت کے بعد کام والوں نے بھی نکال دیا۔ گاؤں والوں اور عزیزواقارب اور جان پہچان رکھنے والوں سب نے شدید تنگی ان پر وارد کی لیکن یہ حق سے نہیں ہٹے بلکہ روز بروز ایمان میں بڑھتے چلے گئے اور ثبات قدم ان کو عطا ہوتا گیا۔ چار سال قبل انہوں نے جو سکول میں پڑھاتے تھے اس کا کام چھوڑ کر جماعت کی خدمت کے لئے زندگی وقف کی۔ بہت منکسر المزاج، نرم خو، نہایت بااخلاق، مخلص اور غیر معمولی طور پر اطاعت کرنے والے تھے۔ آپ وہاں ملک میں نومبائعین کے انچارج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر، ادب اور دوسروں سے گفتگو کرنے اور انہیں قائل کرنے کا خاص ملکہ عطا کیا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں غرق تھے۔ خلافت سے بھی بے انتہا محبت رکھنے والے تھے۔ پانچ سال قبل انہوں نے ایک احمدی خاتون سے شادی کی تھی۔ اب وفات کے وقت اس بیوہ کے علاوہ چار سالہ بیٹی زینب اور دو سالہ بیٹا محمد یادگار چھوڑے ہیں۔ ان کا بیٹا ماشاء اللہ وقف نَو میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بیوی اور بچوں کا بھی خود ہی کفیل ہو اور انہیں بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • پاؤر پوائنٹ PowerPoint
  • English اور دوسری زبانیں

  • 23؍ جون 2017ء شہ سرخیاں

    اگر ہم نے نمازوں میں باقاعدگی صرف رمضان کی وجہ سے اختیار کی ہے اور بعد میں ہم نے پھر سست ہو جانا ہے تو یہ تو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنا نہیں ہے۔ اگر ہم نے جمعوں میں باقاعدگی صرف رمضان کے مہینے تک ہی رکھنی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلنا نہیں ہے۔ اگر ہم نے قرآن کریم کی تلاوت کو صرف رمضان کے لئے ہی ضروری سمجھا ہے اور بعد میں اس کی طرف توجہ نہیں دینی تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چلنا نہیں ہے۔ اگر ہم نے درود اور ذکر کو صرف رمضان تک ہی محدود رکھنا ہے تو صرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہم سے نہیں چاہتا۔ اگر ہم نے اپنے اخلاق اور دوسری نیکی کی باتوں کو صرف رمضان تک ہی مجبوری سمجھ کر کرنا ہے تو یہ تو اللہ تعالیٰ ہم سے نہیں چاہتا۔ رمضان تو ایک ٹریننگ کیمپ کے طور پر آتا ہے۔ رمضان تو اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرض کیا ہے کہ جن نیکیوں کو تم بجا لا رہے ہو اس میں مزید ترقی کرو اور ہر آنے والا رمضان جب ختم ہو تو ہمیں عبادات اور نیکیوں کی نئی منزلوں اور بلندیوں پر پہنچانے والا ہو اور پھر ہم عبادتوں اور نیکیوں کے نئے اور بلند معیار قائم کرنے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ تو ہم سے مستقل مزاجی کے ساتھ ان نیکیوں پر چلنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    پانچ فرض نمازوں کو ان کے وقت پر سنوار کر ادا کرنے، نماز جمعہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی ادائیگی میں باقاعدگی اختیار کرنے، تلاوت قرآن کریم کے التزام اور اسے سمجھ کر پڑھنے اور اس میں مذکور احکامات پر عمل کی کوشش کرنے اور دیگر اخلاق اور نیکیوں کو اختیار کرنے سے متعلق قرآن و حدیث اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے اہم نصائح۔

    ہم میں سے ہر ایک کو رمضان میں سے یہ عہد کرتے ہوئے نکلنا چاہئے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں اور جو باتیں ہمیں کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائیں ان کو ہم ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے ان کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم یہ کریں تبھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رمضان میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق گزارنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

    مکرمہ مشتاق زہرہ صاحبہ آف ربوہ اہلیہ مکرم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب (مرحوم) اور مکرم عبدُہٗ بکر صاحب آف مصر کی وفات۔ مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

    فرمودہ مورخہ 23؍جون 2017ء بمطابق23؍احسان 1396 ہجری شمسی،  بمقام مسجدبیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور