آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع میں حضرت مسیح موعودؑ کی عبادات کا تذکرہ

خطبہ جمعہ 13؍ فروری 2026ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر سب سے زیادہ چلنے کے نظارے ہمیں اس زمانے میں آپ کے غلامِ صادق حضرت مسیح ومہدی معہودؑمیں نظر آتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت اور اس حوالے سے آپؐ کی اپنے ماننے والوں کو نصائح، عبادت کرنے کے طریق اور ذکر الٰہی کے طریق سکھانے کے واقعات گذشتہ خطبات میں بیان کیے گئے۔

آج مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے وہ واقعات بیان کروں گا جو اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں آپؑ نے کیے اور جو ہم تک پہنچے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ روایت کرتے ہیں کہ

مرزا محمد دین صاحب ساکن لنگروال، گورداسپور نے انہیں لکھ کے بھیجا کہ ’’میں اپنے بچپن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھتا آیا ہوں اور سب سے پہلے میں نے آپؑ کو مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی زندگی میں دیکھا تھا جبکہ میں بالکل بچہ تھا ۔

آپؑ کی عادت تھی کہ رات کو عشاء کے بعد جلد سو جاتے تھے اور پھر ایک بجے کے قریب تہجد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔اور تہجد پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہتے تھے۔ پھر جب صبح کی اذان ہوتی تو سنتیں گھر میں پڑھ کر نماز کے لیے مسجد میں جاتے اور باجماعت نماز پڑھتے۔

نماز کبھی خود کراتے کبھی میاں جان محمد امام مسجد کراتا ۔ نماز سے آ کر تھوڑی دیر کے لیے سو جاتے۔ میں نے آپ کو مسجد میں سنت نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ سنتیں گھر پر پڑھتے تھے۔‘‘ (ماخوذسیرت المہدی جلد اول، حصہ سوم صفحہ513۔514روایت 491)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنی عبادت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح آپؑ کو عبادت کرنے کی طاقت دی۔ لیکن آپؑ نے فرمایا یہ ہر ایک کے لیے نہیں ہے کہ وہ اس طرح کرے اور اپنی طاقت سے بڑھ کر کرے کیونکہ آپؑ نے فرمایا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص طاقت دی ہے۔ بہرحال آپؑ نے اپنی حالت کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ اس طرح ہے۔ آپؑ بیان کرتے ہیں: ’’ میں نے کبھی ریاضاتِ شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعض صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلافِ سنت کوئی ایسا عملِ رہبانیت کیا جس پر خدا تعالیٰ کے کلام کو اعتراض ہو۔ بلکہ میں ہمیشہ ایسے فقیروں اور بدعت شعار لوگوں سے بیزار رہا جو انواع و اقسام کے بدعات میں مبتلا ہیں۔‘‘ پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’ہاں حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ ’’کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لیے رکھنا سنتِ خاندانِ نبوت ہے‘‘۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کے آسمانی انوار کے استقبال کے لیے روزے رکھنا بھی خاندان نبوت کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اشارةً خواب میں آپؑ کو بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ آپؑ کو یہ مقام دینے والا ہے ۔بہرحال آپؑ فرماتے ہیں:’’ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنتِ اہلِ بیتِ رسالت کو بجا لاؤں ۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس امر کو مخفی طور پر بجا لانا بہتر ہے۔ پس میں نے یہ طریق اختیار کیا کہ گھر سے مردانہ نشست گاہ میں اپنا کھانا منگواتا اور پھر وہ کھانا پوشیدہ طور پر بعض یتیم بچوں کو جن کو میں نے پہلے سے تجویز کر کے وقت پر حاضری کے لیے تاکید کر دی تھی دے دیتا اور اس طرح تمام دن روزہ میں گزرتا اور بجز خدا تعالیٰ کے ان روزوں کی کسی کو خبر نہ تھی۔ پھر دو تین ہفتہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ایسے روزوں سے جو ایک وقت میں پیٹ بھر کر روٹی کھا لیتا ہوں مجھے کچھ بھی تکلیف نہیں بہتر ہے کہ کسی قدر کھانے کو کم کروں۔ سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ میں تمام رات دن میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا ۔یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔ ‘‘چوبیس گھنٹے میں صرف تھوڑی سی روٹی تھی۔ ’’غالباً آٹھ یا نو ماہ تک میں نے ایسا ہی کیا اور باوجود اس قدر قلت غذا کے کہ دو تین ماہ کا بچہ بھی اس پر صبر نہیں کر سکتا خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے محفوظ رکھا ۔اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کُھلے۔ چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معہ حسنین و علی رضی اللہ عنہ وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا ۔اور یہ خواب نہ تھی بلکہ ایک بیداری کی قسم تھی۔ غرض اسی طرح پر کئی مقدس لوگوں کی ملاقاتیں ہوئیں جن کا ذکر کرنا موجب تطویل ہے اور علاوہ اس کے انوارِ روحانی تمثیلی طور پر برنگِ ستون سبز وسرخ ایسے دلکش و دلستان طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقتِ تحریرسے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے ’’یعنی زمین سے اوپر جاتے تھے ‘‘جن میں سے بعض چمکدار سفید اوربعض سبز اور بعض سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔‘‘ فرماتے ہیں :’’میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کیے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگی‘‘ یعنی وہ ستون ایسے بنے جو نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے آنے والے تھے اور آپس میں مل جاتے تھے اور ایک ستون کی شکل اختیار کر لیتے تھے۔’’ یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔ ‘‘

فرماتے ہیں:’’ غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے ۔ایک اور فائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقتِ ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔ میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لیے مجبور کیا جائے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لیے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے۔ اس سے مجھے یہ بھی ثبوت ملا کہ انسان کسی حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے اور جب تک کسی کا جسم ایسا سختی کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تنعم پسند روحانی منازل کے لائق نہیں ہو سکتا ۔لیکن’’ فرمایا لیکن ‘‘میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا ’’ہر ایک کو میں نہیں کہتا یہ کرو ‘‘کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا ۔’’ یہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا تھا۔‘‘ میں نے کئی جاہل درویش ایسے بھی دیکھے ہیں جنہوں نے شدید ریاضتیں اختیار کیں اور آخر یُبُوستِ دماغ سے وہ مجنون ہو گئے’’ خشکی ہو گئی دماغ میں۔ دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ‘‘اور بقیہ عمر اُن کی دیوانہ پن میں گزری یا دوسرے امراض سل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہو گئے۔ انسانوں کے دماغی قویٰ ایک طرز کے نہیں ہیں۔ پس ایسے اشخاص جن کے فطرتاً قویٰ ضعیف ہیں ان کو کسی قسم کا جسمانی مجاہدہ موافق نہیں پڑ سکتا اور وہ جلد تر کسی خطرناک بیماری میں پڑ جاتے ہیں۔‘‘ بہرحال اسلام ایک سمویا ہوا مذہب ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی خاص تائید کا بھی اس میں دخل ہے اس لیے آپؑ نے فرمایا کہ ہر ایک اس کی کوشش نہ کرے کہ جو میں نے کیا تھا اس کو ہر کوئی کر سکتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ ’’سو بہتر ہے کہ انسان اپنی نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے اور دین العجائز اختیار رکھے ۔‘‘ عام جو دین کی سہولتیں ہیں، جوعام دین ہے، سنت پہ عمل ہے ایک آدمی کا کام ہے کہ اس کو اختیار کرو۔’’ ہاں اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی الہام ہو اور شریعتِ غَرَّاء اسلام سے منافی نہ ہو تو اس کو بجا لانا ضروری ہے لیکن آج کل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ پس ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔‘‘ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 196 تا 200 بقیہ حاشیہ)

اب بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو تو ایسے لوگوں کی باتیں نہیں ماننی چاہئیں بلکہ آج کل تو ٹی وی پروگراموں میں بھی آتا ہے۔ انسان کو دیکھنا چاہیے کہ درمیانہ روی کیا ہے اسے اختیار کرے اور جس حد تک اپنی طاقت ہے اس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی کوشش کرے اور عبادت کے جو طریق اور کم از کم معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہوئے ہیں ان کو ضرور حاصل کرنے کی کوشش کرے اور پھر اس میں ترقی کرتا جائے۔ آہستہ آہستہ ترقی بھی ہوتی ہے لیکن بہرحال بلاوجہ مشقّت میں ڈالنا اسلام نے منع فرمایا ہے اور اسی بات کو آپؑ نے بھی منع فرمایا ہے۔

بچپن سے آپؑ کا کیا حال تھا؟

ایک روایت میں آتا ہے۔ مستری فقیر محمد صاحب کہتے ہیں:

’’میرا باپ جس کا نام جیوا تھا وہ ہمیں سنایا کرتا تھا کہ مرزا صاحب ایک دفعہ کوٹھے پر سے گر پڑے اور سخت چوٹ لگی۔ ہمیں یہاں خبر ہوئی کہ مرزا صاحب کوٹھے پر سے گر پڑے ہیں۔ہم آپؑ کی خبر کے واسطے گئے تو جس وقت آپؑ کو ہوش آئی تو پوچھتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوا ہے یا نہیں؟ اس قدر نماز سے محبت تھی۔ میں اس وقت چھوٹا تھا جس وقت وہ یہ بات سنایا کرتے تھے۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 1صفحہ 58، روایت مستری فقیر محمد صاحب ترکھان قادر آباد )

مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ  کی روایت بیان کی ہے۔’’1895ء میں جب مجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوا اور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحبؑ کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح ادا کی۔ آپؑ کی یہ عادت تھی کہ وتر اوّل شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دو دو رکعت کر کے آخر شب میں ادا فرماتے تھے جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے یعنی اَللّٰہُ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ سے وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْم تک۔ اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص کی قراءت فرماتے تھے اور رکوع اورسجود میں یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْث اکثر پڑھتے تھے۔اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپؑ کی آواز مَیں سن سکتا تھا۔‘‘ یعنی آہستہ آہستہ پڑھتے تھے جو نہ زیادہ اونچی تھی نہ کم۔’’نیز آپؑ ہمیشہ سحری نماز تہجد کے بعد کھاتے تھے اور اس میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ بعض دفعہ کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تھی اور آپؑ بعض اوقات اذان کے ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے تھے۔‘‘

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے’’… کہ دراصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب تک صبح صادق افق مشرق سے نمودار نہ ہو جائے سحری کھانا جائز ہے۔ اذان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ صبح کی اذان کا وقت بھی صبح صادق کے ظاہر ہونے پر مقرر ہے اس لیے لوگ عموماً سحری کی حد اذان ہونے کو سمجھ لیتے ہیں۔‘‘ آپؓ نے مثال دی ہے کہ’’قادیان میں چونکہ صبح اذان صبح صادق کے پھوٹتے ہی ہو جاتی ہو بلکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات غلطی اور بے احتیاطی سے اس سے بھی قبل ہو جاتی ہو اس لیے ایسے موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام اذان کا چنداں خیال نہ فرماتے تھے اور صبح صادق کے تبیّن تک سحری کھاتے رہتے تھے اور دراصل شریعت کا منشاء بھی اس معاملہ میں یہ نہیں ہے کہ جب علمی اور حسابی طور پر صبح صادق کا آغاز ہو اس کے ساتھ ہی کھانا ترک کر دیا جاوے بلکہ منشاء یہ ہے کہ جب عام لوگوں کی نظر میں صبح کی سفیدی ظاہر ہو جاوے اس وقت کھانا چھوڑ دیا جاوئے ۔چنانچہ تبیّن کا لفظ اسی بات کو ظاہر کر رہا ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی اذان پر سحری نہ چھوڑا کرو بلکہ ابن مکتوم کی اذان تک بے شک کھاتے پیتے رہا کرو کیونکہ ابنِ مکتوم نابینا تھے اور جب تک لوگوں میں شور نہ پڑ جاتا تھا کہ صبح ہو گئی ہے…اس وقت تک اذان نہ دیتے تھے۔‘‘ (سیرت المہدی جلد1 ،حصہ دوم صفحہ 295-296روایت320)

بہرحال آج کل تو زمانہ مزید جدید ہو گیا ہے اور جدید آلات سے صبح صادق کے صحیح وقت کا بھی پتہ چل جاتا ہے اس لیے عموماًاذان کی آخری حد مقرر ہے۔ کوشش تو یہی کی جاتی ہے۔ لیکن بعض دفعہ ہو سکتا ہے غلطی بھی لگ جاتی ہو۔ اگر کہیں غلطی سے اذان جلدی بھی ہو جائے تو یہی اصول ہوگا جو بیان ہوا ہے۔ رمضان بھی شروع ہو رہا ہے اس لیے مَیں نے یہ راہنمائی بھی کی ہے۔لیکن لوگوں کو اتنا بھی ریلیکس (relax)نہیں ہونا چاہیے کہ دیکھتے جائیں کہ دن چڑھا ہے کہ نہیں چڑھا۔ بہرحال ہماری اذانیں اور جو اوقات ہیں وہ بڑے حساب کتاب اور بڑے کیلکولیٹڈ (calculated)طریقے سے مقرر کیے گئے ہیں ۔اور چونکہ یہ زمانہ اُس زمانے سے زیادہ جدید ہے اس لیے غلطی کا امکان عموماً کم ہے۔ اس لیے

اسی چارٹ کو فالو کرنا چاہیے ،اسی پہ عمل کرنا چاہیے جو ہر علاقے اور ملک کے وقت کے مطابق بنایا جاتا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ایک روایت بیان کی ہے کہ ’’مفتی محمد صادق صاحبؓ نے مجھ سےبیان کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ نماز استسقاء ہوئی تھی جس میں حضرت صاحبؑ بھی شامل ہوئے تھے اور شاید مولوی محمد احسن صاحب مرحوم امام ہوئے تھے ۔لوگ اس نماز میں بہت روئے تھے مگر حضرت صاحبؑ میں چونکہ ضبط کمال کا تھا اس لیے آپؑ کو میں نے روتے نہیں دیکھا اور مجھے یاد ہے کہ اس کے بعد بہت جلد بادل آ کر بارش ہو گئی تھی بلکہ شاید اسی دن بارش ہو گئی تھی۔‘‘ (سیرت المہدی جلد 1، حصہ دوم صفحہ393روایت435)

بہرحال اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ نماز میں آپؑ باہر روتے نہیں تھے ۔ اپنے آقا ؐکی اتباع میں آپؑ کی عبادت کی ایسی روایات بھی ملتی ہیں کہ سجدے کی حالت میں آپؑ کے سینے سے ایسی آوازیں آرہی ہوتی تھیں جیسے ہنڈیا ابل رہی ہو۔ آپؑ سجدے میں پڑے ہوتے اور ایک درد سے گریہ وزاری کر رہے ہوتے تھے۔

حضرت مرزا بشیر صاحبؓ  حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ  کی روایت بیان کرتے ہیں کہ والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز پنجگانہ کے سوا عام طور پر دو قسم کے نفل پڑھا کرتے تھے۔ ایک نماز اشراق (دو یا چار رکعات )جو آپؑ کبھی کبھی پڑھتے تھے‘‘ اس میں باقاعدگی نہیں تھی’’اور دوسرے نماز تہجد( آٹھ رکعات) جو آپؑ ہمیشہ پڑھتے تھے سوائے اس کے کہ آپؑ زیادہ بیمار ہوں ۔لیکن ایسی صورت میں بھی آپؑ تہجد کے وقت بستر پر لیٹے لیٹے ہی دعا مانگ لیتے تھے اور آخری عمر میں بوجہ کمزوری کے عموماً بیٹھ کر نماز تہجد ادا کرتے تھے۔‘‘ (سیرت المہدی جلد1، حصہ اول صفحہ4روایت 3)

حضرت مولوی یعقوب علی صاحبؓ  لکھتے ہیں کہ مقدمات کی پیروی میں جب آپؑ جاتے تھے تو اپنے والد صاحب کی اطاعت کا فرض ادا کرنے کے لیے جاتے تھے وہاں

آپؑ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ مقدمات کے دوران کوئی نماز کبھی قضاء نہ ہو اور نہ کبھی آپؑ نے قضاء کی۔ اسی طرح آپؑ ان فرائض سے غافل نہیں ہوتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے متعلق ہیں۔

عین کچہری میں آپؑ وقتِ نماز پر اس طرح مشغول ہو جاتے گویا آپؑ کو کوئی کام ہی نہ تھا ۔اور بسا اوقات ایسا ہوا کہ آپؑ نماز میں مشغول ہیں اور ادھر مقدمے میں طلبی ہو گئی مگر آپؑ اسی طرح اطمینان قلب سے نماز میں لگے رہے۔ ایک مرتبہ آپؑ نے فرمایا کہ میں بٹالہ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے گیا تو نماز کاوقت ہو گیا اور میں نماز پڑھنے لگا۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز پڑھنے لگ گئے۔ چپڑاسی نے آواز دی مگر میں نماز میں تھا۔ فریق ثانی پیش ہو گیا اور اس نے یک طرفہ کارروائی سے فائدہ اٹھانا چاہا کہ دوسرا فریق پیش نہیں ہوا تو ایک طرفہ کارروائی کی جائے ۔اس بات پر بہت زور دیا مگر عدالت نے پرواہ نہ کی ۔مقدمہ اس کے خلاف کر دیا اور مجھے ڈگری دے دی۔ میرے حق میں فیصلہ کر دیا۔ میں جب نماز سے فارغ ہو کر گیا تو مجھے خیال تھا کہ شاید حاکم نے قانونی طور پر میری غیر حاضری کو دیکھا ہوگا۔ قانون تو یہی کہتا ہے کہ ایک فریق نہیں آیا تو اس کے خلاف فیصلہ دے دیا جائے۔مگر جب میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں تو نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا میں تو آپ کو ڈگری دے چکا ہوں۔ (ماخوذ از حیاتِ احمد جلد 1، حصہ اول صفحہ 87) یہ بھی عبادت کی برکات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح فضل فرمایا۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت اماں جانؓ کی ایک اَور روایت بیان کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب گھر میں مغرب کی نماز پڑھاتے تھے تو اکثر سورہ یوسف کی وہ آیت پڑھتے تھے جن میں یہ الفاظ آتے ہیں:

اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ۔

مَیں تو اپنے رنج و غم کی صرف اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرتا ہوں۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ  کہتے ہیں کہ میں یہ بتا دوں کہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز میں بہت سوز اور درد تھااور آپؑ کی قراءت لہر دار ہوتی تھی۔ (ماخوذ ازسیرت المہدی جلد1،حصہ اول صفحہ 61روایت85)

اسی طرح مرزا محمد دین صاحبؓ نے بیان کیا ہے کہ آپؑ مسجد میں فرض نماز ادا فرماتے جبکہ سنتیں اور نوافل مکان پر ہی ادا کرتے تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد آپؑ سو جاتے تھے اور نصف رات کے بعد جاگ اٹھتے اور نفل ادا کرتے ۔اس کے بعد قرآن مجید پڑھتے۔ آپؑ مٹی کا دیا جلاتے تھے اور فجر کی اذان تک تلاوت کرتے رہتے تھے۔ (ماخوذ ازروزنامہ الفضل قادیان 2؍دسمبر1941ء صفحہ 3)

ایک اَور سیرت نگار نے لکھا ہے کہ

’’ آپؑ کو قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اور آپؑ کی جو کچھ عبادات تھیں قرآن اور سنت سے کبھی متجاوز نہ ہوتی تھیں۔

پانچ وقت نماز کے علاوہ تہجد کی نماز کا بہت التزام تھا۔ اشراق کی نماز بھی پڑھ لیتے تھے مگر تہجد کی نماز سے بہت محبت تھی۔ نماز میں آپؑ کی توجہ الی اللہ اس قدر زبردست اور انہماک یہاں تک ہوتا تھا کہ گویا آپؑ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ نماز تہجد میں سورہ فاتحہ کو بہت درد سے اور توجہ سے پڑھتے تھے اور بہت دعائیں کرتے تھے۔ ابتدا میں بعض دفعہ اگر نماز میں توجہ نہ ہوتی تھی تو آپؑ نماز بار بار پڑھتے تھے ۔فرماتے تھے یہ نسخہ مَیں نے ایک شرابی سے سیکھا ہے۔‘‘ حضورؑ نے فرمایا کہ’’ ایک مرتبہ مجھے نماز میں حضوری قلب نہ ہوتی تھی تو میں جنگل کی طرف نکلا کہ وہاں جا کر نماز پڑھوں۔ ‘‘بہرحال’’ رستہ میں بازار پڑتا تھا وہاں ایک ہندو اپنے کسی دوست سے کہہ رہا تھا کہ رات ہم نے شراب کا ایک پیگ پیا مگر نشہ نہ ہوا تو پھر ہم نے دوسرا پیگ پیا۔ جب اس سے بھی نشہ نہ ہوا تو پھر تیسرا پیگ پیا ۔غرض کہ اسی طرح بار بار پیتا رہا یہاں تک کہ نشہ ہو گیا۔ فرماتے تھے کہ میں نے سوچا کہ میں بھی بار بار نماز پڑھوں گا یہاں تک کہ روحانی نشہ ہو جائے۔‘‘ (مجدد اعظم از ڈاکٹر بشارت احمدصاحب جلد1صفحہ 26 شائع کردہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور )

فرض تو بہرحال نہیں پڑھے جا سکتے ۔نوافل کی طرف توجہ تھی تو نوافل کے بارے میں آپؑ نے فرمایا باربار پڑھوں گا تاکہ نشہ ہو جائے یعنی حضوری قلب حاصل ہو جائے۔

نماز کے علاوہ آپؑ کا وظیفہ قرآن شریف کی تلاوت، درود شریف اور استغفار تھا۔ قرآن شریف سے تو عشق تھا ۔وہ تو دن رات اٹھتے بیٹھتے اور ٹہلتے ہوئے پڑھا کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے

جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ اگر وہاں نماز میں نہیں روئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپؑ روتے نہیں تھے۔ آپؑ رویا کرتے تھے ۔قرآن کریم پڑھ کر بھی آپؑ پر رقّت طاری ہو جاتی تھی۔ درود شریف کثرت سے اور سمجھ کر پڑھتے تھے اور اس درد سے پڑھتے تھے کہ بعض دفعہ اس کے ساتھ گریہ و بکا بھی شامل ہو جاتی تھی۔

ایک موقع پر

اشراق کی نماز پڑھنے کاذکر

کرتے ہوئے خود بیان فرمایا اور یہاں شہد کی اہمیت کا بھی بتا دیا۔ حکمت اور عبادت پہ جا کے بات رکی۔ شہد اور ذیابیطس کے مرض کا ذکر ہو رہا تھا کہ شہدذیابیطس میں کھانا چاہیے کہ نہیں۔تو فرمایا کہ ذیابیطس سے مجھے سخت تکلیف تھی۔ ڈاکٹروں نے اس میں شیرینی کو سخت مضر بتلایا ہے ۔یعنی شوگر آدمی کو ہو، ڈائبٹیز ہو تو میٹھا کھانا بہت مضر ہوتا ہے ۔تو کہتے ہیں آج میں اس پر غور کر رہا تھا کہ مجھے خیال آیا کہ بازار میں جو شکر وغیرہ ہوتی ہے اسے تو اکثر فاسق و فاجر لوگ بناتے ہیں اور اگر اس سے ضرر ہوتا ہے تو تعجب کی بات نہیں ہے ۔مگر عسل یعنی شہد تو خدا کی وحی سے تیار ہوا ہے اس لیے اس کی خاصیت دوسری شیرینیوں جیسی ہرگز نہیں ہوگی۔ اگر یہ ان کی طرح ہوتا تو پھر سب شیرینی کی نسبت شِفَآءٌلِّلنَّاسِفرمایا جاتا مگر اس میں صرف اسی کو خاص کیا ہے۔ پس یہ خصوصیت اس کے نفع پر دلیل ہے اور چونکہ اس کی تیاری بذریعہ وحی ہے اس لیے مکھی جو پھولوں سے رس چوستی ہے وہ ضرور مفید اجزاء کو ہی لیتی ہوگی ۔اس خیال سے میں نے تھوڑے سے شہد میں کیوڑا ملا کر اسے پیا تو تھوڑی دیر کے بعد مجھے بہت فائدہ ہوا حتّٰی کہ میں نے اپنے آپ کو چلنے پھرنے کے قابل پایا۔ پہلے اس کی وجہ سے یعنی شوگر کی وجہ سے بہت کمزوری ہو گئی تھی اور پھر میں گھر کے آدمیوں کو لے کر باغ تک چلا گیا اور وہاں اشراق کی دس رکعت نماز ادا کی۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد7صفحہ34-35 ایڈیشن2022ء)

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ نہایت زور آور حملہ زلزلہ کا ہوا۔ تمام مکانات اور اشیاء ہلنے اور ڈولنے لگ پڑیں ۔لوگ حیران اور سراسیمہ ہو کر گھبرانے لگے۔ ایسے وقت میں خدا کے مسیح کا حال دیکھنے کے لائق تھا کیونکہ احادیث میں تو ہم پڑھا ہی کرتے تھے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آسمانی اور زمینی واقعات پر خشیت اللہ کا بڑا اثر اپنے چہرے پر ظاہر فرماتے تھے ۔ذرا سے بادل کے نمودار ہونے پر آپؐ بے آرام سے ہو جاتے ۔کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر جاتے تھے ۔غرض اس وقت بھی نبی اللہ نے ہرکہ عارف تر است ترساں تر والے مقولہ کو عملی رنگ میں بالکل سچا کر کے دکھایا ‘‘ یہ فارسی کا مقولہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو جتنا زیادہ عارف ہوتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ خوف خدا رکھنے والا ہوتا ہے۔ بہرحال

’’ زلزلہ کے شروع ہوتے ہی آپؑ بمع اہل بیت اور بال بچہ کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرنے میں شروع ہو گئے اور اپنے ربّ کے آگے سر بسجود ہوئے۔ بہت دیر تک قیام رکوع اور سجدہ میں سارا کنبہ کا کنبہ بمع خدام کے گرا رہا اور خداتعالیٰ کی بےنیازی سے لرزاں و ترساں رہا۔‘‘ (ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ،صفحہ102)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باجماعت نمازوں کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے

یہ ذکر کیا کہ آج کل چونکہ لوگ فاصلے پر رہتے ہیں اور مسجدوں میں آنا مشکل تھا ۔اس لیے اس زمانے میں جتنا بھی فاصلہ ہوتا تھا اور سواریاں بھی نہیں تھیںتو لوگ گھروں میں نماز پڑھ لیتے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ گھروں میں نماز علیحدہ نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ باجماعت پڑھنی چاہیے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ

نماز باجماعت کی ایک ترکیب یہ بھی ہے کہ بیوی بچوں کو ساتھ لے کر گھر میں ہی باجماعت نماز کرا لی جائے۔

اگر مسجد نہیں جا سکتے تو گھر میں ہی باجماعت کرا لو۔ آپؓ نے فرمایا کہ چونکہ فاصلوں کی وجہ سے علیحدہ نمازیں پڑھنے کی عادت پڑ گئی ہے اور باجماعت نماز کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں کم ہو گئی ہے۔یہی ہم آج بھی دیکھتے ہیں ۔اس لیے اس عادت کو ترک کرو اور نماز باجماعت کی عادت ڈالو۔ پس

آج بھی جہاں جہاں کمیاں ہیں وہاں لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے۔گھروں میں بچوں کے ساتھ نماز پڑھیں۔ اس سے بچوں کو بھی نمازوں کی عادت پڑ جائے گی۔

پھر آپؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال دی کہ ایسے موقع پر جب آپؑ نماز کے لیے مسجد نہ جاسکتے تو گھر میں ہی جماعت کرا لیا کرتے تھے اور شاذ ہی کسی مجبوری کے ماتحت الگ نماز پڑھتے تھے۔ اکثر ہماری والدہ کو ساتھ ملا کر جماعت کرا لیتے تھے اور والدہ کے ساتھ دوسری مستورات بھی شامل ہو جاتی تھیں ۔ (ماخوذ ازبعض اہم اور ضروری امور، انوارالعلوم جلد16 صفحہ493)

حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ کی ایک روایت ہے۔ بیان کرتے ہیں کہ میں 1935ء میں سیالکوٹ گیا وہاں میری ملاقات ایک بہت بوڑھی خاتون مائی حیات بی بی سے ہوئی جو فضل دین صاحب کی بیٹی تھیں اور حافظ محمد شفیع صاحب قاری کی والدہ ماجدہ تھیں۔ ان سے ملنے کا موقع ملا تو مائی صاحبہ اپنے مکان کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ہم نے انہیں نہ پہچانا لیکن انہوں نے ہمیں پہچان لیا۔ السلام علیکم کہا اور فرمایا کہ ادھر تشریف لے آئیں۔ مائی صاحبہ کی عمر اس وقت ایک سو پانچ سال تھی۔ انہوں نے بتایا کہ غدر کے زمانے میں جب یہاں بھگدڑ پڑی ہوئی تھی، اپنا بتایا کہ کتنی میری پرانی عمر ہے اور دفتر اور کچہریوں کو آگ لگائی گئی تھی اس وقت میں جوان تھی۔ بہرحال یہ ذکر کرنے کے بعد دورانِ گفتگو مائی صاحبہ نے بتایا کہ مجھے مرزا صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس وقت سے واقفیت ہے کہ جب آپ پہلے پہل سیالکوٹ تشریف لائے تھے اور یہاں ملازمت کے زمانے میں رہے تھے۔ کہتی ہیں کہ مرزا صاحب کی عمر اس وقت ایسی تھی کہ چہرے پر مَس پھوٹ رہی تھی اور آپ کی ابھی پوری طرح داڑھی نہ تھی۔ سیالکوٹ تشریف لانے کے بعد حضرت مرزا صاحب میرے والد صاحب کے مکان پر آئے اور انہیں آواز دی اور فرمایا میاں فضل الدین صاحب آپ کا جو دوسرا مکان ہے وہ میری رہائش کے لیے مجھے دے دیں۔ کرائے پہ لینا تھا۔ میرے والد صاحب نے دروازہ کھولا اور آپ اندر آگئے۔ پانی، چارپائی، مصلہ وغیرہ رکھا۔ والد صاحب نے مرزا صاحب کا سامان بھی ساتھ رکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ جب کچہری سے واپس آتے تو پہلے میرے باپ کو بلاتے اور ان کو ساتھ لے کر مکان میں جاتے۔ مرزا صاحب کا زیادہ تر ہمارے والد کے ساتھ ہی اٹھنا بیٹھنا تھا۔ ان کا کھانا بھی ہمارے ہاں ہی پکتا تھا۔ میرے والد ہی مرزا صاحب کو کھانا پہنچایا کرتے تھے۔ مرزا صاحب اندر جاتے اور دروازہ بند کر لیتے اور اندر صحن میں جا کر قرآن پڑھتے رہتے تھے۔ میرے والد صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب قرآن مجید پڑھتے پڑھتے بعض وقت سجدے میں گر جاتے ہیں اور لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں اور یہاں تک روتے ہیں کہ زمین تر ہو جاتی ہے۔ مائی صاحبہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں بتلاتے ہوئے متعدد دفعہ کہا کہ میں قربان جاؤں آپ کے نام پر۔ یہ بیان انہوں نے اپنے بیٹے کی موجودگی میں دیا۔ (ماخوذ ازسیرت المہدی جلد 1،حصہ سوم صفحہ594-595روایت 625)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے مولوی میر حسن صاحب جو ڈاکٹر علامہ اقبال صاحب کے استاد تھے ان کی ایک روایت بیان کی ہے کہ حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میں جو اسی عاصی پُر معاصی کے غریب خانے کے بہت قریب ہے، عمرا نامی کشمیری کے مکان پر کرایہ پر رہا کرتے تھے۔ کچہری سے جب تشریف لاتے تھے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔ بیٹھ کر، کھڑے ہوکر، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔ ایسی خشوع اور خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ پھر لکھتے ہیں کہ حسبِ عادتِ زمانہ صاحب حیات لوگ کچہری کے کاموں اور سفارش کے لیے آپ کے پاس آ جاتے تھے جیسے اہلکاروں کے پاس جاتے ہیں تاکہ ان کا مقدمہ ان کے حق میں ہو جائے۔یہی لوگوں کی عادت ہوتی ہے ناں۔ سفارش کے لیے پہنچ جاتے ہیں کسی عدالت میں کام کرنے والے کے پاس تو لوگ بھی آجاتے تھے۔ تو لکھتے ہیں کہ اسی عمرامالک مکان کے بڑے بھائی فضل دین صاحب تھے جو عمومی طور پر محلے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ایک موقع پر لوگوں کو کچہری میں اپنے پاس بیٹھے دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں فضل دین کو بلا کر فرمایا میاں فضل دین ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ آیا کریں۔ نہ اپنا وقت ضائع کیا کریں۔ نہ میرا وقت برباد کیا کریں۔ مَیں کچھ نہیں کر سکتا۔ مَیں حاکم نہیں۔ جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے کچہری میں ہی کر آتا ہوں۔ چنانچہ میاں فضل الدین ان لوگوں کو سمجھا کر نکال دیتے۔ (ماخوذ ازحیات احمد جلداول،حصہ سوم صفحہ370-371)

پٹیالہ کے ایک غیر احمدی منشی عبدالواحد صاحب

حضورؑ کی تلاوتِ قرآن

کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ’’حضور علیہ السلام چودہ پندرہ سال کی عمر میں سارا دن قرآن شریف پڑھتے تھے اور حاشیہ پر نوٹ لکھتے رہتے تھے۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد 1صفحہ64)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ ’’مرزا صاحب کو اپنی بچپن کی عمر سے ہی اپنے والد کی زندگی میں ایک ایسا تلخ نمونہ دیکھنے کا موقع ملا کہ

دنیا سے آپؑ کی طبیعت سرد ہو گئی اور جب آپؑ بہت ہی بچہ تھے تب بھی آپ کی تمام تر خواہشات رضائے الٰہی کے حصول میں ہی لگی ہوئی تھیں

چنانچہ آپؑ کے سوانح نویس شیخ یعقوب علی صاحب آپ کے سوانح میں ایک عجیب واقعہ جو آپ کی نہایت بچپن کی عمر کے متعلق ہے تحریر کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ ایک اپنی ہم سِن لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہو گئی کہا کرتے تھے کہ’’ نا مرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔ ‘‘اس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے کہ نہایت بچپن کی عمر سے آپ کے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہو رہا تھا اور ساتھ ہی اس ذہانت کا پتہ چلتا ہے جو بچپن کی عمر سے آپ کے اندر پیدا ہو گئی تھی کیونکہ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ تمام خواہشات کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی سمجھتے تھے اور عبادت کی توفیق کا دینا بھی اسی پر موقوف جانتے تھے کہ نماز پڑھنے کی خواہش کرنا اور اس خواہش کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی جاننا اور پھر اس گھر میں پرورش پا کر جس کے چھوٹے بڑے دنیا کو ہی اپنا خدا سمجھ رہے تھے ایک ایسی بات ہے جو سوائے کسی ایسے دل کے جو دنیا کی ملونی سے ہر طرح پاک ہو اور دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کے لیے خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو نہیں نکل سکتی۔‘‘ (سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ  صفحہ 9 شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان )

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا’’میں بچپن سے روزے رکھنے کا عادی ہوں۔ ایک دفعہ بچپن میں روزہ رکھا بیمار ہو گیا مگر اس کے بعد انتیس روزے پورے رکھے تکلیف نہیں ہوئی تب میرے لیے خوشی کی عید تھی۔ روزے کے خاص برکات ہوتے ہیں جیسا کہ ہر میوے میں جدا ذائقہ ہے ایسا ہی ہر عبادت میں جدا لذت ہے۔ ان عبادات میں روحانیت ہے جس کو انسان بیان نہیں کر سکتا۔ اگر شوق ہو تو آلام اور تکلیف کم ہو جاتی ہے۔ چاہیے کہ عبادت میں انسان کی روح نہایت درجہ رقیق ہو کر پانی کی طرح بہہ کر خدا سے جا ملے۔‘‘ (ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صاحبؓ  صفحہ193)

مشہور لیڈر ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر اخبار زمیندار کے والد مولوی سراج الدین صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے قیام سیالکوٹ میں مصروفیات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ’’1877ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے ہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی۔ ان دنوں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی کم گفتگو کرتے تھے۔‘‘ (حیات احمد جلداول،حصہ سوم صفحہ 374)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ایک اَور روایت کی ہے کہ حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانیؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’عید الاضحی 1900ء سے ایک دن قبل جو حج کا دن تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اولؓ )کو کہلا بھیجا کہ میں یہ حج کا دن خاص دعاؤں میں گزارنا چاہتا ہوں۔ اس لیے جو دوست دعا کی درخواست دینا چاہیں آپ ان کے نام لکھ کر اور فہرست بنا کر مجھے بھجوا دیں۔ چنانچہ حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس دن کثرت کے ساتھ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ  کی وساطت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کی درخواستیں پہنچیں اور بعض اصحاب نے براہِ راست بھی دعا کی درخواست لکھ کر حضور کی خدمت میں بھجوائی اور چونکہ اس زمانہ میں عید کے موقع پر بیرونی مقامات سے بھی کافی دوست عید پڑھنے اور حضرت مسیح موعود کی ملاقات سے مشرف ہونے کے لیے قادیان آ جایا کرتے تھے وہ بھی اس غیبی تحریک میں شامل ہو گئے اور یہ دن قادیان میں خاص دعاؤں اور غیر معمولی تضرعات اور بڑی برکات میں گزرا۔‘‘ (سیرت طیبہ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرا حمد صاحبؓ ایم۔ا ے صفحہ 204)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنی اس کیفیت کو جو باجماعت نماز کے لیے آپ کے دل میں پیدا ہوتی تھی بیان کرتے ہوئے ایک مجلس میں فرمایا’’ میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں چکر آ رہا ہے‘‘ یعنی چکروں کی تکلیف تھی۔ ’’جب جماعت کا وقت آتا ہے‘‘ یعنی نماز باجماعت کا ’’تو اس وقت خیال گزرتا ہے کہ سب جماعت ہوگی اور میں شامل نہ ہوں گا‘‘ یعنی لوگ اکٹھے ہوئے ہوں گے، باجماعت نماز ہو رہی ہوگی اور میں شامل نہیں ہوں گا ’’اور افسوس ہوتا ہے اس لیے افتاں خیزاں چلا آتا ہوں۔‘‘ (ملفوظات جلد7 صفحہ1 ایڈیشن 2022ء)

آج چکر بھی ہیں لیکن بہرحال کسی طرح گرتے پڑتے میںمسجد میں آ ہی گیا ہوں۔ پھر فرمایا کہ بہرحال کوشش کر کے پھر میں مسجد میں آ جاتا ہوں اور ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ ہوتا ہے اور آج بھی یہی ہواہے۔

آپؑ کی بیماری کے دنوں میں بھی کوشش ہوتی تھی کہ نماز باجماعت ادا کریں۔

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ فرماتے ہیں کہ آپ کی ملاقات کی جگہ عموماً مسجد ہی ہے۔ آپ اگر بیمار نہ ہوں تو برابر پانچ وقت نماز باجماعت پڑھتے ہیں اور نماز باجماعت کے لیے ازبس تاکید کرتے ہیں اور بارہا فرمایا ہے کہ مجھے اس سے زیادہ کسی بات کا رنج نہیں ہوتا کہ جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔ مولوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ

مجھے یاد ہے جن دنوں میں آدمیوں کی آمد و رفت کم تھی آپؑ بڑی آرزو ظاہر کیا کرتے تھے کہ کاش !اپنی ہی جماعت ہو جس سے مل کر پانچ وقت نماز پڑھا کریں اور فرماتے تھے کہ میں دعا میں مصروف ہوں اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا منظور کرے گا۔ لکھتے ہیں کہ آج خدا کا یہ فضل ہے جس وقت مولوی صاحب نے یہ واقعہ لکھا ہے تو اس وقت کا لکھ رہے ہیں کہ خدا کا فضل ہے کہ نمازیوں کی تعداد اسّی نوے ہوتی ہے۔

اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک میں ہماری مساجد بھی ہیں اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مسجدوں کو پانچوں وقت آباد کریں اور کوشش کر کے ہر نماز باجماعت ادا کریں۔

مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ نماز کا فرض ادا کرنے کے بعد آپ فوراً اندر تشریف لے جاتے اور تصنیف کے کام میں مصروف ہو جاتے۔ پھر مغرب کی نماز کے بعد آپ مسجد میں بیٹھے رہتے اور کھانا بھی وہیں دوستوں میں مل کر کھاتے اور عشاء کی نماز پڑھ کر اندر جاتے۔ (ماخوذ ازسیرت حضرت مسیح موعودؑ مصنفہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ  صفحہ 43)

حضرت عبدالستار صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت صاحب ؑکے دعویٰ سے پیشتر جبکہ چھوٹی مسجد مبارک بنی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت ظہر عصر مغرب عشا پڑھایا کرتے تھے۔ ہم تین کَس صرف نماز ساتھ پڑھتے تھے۔ میاں گلاب ،عبدالستار اور میاں جان محمد صاحب مقتدی بنا کرتے تھے۔

حضرت صاحبؑ جس طرح نماز پڑھا کرتے تھے وہ طرز مجھے آتی ہے۔ یعنی ہر نماز رقت سے پڑھا کرتے تھے۔ عاجزی ،انکساری اور زاری سے ادا کرتے تھے جیسا کوئی اپنے ماں باپ کے آگے رو کر بچہ کچھ مانگتا ہے ایسی نماز کا ہم مقتدیوں کے قلب پر بہت اثر پڑتا تھا۔

یہ پہلا سبق ہے جو ہمیں ملا ہے۔ جب حضرت صاحبؑ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھتے تھے تو ہم آپ کی شکل کی طرف دیکھا کرتے تھے جو کہ نورانی ہوتی تھی اور ہمارے دلوں کو بہت لبھاتی تھی۔‘‘ (روایات اصحاب احمد ؑجلد2صفحہ457)

پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ جنازہ کی نماز جو حضرت اقدس علیہ السلام پڑھاتے تھے سبحان اللہ، سبحان اللہ کیسی عمدہ اور باقاعدہ موافق سنت پڑھاتے تھے۔ سینکڑوں دفعہ آپ کو نماز جنازہ حاضر و غائب پڑھانے اور آپ کے پیچھے پڑھنے کا اس خاکسار کو اتفاق ہوا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میاں جان محمد مرحوم و مغفور قادیانی فوت ہو گئے تو حضرت اقدس علیہ السلام جنازہ کے ساتھ ساتھ تشریف لے گئے۔ یہ مرحوم آپ کے معتقدوں اور عاشقوں اور فدائیوں میں سے تھا…حضرت اقدس امام موعود علیہ السلام بھی میاں جان محمد مرحوم سے بہت محبت رکھتے تھے۔ حضرت اقدس علیہ السلام کیسے ہی عدیم الفرصت ہوتے مگر جب یہ مرحوم آتے تو آپ سب کام چھوڑ کر مرحوم سے ملتے۔ الغرض جب مرحوم کاجنازہ قبرستان میں گیا تو حضرت اقدس علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھائی اور خود امام ہوئے۔ نماز میں اتنی دیر لگی کہ ہمارے مقتدیوں کے کھڑے کھڑے پیر دکھنے لگے اور ہاتھ باندھے باندھے درد کرنے لگے اوروں کی تو مَیں کہتا نہیں کہ ان پر کیا گزری لیکن میں اپنی کہتا ہوں کہ میرا حال کھڑے کھڑے بگڑ گیا اور یوں بگڑا کہ کبھی ایسا موقع مجھے پیش نہیں آیا ‘‘تھا۔ اس لیے بگڑا ’’کیونکہ ہم نے تو دو منٹ میں نماز جنازہ ختم ہوتے دیکھی ہے۔ پھر مجھے ہوش آیا تو سمجھا کہ نماز تو یہی نماز ہے‘‘ یعنی بعد میں عبادت کا حقیقی ادراک حاصل ہوا’’ پھر تو میں مستقل ہو گیا اور ایک لذّت اور سرور پیدا ہونے لگا اور یہ جی چاہتا تھا کہ ابھی اَور نمازیں لمبی کریں ‘‘یعنی پھر آپ نے اپنے ساتھیوں کو بھی ایسی عادت ڈالی، نماز کی لذت ڈالی کہ ان کو بھی اس کا سرور آنے لگا انہوں نے اقرار کیا۔ کہتے ہیں ’’جب نماز جنازہ سے فارغ ہوئے توحضرت اقدس علیہ السلام مکان کی طرف تشریف لے چلے۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ:حضور!(علیک الصلوٰۃ و السلام) اتنی دیر نماز میں لگی کہ تھک گئے۔ حضور کا کیا حال ہوا ہوگا یعنی آپ بھی تھک گئے ہوں گے۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا:

ہمیں تھکنے سے کیا تعلق۔ ہم تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے تھے۔ اس سے اس مرحوم کے لیے مغفرت مانگتے تھے۔ مانگنے والا بھی کبھی تھکا کرتا ہے۔ جو مانگنے سے تھک جاتا ہے وہ رہ جاتا ہے۔ ہم مانگنے والے اور وہ دینے والا پھر تھکنا کیسا۔ جس سے ذرا سی بھی امید ہوتی ہے وہاں سائل ڈٹ جاتا ہے اور بارگاہ احدیت میں تو ساری امیدیں ہیں۔ وہ معطی ہے۔ وہاب ہے۔ رحمان ہے۔ رحیم ہے اور پھر مالک ہے اور اس پہ عزیز ہے‘‘(تذکرۃ المہدی مولفہ حضرت پیر سراج الحق نعمانی ؓ صفحہ 75 تا 78)پھر تھکنے کا کیا سوال ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس سوچ کے ساتھ اپنی نمازیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم نے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت بھی اس عہد کے ساتھ کی ہوئی ہے کہ نمازیں خدا اور رسول کے حکم کے موافق ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کرکے اس کی حمد کرتے ہوئے نمازیں پڑھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عہد کو بھی نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

نمازکے بعد

دو جنازے غائب

پڑھاؤں گا۔ پہلا

مکرمہ امة الشریف صاحبہ اہلیہ محمود احمد بٹ صاحب ڈیریاں والا۔ نارووال

کا ہے جو گذشتہ دنوں چوراسی سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی عمردین صاحب رضی اللہ عنہ آف شادیوال ضلع گجرات کی بیٹی تھیں جنہوں نے اپنے ایک خواب کی بنا پر 1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر جہلم کے دوران آپ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی تھی۔ پسماندگان میں ان کے میاں کے علاوہ چھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں اور پوتے پوتیاں ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے آصف محمود بٹ صاحب دارالسلام تنزانیہ میں مربی سلسلہ ہیں اور میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے اپنی والدہ کے جنازے میں اور تدفین میں شامل نہیں ہو سکے۔ ان کے ایک پوتے اسامہ بٹ بھی یہاں مربی ہیں۔ اسی طرح ان کے ایک داماد بھی مربی ہیں۔ واقفِ زندگی خاندان ہے۔

ان کے بیٹے آصف محمود بٹ صاحب مربی سلسلہ جو تنزانیہ میں ہیں لکھتے ہیں کہ آپ بے شمار خوبیوں کی مالک تھیں۔ سب سے زیادہ نمایاں خوبی تعلق باللہ تھا۔ سچی خوابیںآیا کرتی تھیں جو بڑی صفائی سے پوری ہوتی تھیں۔ قرآن کریم سے انہیں بے پناہ محبت تھی جو انہیں اپنے والد بزرگوار سے نصیب ہوئی تھی۔ ہر روز فجر کے بعد محلے کے احمدی اور غیر احمدی بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم پڑھایا کرتی تھیں۔ انہیں قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور سننا بھی پسند تھا اور کہتے ہیں مجھ سے بھی سنا کرتی تھیں اور اگر کہیں بڑی عمر میں بھی مَیں رک جاتا ۔کہتے ہیں مَیں یہ دیکھنے کے لیے کہ ان کو یاد ہے کہ نہیں تو مَیں رُک جاتا تو فوراً اگلے الفاظ پڑھ جاتی تھیں۔ قرآن شریف تقریباً ان کو حفظ تھا۔ کہتی تھیں کہ بڑی عمر میں مجھے سب کچھ بھول گیا ہے لیکن قرآن کریم اللہ کے فضل سے یاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے انہیں غیر معمولی شغف تھا۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی کتاب زیر مطالعہ رکھتی تھیں۔ اسی طرح شعر و شاعری سے بڑا تعلق تھا۔ درثمین، کلام محمود، حضرت خلیفة المسیح الرابع کی کتاب سے اکثر نظمیں ان کو بہت یاد تھیں۔

ان کے داماد مسعود صاحب مربی سلسلہ ہیں وہ کہتے ہیں میں جب قادیان گیا تو مجھے انہوں نے کہا کہ وہاں زیادہ سے زیادہ پیدل چلنا کیونکہ وہاں کی گلیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدل چلا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی دعائیں ان کی اولاد کے حق میں پوری ہوں۔

دوسرا جنازہ

مکرم شیخ بشیر احمد صاحب، لاہور

کا ہے۔ یہ گذشتہ دنوں ستانوے سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ ان کے پسماندگان میں تین بیٹے پانچ بیٹیاں ہیں ۔آپ شیخ محمد دین صاحب مرحوم مختار عام صدر انجمن احمدیہ کے چھوٹے بیٹے تھے۔ شیخ مبارک احمد صاحب مرحوم امیر و مشنری انچارج مشرقی افریقہ، یو کے اور امریکہ اور شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ بلاد عربیہ کے چھوٹے بھائی تھے۔

تہجد گزار، پابند صوم و صلوٰة ،ملنسار ،اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ جماعت احمدیہ لاہور کے مخلص کارکن تھے۔ چودھری اسد اللہ خان صاحب اور چودھری حمید نصر اللہ صاحب کی ضلعی عاملہ کے سرگرم رکن تھے۔ بیس سال سے زائد اپنے حلقے کے صدر بھی رہے۔ بڑے احسن طریق پر جماعتی امور کی سر انجام دہی کیا کرتے تھے اور انہوں نے مسجد بنانے اور بہت سی دوسری جماعتی جائیدادیں خریدنے میں بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ جماعت کی مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ خلافت سے نہایت وفا کا تعلق تھا اور ہمیشہ یہ تعلق نبھایا اور اولاد اور قریبی رشتہ داروں کو بھی ہمیشہ اس کا درس دیتے تھے۔

مَیں نے بھی دیکھا ہے، بڑے عاجز انسان تھے اور بڑی عاجزی سے ہر ایک سے ملنے والے تھے۔

ان کی بیٹی آصفہ سعید اللہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فجر کے بعد بڑی اچھی آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے جو ہم سب بچوں کی تربیت کا باعث بنی ہے۔

اسی طرح ایک اور ان کی بیٹی ہے۔ یہیں رہتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ میری شادی ربوہ میں ہوئی تو مجھے کہا تم بڑی خوش قسمت ہو کہ تم ربوہ مرکز میں جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بچوں کی بھی صحیح تربیت کی توفیق دے۔ تو باوجود اس کے کہ کاروباری آدمی تھے دنیا داری کی باتیں نہیں کیں بلکہ دین سکھایا بچوں کو۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی دعائیں ان کے بچوں کے حق میں پوری فرمائے ۔

 

تیار کردہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل –01 مارچ 2026


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 13؍ فروری 2026ء شہ سرخیاں

    ہمیں تھکنے سے کیا تعلق ہم تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے تھے ۔ مانگنے والا بھی کبھی تھکا کرتا ہے۔ جو مانگنے سے تھک جاتا ہے وہ رہ جاتا ہے۔ ہم مانگنے والے اور وہ دینے والا پھر تھکنا کیسا۔ جس سے ذرا سی بھی امید ہوتی ہے وہاں سائل ڈٹ جاتا ہے اور بارگاہ احدیت میں تو ساری امیدیں ہیں، وہ معطی ہے، وہاب ہے، رحمان ہے، رحیم ہے اور پھر مالک ہے اور اس پہ عزیز ہے (حضرت مسیح موعودؑ )

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر سب سے زیادہ چلنے کے نظارے ہمیں اس زمانے میں آپ کے غلام صادق حضرت مسیح مہدی موعودؑمیں نظر آتے ہیں

    آپؑ کی عادت تھی کہ رات کو عشاء کے بعد جلد سو جاتے تھے اور پھر ایک بجے کے قریب تہجد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔ اور تہجد پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہتے تھے۔ پھر جب صبح کی اذان ہوتی تو سنتیں گھر میں پڑھ کر نماز کے لیے مسجد میں جاتے اور باجماعت نماز پڑھتے

    آپؑ کو قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اور آپؑ کی جو کچھ عبادات تھیں قرآن اور سنت سے کبھی متجاوز نہ ہوتی تھیں

    نماز کے علاوہ آپؑ کا وظیفہ قرآن شریف کی تلاوت، درود شریف اور استغفار تھا۔ قرآن شریف سے تو عشق تھا ۔
    وہ تو دن رات اٹھتے بیٹھتے اور ٹہلتے ہوئے پڑھا کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے

    زلزلہ کے شروع ہوتے ہی آپؑ بمع اہل بیت اور بال بچہ کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرنے میں شروع ہو گئے اور
    اپنے ربّ کے آگے سر بسجود ہوئے۔ بہت دیر تک قیام رکوع اور سجدہ میں سارا کنبہ کا کنبہ بمع خدام کے گرا رہا اور
    خدا تعالیٰ کی بےنیازی سے لرزاں و ترساں رہا۔ (روایت حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ)

    نماز باجماعت کی ایک ترکیب یہ بھی ہے کہ بیوی بچوں کو ساتھ لے کر گھر میں ہی باجماعت نماز کرا لی جائے (حضرت مصلح موعودؓ)

    آج بھی جہاں جہاں کمیاں ہیں وہاں لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے۔گھروں میں بچوں کے ساتھ نماز پڑھیں اس سے بچوں کو بھی نمازوں کی عادت پڑ جائے گی

    دنیا سے آپؑ کی طبیعت سرد ہو گئی اور جب آپؑ بہت ہی بچہ تھے تب بھی آپؑ کی تمام تر خواہشات رضائے الٰہی کے حصول میں ہی لگی ہوئی تھیں (حضرت مصلح موعودؓ)

    جن دنوں میں آدمیوں کی آمد و رفت کم تھی آپؑ بڑی آرزو ظاہر کیا کرتے تھے کہ کاش! اپنی ہی جماعت ہو جس سے مل کر پانچ وقت نماز پڑھا کریں اور فرماتے تھے کہ میں دعا میں مصروف ہوں اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا منظور کرے گا۔ …آج خدا کا یہ فضل ہے کہ نمازیوں کی تعداد اسّی نوے ہوتی ہے۔(روایت حضرت مولوی عبد الکریم صاحبؓ)اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک میں ہماری مساجد بھی ہیں اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مسجدوں کو پانچوں وقت آباد کریں اور کوشش کر کے ہر نماز باجماعت ادا کریں

    حضرت صاحبؑ جس طرح نماز پڑھا کرتے تھے وہ طرز مجھے آتی ہے۔ یعنی ہر نماز رقت سے پڑھا کرتے تھے۔ عاجزی ،انکساری اور زاری سے ادا کرتے تھے جیسا کوئی اپنے ماں باپ کے آگے رو کر بچہ کچھ مانگتا ہے ایسی نماز کا ہم مقتدیوں کے قلب پر بہت اثر پڑتا تھا۔(روایت حضرت عبد الستار صاحبؓ)

    آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی عبادتِ الٰہی کا ایمان افروز تذکرہ

    مکرمہ امة الشریف صاحبہ اہلیہ محمود احمد بٹ صاحب ڈیریاں والا نارووال اور مکرم شیخ بشیر احمد صاحب آف لاہور کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

    فرمودہ 13؍فروری 2026ء بمطابق 13؍تبلیغ 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور