In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Browse Al Islam

Archives of 2017 Friday Sermons

Delivered by the Head of the Ahmadiyya Muslim Community

Televised via Satellite by MTA International

Browser by year

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
21-Apr-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bulgarian (mp3)Swahili (mp3)Turkish (mp3)

Title: Conveying The True Teachings of Islam
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننا ہم پر اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے۔ آپکو ماننے کے بعد ہمیں اپنے ایمان اور یقین میں بڑھنا چاہئے اور کھل کر اسلام کا پیغام پہنچانا چاہئے۔ بعض لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے جو آجکل حالات ہیں اس وجہ سے زیادہ اسلام کے متعلق بات نہ کی جائے گو اکثر سستی نہیں دکھاتے۔ ایسے وقت میں تو ہم میں اور زیادہ جرأ ت پیدا ہونی چاہئے۔ مسلمانوں کا بگاڑ تو اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہےکہ اس وقت اسلام کے حقیقی پیغام کیلئے مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ بھیجے گا ۔ ہم اس مسیح موعود ؑکو ماننے والے ہیں ۔اور اسی اسلام پر ہم عمل کرنے والے ہیں ۔پس کسی احساس کمتری کی ضرورت نہیں ۔ .اسی طرح بعض لوگ مغربی ممالک میں دنیا داری میں زیادہ ڈوب گئے ہیں۔ زبانی عہد تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں عمل اس سےمختلف ہیں ۔ یہاں سوسائٹی میں اخلاق تو اچھے ہیں لیکن عبادت کے معیاروں میں کمی ہے۔ آپسی عزت و احترام میں بھی کمی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقصد صرف اعتقادی اصلاح نہ تھا بلکہ عملی اصلاح تھا ۔ جوں جوں ہماری مساجد بڑھ ر ہیں اورہماراپیغام پھیل رہا ہے اس سے دنیا کی تنقیدی نظر بھی ہم پر بڑھے گی۔ پس ضرورت ہے کہ عملی حالتوں میں بہتری پیدا کی جائے اوربیعت کے حقیقی مقاصد پر عمل کیا جائے۔ یاد رکھیں کہ مغربی ممالک میں 99 فیصد احمدی جماعت کی وجہ سے آئے ہیں اور یوں آپ سب جماعت کے خاموش مبلغ بھی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ میں نے جرمنی میں دیکھا ہے کہ احمدیوں کے معاشرہ کے افراد کے ساتھ تعلق تو اچھا ہے لیکن ان کو اسلام کا پیغام پوری طرح نہیں دیا گیا۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ مغربی ممالک کے لوگوں میں اسلام سے ایک خطرہ پایا جاتا ہے اور لوگ عمومی طور پرہمارے فنکشنز میں آنے سے بھی خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ہماری ذمہ داری اور بڑر جاتی ہے۔ فرمایا کہ جب لوگ ہمارے فنکشنزپر آتے ہیں تو ان کا اسلام کے متعلق تصور بدل جاتا ہے۔اور اکثر کہتے ہیں کہ ہماری سوچیں بالکل غلط تھیں ۔ہم کو اب پتا چلا کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے محبت پھیلاننے والا مذہب ہے ۔ حضورِ انور نے جرمنی میں بعض حالیہ فنکشنز میں اس کی بعض مثالیں بھی پیش کیں۔ فرمایا: ہمارے بعض نوجوانوں کا خیال ہے کہ شائد پرانے اماموں اور اولیاء کے ذکر پڑھ کے ان کا علم بڑھ گیا ہے ۔ان کو پڑھ کے یہ نہ سمجھیں کہ آپ عالم بن گئے ۔ حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھ کے اپنا علم بڑھائیں ۔آپ ؑاس زمانہ کے حکم و عدل بن کر آئے تھے۔ہمیں یہ بات ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہیے ۔اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ دوسروں کی کتابیں پڑھ کر آپ عالم بن گئے۔عالم بننا ہے تو حضرت مسیح موعودؑ کی کتابیں پڑھیں۔ فرمایا کہ خاص طور پر اسلامی اصول کی فلاسفی ایسی کتاب ہے جسے پڑھ کو بہت سے لوگوں کی حالت بدل جاتی ہے ۔ اس زمانہ میں حقیقی علم اور فلاسفی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات سے مل سکتی ہے۔ جب ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا ہے تو پوری اطاعت ہونی چاہئے۔ بلا وجہ کے سوالات نہیں ہونے چاہئیں اس سے کامل اطاعت ظاہر نہیں ہوتی مگر جب دوسرے لوگ سوال کرتے ہیں تو پھر جواب پر ایمان لانے والوں کی تسلی ہو جاتی ہے ۔ اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیصلوں کو ہی ماننا ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو لٹریچر ہے وہ ہر احمدی کوخود بھی پڑھنا چاہئے اور لوگوں میں بھی پھیلانا بھی چاہئے۔ ہر سوال کا جواب موجود ہے اور اس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اورآپکے خلفاء کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ گہرائی سے اپنے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ یاد رکھیں کوئی مجلس ہو انٹر نیٹ ہے اور جو نمازوں اور عبادت سے غافل کر رہی وہ مشرکانہ مجلس ہے ۔پانچ وقت کی نمازوں کو قائم کرو ۔میں نے جائزہ لیا اس میں بہت کمزوری نظر آر ہی ہے ۔دعا کے لئےکہتے ہیں تو پوچھو خود باقاعدہ نماز پڑھ رہے ہو تو جواب نفی میں ہوتا ہے ۔پس اگر دعا کے لئے کہنے والے اپنے اندر اور اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتے تو دوسرے کو یہ درد کس طرح پیدا ہو سکتا ہے ۔خود بھی دعا کریں تو دوسروں کی دعا بھی مدد کرتی ہے ۔ ۔اپنی اصلاح کر لیں گے تو باقی برائیاں دور ہو جائیں گی ۔ پس ہمیشہ اپنی کو تا ہیوں اور غلطیوں کے لئے استغفار کرتے رہنا چاہیے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے اور ہم حقیقت میں حضرت مسیح موعود کی بیعت کا حق ادا کرنےوالے ہوں ۔آمین

Accepting the Messiah of this age is a blessing of Allah upon us. After accepting him, we should try to increase in our faith and openly give the message of Islam. Though most are active, some people think that we shouldn’t mention Islam too much because of the conditions of Muslims today. Huzoor said that we should become even bolder at this time because this condition of Muslims is according to the prophecy of the Holy Prophet (saw). At this time, the Messiah and Mahdi was to be sent to revive true Islam. Therefore, there shouldn’t be any inferiority complex. Some people have become too involved in worldliness in Western countries. We show good morals in society, but we are lacking in worship. We are lacking in mutual respect. The purpose of the Promised Messiah (as) wasn’t just to reform beliefs; it was also practical reform. As our message spreads, the world will keep a close eye on us. Therefore, we need practical reformation in us and remember the true purpose of Bai’at. We should remember that 99% of Ahmadis have come to Western countries due to Jama’at and therefore all of you are silent preachers of Jama’at. He said that I’ve seen in Germany that Ahmadis have good relationships in society, but haven’t effectively given the message of Islam to local people. People in the West generally are threatened by Islam and are even afraid to come to our functions. Therefore, our responsibility grows at this time. When people come to our functions, their perception totally changes about Islam. Huzoor gave many examples from recent functions in Germany how the sentiments of non-Muslims completely change about Islam and our Jama’at after attending our functions. This is because we have accepted the Promised Messiah (as). Therefore, it is our responsibility to spread his message and his books to all people. Some youths think that they have become knowledgeable by reading old Islamic scholars and philosophers, but this shouldn’t be the case. You should increase your knowledge by reading the books of the Promised Messiah (as) who was the Hakm and Adl (judge and arbitrator) of this age. Huzoor especially gave the example of the book philosophy of the teachings of Islam that this book has completely changed many people and should be given to academics. True knowledge and philosophy can only be obtained from the books of the Promised Messiah (as) in this age. Once we have accepted him, there should be complete obedience and no unnecessary questions should be raised. This demonstrates lack of complete obedience. Accepting the decisions of the Messiah of this age is absolutely compulsory. All Ahmadis should read the literature of the Promised Messiah (as) and spread it among other people. The answer to each question is present, but it’s important to read the books of the Promised Messiah (as) and his Khulufa. We should all watch ourselves. Every gathering (internet etc.) that takes you away from God is shirk. Be regular in five daily prayers. I’ve seen some weakness here in this regard. When people request me for prayers, I ask them whether or not they pray regularly themselves. Unless one shows pain and anguish to remove his own difficulties, how can someone else demonstrate this pain? Pray yourself before asking others to pray for you. All weaknesses will vanish if you reform yourself. We should always seek forgiveness for our mistakes and sins. May Allah enable us to do so and may we be among those who truly understand the responsibilities of doing bai’at of the Promised Messiah (as).

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
14-Apr-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Attributes of True Believers
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu
Summary by Wakil Ala: English
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

شروع میں حضور انور ایدہ اﷲ نے بعض انتظامی مسائل سے متعلق نصائح فرمائیں کہ وقت پرپلاننگ نہ کرنے کے باعث بعض کام پو ری طرح کامیاب نہیں ہوتے۔ہرکام کیلئےشروع سے ہی سنجیدگی سے کام کیا جائےور نِہ مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے مثلا بیت السبو ح مسجد کے ساتھ والی بلڈنگ میں اب تک نماز کی اجازت نہیں ملی جسکی وجہ سے آج ایسی جگہ نماز پڑھی جارہی ہے جہاں جہازوں کا کافی شور ہے ۔ بعض کام سستی کی وجہ سے پورے نہیں کئے گئے ۔ اﷲتعالیٰ تمام عہدیداران اور انتظامیہ کو بہتر رنگ میں کام کی توفیق عطا فرمائے ۔ اس کے بعد حضور نے تین مرحومین کا ذکر خیر فرمایا۔ ایک شہید، ایک مربی اور ایک حضرت مسیح موعودؑ کی پوتی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ ان تینوں مرحومین کے اوصاف ایسے ہیں کہ جماعت کے ہرفرد کیلئے ان میں سبق ہے، یہ لوگ قرآنی آیت من قضی نحبه یعنی منت کو پورے کرنے والے کے مصداق ہیں۔ ان میں سے پہلے ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب ہیں جن کو گزشتہ جمعہ کو پاکستان میں شہید کر دیا گیا ، انکی عمر 68 سال تھی اور نماز جمعہ پر جاتے ہوئے ان کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا ، مرحوم موصی تھے اور خلافت سے گہری محبت رکھنے والے تھے ، موثر رنگ میں تبلیغ بھی کیا کرتے تھے جسکی وجہ سے آپکو دھمکیاں بھی ملتی تھیں لیکن آپ ان کی زیادہ پرواہ نہ کیا کرتے تھے ، جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ دوسرے مرحوم جن کاحضور انور نے ذکر فرمایا وہ ناصر الدین صاحب مبلغ انڈیا تھے جو 42 سال کی عمر میں وفات پاگئے ، حادثہ کے روز آپ تیراکی کیلئے دریا پر گئے لیکن اس دوران آپ لاپتہ ہوگئے اور ایک گھنٹہ بعد ان کی نعش کنارہ پر ملی ، سال 2000 میں آپ جامعہ احمدیہ قادیان سے پاس ہوئے تھے اور عمدہ رنگ میں تعلیم و تربیت کا کام بجا لارہے تھے ، بعض دفعہ تبلیغ کے باعث آپ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آپ مخالفت سے ہر گز ڈرے نہیں ، نہایت سادہ لوح تھے، تمام لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے ، بڑے اہتمام سے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا مطالعہ کیا کرتے تھے ، ایسا کرنا ہر مبلغ کیلئے نہایت ضروری ہے۔ پھر حضور نے صاحبزادی مکرمہ امتہ الوحید صاحبہ کا ذکر کیا جو کہ میاں خورشید احمد صاحب کی اہلیہ تھیں، آپ کی عمر 86 سال تھی، آپ مرزا شریف احمد صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اور حضور انور کی پھوپھی تھیں ، آپ نے طویل بیماری کو نہایت صبر کے ساتھ برداشت کیا اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی تھیں، خلافت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق تھا ، حضور انور نے فرمایا کہ باوجود بڑا ہونے کے بڑی عزت سے ملتی تھیں ، رشتوں کو مثالی رنگ میں نبھاتی تھیں ، اپنی چھ بہوؤں کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا، بچو ں کی نہایت اچھی تربیت کی جس کی وجہ سے آپ کے چھ بیٹوں میں سے چار واقف زندگی کے طور پر کام کر رہے ہیں ، لمبا عرصہ لجنہ اماءاﷲ میں خدمت بجا لائیں ، جلسہ سالانہ پر بہت سے مہمانوں کا خیال رکھا کرتی تھیں ، اسی طرح غرباء کا خیال رکھتی تھیں ، اﷲتعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور بچوں میں بھی ان کی نیکیاں جاری رکھے ۔ آمین

In his Friday Sermon today, Huzur (aba) gave some advice concerning administrative matters. He said that some tasks are not completed successfully due to lack of training in doing work in a timely manner and not following my prior instructions. It is important to actively start planning on time for all matters to be successful. For example, we still have not received permission to pray in the building beside Baitus-Subuh Mosque in Frankfurt, due to which we are offering Jumu’ah at a place with lots of noise from airplanes. May Allah enable the administration and office bearers to carry out their tasks in a better manner. Ameen Then, Huzur (aba) said that today I will mention three people who have recently passed away. One was a martyr, one was a Missionary and one was a granddaughter of the Promised Messiah (as). Huzur said that all three individuals had such attributes that are a lesson for all Ahmadis to follow. These people are an embodiment of the Quranic verse which states these are those who have fulfilled their pledge. The first one is Professor Dr. Ashfaq Ahmad Sb who was martyred in Pakistan last Friday. His age was 68 and was martyred while going to the Friday prayer. He was a Moosi and had deep love for Khilafat. He was very active in Tabligh, due to which he also received many threats. He was never afraid. He used to actively participate in all Jama’at activities. The second person mentioned by Huzur (aba) was Mukarram Nasir-ud-Din Sahib who was a missionary in India. He passed away at the age of 42 years. He had gone for swimming with Jama’at members, but went missing. His body was discovered after an hour. He graduated from Jamia Qadian in 2000 and was carrying out his tasks in a wonderful manner. He had to face severe opposition due to Tabligh, but he was never afraid. He lived a very simple life. He was well mannered with everyone. He used to passionately study the books of the Promised Messiah (as). Huzur (aba) advised that this is important for all missionaries of Jama’at. Then Huzur (aba) mentioned Sahibzadi Amatul Waheed Sahiba who was the wife of Mian Khursheesd sahib. She was 82 years. She was the youngest daughter of Hazrat Mirza Sharif Ahmad sahib (ra) and paternal aunt of Hazrat Khalifatul-Masih (aba). She suffered a long illness with immense patience and fought with courage. She was always content at God’s decree. She had a strong relationship with Khilafat. Huzur (aba) said that she behaved very respectfully, despite being older. She was exemplary in treatment of relatives and had a good relationship with all six of her daughter-in-laws. Her upbringing of children was so wonderful that four of her six sons are working as Waqf-e-Zindagi in Jama’at. She served Lajna Imaillah for a long time. Her hospitality was exemplary at Jalsa Salana. Similarly, she personally took care of many poor people. May Allah elevate her station in paradise and enable her children to continue her good deeds. Ameen

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
07-Apr-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)German (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Ahmadiyya Persecution - A Sign of Truth
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت مسلمانوں اور غیرمسلموں کی طرف سے شروع سے ہی ہو رہی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ آپکی جماعت کو بڑھاتا جا رہا ہے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت 209 ممالک میں قائم ہو چکی ہے۔ جہاں بھی جماعت کی ترقی ہوتی ہے وہاں کے مولوی اور سیاستدان خاص طور پر مخالفت کرتے ہیں۔ آجکل الجزائر میں خاص طور پر مخالفت کی جا رہی ہے اور جج صاحبان اور حکومتی نمائندے یہی کہتے ہیں کہ اگر تم مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کر دو تو تمہیں جیل سے بری کر دیا جائیگا۔ اور پھر جو لوگ ایمانوں پر قائم ہیں ان کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور بڑے بڑے جرمانے کئے جا رہے ہیں۔ ان معصوموں اور مظلوموں کو ہمیں اپنی دعاؤں میں رکھنا چاہئے۔ اسی طرح پاکستان کے احمدیوں کیلئے بھی دعا کریں۔ مسلم ممالک جو آجکل فساد کی حالت میں ہیں ان کیلئے یہی کافی دلیل ہے کہ ان حالات میں انھیں اس زمانہ کے امام کو تلاش کرنا چاہئے۔ مسیح موعود اور امام مہدی کی تمام نشانیاں بھی پوری ہو چکی ہیں۔ یہی ایک راستہ ہے جو مسلمانوں کی عظمت کو دبارہ قائم کرسکتا۔ یہ لوگ اگر ایک جگہ مخالفت کرتے ہیں تو سو اور جگہ پر اللہ تعالیٰ تبلیغ کے میدان ہمارے لئے کھول رہا ہے۔ الجزائر میں بھی مخالفت کے باعث جماعت کا پیغام لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ ہماری مخالفت سے لوگوں میں ہماری کتب پڑھنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ: آج مسلمانوں کی حالت ایسی ہے اور یہ لوگ گواہی بھی دیتے ہیں کہ آج مسلم اّمہ کو ایک مصلح کی ضروورت ہے۔ لیکن جس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ہے ا سے یہ لوگ ماننے کیلئے تیار نہیں۔اس کے باوجود خدا تعالیٰ کی اپنی تقدیرکام کر رہی ہے اور لاکھوں لوگوں کا جماعت میں ہر سال شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید جماعت کے ساتھ ہے۔فرمایا کہ: ایسے بیشمار لوگ اپنے واقعات لکھتے ہیں اور حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح نیک فطرت لوگوں کی ہدایت کا کام خدا تعالیٰ خودبجا لارہا ہے۔ اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ممالک سے ایسے متعدد واقعات بیان کئے کہ کس طرح خوابوں کے ذریعہ، ایم ٹی کے ذریعہ، مخالفت کے ذریعہ اور اوردوسرے ذرائع سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کا سامان کر رہا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یاد رکھو اللہ تعالیٰ سب کچھ آپ ہی کیا کرتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا چل پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں ۔ اگر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہ ہوتی تو پھر بھی زمانے کے حالات معلوم کر کے مسلمانوں پر واجب تھا کہ دیوانہ وار پھرتے کہ کسرِ صلیب کیلئے کیوں مسیح نہیں آیا۔ اگر ملاؤ ں کو عوام عامہ کی بہبودی مد نظر ہوتی تو وہ ہماری دشمنی ہرگز نہ کرتے۔ یہ لوگ بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں کہ کسی نہ کسی رنگ میں یہ ہماری بات کو مشرق سے مغرب تک پہنچا دیتے ہیں ۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ: پس ہمیں مخالفت سے کوئی فکر نہیں خواہ پاکستان ہو یا الجزائر۔ اس مخالفت سے ہماری مزید تبلیغ ہو رہی ہے اورتعارف بڑھ رہا ہے۔ ان لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ یاد رکھنے چاہیئں کہ اگر مجھے قبول نہ کرو گے تو پھر کبھی بھی آنے والے موعود کو نہ پاؤ گے۔میری نصیحت ہے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور خداترسی سے ان باتوں پر غور کرو اور تنہائی میں نیک نیتی سے سوچو اور اللہ تعالیٰ سے راہنمائی حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے سینے احمدیت کیلئے کھولے۔ آمین۔ حضورِ انور نے ایک ڈینش احمدی مکرم حاجی جانسن صاحب کا نمازِ جنازہ ادا کیا جنکی دو دن پہلے وفات ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

Huzur-e-Anwar (aba) said that the Promised Messiah (as) and his Jama’at has been opposed by both Muslims and non-Muslims from the very beginning and it continues to this day. But Allah has continued to support Jama’at and today we are established in 209 countries. Wherever we see the rise of Jama’at, local clerics and politicians oppose us severely. These days it is being done in Algeria where Ahmadis are being jailed and heavily fined due to believing in the Promised Messiah (as). They are offered their independence in exchange for disbelieving in the Promised Messiah (as). We should remember the oppressed Ahmadis of Algeria and Pakistan in our prayers. Huzur said that the condition of Muslim countries today is in itself a proof that Muslims should seek to find the Imam of this age. All signs of the coming Messiah and Mahdi have been fulfilled. This is the only way through which the lost glory of Muslims can be restored. If they oppose us at one place, Allah opens hundreds of other avenues of Tabligh for us. In Algeria, the message of Jama’at is spreading in general public due to opposition. The Promised Messiah (as) also stated that people are always drawn towards reading our books when we are opposed. Huzur (aba) said that the conditions of Muslims today even forces non-Ahmadis to say that a reformer is needed for Muslims. Yet they continue to reject the one who claimed that Allah has made him the Imam and Mahdi of this age. But the decree of God is also at work. Millions of people joining Jama’at every year is a living proof that Allah’s hand and support is with the Jama’at. Huzur (aba) said that many such people write to me daily. It is astonishing to see how Allah is attracting the good-natured people towards Jama’at. Through dreams, through MTA, through opposition and through various other means, Allah is guiding people towards accepting Ahmadiyyat and the Promised Messiah (as). Huzur (aba) went on to narrate many such incidents of new Ahmadis from many countries. The Promised Messiah (as) said that remember that Allah does everything himself. The cool winds have started to blow. God’s works happen gradually. Even if we didn’t have any argument, seeing the conditions of this age, it was incumbent for Muslims to look for the Messiah that why hasn’t he come to break the cross? If clerics truly cared for the welfare of public, they would not have opposed us. These people end up acting us our servants as they take our message to East and West. Huzur (aba) said that therefore this opposition does not worry us, be it in Algeria or Pakistan. This opposition is only spreading our message. These people should remember these words of the Promised Messiah (as) that if you do not accept me, then you will never find the Promised reformer. Do not let go of Taqwa or righteousness, ponder with virtuous intentions and seek guidance from Allah. May Allah open their hearts towards Ahmadiyyat. Ameen At the end, Huzur-e-Anwar announced the funeral prayer of a Danish Ahmadi, Haji Hansen Sahib, who passed away two days ago. انا للہ و انا الیه راجعون

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
31-Mar-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Essence of Istighfar and Sattari
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضورِ انور نے فرمایا کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں ہے جو ہر عیب سے پاک ہو۔ یہ اللہ کی صفتِ ستار ہے جو ہماری پردہ پوشی کرتی ہے۔ اگر یہ پردہ پوشی نہ ہو تو انسان دوسروں کو منہ دکھانے کا لائق نہ رہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے استغفارر کی ہدایت دی ہے کہ اس کےذ ریعہ میں تمہارری پردہ پوشی کرونگا۔ غفر اور ستر کا مطلب چھپانا اور ڈھانکنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہ حلیم، رحیم اور غفار ہے۔ جو شخص سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ ا س کے گناہ بخش دیتا ہے۔ لیکن دنیا میں اگر کوئی شخص کسی کا قصور دیکھ لیوے تو چاہے قصور کرنے والا باز بھی آ جائے پھر بھی اسے عیبی ہی سمجھتا ہے۔ لیکن اللہ کیسا کریم ہے کہ انسان کو ہزاروں عیب کے بعد بھی بخش دیتا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ پس اسکو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں بھی دوسروں کے عیب تلاش نہیں کرنے چاہئیں اور خدا تعالیٰ کی صفت کی طرح دوسرے لوگوں کی پردہ پوشی کرنی چاہئے۔ انسان کو بہت برا لگتا ہے اسکی کوئی برائی دوسرے لوگ بیان کریں لیکن دوسروں کے عیب کو بیان کرنا بڑی بات نہیں سمجھتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا کہ وہی چیز اپنے بھائی کیلئے پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتےہو۔ ا س لئے دوسروں کے عیبوں کو دیکھ کر خود استغفارر کرنا چاہئے کہ کہیں ہمارے عیب بھی ظاہر نہ ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی پردہ پوشی فرمائےگا۔ فرمایا کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر برائی ظاہر نہ کریں تو اصلاح کیسے ہو گی ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر نظام جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے توذمہ دار لوگوں کو بات پہنچا دیں تا اصلاح ہو۔ لیکن تضحیک اور مذاق کیلئے ہرگز ان باتوں کو پھیلانا نہیں چاہئے۔ جن لوگوں کے پاس تربیت یااصلا ح کا کام ہے انھیں خاص طور پر اس کا خیال کرنا چاہئے۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے متعدد احادیث ے حوالے سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کی پردہ پوشی کا حکم دیا ہے اور اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے بڑے اجر کا قیامت کے دن وعدہ کیا ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی صفتِ ستاری سے فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں کی ستاری کرنا ضروری ہے یعنی دوسروں کے عیب چھپانے چاہئیں ۔ ہمیشہ اپنے گریبان میں دیکھنا چاہئے اور اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ ہاں کمزوری دیکھ کر ا س شخص کی اصلا ح کرنی چاہئے اور یہی اصل نیکی ہے۔ اس کا طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بتایا ہے کہ چاہئے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے ۔ اگر نہ مانے تو ا س کیلئے دعا کرے۔ اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو اسے قضا و قدر کا معاملہ سمجھو یعنی خدا کی یہی مرضی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کیا ہواہے تو تم بھی زیادہ جوش نہ دکھاؤ۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ کسی کا احمدی ہونا اور بیعت میں آنے سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کیا ہے پھر ہمیں بھی زیادہ تجسس نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ ہمیں ایسی جماعت ہونا چاہئے جو آپس میں رحم کرنے والے ہوں اور ایک دوسرے کی ستاری کرنے والے ہوں۔ ایک دوسرے کی ا س طرح مدد کریں گے تب ہی وہ حقیقی جماعت بن سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الام بنا نا چاہتے ہیں۔ اللہ کرےکہ ہم اسکی رضا حا صل کرنے والے ہوں۔ آخر میں حضورِ انور نے ملک سلیم لطیف ایڈوکیٹ صاحب کا نمازِ جنازہ پڑھایا جو صدر جماعت ننکانہ ، پاکستان تھے۔ آپکو ایک دن قبل معاندینِ احمدیت نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

Huzur (aba) said that no one is absolutely free of all weaknesses. This is the attribute of al-Sattar of God that He keeps our weaknesses hidden. Man would be utterly embarrassed if this wasn’t the case. This is why Allah has advised us to do Istighfaar. The word Ghafr and Sattr also means to cover or hide something. The Promised Messiah (as) has said that the God presented by Islam is forbearing, merciful and Who accepts repentance. Whoever does true repentance, He forgives his sins. But people of this world are such that if they see someone committing an evil, then they always blame even if they turn away from that action. But Allah is so merciful that He forgives us despite thousands of weaknesses. Huzur (aba) said that keeping this in mind, we shouldn’t seek out others’ weaknesses, rather should cover their weaknesses like the attribute of Allah. We extremely dislike if someone reveals our weakness, but do not think much of doing it to others. This is why the Holy Prophet (sa) has advised us to like for your brother what you like for yourself. Therefore, when you see others’ weaknesses, you should do istighfaar or seek forgiveness that your own weaknesses aren’t revealed. The Holy Prophet (sa) has said that whoever covers up the weaknesses of his Muslim brother in this world, Allah will do so to him in the hereafter. Huzur (aba) said that some people ask that how can we reform people without revealing their weaknesses? He said that if Jama’at is being harmed in any way, then the responsible people in Jama’at should be made aware. But it shouldn’t be done for mocking and to make him look bad. People who are responsible for Tarbiyyat or Spiritual training should especially take care of this teaching of Islam. Huzur-e-Anwar (aba) presented various sayings of the Holy Prophet (sa) that how he commanded Muslims to cover the weaknesses of his brothers and Allah has promised a great reward for this in the hereafter. Huzur (aba) said that if we want to benefit from the attribute of al-Sattar of Allah, then we should also practice this attribute meaning cover others’ weaknesses. We should always look towards ourselves before looking at others. Yes it is true that when we see some weakness in someone, we should try to reform him. The Promised Messiah (as) has advised us how to do this reformation. He said that when you see a weakness is someone, then advise him in private. If he doesn’t listen to you, then pray for him. If he still doesn’t mend his ways, then consider it a decree of Allah. If Allah has accepted him by keeping him in this Jama’at, then you also shouldn’t be over zealous. Huzur (aba) said that if someone is an Ahmadi and has done bai’at, then it shows that Allah has accepted him. We shouldn’t overly intervene in these matters. He advised that we should become such a community who are merciful to each other and hide each other’s weaknesses. Only by doing so can we become a true Jama’at as was the wish of the Promised Messiah (as). May Allah enable us to gain his pleasure. At the end, Huzur-e-Anwar (aba) led the funeral prayer of Advocate Malik Saleem Latif sahib who was recently martyred in Pakistan. He was serving as the president of Nankana Jama’at. انا ﷲ و انا الیہ راجعون

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Mar-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Promised Messiah and Mahdi (a.s.)
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 23 مارچ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے کیونکہ اس دن حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے باقاعدہ طور پر جماعت کی بنیاد رکھی۔ آپ نے فرمایا کہ آنے والا مسیح موعود اورمہدی موعود جس کی آنے کی آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے خبر دی تھی وہ میں ہوں۔اور فرمایا کہ خدا چاہتا ہے کہ تمام سعید روحوں کو جو دنیامیں بستی ہیں ان کو حقیقی توحید کی طرف کھینچے اور اسی کیلئے میں بھیجا گیا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ مقام و مرتبہ مجھے آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے عشق کی وجہ سے ملا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول و شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ صلى الله عليه وسلم , یہ وہ مقام ہے جو احمدی آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو دیتے ہیں۔ آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ احمدیوں پر ہر قسم کے مظالم ڈھا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اب عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان احمدیوں کی حفاظت فرمائے اور مسلمانوں کو مسیح موعود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو کہ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے مبعوث کئے گئے ۔ حضرت مسیح موعود کو بڑا درد تھا کہ لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلایا جائے۔ مثلا فرمایا کہ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیو نکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو !اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرےگا۔یہ زند گی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھادوں۔کس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں ۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو یہ مقام آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی پیروی کے باعث ملا ۔ فرمایا کہ جو لوگ حضرت مسیح موعو د کی مخالفت کرتے ہیں وہ عشقِ رسول میں آپکے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ مثلا فرمایا : اگر میں آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی امُّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگزنہ پاتا۔ حضور نے عشقِ رسول کے اور واقعات بھی بیان فرمانے کے بعد فرمایا کہ یہ باتیں سن کر بھی جو حضرت مسیح موعو دؑ پراعتراض کرتا ہے وہ جاہل اور مفسد ہے اور اس کا معاملہ اب اللہ تعالیٰ پر ہے۔ حضور نے فرمایا: حقوق اللہ کی ادائیگی اور خلق اللہ سے محبت کا ادراک دلوانا بھی حضرت مسیح موعود کا ایک اہم مقصد تھا۔ اور اس بات کو آپ نے شرائطِ بیعت میں بھی شامل فرمایا۔ مثلا فرمایا کہ دین کے دو ہی حصے ہیں یا دو بڑے مقاصد ہیں۔ اول یہ کہ خدا کو جاننا اور اس سے محبت کرنا۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی محبت اور خدمت میں اپنے تمام قویٰ کو خرچ کرنا۔ اس کے بعد حضورِانور نے آپ کی سیرت سے حقوق العباد کے بعض واقعات بیان فرمائے۔ حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حضرت مسیح موعو د کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب اسلام کی حکومت جو دنیا میں قائم ہونی ہےاور اسلام کی جو فتح مقدر ہے وہ اب حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت سے ہی ہونی ہے۔ آجکل جو اسلام کے نام پردنیا میں جو واقعات ہورہے ہیں مثلا دو دن پہلے یہاں لندن میں جو واقعات ہوئے ہیں ۔یہ اسی وجہ سے ہے کہ ان نام نہاد علماء نے لوگوں کی غلط راہنمائی کر کے ان کے دلوں میں اسلام کی خوبصورت تعلیم کے بجائےظلم کے خیالات پیدا کر دیئے ۔اسلام کا دفاع اب ہم احمدیوں کا ہی کام ہے۔ان لوگوں کی مخالفت جماعت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسیٰ کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نوامید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔ اللہ تعالیٰ کے مسیح کے ہاتھ کا لگایا بیج پھل لا رہا ہے اگر ہم نے پھلدار بننا ہے تو پھر اپنے اعمال اور نوع انسان سے ہمدردی اور محبت کو اس طرح بنائیں کہ ہمارے ہر عمل سے ایسا ظاہر ہو۔اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

March 23 is a historical day for us as Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani (as) laid the foundation of the Ahmadiyya Muslim Jama’at on this day. He said that I am the same Messiah and Mahdi foretold by the Holy Prophet (sa). He said that God wants to bring all righteous souls in this world towards true Tauheed or Unity of God and I have been sent for this reason. Then he said that I have been granted this status due to my love of the Holy Prophet (sa). He said that there is no Messenger and intercessor for humanity now except the Holy Prophet (sa). This is our belief. Despite this, Muslims are carrying out many atrocities against Ahmadis, even against women and children. May Allah safeguard all Ahmadis and may Allah enable Muslims to accept the Messiah and Imam Mahdi who was sent for the revival of Islam. The Promised Messiah (as) had great pain and anguish to call people to one true God. He once said: How unfortunate, indeed, is the man who does not even know that he has a God with power over all things! Our Paradise, indeed, is our God: our highest enjoyment is in God, for we have seen Him and found all beauty in Him. This treasure is worth having, even if at the cost of one's life; and this is a jewel worth procuring even if obtainable only by sacrificing one's entire being. O ye that are devoid, run to this spring, for it will quench your thirst. It is the spring of life that shall save you. What am I to do, and how should I impress this glad tiding upon your mind, with what drum should I go crying through the streets that this is your God, so that all should hear! Huzoor (aba) said that the Promised Messiah (as) has repeatedly said that he attained this status due to his love for the Holy Prophet (sa). For example, the Promised Messiah (as) said: If I wasn’t from the Ummah or people of the Holy Prophet (sa) and did not follow him, then even if my good deeds had been equal to the mountains of this world, I would not have received this status of communion with Allah. Huzoor (aba) also explained other instances of love of the Holy Prophet (sa) from the life of the Promised Messiah (as). Huzoor (aba) says that those who still raise this allegation against the Promised Messiah (as) are ignorant. Their matter is now with Allah. Another important purpose of the Promised Messiah (as) was to instill in hearts the love and sympathy for all mankind. He also included this in the conditions of Bai’at. For example, he said: There are two parts of religion or two main goals .First is to recognize God and to love him; second purpose is to spend all your abilities to love and serve the creation of God. Huzoor (aba) said that may Allah enable all Muslims to accept the Promised Messiah (as). The renaissance of Islam and the victory of Islam are decreed with the Jama’at of the Promised Messiah (as). The incidents which we are seeing these days (example: London attack) clearly show how the scholars of Islam have damaged the face of Islam. Now, it is our responsibility to defend Islam. Our Jama’at cannot be harmed from their opposition, no matter how severe it is. The Promised Messiah (as) says: The third century from today will not have completed when all those who had been waiting for Jesus, both Muslims and Christians will despair of his coming and entertaining misgivings shall give up their belief and there will be only one Faith in the world and one preceptor. I came only to sow the seed. That seed has been sown by my hands. It will now grow and blossom forth and none dare retard its growth May Allah enable us to become fruitful branches of this tree sown by the Promised Messiah (as). Ameen.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Mar-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Extremism and Persecution of Ahmadis
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی دنیا میں نسل پرست سیاسی جماعتوں کی پذیرائی بڑھتی جا رہی ہے۔ تجزیہ نگار اسکا الزام بائیں بازو کی حکومتوں کی امیگریشن پالیسی اور مسلمانوں پر ڈالتے ہیں کہ مسلمان ان ممالک میں آ کر ہمارے اندر جذب نہیں ہوتے اور اپنے مذہب پر جو ان کے خیال میں شدت پسند مذہب ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔ عجیب مضحکہ خیز باتیں کرتے ہیں کہ مثلا مًساجد کے مینار، عورتوں کا حجاب، مردوں کا عورتوں سے اور عورتوں کا مردوں سے مصافحہ نہ کرنا ہمارے لئے خطر ہیں۔ ہاں یہ بات انکی صحیح ہے کہ مسلم ممالک میں شدت پسند پائی جای ہے اور اسکا الزام مسلمانوں پر پڑتا ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ مسلم ممالک میں ان گروہوں کو ہتھیار مغربی ممالک سے ہی ملتے ہیں۔ مسلمانوں کو نقصان ہمیشہ اپنی ہی کمزوریوں اور اسلامی تعلیمات کو بھولنے کی وجہ سے پہنچا ہے۔ انھوں نے اس شخص کو نہیں مانا جس کے ہاتھ پر اسلام کی نشاۃ ثانیہ مقدر ہے۔ نہ صرف اُس پر ایمان نہیں لائے بلکہ ہر مسلم ملک میں اس کی اور اس کے ماننے والوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تو ایک عرصہ سے ایسا ہو ہی رہا ہے لیکن اب الجیریا میں بھی اس زمانہ کے امام کو ماننے کی وجہ سےاحمدیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اُن کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ جیل میں جانے والوں کی تعداد اب 200 سے زائد ہے۔ ان مخالف لوگوں کو اپنی حالتوں پر توجہ کرنی چاہئے کہ کیا واقعی یہ لوگ اسلامی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں۔ اگر حقیقی طور پر انکے علماءخادم دین ہوتے تو کیا آج اسلام پور ی دنیا میں یوں بدنام ہوتا۔ کیا اﷲ تعالیٰ نے قتل و غارت سے دین پھیلانے کا حکم دیا تھا۔ ہرِگزنہیں۔مسلمانوں کی حالت ان دنوں میں عجیب ہے۔ ایک طرف شدت پسندلوگوں کا طبقہ ہے اور دوسر ی طرف وہ لوگ جو مذہب سے لاتعلق ہیں اور پھرسیاستدان ہیں جو دنیاو ی جوہات اور بزدلی کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور ان شدت پسندوں کی ہاں میں ہاں ملادیتے ہیں۔ گویا ہر طبقہ اﷲتعالیٰ کے احکامات سے دور جا پڑا ہے۔ یہ سب لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں۔ اب احمدیوں کو ہی سوچنا چاہئے کیونکہ ان پر بہت بڑ ی ذمہ دار ی ہے۔ ہمار ی مخالفت مسلمانوں کی طرف سے بھی ہو ئی اور مذہب سے دور طبقہ کی طرف سے بھی۔ ایسے حالات میں ہمار ی ذمہ داری ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، ایمان کی حفاظت کریں اور اسلامی تعلیم کو دنیا کےسامنے پیش بھی کرنا ہے۔اس کے لئے اﷲ تعالیٰ نے ہمار ی راہنمائی قرآن کریم میں اس طر ح فرمائی ہے کہ یعنی ’اپنے رب کی طرف حکمت اور ایسی نصیحت کے ساتھ بلا جو بہترین ہو‘۔ پس حکمت سے لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے کی ضرورت ہے۔ ہاں حکمت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مداہنت سے کام لیا جائے یعنی غلط بات میں بھی ہاں سے ہاں ملا لی جائے۔ جن باتوں کو اسلام غلط ہی کہتا ہے انکو ہم نے بہر حال غلط ہی کہنا ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں آج صرف ہمار ی جماعت ہی ہےجو مؤثر طور پر اور متحد ہو کر اسلام کا دفاع کر سکتی ہے۔ جہاں بھی مخالفت ہوئی ہے وہاں ہی تبلیغ کے مواقع زیاد ہ پیدا ہوتے ہیں۔ پس خوفزد ہونے کی بجائے ہمیں کام کو اور تیز کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اسلام کی حفاظت اور سچائی کے ظاہر کرنے کیلئے سب سے اول ضرور ی ہے کہ تم سچے مسلمان بن کر دکھاؤ اور اسکی تعلیمات کو دنیا میں پھیلاؤ۔ اﷲ تعالیٰ ہم کو توفیق دے کہ ہم سچے مسلمان بننے والے ہوں اور حقیقی اسلام کی حفاظت اور سچائی ظاہر کرنے والوں میں سے ہم میں سے ہر اک بن جائے۔ آمین حضورِ انور ایدہ اﷲتعالیٰ نے آخر پر مندرجہ زیل نمازِ جناز غائب کا اعلان فرمایا: مکرم مولانا حکیم محمد دین صاحب، مکرم فضل الہی صاحب اور مراکش کے ابراہیم بن عبداﷲ صاحب۔ انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔

These days we see that the right wing parties are rising in the Western World. The analysts blame the immigration policies of the left wing parties for this rise. Muslims are also blamed for their lack of integration in western societies and for following their faith. Ridiculous statements are made that minarets of mosques or hijab of Muslim women present a danger to us. However, they are true in saying that extremism does exist in many Muslim countries and Muslims can be blamed for this. However, it should be remembered that these extremist groups often receive weapons and support from Western countries. Muslims have always been harmed due to their own weaknesses and forgetting the teachings of Islam. They haven’t accepted the Imam of this age. Not only did they not believe in him, they are actively opposing him and his community in every country. This had been happening for a long time in Pakistan Now even in Algeria, Ahmadis are being heavily persecuted. Over 200 people have been jailed. These people should ponder over their conditions and see if they are following teachings of Islam. If their scholars really were servants of Islam, would Islam be so defamed today? Has Allah asked us to spread faith by force? Of course not. We see one sector of Muslims that have been radicalized by extremism and the other sector of general public and politicians, who due to worldly reasons, do not oppose these views and tend to agree with them. All of them are far from Islam and are only Muslims by name. Ahmadis bear a huge responsibility at this time.We are opposed by both the extremists in Islam and by those who are far from religion in Western nations. We follow the Islamic teachings, safeguard our faith and spread Islam’s message with wisdom. Allah guides us in the Holy Quran: “Call towards the way of your Lord with wisdom and goodly exhortation.” We need to give Islam’s message with wisdom; however this doesn’t mean that we even agree with principles against Islam. We must denounce everything denounced by Islamic teachings. We should remember that today it is only our community that can defend Islam in a unified manner. Wherever there is opposition, there is also great potential for Tabligh. Therefore we shouldn’t be afraid; rather we should multiply our efforts at this time. The Promised Messiah (as) says that to safeguard Islam and propagate its message, it is important that first you show yourself to be a true Muslim and then spread its teachings. May Allah enable all of us to become true Muslims and among those who safeguard Islam. At the end, Huzur said he would lead the funeral prayers of Maulana Hakeem Muhammad Din Sahib, Mukarram Fazal Ilahi Sahib, and Mukarram Ibrahim bin Abdullah Sahib.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Mar-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Workings of Missionaries and Office Holders
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف ممالک میں اب جامعہ احمدیہ قائم ہو چکے ہیں جہاں سے مربیان تیار ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے یہاں مغربی معاشرے میں پڑھ کر پھراپنے آپکو جامعہ کیلئے پیش کیا۔ اپنے آپ کو وقف کرکے اللہ تعالیٰ کے دین کے سپاہیوں میں شامل ہوکر دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا وعدہ پورا کیا ہے۔ جماعت کو مربیان کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور یہ ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لئے زیادہ سے زیادہ والدین کو اور خاص طور پواقفین نو کے والدین کواس کیلئے اپنے بچوں کو تیار کرنا چاہئے۔ ہمارے انٹرنیشنل جامعات اب پاکستان، انڈیا، کینیڈا، جرمنی،، گھانا،یوکے اور انڈو نیشیا میں ہے۔ خاص طور پر واقفین نو لڑکوں کو جامعہ احمدیہ میں جانا چاہئے۔ بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ مربیان اور عہدیداران آپس میں پورا تعاون نہیں کرتے اور پورے طور پر ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے۔ مربیان کو یاد رکھنا چاہئے کہ انتظامی لحاظ سے جو بھی ان کے اوپر ہے اسکی بہرحال اطاعت کرنی ہے اور نمونہ دکھانا ہے اور صدران اور امراء کا بھی یہ کام ہے کہ مربیان کی عزت و احترام قائم کریں اور ان کو بھی تعاون اور مشورہ کے تھ چلنا چاہئے۔ پس آپس میں مل کر کام کرنا چاہئے۔ تعاونوا علی البر والتقو ی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ہم سب کا مقصد تو ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ممبرانِ خلافت سے تعلق پیدا کرنا اور تبلیغ کے ذریعہ توحید پھیلانا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کوئی جماعت اس وقت تک جماعت نہیں ہو سکتی جب تک طاقتور لوگ کمزوروں کی مدد نہ کریں۔ پس اس روح کو ذہن میں رکھ کر مربیان اور عہدیداران کو کام کرنا چاہئے۔ اگر آپس کا تعاون نہ ہو تو شیطان مختلف ر نگ میں اس جماعت میں بے چینیاں پیدا کرتاہے۔ عمومی طور پر کوئی اختلافات نہیں پائے جاتے ۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ان باتوں کے بتانے کامقصد صرف یہ ہے کہ مربیان اور عہدیداران کو واضح طور پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور تا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ پس احباب جماعت کی علمی اور عملی تربیت دونوں نے مل کر عاجزی اختیار کرتے ہوئے کرنی ہے۔ واقفین زندگی کا ادب کرنے سے آئندہ مربیان کا حصول بھی آسان ہو گا۔ گو خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کرتا ہے لیکن یہ تو انسانی فطرت ہے۔ اگر نوجوان جماعتوں میں واقفین زندگی کی عزت ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کی بھی اس طرف توجہ پیدا ہو گی۔ ہرجماعتی ممبر سے محبت سے بات کریں۔ جماعتی خدمت کو اپنے لئے ایک عزت سمجھیں اور خلیفۂ وقت کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ ہمیشہ مسکرا کر ملتے تھے۔ اسی طرح معاملات کو جلدی نپٹایا کریں تا لوگوں کو شکایات پیدا نہ ہوں اور اگر تاخیر ہو رہی ہے تو فریقین کو بتا دینا چاہئے تا ان کو برامحسوس نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ قیامت کے دن منصف حاکم اللہ کا محبوب اور غیر منصف حاکم خدا تعالیٰ سے دور ہو گا۔ پس اپنی ذمہ داروں کو تقویٰ اورعاجزی سے پوری کرنی چاہئیں ۔ اسی طرح اگر کوئی عہد یداران کے خلاف کوئی شکایت کرے تو آپ کے اندر بات سننے کا حوصلہ ہونا چاہئے اور اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ اسی طرح جماعتی ممبران کو تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اسی طرح انکو تقویٰ شعار عہدیداران بھی ملیں گے۔ آخر میں حضورِ انور نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہمارا ہر کام اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ ہم اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی جماعت میں شمولیت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو توقعات ہیں ان پر پورا اترنے والے ہوں۔ فرمایا خدا چاہتا ہے کہ تم ایک ایسی جماعت بنو جو تقویٰ پر بڑھنے والی ہو۔ تمہاری مجلسوں میں ناپاکی اور ہنسی ٹھٹھے نہ ہوں۔ نیک دل اور پا ک خیال ہوکر زمین پر چلو۔ اللہ کرے کہ ہم اپنی حالتوں کو اس کے مطابق بناتے ہوئے اللہ کی رحمت کے سائےمیں آنے والے ہوں۔ آمین

By the grace of Allah, our Jamia’at are established in different countries where missionaries are being prepared. These are people who have dedicated themselves for faith and have fulfilled the promise of giving faith priority over worldly affairs. The need for missionaries is constantly rising; therefore parents, especially parents of waqf-e-nau children, should prepare their children for this purpose. Our international Jamiat are now established in Ghana, India, Pakistan, Canada, Germany, UK and Indonesia. All waqf-e-Nau boys should try to go to Jamia and become a missionary. Sometimes, it is seen that Missionaries and office bearers do not fully cooperate with each other and do not give each other the due respect. Missionaries should remember that they must be obedient to the person over them and must display exemplary obedience. Presidents and Umura should also respect the missionaries and work in cooperation and counsel with them. Our eventual goal is the same; to spiritually reform the members of Jama’at, to join them with Khilafat and spread oneness of God in this world. The Promised Messiah (as) has said that no Jama’at can truly become a Jama’at until the stronger ones help the weaker ones. Missionaries and Office bearers should work with this spirit in mind. If internal cooperation is missing, Satan causes much restlessness in that Jama’at. These issues are very rare, but I’m explaining them so that missionaries and office bearers are clear regarding these issues. They have to do educational and moral training of Jama’at together with humility. Respecting Waqifeen in Jama’at would make it easier to get future missionaries. Even though Allah turns people towards waqf, but this is part of human nature. If the youth see the Waqifeen being respected in Jama’at, they will also be drawn towards this. You should greet every Jama’at member with respect as was the Sunnah of the Holy Prophet (saw). You should consider Jama’at work as an honor for yourself and try to fulfill the expectations of the Khalifa of the time. Similarly, you should try to promptly resolve the matters of members of Jama’at, so that they do not feel neglected. They should be informed if there is a delay for any reason. The Holy Prophet (saw) once said that just rulers will be beloved of God on the Day of Judgment and unjust rulers will be far from His grace. Therefore, you should fulfill your responsibilities with Taqwa and humility. If anyone complains against you, you should have the courage to listen and self-reflect whether or not you have that weakness. Similarly, members of Jama’at should also increase themselves in righteousness, so that they are blessed with righteous office bearers. At the end, Huzur (aba) prayed that may we all work for the sake of pleasure of Allah and fulfill the wishes of the Promised Messiah (as). The Promised Messiah (as) has said that God wants that He should make you into such a Jama’at that you become a model of righteousness and virtue for the entire world. May Allah help us in transforming ourselves according to these instructions. Ameen.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Mar-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Matrimonial Alliances and Issues
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضورِ انور نے فرمایا کہ رشتوں کے معاملات اور عائلی مسائل گھروں میں پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ اور ان وجوہات کی وجہ سے بعض اوقات اولاد بھی راہِ راست سے ہٹتی چلی جاتی ہے۔ بعض اوقات پڑھائی کی وجہ سے لڑکیوں کے رشتہ کو دیر سےکیا جا تا ہے اور بعض اوقات لڑکیوں کی سہیلیاں وغیرہ عورتوں کو ان ممالک میں حقوق کے نام پر غلط مشورے دیتی ہیں۔ بعض اوقات تو پاکستان سےآنے والی لڑکیاں بھی غلط خواہشات کرتی ہیں۔ اور ایسی ہی برائیاں بلکہ اس سے بڑھ کر لڑ کوں میں پائی جاتی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہےکہ قولِ سدید یعنی سیدھی بات نہیں کی جاتی۔ دونوں طرف سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ بہر حال ان وجوہات کی بنا پر بچے اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات غلط توقعات رکھی جاتی ہیں مثلا نئے گھر کی خواہش۔ ماں باپ کی بیجا دخل اندازی ہوتی ہے۔ بعض اوقات غلط وجوہات کی وجہ سے لڑکیوں طعنہ دیا جاتا ہے مثلا رنگ یا قد کی وجہ سے یا ملازمت کے باعث۔ شکووں کا یہ سلسلہ دونوں طرف سے چلتا چلا جاتا ہے اور صرف بچگانہ باتیں ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین سے دوری ہے اور دنیا داری میں دلچسپی ہے۔ ہمیں دینی تعلیمات کی روشنی میں ہی اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیاہے۔ اور خاص طور پر شادی کے معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کید کی ہے۔ مثلا فرمایا کہ شادی کے وقت خاندان، خوبصورتی، مال و دولت چھوڑ کر س بات کو ترجیح دینی چاہئے وہ یہ ہے کہ دینی عورت سے شادی کی جاے۔ پھر استخارہ کا بھی حکم ہے کہ رشتوں سے پہلے استخارہ کر لیا کرو اگر وہ رشتہ درست نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کوئی رو ک پیداا کر دے۔نکاح پر پڑھی جانے والی آیات پر ہمیشہ غور کر تے رہنا چاہئے کہ کس طرح تقویٰ کی نصیحت ہے، رحمی رشتہ داروں کا لحاظ رکھنے کی نصیحت ہے اور قولِ سدید کا حکم ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ رشتوں میں خا ندانوں کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ تقویٰ کو دیکھنا چاہئے ۔ ہاں کفوکو دیکھنا چاہئے ۔ کفو کا مطلب ہے کہ حالات کو دیکھ لیا جائےاور مناسب جگہ پر رشتہ کیا ج جائے۔ حضور علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کفو اپنے خاندان میں موجود ہو تو اسے رجیح دینی چاہئے لیکن یہ فرض نہیں ہے۔اسی طرح لڑکی دیکھنا یا لڑکیوں کے گھر جانا بھی سنتِ رسول سے ثابت ہے لیکن فضول باتوں میں ملوث نہیں ہونا چاہئے اور بلا وجہ بات کو لٹکانا بھی نہیں چاہئے ۔ لڑکیوں کو جذباتی تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے ۔ بعض اوقات لڑکے کے علیحدہ گھر نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ بنتا ہے۔ اگر لڑکے کے حالات ایسے نہ ہوں تو لڑکی والوں کو صبر کرناچاہئے ۔ بعض اوقات لڑکے کے ماں باپ کے پریشر کی وجہ سے بغیر کسی وجہ کے علیحدہ گھر نہیں لیتے۔ اس بارہ میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اسلام نے گھر علیحدہ ہو نے کی تلقین کی ہے۔ سو اگر ئی جائز مجبو ری نہ ہو توگھر علیحدہ ہونا چاہئے ۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا ہے کہ قرآن نے عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعروف کا حکم دیا ہے یعنی احسن رنگ میں عورتوں کےساتھ رہو۔ اگر ئی برائی بھی دیکھو تو صبر کرو۔ پھر مردوں کی دوسری شادی کی خواہش کی وجہ سے بعض مسائل یداا ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق بھی یاد رکھنا اہئے کہ ایسا مجبوری میں کرنا چاہئے ۔ صرف اپنی نفسانی اغراض پورا کرنے کیلئے ایسا کرنا غلط طرقہ کار ہے۔اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو ہدایت دے کہ وہ تقویٰ اور دین کے مطابق ان مسائل حل کریں اور دنیا داری سے وہ بچتے چلے جائیں۔ حضورِ انور نے چار نمازِ جنازہ پڑھائے۔1۔ محمد نواز صاحب آف جرمنی۔ 2۔ مکرم سید رفیق صاحب آف یو کے۔ 3۔ ڈاکٹر مرزا لائق احمد صاحب۔4۴۔ امین اللہ صاحب آف امریکہ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

In his Friday Sermon today, Huzur (aba) said that the matters of finding marriage partners and different matrimonial issues cause restlessness in homes. Due to this, the children also move away from the right path. Sometimes, the marriages of ladies are delayed due to education and sometimes, in the name of rights in these countries, women are given wrong advice by their friends. Huzur (aba) said even some girls coming from Pakistan fall into these errors. Such problems, even more so, are also found in men. The reason is that people don’t follow the Islamic command of always saying the simple, plain truth. Mistakes are committed on both sides which causes trouble and has negative impacts on children. Huzur (aba) said that sometimes there are wrong expectations such as of material things and parents get excessively involved in these matters. Sometimes, women are wrongly taunted for reasons such as her appearance or due to her employment. A long list of complaints comes out containing only petty matters. In summary, it is because of moving away from one’s faith and getting attracted to worldly things. It is imperative to find a solution of this from our faith. We have promised to give precedence to our faith over worldly matters. The Holy Prophet (sa) has advised us to especially practice this in matters of marriage. He said that instead of relying upon family status, wealth or beauty, you should prefer a faithful woman. We also have Istikhara prayer in this regard meaning asking Allah for goodness before deciding for a marriage proposal. We should always ponder upon the verses of Nikah which enjoins Taqwa, righteousness, looking after the relatives and always speaking the plain truth. The Promised Messiah (as) has also said that family status shouldn’t be looked upon in marriages, rather one should look at Taqwa. It is true that one should consider Kufw meaning compatibility. Huzur (aba) said that if a compatible and righteous marriage proposal exists within one’s family, then it should be preferred. However, this is not mandatory. Similarly, as per the instructions of the Holy Prophet (sa), it is allowed to see the woman before marriage and visit her household. However, there should not be any vein talk and the matter shouldn’t be prolonged unnecessarily. Women shouldn’t be given any emotional pain. Sometimes, the matter of the man having a separate house becomes an issue. If it is due to financial condition or any legitimate reason, then women should show patience. The Islamic teaching is that, barring any legitimate excuse, the newlywed couple should have a separate house. Hazrat Khalifatul-Masih I (ra) said that Quran has instructed men should live with them in a good manner. Even if you see weaknesses in women, you should show patience. Then some issues occur due to man’s wish of second marriage. This should only be done when there is a legitimate need. To do this to merely fulfil your desires is absolutely wrong. May Allah guide all Ahmadis to approach these matters with faith and righteousness and may they stay away from worldly attractions. Huzur (aba) led the following four funeral prayers: 1. Muhammad Nawaz Sahib of Germany. 2. Syed Rafiq Sahib of UK. 3. Dr. Mirza Laiq Ahmad Sahib of Pakistan. 4. AmeenUllah Khan Sahib of USA.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
24-Feb-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Worship, Sadaqat and Istighfar
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : آجکل دنیا میں ہر جگہ فتنہ و فساد برپا ہے اور مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بعض مسلم تنظیمیں ایسے کام بھی کر رہی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ایسا کیا جا رہاہے۔ بیشک احمدیوں کو جاننے والے ہمیں ا من پسند تسلیم کرتے ہیں لیکن عام حالات میں ہم احمدی بھی اس کا نشانہ بنتے ہیں ۔ اور اسکی مثالیں ہم جرمنی، ہالینڈ اور امریکہ میں دیکھتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک میں بھی ہمیں مسیح موعود اور امام مہدی کوماننے کی وجہ سے دشمنی کا سامنا ہے۔ پاکستان میں تو یہ عام تھا ہی اب الجزائر میں بھی ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں اور احمدیوں کو جیلوںمیں ڈالا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہم احمدیوں کو کیا کرنا چاہئے؟ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کے رحم کو کھینچنے کیلئے نماز اور دعا اور استغفار اور صدقات ہی ہمارے ہتھیار ہیں۔ عام طور پر لوگ اپنی دنیوی مصروفیات کے باعث استغفار اور صدقات کا حق ادا نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں توبہ و استغفار قبول کرتا ہوں اور اس طرح تمہاری بےچینیاں دور کرتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ صدقہ کا تعلق صدق سے ہے یعنی بندے کا خدا سے صدق اور سچا ئی کے تعلق کا اظہار ہے اور فرمایا کہ دعا سے دل میں سوز اور رقت پیدا ہوتی ہے۔ پس دعا اور توبہ سے دل میں ایک درد پیدا ہونا چاہئے اور ہماری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہئے۔پھر ایک حدیث قدسی میں رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب میرا بندہ ایک قدم میری طرف آتا ہے تو میں اسکی طرف دو قدم آتا ہوں ۔ جب بندہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں بھاگ کر اسکی طرف جاتا ہوں۔ پس دعاؤں کی قبولیت اور صدقات کی قبولیت پر ایمان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ا نکے ذریعہ مشکلات سے نکالتا ہے۔ حضرت مسیح موعود استغفار کے متعلق فرماتے ہیں کہ گناہ کا کیڑا انسان کے خون میں ملا ہوا ہے اور اس کا علاج استغفار ہے۔ استغفار یہ ہے کہ جو گناہ ہم کر چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بد اثرات سے دور رکھے اور جن گناہوں کی ہم میں طاقت ہے وہ ظہور پذیر ہی نہ ہوں اور اندر ہی جل جائیں۔ یاد رکھو کہ توبہ و استغفار سے اللہ تعالیٰ کا آ نےوالاعذاب ٹل جاتا ہے۔ تمام مذاہب اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں سے یہ متفق ہے کہ صدقہ و دعا سے بلا ٹل جاتی ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ ابھی تو ہم چھوٹے عذاب دیکھ رہے ہیں لیکن دنیا میں جو حالا ت پیدا ہو رہے ہیں اس وقت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ دنیا کے حالات کیلئے بھی صدقہ و دعا کریں۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نیکیوں پر عمل اور برائیوں سے دور رہنا بھی صدقہ ہے۔ فرمایا کہ آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور صدقہ میں دو ۔ فرمایاکہ سچی توبہ کرنے والا ایسا ہے یسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے ہم دعا کی حقیقت کو سمجھنے والے ہوں اور خالص ہو کر خدا کے سامنے جھکنے والے ہوں اپنے پچھلےگناہوں سے بخشش کریں اور آئندہ کیلئے اس سے بچیں ۔بلاؤں کو دور کرنے کیلئے صدقات دے و والے ہوں جو خدا کے ہاں مقبول ہوں اللہ تعالیٰ ہم کو ہمیشہ دشمن سے بچائے اور ان کے حملے ان پر الٹائے اور ہم ان میں شمار ہوں جو اس کاخوف دل میں رکھنے والے ہیں اور آنحضرت صلى الله عليه وسلم اور حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کے وارث ہوں ۔ آمین آخر پر حضورِ انور نے ایک نو مبائع عرب خاتون سعداء برطاوی صاحبہ کا نمازِ جنازہ پڑھایا جو : ۱ جنوری ۷:۱۲ کو دمشق میں وفات پاگئیں ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

After reciting Tashahud, Ta’wuz and Surah Fatiha Huzur (May Allah be his helper!) said: Today we see great unrest in the world and Muslims are largely held responsible. It is true that some Muslim organizations are responsible;however it’s also true that this is being done with an organized plan. Though the world recognizes Ahmadis as peaceful, but we also become a target in these conditions. We are seeing examples of this in Germany, Holland and America. And Ahmadis also face opposition in Muslim countries due to accepting the Promised Messiah (as). It is common in Pakistan, but now innocent Ahmadis are also being jailed in Algeria. What should we do in such conditions? To attract the mercy of Allah, we should turn to worship, sadaqat and Istighfaar. It is commonly seen that people don’t pay attention to these due to worldly engagements. Allah says in the Holy Quran: Know they not that Allah is He who accepts repentance from His servants and takes alms, and that Allah is He who is Oft-Returning with compassion, and is Merciful? (9: 104) The Promised Messiah (as) says that Sadqa comes from the word Sidq which means truthfulness represents a relationship of truthfulness with Allah and prayer creates extreme sorrow and distress in heart. So when we pray or do charity and seeking forgiveness, our full attention should be towards Allah. The Holy Prophet (sa) said in a Hadith-e-Qudsi that Allah says that when my servant takes one step towards me, I take two steps towards him. And when he walks towards me, I run towards him. So, we should have firm faith that Allah accepts our prayers and our Sadqa and charity and thus removes our difficulties and afflictions. The Promised Messiah (as) says that the source of sin is attached with each human. Istighfaar has two meanings; first, that we ask Allah to keep us safe from the evil effects of our sins. Secondly, we seek power from Him so that we do not commit any sins in future and do not act upon these forces of sin within us. Huzur (aba) said that we are merely seeing small punishments and afflictions in these days, but seeing what is happening around the world, it is the duty of our Jama’at to pray for ourselves as well as the entire world. The Holy Prophet (sa) said that doing good deeds and staying away from evil deeds is also Sadqa. He also said that save your selves from fire, even with half a date in Sadqa. A person who truly repents from his sins is like someone who hasn’t sinned, so repent from your sins and fear Allah. May Allah keep us in His protection and may we understand the reality of Prayer, Sadqa, Istighfar and Taubah Huzur (aba) also led the funeral prayer of a Nau Mubai Arab lady respected Saada Bartavi Sahiba who passed away on January 10, 2017 in Damascus

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
17-Feb-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Kyrgyz (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: The Prophecy about Musleh Ma'ood
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

آج کے خطبۂ جمعہ میں حضو ر انور ایدہ اللہ نے تشہد و تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ 20 فروری کا دن جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک عظیم بیٹے کے متعلق خبر دی گئی اور جماعت کی مصلح موعودؓ کے دور میں غیر معمولی ترقیات کی پیشگوئی تھی ۔پس یہ پیشگوئی حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ میں لفظاً لفظاً پوری ہوئی۔اور یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے 1914میں خلافت کا منصب عطا فرمایا۔ پیشگوئی مصلح موعود کے تمام نشانات آپ میں پورے ہوتے ہوئے نظر آتے تھے لیکن 1944سے پہلے آپ نے اعلان نہیں کیا کہ آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔ آپکا نقطہ نظر یہ تھا کہ اگر یہ پیشگوئی مجھ پر پوری ہو رہی ہے تو لوگ خود ہی جان لیں گے۔ 1944میں ایک رؤیا کی بنیاد پر آپ نے دعویٔ مصلح موعود کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ گراں گزرتا ہے کہ میں اپنے متعلق رویا و کشوف بیان کروں لیکن بعض حالات کی وجہ سے ایسا کرنا ضروری ہے۔ 1944 میں آپکے دعویٰ کے بعد مخالفین نے اعتراضات بھی شروع کر دئے۔ 1945کے جلسہ سالانہ میں آپ نے فرمایا کہ جب سے میں نے دعویٰ کیا ہے مولوی محمد علی صاحب نے بے جا اعتراضات شروع کر دئے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے الہام کی بنیاد پر دعویٰ رہے کیا ہے۔ مولوی صاحب کوئی الہام تو پیش نہیں کرتے اور اپنی طرف سے جھوٹے الزام لگا رہے ہیں۔ اس کے بعد حضو ر انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اپنے منصب کے متعلق مختلف الہامات بیان کئے۔ مثلاً حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک الہا م ہوا تھا جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی بتایا تھا اور آپ نے اس کو نوٹ بھی کر لیا تھا۔ اس الہا م کا ترجمہ یہ تھا یعنی وہ لوگ جو آپ کے پیچھے چلیں گے ا ن کو ا ن لوگوں پر فوقیت اور غلبہ دیا جائیگا جو آپ کا انکار کریں گے۔ انکار کرنے والوں سے مراد پیغامی یا لاہوری ہیں اور ایسا ہی ہوا کہ پہلے دن سے ہی مبائع احمدیوں کو پیغامیوں یا لاہوری جماعت پر غلبہ دیا گیا اور یہ غلبہ بڑھتاگیا۔ حضور انور نے بعض اور الہامات کا بھی ذکر فرمایا۔ آخر پرحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے ایم ٹی اے پر بھی پروگرام آئیں گے اورجماعتوں میں بھی پروگرام کئے جائیں گے۔ تمام ممبرا ن جماعت کو ان پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ شامل ہونا چاہئے۔

Huzur (aba) said that February 20th is known in Jama’at as Musleh Ma’ood Day. This refers to the great prophecy of the Promised Son and Reformer which was given to the Promised Messiah (as). As we know, this prophecy was fulfilled in the person of Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad (ra) and is a significant sign of the truthfulness of the Promised Messiah (as) in this age. Allah gave Hazrat Musleh Ma’ood (ra) the status of Khilafat in 1914. All the signs in the Prophecy of Musleh Ma’ood could be seen in him, but he did not make the announcement of being the Musleh Ma’ood. His stance was that if I am indeed the Musleh Maud and the signs are being fulfilled, then people will understand themselves. It was in 1944 when he announced to be Musleh Ma’ood based on a vision shown by Allah. He said it was difficult for him to mention visions and revelations about himself, but it had become necessary due to certain conditions. After his claim of being Musleh Ma’ood in 1944, his enemies raised many allegations. He said at the Jalsa of 1945 that since my claim, Maulvi Muhammad Ali sahib of has been raising allegations, even though I’ve based my claim on divine revelation. Instead of these allegations, Maulvi Muhammad Ali sahib should present his own revelations that he has received from Allah. Then Huzur (aba) presented various revelations of Hazrat Musleh Ma’ood regarding his own status. For example, Hazrat Musleh Ma’ood says that he was given a revelation which he mentioned to the Promised Messiah (as). The Promised Messiah (as) also noted this revelation in his notebook. This revelation means that people who will follow you will be given victory over those who reject you until the Day of Judgment. People who rejected him were the Ahl- e-Pegham or Lahori Ahmadis. They rejected him and the institution of Khilafat. The revelation was fulfilled because from the very first day, those who accepted Hazrat Musleh Ma’ood (ra) as a Khalifa remained dominant and victorious over those who rejected him. This dominance continues to increase by the day. Huzur (aba) also presented various other revelations of Hazrat Musleh Ma’ood (ra). Huzur said that all Ahmadis should try to watch various programs about the prophecy of Musleh Ma’ood which will be aired on MTA during these days and participate in different programs which will also be organized in Jama’ats worldwide. Hazrat Musleh Ma’ood (ra) as a Khalifa remained dominant and victorious over those who rejected him. This dominion continues to increase by day. Huzur (aba) also presented various other revelations of Hazrat Musleh Ma’ood (ra). Huzur said that all Ahmadis should try to watch various programs about the prophecy of Musleh Ma’ood which will be aired on MTA during these days and participate in different programs which will also be organized in Jama’ats worldwide.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
10-Feb-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Portuguese (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: IslamAhmadiyyat: The Path to Spiritual Evolution
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: انسان آج دنیاداری میں بڑھتا جا رہا ہے اور دنیوی کاموں میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اور دنیا کو ثانوی حیثیت د ی ہوئی ہے بلکہ بہت سے ہیں جو خدا کی ذات کے ہی منکر ہو گئے ہیں۔ لیکن ایسے بھی ہیں جو خدا کی تلاش میں ہیں اور اس سے ایک تعلق پیداکرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ سچے دین کی تلاش میں ہیں اور اس کیلئے کوشش کرتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ بھی راہنمائی کرتا ہے اور سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کیلئے اپنے وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق کو مسیح اور امام مہدی بنا کر بھیجا ہے اور اس طرح دنیا کی راہنمائی کے سامان کئے ہیں۔ ہر روز دنیا میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں جن سے نہ صرف نئےلوگ اس جماعت میں داخل ہو رہے ہیں بلکہ پرانے احمدیوں کیلئے بھی ازدادِ ایمان کا موجب بن رہے ہیں۔ گیمبیا کی ایک خاتون کا واقعہ حضورِ انور نے بیان کیا۔ 10سال سے وہ پاؤں کی تکلیف میں تھیں۔ ہر قسم کےعلاج کو باوجود بیماری نہ جاتی تھی۔ ایک بار وہ اعلاج کیلئے ایک دور جگہ گئیں تو وہاں پر انھوں نے خطبۂ جمعہ سن لیا۔ جب وہ گاؤں واپس آئیں تو کچھ عرصہ بعد خواب میں انھیں بتایا گیا کہ جس کا خطبہ سنا ہے اس کے پیچھے چلو کیونکہ وہ ہدایت کا راستہ دکھا رہا ہے۔ چنانچہ انھوں نے بیعت کر لی اور اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کے پاؤں کی تکلیف بھی جاتی رہی اور اب وہ پورے گاؤں میں جماعت احمدیہ کی تبلیغ کرتی ہیں۔ برکینا فاسو کے ایک شخص کا واقعہ بیان کیا جنھوں نے جلسہ جرمنی کے بعد احمدیت قبول کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ سے میں جماعت کا ریڈیو سنتا تھا ۔ باوجود غیر احمدی ہونے کے احمدیوں سے رابطہ بھی تھا اور جب وہ میر ے گاؤں آئے تو تبلیغ میں بھی ان کی مدد کرتا۔ کچھ مولوی ان کے پاس آئے اور کہا کہ ان سے تعلق کاٹ دو کیونکہ وہ لوگ آپکا ایمان خراب کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے احمدیوں سے تعلق توڑ دیا۔ کچھ عرصہ بعد کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آ رہا تھا تو ایک گاؤں میں نماز کےلئے رکا۔ وضو کے دوران ایک شخص کو سنا کہ یہ احمدی گاؤں ہے۔ چنانچہ میں نے وضو کو لمبا کر دیا اور باجماعت نمازکے بعد اپنی نماز ادا کی۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ بہت بڑا ہجوم ہے اور میں ہجوم کے اندر لوگوں کو ہٹا رہا ہوں۔ اندر ایک شخص ہے جس کے ارد گرد ہزاروں لوگ کھڑے ہیں ۔ میں نے کسی سے پوچھا کہ ہ کون شخص ہے تو بتایا گیا کہ ہ وہی ہیں جن سےمولوی آپکو روک رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے میشن ہاؤس کال کی کہ بیعت کے لئے آنا چاہتاہوں۔ جس دن مربی صاب نے آنے کیلئے کہا میں اس دن پہنچا تو دیکھا کہ لوگ ٹی وی پر کچھ دیکھ رہے تھے۔ جب میں نے ٹی وی دیکھا تو وہی منظر تھا جو میں نے خواب میں دیکھاتھا۔ مربی صاب سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہمار ےخلیفہ جلسہ جرمنی سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ فوراً میریبیعت لے لیں۔ خدا کی قسم یہ وہی نظارہ ہے جو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ موصوف اب اہل و عیال سمیت ا احمدی ہو ئے ہیں اوردوسروں کو بھی تبلیغ کر رہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا: آج دنیا کو اگر کوئی اسلام سکھا سکتا ہے تو وہی سکھا سکتا ہے جس نے حضرت مسیح موعود ؑکو مانا ہو۔ کہنے کو تو بہت سے ادار ے ہیں جو خدمت اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔لیکن ان کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں۔ یہ کام اب مسیح موعود ؑکے غلاموں کا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کواس کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نئے احمدیوں کو ایمان میں بڑھاتا چلا جائے۔ اور جو پیدائشی احمدی ہیں ہمیں بھی ایمان میں مضبوطی عطا کر ۔ آمین۔

There is a huge rush in the world and mankind is busy in attaining worldly desires. There are plenty people in the world who decline the existence of God and His Prophet(saw). They believe that God and religion is a vain desire. But there are people who are looking for God and want to create an everlasting bond with Him. These people are in search for the true religion and praying constantly to find it. These are the people whom Allah guides and shows them the right path. In this age according to God’s promise, he sent the Messiah and Mahdi under the subservience and leadership of Holy Prophet (sa). Each day there are countless examples of people entering the Jama’at and this allows the faith of old Ahmadis to increase. Huzoor (aba) mentioned an incident of an old lady from Gambia. She was suffering from severe issues related to her feet. She tried every medicine and every type of treatment but there was no cure. Once for her cure she travelled far and at one place she listen to Huzoor (aba) Friday sermon on MTA. When she returned back to her village she was told in her dream to follow and listen to the person whom you saw on TV because that is the right and true path. Hence, she accepted Ahmadiyyat and shortly after that the issues with her feet also resolved. Now she is an active member in her village doing tabligh. Huzoor (aba) narrated several incidents in his Friday Sermon that show how God is guiding people Himself towards accepting Ahmadiyyat. There is an incident of a man from Burkina Faso. He accepted Ahmadiyyat after Jalsa Germany. He says that even though he wasn’t an Ahmadi, he used to listen to the Ahmadiyya radio and had a good relationship with Ahmadis. When the Muslim clerics found out, they told him to not have any relationship with Ahmadis as this will destroy his faith. He listened to them and stopped talking to Ahmadis. He says, after sometime, while he was on a journey, he stopped at a mosque to pray. While he was doing wudu (ablution), someone mentioned that this is an Ahmadi village. Therefore, he delayed his wuzu (ablution) and performed his own prayer. He says that he saw a dream that night where he saw a big crowd. He removed people from his way and saw a man standing in the middle with thousands around him. When he asked about this man, he was told in his dream that this is the same person whom the clerics have told you to stay away from. Therefore, he called the local Ahmadi mosque to do Bai’at He says when he reached the mosque, he saw that all people were watching the TV. What he saw on TV astonished him because it was the same scene he had seen in his dream. He asked the local Ahmadi Imam, who told him that this is our Caliph who is addressing the annual convention of Germany. He replied that accept my Bai’at right away – By God, this is the same scene I was showed in my dream. Huzoor (aba) said that today it is only Ahmadis who can teach Islam to the rest of the world. They have accepted the Messiah and Mahdi. There may be many organizations who claim to teach Islam, but in reality, they all serve personal goals. This work now belongs to the servants of the Messiah and Mahdi. May Allah enable us to carry out our responsibilities.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
03-Feb-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Purpose of Jalsa Salana
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu
Slide Deck: Powerpoint | Powerpoint | PDF
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :آج بنگلہ دیش کا اور سیرالیون کےجلسوں کا آغاز ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنگلہ دیش کی جماعت بڑی مخلص جماعت ہے۔ یہاں احمدی سختیاں بھی برداشت کر رہے ہیں لیکن وہ اپنےایمان پر پکے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان جلسوں کو بابرکت فرمائے۔ ہمیں ان جلسوں کی حقیقی روح اور مقصد کو یاد رکھنا چاہئے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔مثلا فًرمایا کہ جلسہ کا مقصد یہ ہے کہ زہد و تقویٰ پیدا ہو۔ پھر فرمایا کہ ایک مقصد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہو یعنی اپنے محبوب کی ناراضگی کاخوف ہو۔ پھر فرمایا کہ ایک مقصد یہ ہے کہ ایک دوسرے سے محبت اور بھائی چارہ پیدا ہو۔ اسی طرح اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بھی جلسوں کاایک مقصد ہے تا دنیا کو پتہ چلے کہ اگر کسی نے حقیقی اسلام کا نمونہ دیکھنا ہے تو احمدی مسلمانوں کو دیکھو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماے ہیں کہ تقوی کا طلب ہے ادنیٰ ادنیٰ بدیوں سے بھی پرہیز کرنا لیکن یاد رکھو کہ تقویٰ اور نیکی صرف بدی سے ہی بچنے کا نام نہیں ہے۔ اصل اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر کامل وفا دکھائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقُوا وَ الَّذِیْنَ ھُمْ مُحْسِنُون ۔یعنی اللہ ان کےساتھ ہے جو بدی سے دور رہتے ہیں اور اس کے ساتھ نیکیاں بھی کرتے ہیں۔ دعا کی حقیقت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اقتباس کو حضور انور نے اس طرح بیان فرمایا کہ دعا ایک ایسا پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔ ایسی دعا جو دل سےنکلے جو کبھی خدا کے سامنے کھڑی ہوتی ہے اور کبھی رکوع کرتی ہے اورکبھی سجدہ کرتی ہے۔ یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے یعنی ایسی نماز جس کے بعد انسانی روح خدا کی طرف جھک جائے۔ ظاہری رکوع اور سجود کا کوئی فائدہ نہیں جب تک یہ کوشش نہ ہو کہ روح بھی اس کا کچھ حصہ لے اور اس فضل کو حاصل کرنے کیلئے بھی اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرنی چاہئے۔ اللہ کرے کہ تمام احمدی تقویٰ کا حقیقی فہم حاصل کرنے والے ہوں اور اصل نمازیں اور خدا کی عبادت ہمیں حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Today, Jalsa Salana of Bangladesh and Sierra Leona Jama’at are starting. By the grace of God, Bangladesh Jama’at is very strong in faith despite facing much persecution. May Allah continue to increase them in faith and bless both of these conventions immensely. We should always remember the true purpose of these conventions as stated by the Promised Messiah(as) is to instill Taqwa and righteousness in us. Other gains made at The Jalsa are to instill the fear of God in our hearts, to increase love and affection for fellow Ahmadi brothers and sisters and remove malice from our hearts and to showcase true Islamic morals so that the world should know that it is Ahmadis today who truly illustrate the teachings of Islam in themselves. The Promised Messiah (as) said that Taqwa means to stay away from all paths or sources of evil. But remember that Taqwa or righteousness doesn’t only mean staying away from evil. True righteousness is to serve humanity and show complete dedication to God. This is why Allah has said in the Holy Quran "Verily, Allah is with those who are righteous and those who do good." (16:129) Pertaining to prayers The Promised Messiah(as) states that true prayer is like the spiritual water which erases all inner impurities. Such is the prayer that when it is done properly comes from a person’s heart. Doing this man stands in front of Allah in worship, sometimes does Ruku and prostrates in front of Allah. This in fact is the true prayer or Salat which makes man move closer to God. Physical acts of worship are not useful if our soul also does not participate in this prayer. This is only possible by the grace of God, for which again we need to turn to Allah and pray for His mercy. All Ahmadis need to understand the true essence of Taqwa and prayer and reality of worship of God. May Allah enable us to do so.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
27-Jan-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Pushto (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Salat and its etiquette
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Telugu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ گزشتہ خطبہ میں نماز کی طرف توجہ دلائی گئی تھی جس کے بعد احمدیوں کے بہت سےخط موصول ہوئے جس میں انفرادی طور پر اور ذیلی تنظیموک نے بھی اپنی اصلاح کا وعدہ کیا ہے۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر چیز کےاعلیٰ نتائج کیلئے مستقل مزاجی ضروری ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کام کے شروع میں بہت جوش ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ سستی پیدا ہوتی ہے۔ نظام کو کبھی سست نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جماعت کے افراد کی اصلاح اس پر منحصر ہے۔اس لئے عبادت کے پہلو میں مستقل ترقی ہونی چاہئے ۔ حضور نے فرمایا کہ بعض لوگو ں کا یہ حال ہے کہ اگر ان کو نماز کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ غصہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ انسا ن اور خدا کا معاملہ ہے۔ انکو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ بیشک بندہ اور خدا کا معاملہ ہے لیکن توجہ دلانا بہرحال نظام کا کام ہے اور بیویوں کا کام ہے اور ان کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے ایسی سوچ بہرحال غلط ہے۔ فرمایا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ سے بعض ایسی فقہی باتیں نماز کے متعلق پیش کروں گا جن کے بارہ میں لوگ پوچھتے ہیں۔ مختلف فرقوں سے لوگ جماعت میں داخل ہوتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور حکم و عدل ان باتوں کافیصلہ کیا ہے۔ مثلا رفع یدین کی بات ہے یعنی ہر رکعت میں ہاتھ کانوں کو لگانا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور حدیث میں بھی دونوں طریق ملتے ہیں۔ اگر کوئی کرے تو لڑنے کی ضرورت نہیں۔ مگر خود اسِکو باقاعدہ طور پر نہیں اپنایا۔ پھر فاتحہ خلفِ امام کاہے یعنی امام کے پیچھے سور فاتحہ پڑھنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے باقاعدہ طور پر ثابت ہے۔فرمایا کہ یہ ضروری ہے لیکن اگر کوئی خاموشی سے تلاوت سنے اور نہ پڑھے تو اس کی بھی نماز ہو جاتی ہے۔ رکوع اور سجود چونکہ انکساری اور تذلل کے مقام ہیں اس لئے ان میں قرآنی دعاؤں کو نہیں پڑھنا چاہئے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ رکوع میں اگر کوئی شامل ہو جاتا ہے تو س اس کی وہ رکعت ہو جاتی ہے۔اگر امام عصر کی نماز پڑھا رہاہے اور ایسا شخص آ جائے جس نے ظہر نہیں پڑھی تو اسے ظہر پہلے پڑھنی چاہئے۔ یعنی نمازوں کی ترتیب برقرار رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اگر معلوم نہ ہو اور وہ جماعت میں شامل ہو جائے تو اس کی بھی وہی نماز ہو گی جو امام پڑھا رہا ہےاور جو رہ گئی ہے وہ پھر بعد میں پڑھ لے۔ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنتیں گھر پر پڑھتے تھے اس لئے بعض لوگوں نے سمجھ لیا کہ شاید سنتیں پڑھنا ضروری نہیں۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ نے فرمایا کہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضور علیہ السلام گھر پر سنتیں ادا کرتے تھے۔ اس کی گواہی حضرت مرزابشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ اور دوسرے اشخاص نے بھی دی۔حضرت مسیح موعود ؑنے ایسے لوگوک کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جو آپؑ کی تکذیب و تکفیر کرتے ہیں اور اسی طرح جو لوگ خاموش ہیں یعنی نہ تصدیق کرتے ہیں اور نہ تکفیر ا ن کے پیچھے بھی نماز پڑھنے سےمنع کیا ہے۔ آخر پر حضورِ انور نےالجزائر کی جماعت کیلئے دعا کی درخواست کی جہاں پولیس اور حکومت کی طرف سےاحمدیوں پر جھوٹے مقدمےدرج کئے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام احمدیوں کو ا ن کے شر سے بچائے۔ آمین۔

Huzoor (May Allah be his Helper) said that after I spoke about Salat in previous sermon, many Ahmadis and auxiliary organizations have written to me and promised to bring about reform. We should remember that a constant effort is needed by the entire Nizaam or system of Jama’at in this regard. It is especially the duty of Lajna Imaillah that they should inculcate the habit of regularly offering salat with children and also encouraging their spouses to pray and pray in congregation. Some people become angry and irritated when advised about prayers and say that this matter is between me and God. No doubt the matter is between you and God, but it is the responsibility of Jama’at and your spouses to encourage you and advise you to be regular in prayers. I will present some matters of fiqah or jurisprudence about Namaz as given by the Promised Messiah (may peace be on him). Muslims enter this Jama’at from different sects. As Hakm and Adl or arbitrator and judge, the Promised Messiah (may peace be on him)) has decided these matters for us. About Rafa Yadain meaning raising your hands to ears in every Rakat, there is no problem in it as it is substantiated from ahadith. The Promised Messiah ( may peace be on him) did not do this. Reciting Surah Fatihah behind the Imam is an approved practice and is better than not reciting Reading Bimillah out loud before reciting the Surah in salat and saying Ameen out loud after Surah Fatihah was not adopted by the Promised Messiah (may peace be on him). There is nothing wrong with doing so. Reciting Quranic prayers in Ruku and Sujud should not be done even though these are positions of extreme humility. It was not the practice of The Prophet (peace be upon him) .Quranic verses have an exalted status. It was asked whether a Rakat should be counted if one joins in Ruku. The Promised Messiah (peace be on him) said that my personal inclination is that there is no prayer without Fatihah.But if one gets late despite trying and joins Ruku, his Rakat would be counted as this is stated in ahadith. If the Imam is leading Asr prayer and a person comes who hasn’t yet read Zuhr prayer, then he should first read Zuhr prayer – meaning it is preferable to keep the order of prayers. If the follower doesn’t know which prayer is being lead, then his prayer would be that of the Imam. He should read his own missed prayer afterwards. Meaning if he accidentally reads Asr prayer with the Imam first without Zuhr first, then he should do Zuhr prayer afterwards. Because the Promised Messiah (peace be on him) used to offer Sunnat prayers at home, some people misunderstood that they may not be mandatory. Hazrat Khalifatul-Masih I (may Allah be pleased with him)) clarified this matter that he offered all his Sunnat prayers at home and Mirza Bashir-ud-Din Mahmood Ahmad (may Allah be pleased with him) and other members confirmed this as well. The Promised Messiah (may peace be on him) forbade to read prayer behind any such person who declares the Promised Messiah (may peace be on him) as a Kafir or a liar. Your Imam should be from amongst yourselves. It is also forbidden to pray behind a person who stays quiet in this regard, meaning he neither believes in the Promised Messiah (peace be on him)) nor declares him false. At the end, Huzoor (may Allah be his Helper) asked all Ahmadis to pray for the Ahmadis of Algeria. May Allah keep all Ahmadis safe and under His protection .Ameen.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
20-Jan-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Portuguese (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: The Virtues of Congregational Salat
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Telugu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضور نے فرمایا کہ نماز کی فرضیت کے متعلق ہم سب جانتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی اس طرف توجہ دلائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ نماز کو ترک کرنا انسان کو کفر کے قریب کر دیتا ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ قیامت کےدن جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائیگا وہ نماز ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ بچوں کو ۷ سال کی عمر میں نمازوں کی تلقین کرو اور ۱۰ سال تک ان کو اسکا پابند کرو۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر والدین ہی نماز میں باقاعدہ نہ ہوں تو بچوں پر برا اثر ڈلے گا۔ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق کو بھیجا ہے جنہوں نے نماز کی حقیقت سے ہمیں آگاہ فرمایاہے۔ اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو مانیں لیکن بنیادی عبادات مثلا نماز وغیرہ میں کمزوری دکھائیں تو ہم کس طرح دعو یٰ کر سکتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے طابق مسیح موعود کو مانا ہے۔ حقیقی طور پر ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر سکیں گے جب ہم اپنی نمازوں سے روحانی مزہ اٹھانا شروع کر دیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز میں لذت کے متعلق فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی کو جب مزہ حاصل نہیں ہوتا تو وہ شراب پیتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو نشہ آ جاتا ہے۔ ایک عقلمندشخص اس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ مطلب کہ نماز میں دوام یعنی باقاعدگی پیداکر ےیعنی کہ پڑھتا جاے اور چھوڑے نہیں یہاں تک کہ روحانی حظ حاصل ہو۔ پھر فرمایا کہ ایک خلوص اور جوش کے ساتھ اس میں لگا رہے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ لذت حاصل ہوجائیگی۔ حضور نے فرمایا پس حضرت مسیح موعودؑ نے ہمارے لئے ٹارگٹ رکھا ہے کہ اپنی نمازوں کے اس روحانی درجہ پر لے جائیں کہ یہ روحانی سرور حاصل ہو۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز با جماعت کی اہمیت بھی عیاں کیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نمازباجماعت میں خدا تعالیٰ نے زیادہ اجر رکھاہے۔ اس سے مومنین میں وحدت بھی پیداہوتی ہے اور ایک دوسر ےکے انوار بھی جذب کرتے ہیں یعنی کمزور ایمان والےدوسروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حضورِ انور نے پاکستان کے خدام احمدیوں کو خصوصا اور عام احمدیوں کو عموما نصیحت فرمائی کہ کامیابیاں حاصل کرنے کیلئے نمازوں میں پابندی ضرورع ہے۔وہ احمدی جو ہجرت کر کے باہر کے ملکوں میں آگئے ہیں انکو خاص طور پر خدا تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوے نمازوں میں پابندی اختیار کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ تم بیشک میر ےحقوق ادا نہ کرو چونکہ تم نے مسیح موعود کو مان لیا ہےاس لئے تم ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔ اگر ایسا رویہ ہے تو یہ تو خدا تعالیٰ کا امتحان لینے والی بات ہے۔ اسی طرح حضور نے فرمایا کہ نظام کو نماز کی طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے اور دوسری ترجیحات مثلا مالی نظام کی نسبت نمازوں کی طرفزیادہ توجہ دلای چاہئے۔ اگر نمازوں میں لوگ پابند ہو جائیں تو تو مالی نظام تو ایک طرف باقی شعبہ جات بھی خود بخود درست ہو جائیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ آجکل کے حالات میں جب جنگ کا خطرہ ہے تو بہت لوگ لکھتے ہیں کہ کیا ہو گا اور ایسے حالات میں کیا کریں ۔ فرمایا کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الام ک نے فرمایا ہے کہ خدائے ذو العجائب سے پیار کرنا ہو گا اور اسکا یہی طریق ہے کہ اپنی نمازوں میں پابند بنیں۔ حضور نے فرمایا کہ مغربی ممالک میں آ کر بعض احمدی بھی ادھر کے لوگوں کی طرح خدا کو بھول جاتے ہیں یا گمان کرتے ہیں کہ ہم دوتین نمازیں بھی پڑھ لیں تو ہم بہتر ہیں۔ فرمایا کہ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ اسلام کی مکمل تعلیم پر عمل کریں اور اسی طرح ہم اپنےآپکو برائیوں سے دور رکھ سکتے ہیں۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد دیگر اقتباسات بھی پیش کئے ۔ فرمایاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں نمازوں کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے ، ہم کبھی سستی نہ دکھائیں ، ہماری نمازوں میں اللہ تعالیٰ ایک روحانی لذت پیدا کر دے ۔ آمین۔

Today’s Friday sermon was delivered by Khalifatul Masih V (may Allah be his Helper) from Baitul Futuh mosque, London. After Tashahhud and Surah Fatihah Huzoor (May Allah be his Helper) saidthat we all know that salat or prayers have been made mandatory by Allah in the Holy Quran and by the Holy Prophet ( peace be upon him). The Holy Prophet (peace be upon him) said that not saying salat takes one closer to disbelief and is tantamount to shirk. Similarly, The Prophet ( peace be upon him) said that the first matter to be questioned on the day of Judgment will be Salat. The Holy Prophet (Peace be upon him) said to advise children to offer Salat when they are seven years old and make them regular by the age of ten. Parents should remember that their children will be badly affected if the parents themselves aren’t regular in their salat. In this age, the Promised Messiah (peace be on him)) has given us the true understanding of prayers and salat. If we show weakness in this regard, how can we claim that we are the true followers. We can only be true Ahmadis when we start to acquire a spiritual pleasure in our salat The Promised Messiah (peace be on him) says in this regard that an alcoholic continues to drink and does not stop until he has become fully intoxicated. A wise believer can take heed from this. You should adopt regularity in your prayers and salat and continue to offer them with full attention until you achieve that spiritual high. If you persist in this way with your full attention and efforts, Allah will grant you this reward of prayers and salat. With regards to the importance of congregational salat the Promised Messiah (peace be on him) states that Allah has placed more reward in prayers done in congregation. Prayers and salat in congregation are a source of unity among believers and also strengthen those who are weak in faith. This is so because believers have the ability to be affected by the righteousness and piety of fellow believers during prayers and salat in congregation. Huzoor (may Allah be his Helper)) advised Ahmadis worldwide, in particular the Khuddam-ul-Ahmadiyya of Pakistan, that prayers and salat is essential for our success. Those who have migrated out of Pakistan should be especially regular in prayers and salat to be thankful to Allah for his blessings. Allah has never said that accepting the Promised Messiah (peace be on him) is enough for you –even if you do not fulfil my rights, you will continue to receive success from me. If we think along these lines, it is as if we want to test God. Nizam-e-Jama’at should continuously remind Jama’at members about prayers and salat in addition to other necessary reminders like financial sacrifices. If people become regular in prayers and salat, all other departments will become active on their own especially the department of finance. In today’s conditions where world war seems imminent, many people ask what will happen and what should they do? The Promised Messiah (peace be on him) has said you should love your God and the best way of doing so is through prayers and salat. After migrating to Western countries, some Ahmadis forget God like the locals here or they think that even if we offer salat two or three times a day, we are still better. We should remember that our success lies in acting upon the complete teachings of Islam and this is the way to stay away from evils of this society as well. Huzoor (may Allah be his Helper) also presented various other quotations of the Promised Messiah (peace be on him) regarding the reality of prayer and its benefits. May Allah enable us to safeguard our salat, may we never show slackness, and may He grant us the true spiritual pleasure of prayers and salat

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
13-Jan-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)Indonesian (mp3)Portuguese (mp3)Russian (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)

Title: Striving for Moral Excellence: The Islamic Teachings
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Telugu | Persian | Malayalam | Kannada
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Telugu | Indonesian
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مذہب بوجھ ہے اور یہ ان کی آزادی پر پابندی لگاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وما جعل من دین حرج یعنی دین کی تعلیم میں کوئی تنگی کا پہلو نہیں رکھا گیا۔ دین کا تو مقصد ہی ہر قسم کی مشکلات سے بچانا ہے یعنی دینِ اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں جو تمہیں مشکل میں ڈالے ، بعض باتیں بظاہر چھوٹی لگتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج انتہائی بھیانک صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔ اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ فیشن کے نام پر ننگ مرد و عورتوں میں عام ہو رہا ہے اور ظاہر ہے کہ اسکا اثر ہمارے بچوں پر بھی ہو گا۔احمدی بچیاں ہیں جو سوال کرتی ہیں کہ کیوں ہم بھی ان ممالک میں غیر مسلم عورتوں جیسے کپڑے نہیں پہن سکتے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم نے دین پر قائم رہنا ہے تو دین پر عمل بھی کرنا ہو گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ پس حیا دار لباس اور پردہ ہمارے ایمان کو بچانے کیلئے ضروری ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ یورپ میں رائج عورتوں کی آزادی کی وجہ سے فسق و فجور ہر جگہ پھیل گیا ہے اور مرد بے لگام گھوڑوں کی طرح ہو گئے ہیں۔ فرمایا کہ آجکل کے معاشرے میں جو برائیاں ہمیں نظر آ رہی ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک ایک بات کو سچ ثابت کرتی ہیں،اس لئے ہر احمدی کو اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسی طرح ہماری نسلیں ان برائیوں سے بچ سکتی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ ایک بچی نے مجھے لکھا کہ بینک میں ایک اچھی نوکری ملنے کی امید ہے۔ اگر یہاں پر حجاب پہننے کی اجازت نہ ہو تو کیا میں حجاب کے بغیر نوکری کر سکتی ہوں۔ فرمایا کہ بہت سی احمدی خواتین کے ایسے ہی سوال ہوتے ہیں، ڈاکٹروں کے بعض کام باقاعدہ پردہ میں نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ریسرچ کرنے والیاں اگر ریسرچ کر رہی ہیں تو لیب والے کپڑےپہن سکتی ہیں۔ بینک کی نوکری کوئی ایسی نوکری نہیں ہے جس سے انسانیت کی خدمت ہو رہی ہو۔ عام نوکری کیلئے حجاب اتارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حیا کے لئے حیا دار لباس ضروری ہے۔ حضور نے فرمایا فرمایا کہ اسلام مخالف طاقتیں آزادیٔ اظہار کے نام پر بڑی کوش کر رہی ہیں کہ مذہب کی تعلیمات کو ایک طرف رکھ دیا جائے۔لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس زمانہ میں حقیقی مذہب کی خدمت کی ذمہ داری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو سونپی گئی ہے۔ ہم نے لڑائی نہیں کرنی لیکن حکمت کے ساتھ ان سے نبٹنا ہے۔ ہمیں دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مدد بھی فرمائے۔اگر ہم سچائی پر قائم ہیں اور یقینا ہیں تو ایک دن ہم کامیاب ہونگے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تلوار کا جہاد نہیں ہے بلکہ نفس کا جہاد ہے۔ اس لئے مغربی ممالک میں رہنے والے احمدیوں کو ملکی خدمت کیلئے آگے بڑھنا چاہئے اور جب یہ ہو گا تو خود بخود ان شیطانی طاقتوں کا منہ بند ہو جائیگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زمانہ بہت خطرناک زمانہ ہے۔ اگر ہم نے اپنی مذہبی تعلیمات کو قائم نہ رکھا تو پھر ہمارے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں ۔ یہ نہ سمجھیں کہ ان ترقی یافتہ قوموں کی ترقی میں ہی ہماری کامیابی ہے۔ اب جو ان کے اخلاق کی حالت ہے وہ ان کے زوال کی طرف لے جا رہی ہیں اس لئے اب انسا نی ہمدردی کے تحت ہمیں ان کی راہنمائی کرنی ہے۔ اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالی نے اسلامی پردہ کی تعلیم کو تفصیل سے بیان کیا کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کیلئے پردہ لے لحاظ سے اسلام نے کیا کیا احکامات جاری کئے ہیں اور ان احکامات میں کیا حکمت ہے۔ پس ہر قسم کی بے پردگی سے بچیں۔مثلاً مرد وعورت جو نامحرم ہیں وہ آپس میں دوستی سے بچیں۔ غض بصر سے کام لیں اور عورتیں پردہ کا خیال رکھیں، آخر پر حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا ۔اللہ کرے کہ ہم سب حیا کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے اور اسلامی احکام کی ہر طرح سے پابندی کرنے والے ہوں۔ آمین

Some people claim that religion limits their personal freedoms. In the Holy Quran, Allah has said وما جعل من دین حرج which means that Allah has not made anything outstandingly difficult in the matters of religion. The very purpose of religion is to remove our troubles and difficulties. Some matters seem small, but produce horrific results if left unchecked. For example, in this age, we see that nudity or nakedness has become common among men and women. It is natural that this also impacts our children. There are Ahmadi women who question that why can’t we dress like the women of these societies? Firstly, we should remember that if we want to stay on our faith, then we must follow its teachings. The Holy Prophet(saw) has taught us that Haya or modesty is part of faith. About Pardah, the Promised Messiah(as) said that these days people are supporting the European ideas of freedom of men and women. In reality, due to such freedoms of women, sin has become widespread and men have become like wild animals. Hudhur(aba) said that looking at vices in society today, each word of the Promised Messiah(as) is being proved to be true. Therefore, to safeguard ourselves and our children, Ahmadis should follow the teachings of Islam in their entirety. Huzur said that an Ahmadi girl wrote to me to seek permission if she can work in a bank without her Hijab. In reality, many Ahmadi girls and women have such questions. Huzur said that I had given a limited permission, but it was only for doctors and such girls who are in research. Sometimes, the doctors and researchers in a lab cannot fully function with traditional purdah and their own clothing is also loose. A job in a bank isn’t for the service of mankind and therefore such an exception cannot be made. We should always remember that modest dressing is important and vital for having modesty. Hudhur said that in the name of freedom of expression, the opposing forces are trying their best to do away with the teachings of religion. But we should remember that the community of the Promised Messiah(as) has been given the responsibility to serve the true faith in this age. We are not going to fight them, rather deal with them with wisdom. We should also pray that may Allah help us. If we are upon truth and we certainly are, then know that we will be victorious. The Jihad in this age isn’t of sword, rather against one’s self. Ahmadis living in Western nations should come forward to serve their countries. When this happens, such satanic forces will automatically vanish away. We should know that these are dangerous times and we cannot be saved if we let go of our moral and religious teachings. Do not think that our progress is linked with the progress of these nations. Their morals are now such that it will bring about their downfall, Therefore, out of sympathy, we should guide them according to our teachings. Hudhur explained in detail the teachings of Pardah in Islam for both men and women and the wisdom behind each commandment. It is important for men to observe the Pardah of eyes meaning lowering their gaze in front of women and important for women to observe Pardah from all men who are non-Mahram or not directly related to her. May Allah enable all of us to follow the teachings of Islam.

Date
Video
Audio
Title, Summaries & Text
06-Jan-2017   Urdu (mp3)English (mp3)Albanian (mp3)Arabic (mp3)Bengali (mp3)Bosnian (mp3)Bulgarian (mp3)French (mp3)German (mp3)Indonesian (mp3)Malayalam (mp3)Portuguese (mp3)Russian (mp3)Sindhi (mp3)Spanish (mp3)Swahili (mp3)Tamil (mp3)Turkish (mp3)Uzbek (mp3)

Title: Waqfe Jadid 2017
Delivered by: Delivered by Hazrat Mirza Masroor Ahmad at
Summary: English | Malayalam | Kannada | Indonesian
Summary by Wakil Ala: English
Full Text: Urdu | Telugu
Slide Deck: Powerpoint | PDF Powerpoint |
Other Languages: Arabic | Bosnian | French

Synopsis

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان دنیا میں مختلف مقاصد کیلئے مال خرچ کرتا ہے لیکن آج دنیا میں صرف جماعت احمدیہ ہےجو پوری دنیا میں ایک مقصد کیلئے اپنے اموال پیش کر ہی ہے اور وہ مقصد بھی دینی مقصد ہے۔ یہ جماعت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ہے جو اسلام کی ترقی کیلئے اپنا مال خرچ کر رہی ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو مالی قربانی کا حقیقی ادراک عطا فرمایا ہے۔ حضور علیہ السلام نے ایک جگہ پر فرمایا کہ میں بار بار تاکید کرتا ہوں کہ مالی قربانی کرو۔ یہ خدا تعالیٰ کے حکم میں سے ہے۔ اس وقت اسلام مظلوم ہے۔ جب یہ حالت ہو گئی ہے تو کیا ہم اسلام کیلئے قدم نہ اٹھائیں۔ اسی غرض کیلئے تو خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو قائم کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ خدا کا وعدہ ہے جو شخص اللہ کیلئے دیگا دنیا میں ہی خدا اسے بہت کچھ دیگا اور آخرت میں بھی اجر پائیگا۔ یقینا آپکے صحابہ نے اس بات کو سمجھا اور اپنے اموال کو ان مقاصد کیلئے پیش کیا اور انکا ذکر بھی حضور علیہ السلام نے متعدد جگہ پر فرمایا ہے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ اس جماعت میں مالی قربانی اب نہایت مستحکم ہو چکی ہے اور نئے آنے والے بھی حیرت انگیز قربانیاں کر رہے ہیں۔ وہ اس قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہیں کہ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اموال اللہ کی رضا کی خاطر چاہتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔ فرمایا کہ غریب لوگوں کی قربانی بھی جماعتی ترقی کیلئے بیشمار پھل لاتی ہے اور دنیا حیران ہوتی ہے کہ ان وسائل سے ہم اتنا کام کیسے کر لیتے ہیں۔ جب مقصد اللہ کی رضا ہو تو پھل بھی بہت لگتے ہیں۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دنیا بھر کے مختلف احمدیوں کی مثالیں پیش کیں کہ کس طر ح وہ اللہ کی راہ میں مالی قربانی کر تے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن رہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ روز ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نئے لوگ عطا کر رہا اور وہ اپنی قربانیوں میں بڑھتے جارہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ان لوگوں کیلئے فکر کا مقام بھی ہے جو آسائش میں رہتے ہیں، امیر ملکوں میں رہتے ہیں اور باوجود اسکے ان کی قربانیاں معمولی ہوتی ہیں۔ ان لوگو ں کو قربانیاں دینی چاہئیں اور اس میں بڑھنا چاہئے۔ حضور نے فرمایا کہ جیسے کہ عام طریق ہے، میں آج وقف جدید کے ساٹھویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔ اس سال کل آمد ۸۰ لاکھ۲۰ ہزار پاؤنڈ ہے جو گزشتہ سال سے تقریبا ۱۲ ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔ پاکستان پہلے نمبر پر ہے جس کے بعد ہے یو کے، جرمنی، امریکہ،کینڈا ،ہندوستان، آسٹریلیا ، پھر مشرقِ وسطیٰ کی ایک جماعت ہے، پھر انڈونیشیا ، پھر مشرقِ وسطیٰ کی ایک جماعت ہے اور دسویں نمبرپر گھانا ہے۔ کل ۱۳ لاکھ ۴۰ ہزار لوگوں نے اس سال وقفِ جدید میں شمولیت کی جو پچھلے سال سے ایک لاکھ ۵ ہزار زیادہ ہے۔حضور نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام قربانیاں کرنے والوں کی قربانی قبول فرمائے اور مزید بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ آخر پر حضورِ انور نے دو نمازِ جنازہ غائب کا اعلان فرمایا۔ مکرمہ اسمہ طاہرہ صاحبہ آف کینڈا جو حضورِ انور ایدہ اللہ کی ممانی تھیں اورمکرم چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب آف لاہور پاکستان جنھوں نے جماعت کیلئے بیشمار خدمات پیش یں ۔حضورِ انور نے ان کےبیشمار اوصافِ کریمہ کا بھی ذکر فرمایا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔

In his Friday Sermon, Huzoor(aba) said that people spend their wealth for various purposes in this world. Today, there is only one community who is spending their wealth for one religious goal throughout the world. This is the community of the Promised Messiah(as) who is spending its wealth for the sake of Islam. The reason is that the Promised Messiah(as) gave his community the true understanding of financial sacrifices in the way of Allah. The Promised Messiah(as) at one point stated that I urge you again and again to sacrifice your wealth. This is per the commandment of Allah. Islam at this time is oppressed and being attacked. When such is the case, should we not make efforts for the sake of Islam? This is the reason that Allah established this Jama’at. It is the promise of Allah that whosoever sacrifices his wealth, Allah will bless him greatly in the world and he will see his reward in the hereafter. Huzoor(aba) said that surely the companions of the Promised Messiah(as) understood the concept of financial sacrifices and have been mentioned various times by the Promised Messiah(as). And it is astonishing to see how the new comers are also sacrificing greatly in this way. They are following this teaching of the Holy Quran that these are such people who spend their wealth to attain the pleasure of Allah. Huzoor(aba) said that the sacrifices of poor people bring great fruits for Jama’at and the world is left astounded how we are able to achieve so much with such limited resources. If the purpose is to achieve the pleasure of God, then the blessings are plenty as well. Huzoor(aba) presented various examples and incidents of financial sacrifices of Ahmadis of various countries that how Ahmadis are reaping the blessings of Allah through financial sacrifices. Huzoor(aba) said that we are seeing every day that Allah is granting new people to the community of the Promised Messiah(as) who are increasing in financial sacrifices. This is also a moment of reflection for those Ahmadis who, despite being prosperous and living in developed countries, do not actively participate in financial sacrifices. Huzoor(aba) said that such people should present financial sacrifices and should seek to increase them. Then Huzoor(aba) said that as per usual custom, today I’m announcing the 60th year of Waqf-e-Jadid. The total income of this year was 8 million, 20 thousand pounds which was 12 thousand more than the previous year. Pakistan held its first position, followed by UK, Germany, America, Canada, India, Australia, a Middle-Eastern Jama’at, Indonesia, another Middle-Eastern Jama’at and Ghana at the 10th position. A total of 1,340,000 participated in Waqf-e-Jadid which was 105,000 more than the previous year. Huzoor(aba) prayed that may Allah accept the sacrifices of all Ahmadis and may he enable us and all Ahmadis to further increase in our financial sacrifices in the way of Allah. Ameen. At the end, Huzoor(aba) announced the funeral prayer in absentia of 2 individuals. Mukarramah Asma Tahira Sahiba of Canada Jama’at who was an Aunt of Hazrat Khalifatul-Masih V(aba) and Mukarram Chaudhry Hameed Nasrullah Khan Sahib of Lahore, Pakistan, who served Jama’at in various capacities for an extensive period. Huzoor(aba) mentioned a few of their many admirable qualities.