لباس التقویٰ

فہرست مضامین

سچائی کی اہمیت

اللہ تعالی قرآن کریم میں ایک مقام پر عبادالرحمان یعنی اپنے نیک بندوں کی خصوصیات بیان فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ بیان فرمائی ہے کہ:

وَالَّذِ یْنَ لَایَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ (الفرقان: ۷۳)

اور یہ وہ (اللہ تعالی کے نیک)بندے ہیں جو جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے۔

ایک اور موقع پران الفاظ میں نصیحت فرمائی:

وَقُوْلُوْاقَوْلًاسَدِ یْدًا (الاحزاب: ۷۱)

اور تم ہمیشہ صاف اور سیدھی بات کیاکرو۔

حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور جو انسا ن ہمیشہ سچ بولے اللہ کے نزدیک وہ صدیق لکھا جاتا ہے اور جھوٹ گناہ کی طرف اور گناہ جہنم کی طرف لے کرجاتاہے اور جو آدمی ہمیشہ جھوٹ بولے ہو اللہ کے ہاں کذّاب لکھاجاتا ہے۔ (مسلم کتاب البر و الصلتہ)

یہ بات با لکل سچ ہے کہ انسان اگر بغیر چا ہے بھی ایک جھوٹ ہی بول دے تو اسے چھپانے کے لئے کئی ایک جھوٹ اور بولنے پڑتے ہیں اور آخرکار فائدہ حاصل کرنے کی بجائے نقصان اُٹھانا پڑتا ہے جبکہ شرمندگی الگ ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کہناکہ مجھے مجبورا جھوٹ بولنا پڑا با لکل غلط بات ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م فرماتے ہیں کہ:

’’یقینا یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیادار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں۔ مگر میں کیوں کر اس کو باور کروں؟مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے کسی ایک میں بھی ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کوئی بتائے کسی ایک میں بھی خدا تعالی نے مجھے شکست دی ہو۔ اللہ تعالی تو آپ کی سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔ جو شخض سچائی کو اختیار کریگا کبھی نہیں ہو سکتا کہ غریب ہواور خد اتعالی جیسا کوئی اور مضبوط قلعہ اور حصار نہیں۔‘‘ (ملفو ظات جلد۴ ص ۲۳۹، ۲۳۸)

جھوٹ بولنے کی عادت چونکہ شیطان کی طرف سے ملتی ہے لہذا جھوٹ بولنے والے لوگ اور بھی کئی بری عادتوں کے مالک بن جاتے ہیں اور نفسانی خواہشات کا حصول ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے اسی لئے جب ایک آدمی نے آنحضرتﷺ سے دریافت کیا کہ کوئی ایسی عادت بتائیے، جو چھوڑنے سے تما م بر ی عادتیں ختم ہو جائیں اسکے جواب میں آپؐ نے اُسے جھوٹ بولنے سے منع کیا۔ جس پر عمل کرکے رفتہ رفتہ اُسے تمام خراب عادتوں سے نجات مل گئی۔ حضرت خلیفتہ المسیح الرابعؒ  نے اپنے کئی خطبات میں جھوٹ سے کنارہ کشی اختیار کرکے سچائی کے دامن کو تھامنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

’’میرے نزدیک جب تک بچپن سے سچ کی عادت نہ ڈالی جائے بڑے ہو کر سچ کی عادت ڈالنا بہت مشکل کا م ہو جاتا ہے‘‘۔

پھر فرمایا:

’’یہ یقین رکھیے کہ سچ کے بغیر کسی اعلی منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں اسلئے جماعت احمدیہ میں بچپن سے ہی سچ کی عادت ڈالنا اور مضبوطی سے اپنی اولادوں کو سچ پر قا ئم کرنا نہایت ضروری ہے اور جو بڑے ہو چکے ہیں ان پر اس پہلو سے نظر رکھنا اور ایسے پروگرام بنانا چاہئیں کہ بار بار خدام اور انصار اور لجنات اس طرف متوجہ ہوتے رہیں کہ سچائی کی کتنی بڑی قیمت ہے اور اس وقت جما عت کو اور دنیا کو جماعت کی وساطت سے کتنی بڑی ضرورت ہے‘‘۔ (خطبہ جمعہ ۲۴نومبر۱۹۸۹)

راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا

قدر کیا پتھر کی لعل بے بہا کے سامنے

(درثمین)